”تکبر سے امن کے مواقع گنوا دیے گئے“


Mir Mohammed Ali Talpur

انٹرویو: اطہر نقوی

ترجمہ : لطیف بلیدی

دی نیوز آن سنڈے کی طرف سے کیے گئے اس انٹرویو میں بلوچ دانشور وتجزیہ نگار میر محمد علی ٹالپر نے بلوچستان میں شورش کی صورتحال اور امن کیلئے حکومتی منصوبوں کے بارے میں بات کی ہے

دی نیوز آن سنڈے: حکومت کے اس دعوے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ 14 اگست کو سینکڑوں بلوچ باغیوں نے ہتھیار ڈالے ہیں؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی ہلاکت کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں۔ بلوچستان میں آج بغاوت کی صورتحال کیا ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: حکومت نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہاں صرف مٹھی بھر گمراہ بلوچ ہیں جو غیر ملکی ہاتھوں کی ایماء پر ترقی کیخلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ لیکن جون کے بعد سے، اگر پریس کی رپورٹوں کو دیکھا جائے تو، ان ہتھیار ڈالنے والوں کی تعداد کم از کم 800 ہے تو پھر اب تک حملے کیوں جاری ہیں؟

تازہ ترین ڈرامہ 17 اگست کو رچایا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ براہمدغ کے دست راست نے 23 دیگر افراد کیساتھ ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ ”ہتھیار ڈالنے والے کرایے کے ہجوم“ ہیں، جوکہ بے معنی ہیں۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے حوالے سے رپورٹیں محض یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عوام کی نظروں سے دور اواران میں بڑے پیمانے پر مسلسل ایک فوجی آپریشن کیا جارہا ہے اور انہیں مارنے کیلئے تلاش کیا جارہا ہے کیونکہ وہ بلوچ مزاحمت کی علامت ہیں۔ انہیں سی پی ای سی (چائنا پاکستان اقتصادی راہداری) کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے لیکن حکومت کو اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ مچھلی سمندر میں زندہ رہتی ہے اور بلوچستان کے عوام ان لوگوں کیلئے سمندر ہیں جو ترقی کے جعلی لبادے کی آڑ میں انکے وسائل کے استحصال اور زمین پر قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔

بلوچستان میں شورش یقینی طور پر فعال اور حکومت کیلئے کافی پریشان کن ہے کہ، کوئٹہ کنٹونمنٹ اور متعدد بحری اڈوں سمیت وہاں پہلے سے افواج کی موجودگی کے علاوہ، اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ چینی اہلکاروں کی حفاظت کیلئے فوج کی نو بٹالین اور سویلین فورسز کی چھ بٹالین پر مشتمل ایک اسپیشل سیکورٹی ڈویژن (ایس ایس ڈی) قائم کرے گی اور مزید یہ کہ وہ آپریشن ضرب عضب کی بلوچستان تک توسیع کر سکتے ہیں۔ اواران میں جاری آپریشن بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں جلدوں پر مشتمل داستان بیان کرتے ہیں۔

دی نیوز آن سنڈے: گزشتہ ہفتے بلوچستان کے سینئر پارلیمانی لیڈر نواب ثناءاللہ زہری نے لندن میں از خود جلاوطن بلوچ رہنما خان کلات آغا سلیمان داود احمدزئی سے ملاقات کی ہے تاکہ ان سے واپس آنے اور بلوچستان میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے درخواست کریں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: یہاں پر اہم سوال یہ ہے جیساکہ سٹالن نے پوچھا، ”پوپ کے پاس کتنے ڈویژن ہیں؟“ خان قلات کے پاس کوئی ڈویژن نہیں ہیں اور نہ ہی وہ پوپ ہیں۔ ان کو اب وہ اثر رسوخ حاصل نہیں رہا جو انکے بزرگوں کو حاصل تھا لہٰذا انکی واپسی سے بلوچستان میں شورش کی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی اگرچہ وہ بھی ایک منافع بخش ہتھیار ڈالنے والے ہجوم کرایے پر لینے کا بندوبست کر سکتے ہیں یہ ثابت کرنے کیلئے کہ ان کی واپسی نے کسی تبدیلی کو جنم دیا ہے ۔

دی نیوز آن سنڈے: ڈاکٹر عبدالمالک کی صوبائی حکومت کی اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کس طرح کی منصوبہ بندی ہے؟ یہ کس طرح سے وزیر اعظم کے ’پر امن بلوچستان پروگرام‘ سے یا پیپلز پارٹی کے ’آغاز حقوق بلوچستان پیکج‘ سے مختلف ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: ڈاکٹر مالک کی صوبائی حکومت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے قطعاً کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ اپنی عمومی (ارادی ابہام گوئی سے) پالیسی کیلئے راولپنڈی اور اسلام آباد سے احکامات لیتی ہے اور انکی روزمرّہ کی حکومت انہی کی خواہشات کیساتھ مشروط ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر مالک انتخابات میں کل 4000 ووٹ لیکر اپنی کامیابی کیساتھ بلوچ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔

پیپلز پارٹی کا آغاز حقوق بلوچستان پیکج خالصتاً ایک ناکامی تھی؛ ہو سکتا ہے اس نے چند اعداد و شمار کو فائدہ پہنچایا ہو مگر وہاں کے لوگوں کونہیں۔ فروری 2013 میں ایک 10 رکنی خصوصی کابینہ کمیٹی نے کہا کہ فنڈز کی بے مثال تخصیص کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

دو ’شریفوں‘ کا ’پر امن بلوچستان پروگرام‘ کوئی ترقیاتی پروگرام نہیں ہے بلکہ لوگوں کو ’شانت‘ کرنے کا پروگرام ہے جو کہ سی پی ای سی پر کام کرنے والے چینیوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے فقط طاقت کے وحشیانہ استعمال پر مبنی ہے۔ یہ اسی شانت کرنیوالے منصوبے کی پیروی میں کیا جارہا ہے جسکے تحت ایس ایس ڈی کی تشکیل لازمی بن گئی ہے باوجود اسکے کہ 50000 سے زائد ایف سی (فرنٹیئر کور) اہلکار پہلے ہی سے وہاں موجود ہیں۔

دی نیوز آن سنڈے: بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرات کے دروازہ کھول دینا چاہئے اگر وہ سی اپی ی سی کے بارے میں سنجیدہ ہے اور یہاں تک کہ اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے بارے میں بھی۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں اور کیا وہاں مذاکرات کیلئے اب بھی گنجائش موجود ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: ماضی میں امن کے مواقع ملے تھے لیکن تکبر اور جہالت سے انہیں گنوا دیا گیا؛ ان میں سب سے بہترین موقع 1972 تا 73 کی عطاءاللہ مینگل حکومت تھی۔ ستمبر 2008 میں بلوچ عسکریت پسند گروہوں نے یک طرفہ جنگ بندی کی لیکن اسکا کوئی جواب نہیں ملا اور جنوری 2009ء میں انہوں نے جنگ بندی ختم کردی۔

مسلسل کی جانیوالی فوجی کارروائیوں اور منظم جبری گمشدگیوں کی پالیسی کے باعث عوام اور لڑنے والے گروہ اب حکومت پر اعتماد نہیں کرتے۔ اعتماد کا فقدان بہت زیادہ ہے اور اس کے علاوہ اسٹابلشمنٹ مکمل طور پر ہٹ دھرم ہے کیونکہ اسکا خیال ہے، جیسا کہ اس نے مشرقی پاکستان میں کیا، کہ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ بلوچستان میں لوگوں کی خواہشات کو کچل دیں گے۔

دی نیوز آن سنڈے: صوبے میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: جولائی 2012 میں کوئٹہ میں ’بلوچستان میں میڈیا اور سول سوسائٹی‘ پر ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا تھا جس میں یہ انکشاف ہوا کہ وہاں میڈیا آزاد نہیں ہے اور پیشہ ورانہ ڈیوٹی پر معمور صحافیوں کو اکثر ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چار سال میں 22 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

فروری 2014 میں رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں پاکستان میں سات نامہ نگار قتل ہوئے، ان میں سے چار کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ گزشتہ سال اگست میں ارشاد مستوئی اور زیر تربیت رپورٹر عبدالرسول قتل ہوئے تھے اور تمام گزشتہ ہلاکتوں کی طرح ان کی گتھی بھی اب تک نہیں سلجھی ہے۔ وہاں کل 32 صحافی قتل ہوئے ہیں۔

ایف سی نے 2009 میں کوئٹہ میں تین اخبارات ڈیلی آساپ، آزادی اور بلوچستان ایکسپریس کے دفاتر کا محاصرہ کیا اور ان پر چڑھائی کی۔ آساپ کے دفاتر کے باہر تعینات ایف سی اہلکاروں نے بالآخر اسے اپنی اشاعت روکنے پر مجبور کر دیا۔

بلوچستان کا ذکر دوسری جگہوں پر بھی برداشت نہیں کیا جاتا؛ ایل یو ایم ایس (لمس) میں ’انسائیلنسنگ بلوچستان‘ کے عنوان سے ایک سیمینار، جہاں ماما قدیر بلوچ، فرزانہ مجید اور مجھے خطاب کرنا تھا، کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے جبراً منسوخ کروایا گیا۔ بلوچستان سے باہر کے صحافیوں اور کالم نگاروں کو بلوچستان پر لکھنے کے حوالے سے دباو کا سامنا ہے تو لہٰذا تصور کیا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کے حالات کیسے ہیں۔ پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) تمام بلوچ ویب سائٹس کو بلاک کردیتی ہے جبکہ فرقہ وارانہ ویب سائٹس پنپ رہی ہیں۔

دی نیوز آن سنڈے: آپ بلوچستان کے معاملات میں دیگر ممالک کی مداخلت کے حکومتی دعوے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: 27 مارچ 1948 کو جب پاکستان نے بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا تھا تو تب سے حکومت یہی بہتان لگارہی ہے کہ وہاں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ ان الزامات کی شدت اسٹابلشمنٹ کے اس عدم تحفظ سے متعلق ہے جسے وہ محسوس کرتی ہے؛ بلوچستان میں جو کچھ غلط ہورہا ہے اس کیلئے حال ہی میں ’را‘ پر خصوصی زور کیساتھ غیر ملکی طاقتوں پر الزام عائد کرنے کی ایک منظم کوشش کی گئی تھی۔

بلوچستان میں شورش اور جدوجہد خالصتاً دیسی ہے؛ وہاں قندھار میں کوئی بھارتی قونصل خانے نہیں تھے جب 13 نومبر 1839 کو خان کلات محراب خان برطانوی افواج سے لڑے تھے اور جب مریوں نے 1840 میں سارتاف اور نفسک میں ان کو شکست دی تھی۔

حکومت کو لگتا ہے کہ غیر ملکی ہاتھ کے اس ہوا پر ڈھول پیٹنے سے وہ ان تمام لوگوں کو بدظن کرنے کے قابل ہو جائے گی جو بلوچ جدوجہد سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ چیز انہیں ان بے پناہ مظالم کے ارتکاب کیلئے جواز بھی فراہم کرتی ہے جنہیں ہم بلوچستان میں لاپتہ افراد اور ’مارو اور پھینک دو‘ کی مکروہ پالیسی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔

دی نیوز آن سنڈے: آپ کیا مشورہ دینگے کہ صوبے میں امن اور سیاسی استحکام لانے کیلئے حکومت کا مستقبل میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے؟

میر محمد علی ٹالپر: ایک ایسی اسٹابلشمنٹ جسکی اختلاف رائے کیخلاف مستقل پالیسی کی بنیاد وحشیانہ طاقت کا استعمال ہو، جیساکہ 1948 کے بعد سے ہم بلوچستان میں دیکھ چکے ہیں اور 1971 میں مشرقی پاکستان میں دیکھا ہے، اس رویے کیساتھ کوئی یہ توقع نہیں کر سکتا وہ امن کیلئے دی گئی تجاویز پر کان دھرے گا۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بلوچ کے تحفظات کا احترام کرے گا کیونکہ اس کی پالیسی کی (رد)رہنمائی یہ نقطہ نظر کر رہی ہے کہ اپنے حقوق کے بارے میں بات کرنے والے تمام بلوچ غیر ملکی پیسے پر کام کررہے ہیں۔ میں ایسے اقدامات پر تجاویز دینے میں اپنا وقت برباد نہیں کروں گا جن پر کبھی بھی غور تک نہیں کیا جائے گا، انہیں عملی جامہ پہنانا تو دور کی بات ہے۔

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے

تتاریخ اشاعت: 23 اگست 2015

To read in English Click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s