Tag Archives: Latif Buledi.

ریاست بمقابلہ عوام: پاکستان کی تاریخ پر نوٹس

تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

’تاریخ میں عوام کو معجزات کرنے کیلئے جانا جاتا ہے؛ کچھ بھی ان کی پہنچ سے باہر نہیں۔‘

Mir Muhammad Ali Talpurکسی ہستی، گروہ، قوم یا ریاست کو عوام کے فطری حقوق پر ترجیح حاصل نہیں ہو سکتی جس کی تخلیق یا وجود کی بنیاد خواہ کچھ بھی ہو جس کے تحت اس نے لوگوں کو ان قیاس کردہ اعلیٰ اور عظیم مقاصد کیلئے اپنے آپ میں ضم کیا ہوا ہو۔ زبانوں، ثقافت، اخلاقیات اور اقدار کا نفاذ جو کہ نافذ کنندہ کی نظروں میں خواہ کتنی ہی بلند و بالا ہوں مگر پھر بھی ان کے نفاذ کو کسی بھی طرح کا جواز فراہم نہیں کر سکتیں چاہے ان وجوہات کی بنیاد مذہبی، سماجی، اقتصادی یا سیاسی ہوں۔ ایسے غیرمنصفانہ نفاذ ہزارہا مسائل کا موجب بنتی ہیں جن کا ہر موڑ پر ہمیشہ انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی متضاد اور ناموافق فطرت کی قربت کے باعث وقت کے گزرنے کے ساتھ ان کی شدت اور ارتعاش میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

کوئی قیدی نہیں رکھنا: پختونخواہ اور بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل

تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

وہ کہ جنہیں جیلوں میں رکھا جا سکتا ہو انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے، اسی طرح سے پختونخوا اور بلوچستان کی جیلوں کو قیدیوں کی گنجائش کی سطح پر رکھا جاتا ہے

Mir Muhammad Ali Talpurچند دن قبل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے ڈائریکٹرآئی اے رحمان صاحب نے اپنے مضمون ”قیدیوں کے حقوق“ (14 نومبر ، روزنامہ ڈان) میں قیدیوں کو لاحق خطرات پر حال ہی میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منعقد سیمینار کے بارے میں لکھا تھا جس میں یہاں کی عدلیہ کے درخشاں ستاروں نے شرکت کی تھی۔ قیدیوں کو درپیش دیگر مسائل کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ بھیڑ نے خصوصی توجہ حاصل کی کیونکہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 21,527 ہے جن میں 52,318 قیدی رکھے گئے ہیں جبکہ سندھ میں 11,939 کی گنجائش کے برخلاف 14,119 قیدی موجود ہیں؛ اسے قطعاً ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔

Take no prisoners – Mir Mohammad Ali Talpur

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

”سیاہ مزاح“: سیاستدانوں کے وعدے

996955_638254246217360_949661212_n

تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ: لطیف بلیدی

میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر وعدے بم ہوتے تو یہاں ایک بھی زی روح زندہ نہ بچتا۔ وعدے سستے داموں ملتے ہیں اور یہ لوگوں کو ان چیزوں کی بابت باور کرانے کیلئے بہ آسانی دستیاب ہتھیار ہے جنہیں عام صورت میں لوگ ردی سمجھ کر رد کردیتے ہیں۔ یہاں پر حتیٰ کہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے عدالتوں کے وعدوں، مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے، پانی پر گاڑیاں چلانے اور اچھے طالبان کی کسی صورت حمایت نہ کرنے کے پختہ مگر خالی خولی وعدوں پر بھی مکمل طور پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ لوگ سادہ لوح اور وعدہ ساز پُرفریب طور پر چالاک ہیں جو لوگوں کی انتہائی حد تک مختصر یادداشت کی بیماری پر انحصار کرتے ہیں جس میں یہاں کے لوگ مبتلا ہیں اور وہ ہمیشہ نبھائے نہ گئے وعدوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق اُس خود ساختہ مقدر پرستی سے ہے جو اس خطے کے لوگوں کی نفسیات کا حصہ ہے اور اس کا زیادہ تعلق مذہب اور طویل نوآبادیاتی نظام کے اثرات سے ہے جس میں تعلیم اور میڈیا کے ذریعے ’ریاستی بیانیے‘ کے غالب اثر و رسوخ کا تذکرہ اگر خارج ہو؛ ایک ایسا بیانیہ جس نے بنیاد پرستی کی شیطانیت، جمود اور بلا چون و چرا سرخم تسلیم کرنے کو فروغ دیا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ہے جو یہاں پھلی پھولی ہے۔

“Black Humour”: On the Politicians Promise

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

#SaveWahidBaloch کتابوں کا مجنوں لاپتہ ہوگیا

160728075938_wahid_baloch_640x360__nocredit

تحریر: ساجد حسین
ترجمہ: لطیف بلیدی

میں کبھی بھی اس بات پہ یقین نہیں کر پاوں گا کہ انہوں نے وہ تمام کتابیں پڑھیں ہوں گی جو انہوں نے خرید ی ہیں۔ انہوں نے وہ کتابیں درجنوں میں خریدی ہیں۔ مہینے میں ایک بار میں نہیں۔ تقریباً ہر ہفتے۔

”کافکا کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ اردو میں مجھے کہاں سے ملے گا؟“

اور وہ کراچی کے اردو بازار میں کتابوں کی ایک دکان تک میری رہنمائی کرتے جسے گوگل کا نقشہ بھی کبھی تلاش نہیں کر پائے گا، حتیٰ کہ 2050ء میں بھی نہیں۔

”آصف بھائی سے کہو، مجھے کامریڈ نے بھیجا ہے۔ وہ تمہیں 50 فیصد رعایت دے گا۔“

The bookman goes missing

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up

بلوچستان اور ملا اختر منصور کی ہلاکت

Mullah Akhtar Mansour killed

تحریر: محمد اکبر نوتیزئی

ترجمہ: لطیف بلیدی

یہ ڈرون حملہ، جس میں طالبان رہنماء کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے سب سے بڑی صوبے کیلئے ایک پریشان کن مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔

جولائی 2015 میں، جب افغان انٹیلی جنس نے یہ خبر دی کہ در حقیقت طالبان رہنماء ملا عمر دو سال قبل وفات پاگئے ہیں، طالبان نے ملا اختر منصور کو اپنے نئے لیڈر کے طور پر منتخب کیا۔ اس انتخاب نے افغان طالبان میں دراڑیں پیدا کیں۔ حالیہ مہینوں میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ملا منصور کچلاک، کوئٹہ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور زیادہ تر افغان مہاجرین پر مشتمل پانچ لاکھ نفوس کا ایک شہر، میں ایک مخالف دھڑے کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔ ان افواہوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں طالبان کی طرف سے ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں ملا منصور نے اپنے مارے جانے کی تردید کی۔

Balochistan and the Killing of Mullah Akhtar Mansour

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

بلوچ عسکریت پسندوں کا ’رحمِ مادر‘ محاصرے میں

Pakistan army operation in Saheeji

تحریر: ساجد حسین

ترجمہ: لطیف بلیدی

بلوچستان کے زرّیں بُگ نامی ایک چھوٹے سے گاوں میں ایک چھ سالہ بچی مر گئی ہے۔ جمعرات کی صبح محمد عمر کی بیٹی سنگین اچانک مر گئی۔ اسے کسی بھی طرح کی کوئی بیماری نہیں تھی۔

اس کے چھوٹے سے گاوں سے پانچ کلومیٹر دور تقریباً ناقابل دخول کوہِ ساہیجی، جو مکران کے ہزاروں میل پر محیط ساحلی پہاڑی سلسلے کے ایک حصے پر مشتمل ہے اور تقریباً 1500 میٹر اونچا ہے، میں پاکستان فوج اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں کے مابین ایک شدید لڑائی جاری ہے۔

‘Mother’s womb’ of Baloch militants under siege

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up

’تنازعے کے منبعے‘ سے چھٹکارا باعثِ تنازعہ

تحریر: ساجد حسین

ترجمہ: لطیف بلیدی

Nawab Akbar Khan Bugti

مورخہ 26 اگست 2006ء کو پاکستان کی فوج نے ایک ضعیف العمر بلوچ قوم پرست رہنماء اکبر بگٹی کو ہلاک کیا۔ پرویز مشرف کی حکومت نے اسلام آباد اور بلوچستان کے درمیان ”تنازعے کے منبع“ سے چھٹکارا حاصل کرنے پر جشن منایا۔ بلوچوں نے اس عالی مقام بوڑھے شخص کی تمثیلی تصویر کے پوسٹر، جس میں وہ ایک اونٹ پر سوار بلوچستان کے پہاڑوں میں بلوچ گوریلوں کی قیادت کر رہے ہیں، کیساتھ ایک ”ہیرو“ کی موت پر سوگ منایا جو ایک ایسی عمر میں ان کے حقوق کیلئے لڑے جب انہیں ایک پرسکون موت کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔

اگرچہ یہ کوئی پرسکون سوگ نہ تھا۔ مظاہرین نے وہ سب کچھ جلا دیا جو ان کے خیال میں انہیں پاکستان کی یاد دلا سکے۔ بینک۔ اے ٹی ایم مشینیں۔ گورنمنٹ دفاتر۔ اور گاڑیاں۔ ملک کے جھنڈے۔

A conflict fueled by getting rid of ‘source of conflict’

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up