بلوچ اتحاد اتنا پیچیدہ مسئلہ نہیں جسطرح اسے پیش کیا جارہا ہے،حمل حیدر سے ’’سنگر ‘‘ کا خصوصی انٹرویو


Hammal Haider Baloch

بلوچ قومی تحریک کے موجودہ نشیب و فرا ز ،اشتراک عمل کے عوامل سمیت بین الاقوامی سیاسی صورتحال بہ تناظر بلوچ قومی تحریک آزادی کے حوالے سے سنگر میڈیا گروپ‘‘ نے بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے خارجہ امور کے ترجمان حمل حیدر بلوچ سے ایک تفصیلی انٹرویوکیا ہے جس میں بلوچ قومی تحریک آزادی کے حوالے سے بلوچ حلقوں میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی اپنی ایک سعی کی گئی ہے ۔

یہ خصوصی و تفصیلی انٹرویوماہنامہ سنگرکے اپریل کے شمارے میں بھی شامل اشاعت ہے۔
(ادارہ سنگر میڈیا گروپ )

سنگر : جناب! سب سے پہلے آپ ہمیں اپنے سیاسی سفر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

حمل حیدر: میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے بچپن میں ایک ایسا ماحو ل موثر ہوا جہاں کافی سیاسی اور ادبی سرگرمیاں تھیں۔ میرے ماموں اور کزن نیشنلسٹ سیاست سے منسلک تھے اور خاص کر بی ایس او کی سیاست میں انکا کردار تھا۔ اسی ماحول نے میری ذہنی تشکیل میں مدد کی اور میں نے اسکول کے زمانے میں باقاعدہ بی ایس او کی سیاست میں حصہ لیا۔

میں 1999ء کو ماڈل ہائی اسکول یونٹ کا یونٹ سیکریٹری منتخب ہوا اور اسی سال میں کوئٹہ میں منعقدہ کونسل سیشن کے لئے بطورِ کونسلربھی منتخب ہوا۔اسکے بعد میں مسلسل سات سال تک کے بی ایس او کے ساتھ منسلک رہا اور مختلف عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ پھر 2006کو تعلیم ختم ہونے کے بعد میں مزید اسٹوڈنٹ نہ رہا اسلئے بی ایس او سے فراغت حاصل کی۔ پھر کچھ عرصے بعد میں نے بی این ایم میں شمولیت اختیار کی جو تاحال اسکا حصہ ہوں۔

سنگر : جیسا ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ بی ایس او سے جڑے رہے، پھر خاموشی سے عرب امارات چلے گئے۔ کچھ سال گزار کر لندن پہنچے اور بی این ایم کے خارجہ سیکرٹری بنے۔ اس سفر پر کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟

حمل حیدر: بی ایس او سے فراغت کے بعد میں عرب امارات چلا گیا جہاں میں نے چھ سال قیام کیا ۔ وہاں جانے کی کچھ وجوہات تھیں شاید جنکا ذکر میں یہاں نہ کرسکوں لیکن اتنا عرض کرتا چلوں کہ وہاں جانے کے بعد بھی میں تحریک سے جڑا رہا۔ بی این ایم میں شمولیت بھی میں نے وہیں اختیار کی۔ پھر 2012 کو پارٹی کی ہدایت پر میں نے یورپ کا رخ کیا ۔ بطور خارجہ سیکریٹری مجھے یہ ذمہ داری دی گئی کی کہ میں تمام قوم پرست قوتوں سے باہمی رابط و روابط قائم کرکے آپسی اتحاد و اتفاق اور اشتراکِ عمل کے لئے کوشش کروں اور پارٹی پلیٹ فارم سے ایک مستحکم دائسپور اکو تشکیل دینے کے لئے اپنا کردار ادا کروں۔

سنگر : بی ایس او کے سابق چیئرمین بشیر زیب نے اپنے ایک مضمون میں آپ پہ الزام لگایا کہ آپ نے بی ایس او کی سیاست سے راہ فرار اختیار کی اور ذریعہ معاش کو اس وقت آزادی کی تحریک پہ فوقعیت دی؟آپ اس پر روشنی ڈالیں گے؟

حمل حیدر: بشیر زیب صاحب مہربان انسان ہیں ، میرے دوست ہیں میں اسکا احترام کرتا ہوں مگر چونکہ بی ایس او کے اندر میں نے کسی ایڈونچرزم میں حصہ نہیں لیا ، شاید اسی لئے اسے محسوس ہوا ہوگا کہ میں تحریک کا باغی ہوں۔جہاں تک بات بی ایس او سے فارغ ہونے کی ہے تو واضح کروں کہ آپ بی ایس او میں اس وقت تک رہ سکتے ہیں جب آپ اسٹوڈنٹ ہیں ۔ جب آپکی تعلیم ختم ہوگی تب آپ کے لئے کوئی جواز نہیں رہے گا کہ آپ بی ایس او کا حصہ بنیں۔ یہ چیز بی ایس او کے آئین میں ہے۔ اسی طرح جب میں طالب علم نہ رہا تو میرے لئے بی ایس او میں مزید رہنے کا کوئی جواز نہ تھا یہی وجہ تھی کہ میں فارغ ہوا۔ نہ اسکا تعلق فرار سے ہے نہ معاش سے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر واقعی معاش ہی میری ترجیح ہوتی تو میں اس وقت تحریک سے جڑہوا نہیں ہوتا۔

سنگر : بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی جانب سے بی این ایف کو منظم یا بی آرپی کو اپنے ساتھ اتحاد میں شامل کرنے کے لیے آپ لوگوں نے کتنی سنجیدہ کوششیں کی ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ بی آر پی سے اتحاد تاحال ممکن نہیں ہو سکا؟

حمل حیدر: بی آر پی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ہم گزشتہ تین برسوں سے نیک نیتی سے اتحاد کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں نے اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بی آرپی کے ساتھ اب تک بہت سی نشستیں کی ہیں۔ اب بھی ہمارے رابطے جاری ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اب تک ہم کسی اتحاد یا اشتراک عمل میں ناکام رہے ہیں لیکن کچھ معاملات ایسے ہیں جن کا تعلق مجموعی صورتحال ہے جو اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ہم سب کی کوشش ہے کہ اتحادبی این ایم اور بی آرپی تک محدود نہ ہوبلکہ وسیع پیمانے پر ہو تاکہ دیگر تنظیمیں خود کو علیٰحدہ تصور نہ کریں۔ ہم نے بڑی سنجیدگی سے اتحاد کے لئے دوڑ دھوپ کی ہے اور کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے پاس ایک ایک نشست اور بحث مباحثوں کا ٹریک ریکارڈ موجود ہے۔ بہرحال کچھ معاملات ایسے ہیں جن کی وجہ سے تاخیر ہوا ۔ آپ اسے ایک حد تک ناکامی سے تشبیہ دے سکتے ہیں لیکن اسکے باوجود ہم پر امید ہیں کہ اتحاد کے لئے ہماری کاوشیں ضرور کامیاب ہونگیں۔

سنگر : بیرونی ممالک بی این ایم کے کتنے زون اور دمگ یا یونٹ ہیں؟ انکی کارکردگی پر روشنی ڈالیں گے؟جس طرح میڈیا میں ان کی احتجاج و تصویروں کو دیکھتے ہیں، جو اچھی بات ہے۔ کیا وہ سفارتی تعلقات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں یا انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے؟

حمل حیدر: اس وقت بیرونی ممالک میں لندن، امریکہ ، کینیڈا، جرمنی، سویڈن، ہولینڈ، آسٹریلیا، سویزرلینڈ، نیوزی لینڈ، افغانستان سمیت دیگر ممالک میں ہمارے دمگ ، ہنکین اور یونٹ موجود ہیں۔ چند ایک دیگر یورپی اور اشیائی ممالک میں بھی ہمارے ممبر موجود ہیں ، بہت جلد وہاں بھی ہم اپنے زون یا یونٹ قائم کرینگے۔ بیرون ملک بی این ایم تیزی سے وسعت اختیار کررہی ہے۔ حال ہی مین کینیڈا میں واجہ ڈاکٹر ظفراور دیگر کہنہ مشق دوستوں کی پارٹی میں شمولیت اور تنظیمی سیٹ اپ کا قیام ایک تسلی بخش پیش رفت ہے۔ یہ وہ دوست ہیں جو سالوں سے بلوچستان کی تحریک آزادی کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں اور سفارتی حوالے سے کافی تجربہ رکھتے ہیں ۔اسکے علاوہ بی ایس او کے مرکزی قائدین کا بیرون ملک منتقل ہونا اور وہاں مختصر عرصے میں بی ایس او کو فحال کرنا بھی نہایت ہی حوصلہ بخش اقدام ہے۔ چونکہ بی ایس او اور بی این ایم ، بی این ایف کے پلیٹ فارم پر اتحادی ہیں اسلئے اگر ہم ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں تو اس سے عالمی سفارت کاری میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

گزشتہ ایک دو برسوں سے ہم نے سفارتی میدان میں کافی پیش رفتیں کی ہیں۔ البتہ اپنے کام کو مزید موثر بنانے کے لئے ہمیں اور کچھ وقت ، محنت اور تجربہ درکار ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ چند ایک برسوں میں ہم سیاسی خطوط پر استوارایک بہتر ڈپلومیٹک فرنٹ کے قیام میں کامیاب ہونگے جو بلوچستان کی تحریکِ آزادی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

سنگر : براہمدغ بگٹی،مہران مری ،جاوید مینگل سے آپکی ملاقات ہوئی جسے میڈیا میں اتحاد کی کوشش کہا گیا؟مگر اسکے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی،کیا حقیقت قوم کے سامنے لانا چائیں گے؟

حمل حیدر: اتحاد کی کوششوں میں کوئی شک نہیں۔ یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، گزشتہ تین برسوں سے ہم نے، جاوید مینگل ، براہمدغ بگٹی،حیربیار اور مہران بلوچ سے کئی ملاقاتیں کی ہیں اور بیش تر رہنماؤں سے اب بھی براہ راست ہمارے رابطے ہیں۔ ہم اتحاد کرنے میں بے شک کامیاب نہیں رہے ہیں مگر کچھ پیش رفتیں ضرور ہوئی ہیں۔ ہمارے درمیان موجود غلط فہمیوں کا کافی حد تک خاتمہ ہوا ہے اور اعتماد کی بحالی میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ مگر جس طرح میں نے اوپر بیان کیا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جنکا تعلق مجموعی صورتحال سے ہے جو اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ اب ان چیزوں کو حقائق کہہ کر قوم کے سامنے لانا ایک نئے بلیم گیم کو جنم دے گاجو کہ ایک مناسب سیاسی رویہ نہیں۔ قوم کے سامنے حقائق بیان کرنے اور تحقیق و تجزیے کے نام پر پہلے سے ہمارا کافی نقصان ہوا ہے۔

سنگر : مہران مری نے سنگر کو دئیے گئے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ بی این ایف کی جانب سے اتحاد حوالے ان سے کوئی ملنے نہیں آیا؟

حمل حیدر:میں نے مہران سے اب تک آٹھ دس دفعہ ملاقاتیں کی ہیں اور جہاں تک مجھے علم ہے بی ایس او کے دوستوں کی بھی اس سے وقتاً فوقتاً فون اور پیغامات کے ذریعے رابطے ہوتے رہے ہیں۔ اب مہران یہ بات کیوں کررہے اسی کی وضاحت وہ خود بہتر کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ ہمارے اور بی ایس او کے رابطوں اور ملاقاتوں کو الگ الگ زاویے سے دیکھتے ہیں اور ہمارے درمیان اتحاد سے بے خبر ہیں۔

سنگر : بی این ایم کی خارجہ پالیسی کیا ہے؟ اسے میڈیا میں لانا مناسب ہے ؟ اس میں کیا پیشرفت ہوئی ہے ؟ اگر کچھ خاص نہیں توکیا چند پلے کارڈ لے کرکچھ ساتھیوں کے ساتھ مظاہر ہ کرنے سے وہ اپنی ہدف حاصل کر سکے گا؟اس کے ساتھ آپ گزشتہ ایک دہائی سے موجود لیڈروں کی یورپ و دیگر ملکوں میں موجودگی اوران کی سفارت کاری کو کس طرح دیکھتے ہیں۔؟

حمل حیدر: بی این ایم کی خارجہ پالیسی واضح ہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ جب تک ہم اپنی تحریک کو مقامی سے Transnationalنہیں بناتے اس وقت تک ہم نظرانداز ہوتے رہیں گے اور ہمارے لئے مشکل ہوگا کہ اپنا ہدف حاصل کرسکیں۔ اس وقت ہماری تحریک میں بلوچوں کے سوا دیگر اقوام کے لوگوں جن میں صحافی ، دانشور،سیاستدانوں اور دیگر انسانیت دوست اور جمہوریت پسندوں کی شراکت داری کم ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم تنہائی میں کچھ نہیں کرسکتے ۔ ہمیں دنیا کی بھرپور مدد اور ہمدردیوں کی ضرورت ہے۔ بی این ایف کی پالیسی یہی ہے کہ ہم بلوچ دائسپورا کو منظم کرکے مہذب دنیا کی سیکولر، جمہوریت پسند اور انسان دوست اداروں کو قائل کرکے اپنے کاز کے لئے متحرک کریں ۔ ماضی میں ہم سے کافی کوتاہیاں ہوئی ہیں مگر وقت ہے کہ ہم ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر ایک منظم سفارتی محاذ کی تشکیل کریں۔ پہلے کی نسبت اس وقت ہمارے لئے حالات اور بھی سازگار ہیں۔ ایک تو عالمی حالات تیزی سے ہمارے حق میں تبدیل ہورہے اور دوسری قابل اور ہم فکر، بلوچ سیاسی کارکنوں ، دانشوروں اور ادیبوں کی بڑی تعداد مغربی ممالک میں منتقل ہوگئی ہے جن کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکے گا۔

سنگر :آزادی پسند قوتوں میں اشتراک عمل کیلئے حیر بیار کے پیش کردہ دو نکات کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

حمل حیدر: اتحاد کے لئے حیربیار صاحب نے جو خواہش ظاہر کی تھی ، ہم نے بیان جاری کرکے اسکا خیرمقدم کیا تھا لیکن بات جہاں تک اسکے دو نکات یا شرائط پیش کرنے کی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح اتحاد کا عمل ممکن ہوپائے گا۔ اتحاد کو خواہش سے یقین میں بدلنے کے لئے پہلا شرط ایک جگہ مل بیٹھ کر بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔پھر ایک وضح کردہ مرحلہ ہو جہاں سلسلہ وار نشستوں کے ذریعے باقاعدہ بحث مباحثوں کا آغاز ہو تاکہ اختلافات، تحفظات اور غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے۔ یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں۔ حیربیار خوداگر بیٹھنے کے لئے تیار ہیں تو ہمیں یقین ہے تمام آزادی پسند قوتوں کو اسکے ساتھ بیٹھنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔یہ حقیقت ہے کہ ہم سب کے درمیان اختلافات ہیں مگران اختلافات سے ہرگز مراد یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہ کریں۔ سیاست میں اختلافات اور دوریوں کا پیدا ہونا، غلط فہمیوں کا جنم لینا اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنا انوکھی باتیں نہیں۔ یہ چیزیں ہر سیاست میں ہوتی رہتی ہیں۔

سنگر : بلوچ قوم کی آزادی کیلئے جس تحریک کا آغاز کیا گیااب وہی عوام منتشر بلوچ رہنماؤں سے اتحاد و یکجہتی کامطالبہ کررہی ہے لیکن رہنماؤں کی جانب سے کسی قسم کی کوئی پیشرفت کا نہ ہوناخود اس تحریک کی نفی نہیں ہے؟

حمل حیدر: جی بالکل عوام کی یہ شدید خواہش ہے کہ تما م بلوچ قوتیں اپنے آپسی اختلافات اور ناراضگیوں کو ختم کرکے یکجا ہ ہوں ۔ بی این ایف اسی عوامی خواہش کے مطابق پچھلے چار سالوں سے اس کوشش میں لگی ہے تاکہ منشتر بلوچ رہنماؤں کو یکجاہ کرنے میں کردار ادا کرسکے۔ مجھ سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی قائدین مسلسل اس کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں شہید ڈاکٹر منان نے بھی انتک کوششیں کی تھیں۔ حال ہی میں وہ دیگر آزادی پسند رہنماؤں سے ازخود ملنے گئے تھے بلکہ انہیں ملاقاتوں کے سلسلے کے دوران ہی اسکی شہادت واقع ہوئی ۔ اتحاد کے لئے ہماری جانب کوئی الجھن نہیں۔ ہم بیشتر رہنماؤں سے اب بھی رابطے میں ہیں اور اعلانیہ تما م آزادی پسندرہنماؤں براہمدغ بگٹی ، حیربیارمری، جاویدمینگل اور مہران بلوچ کو پھر اتحاد کی دعوت دیتے ہیں ۔

سنگر : آپ کیا سمجھتے ہیں اتحاد و یکجہتی کیسے ممکن ہے ،کچھ وضاحت کریں گے؟

حمل حیدر: دیکھیں اتحا د اتنا پیچیدہ مسئلہ نہیں جس طرح اسے پیش کیا جارہا ہے۔کچھ منتشرالخیال لوگ تو اتحاد کو ایسے آئیڈیالائیز کرتے ہیں گویا وہ ایک دفعہ بن جائے تا ابد قائم ہو ۔وہ نہ اپنے ’’مثالی اتحاد ‘‘ کے لئے کوئی میکانزم واضح کرتے ہیں اور نہ ہی اسکے متبادل کوئی فارمولا بیان کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اتحاد کے لئے ایک قدم بھی آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے ایسا مثالی اور ابدی اتحاد عملاً ممکن نہیں ۔اتحاد کا بننا ، ختم ہونا یا ٹوٹنا سیاست کا حصہ ہیں۔ ہم صرف اس خوف سے اتحاد کے امکانات کورد نہیں کرسکتے کہ وہ کل ٹوٹ جائے گا۔ اسکے علاوہ بعض سنجیدہ حلقوں میں بحث مباحثوں کے دوران بھی میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ اتحاد کواکثر انضمام کے زاویے سے پیش کیا جاتا ہے جو کہ ایک غلط اپروچ ہے۔ ہمیں اتحاد اور انضمام کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انضمام کے لئے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان فکرونظراور بنیادی اغراض و مقاصدپرمکمل اتفاق ہو کیوں کہ وہ اپنی جداگانہ تنظیمی حیثیت کو ختم کرکے ایک نئے تنظیمی نظام کے اندر ضم ہورہے ہیں مگر اتحاد کے لئے ضروری نہیں کہ فریقین کے درمیان سوفیصد اتفاق ہو۔آپ اپنے تمام تر اختلافات کو برقرار رکھ کر صرف ان نقاط پر اتحاد کرسکتے ہیں جن میں آپ اور آپکے فریقین کے درمیان اتفاق ہے۔ اتحاد چند نقاط پر طویل مدتی مقاصد کے لئے بھی ہوسکتے ہیں اور قلیل مدتی مقاصد کے لئے بھی ہوسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ چند جماعتیں ایک مختصر مہم یا صرف ایک ایونٹ کی حد تک اتحاد بناسکتے ہیں۔

ماضی میں کئی ایسے کامیاب اتحادبنے جنہوں نے تحریک پر دورس اثرات مرتب کئے ۔ کئی اتحاد و انضمام کا تو مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہے۔ بی ایس او کے زمانے میں ہم نے زونل اور مرکزی سطح پر مختلف ایشوز پر کئے اتحادیں قائم کیں۔ حالانکہ دیگر تنظیموں کے ساتھ ہمارے شدید نوعیت کے اختلافات ہوتے تھے۔ 2003 کو بی ایس او آزاد اور بی ایس او استار کے درمیان انضمام ہوا پھر 2006 کو بی ایس او (متحدہ)، بی ایس او (امان) اور بی ایس او (آصف ) کے درمیان تاریخی انضمام ہوا۔ میں خود بی ایس او متحدہ کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری کی حیثیت سے اس اتحاد کا حصہ تھا۔ اتحاد سے قبل ہم نے ایک الائنس بنایا ہوا تھا اور لمبے عرصے تک مشترکہ طور پر کام کرتے رہے۔ ہم نے کھبی بی ایس او (امان ) اور بی ایس او (آصف) کے ساتھ اتحاد اور انضمام سے محض اس لئے انکار نہیں کہ انکا تعلق پارلیمانی جماعتوں سے ہے۔ اختلافات تھے اوربڑے گہرے اختلافات تھے مگر تنظیمی تعصب سے بالاتر ہوکر جن ایشوز پرہمارے درمیان اتفاق تھا ہم نے انہیں مدنظر رکھ اتحادقائم کیا اور جب ہم قریب ہوگئے، صحت مند بحث مباحثے ہوئے اور پھر ہمارے درمیان نظریاتی ہم آہنگی پیداہوگئی تو ہم نے مل بیٹھ کر تاریخی انضمام کیا۔ آج ہماری تحریک کے کئی صف اول کے قائدین اور شہدا جنہوں نے اپنی قربانیوں سے مثالیں قائم کی ہیں اس زمانے میں بی ایس او (امان ) اور بی ایس او (آصف ) سے تعلق رکھتے تھے۔

اتحاد اب بھی ممکن ہے بس سوچ اور اپروچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اتحاد کے لئے ہمارے پاس بے شمار آپشنز ہیں۔ ہم آزادی کے نقطے پر ایک وسیع پیمانے کا لانگ ٹرم اتحادقائم کرسکتے ہیں جس میں انفرادی تنظیموں کو تنظیمی معاملات کی حد تک محدود کرکے سرگرمیاں صرف اتحاد کے پلیٹ فارم پر چلاسکتے ہیں۔اگر وہ فل وقت ممکن نہیں تو ہم صرف چائنا پاکستان ایکونومیٹ کوریڈور CPEC کے ایشو پر اتحاد قائم کرسکتے ہیں۔ ہم بلوچستان میں انسانی حقوق کے مسئلے پر اتحاد کرکے ایک محاذ کھول سکتے ہیں۔ ہم صرف ایک مختصر مدتی سفارتی مہم کے لئے بھی اتحاد قائم کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے شر ط صرف یہ ہیں کہ ہمارے پاس اتحادی پروسس کے لئے کوئی پلان ہو۔ اس حوالے سے ہمارے پاس کچھ تجاویز ہیں جو شاید مدد گار ثابت ہوں۔ ہمارے خیال میں ہم سب سے پہلے ایک فارمل سیٹ اپ بنائیں جو تمام تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہو تاکہ اتحاد کی بنیاد رکھی جاسکے۔ یہ سیٹ اپ اتحاد سے مشابہ نہیں ہوگا بلکہ اسکا مقصد اتحاد کے پروسس کو میچور بناناہوگا۔ پھر بات چیت کے پہلے مرحلے میں ایک تین روزہ بند کانفرنس بلایا جائے جہاں اتحاد کے مختلف آپشنز پر سیر حاصل بحث کیا جائے۔ اگر اس کانفرنس میں دانشوروں اور فارغ التحصیل سینئر سیاست کاروں کو شامل کیا جائے تو بہتر رہے گا۔ کانفرنس کے بعد جس کم سے کم نقاط پر کسی اتحاد کا امکان ہو تو اگلے مرحلے میں اسی مطابق اتحاد کی تشکیل کا م شروع ہوجس میں ساخت سے لیکر قوائد و ضوابط، حکمت عملی، ڈسپلن اور لیڈرشپ کا چناؤ عمل میں لایا جائے۔

سنگر : عالمی سطح پربلوچستان معاملات پرعدم توجہی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟ کیا بلوچ تحریک آزادی کی سفارتی و ادارتی بنیاد وں پر کام کا نہ ہونااسکی وجہ تو نہیں؟

حمل حیدر: بہت سارے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمیں خاطر خواہ توجہ نہیں مل رہی۔ ہمارا آپس میں دست و گریباں ہونا اور ایک منظم ڈپلومیٹک فرنٹ کی عدم موجودگی ان وجوہات میں سے ایک ہیں۔ لیکن اس طرح بھی نہیں کہ دنیا یکسر ہم سے غافل ہے۔ ہم نے گزشتہ ایک دو برسوں میں کئی حکومتی نمائندوں ، انسان حقوق کے اداروں ، سماجی تنظیموں سے ملاقاتیں کی ہیں، سب بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت کے بارے میں آگاہ ہیں اور اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ پچھلے سال میں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا جہاں ہم نے دیکھا پاکستان کی دغلی پالیسی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر منفی جذبہ پایا جاتا ہے ۔ اوراکثر لوگ بلوچستان میں جاری ملٹری آپریشن اور انسان کی پائمالیوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ بی این ایم کے ایک وفد نے جس میں مَیں اور واجہ نبی بخش بلوچ شامل تھے ، واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بھی دورہ کیاتھا جہاں ہمیں یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے ہر چھوٹے سے بڑے تک چیز کی خبر رکھتے ہیں۔ قطع نظر کہ اس کے کہ وہ اپنی حالات کے پیش نظر اپنی پالیسیوں اور سفارتی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی اسٹینڈ نہیں لیتے مگر یہ ہے کہ ہماری مخالفت نہیں کرتے ہیں اور ایک حد تک ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

سنگر : آپ نہیں سمجھتے کہ چائنا پاکستان کوریڈور کی وجہ سے بلوچ تحریک آزادی پہلے کی نسبت بہت کمزور ہوگئی ہے ،؟ایک دہائی سے جاری تواناتحریک ایک دم سے کیوں کمزورہوگئی ؟ اسکی کیاوجوہات ہیں ؟

حمل حیدر: میں اتفاق نہیں کرتا کہ تحریک پہلے کی نسبت کمزور ہوا ہے۔ ہاں البتہ اس روڑ کی تعمیر کے لئے ریاستی فوج نے سویلین آبادی پر حملے کئے ہیں ، گھروں کو جلایا ہے، ان تمام گاؤں کو جو اس سڑک کے راستے میں آتے ہیں انہیں بلڈوز کیا ہے، سینکڑوں کے حساب سے نہتے عوام کی قتل و غارت گری کی ہے اور تقریباً ہزاروں کے حساب سے بے گناہوں کو اغوا کیا ہے تاکہ اس بلوچ کش پروجیکٹ کے لئے لوگوں کو اس قدر خوف زدہ کیا جائے تاکہ وہ کچھ کہہ نہ سکیں۔ اس سے کافی جانی و مالی نقصان ضرور ہوا ہے مگر اس سے تحریک ہزگز کمزور نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔

سنگر : ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت کے بعد اس خلا کو پر کرنے کیلئے بی این ایم کی قیادت کو کیا کرنا چاہیے کہ کم از کم کوئی ایسا شخص جو ان کی طرح میڈیا اور عالمی حالات پر نظر رکھے اور وقتاً فوقتاً اپنا موقف پیش کرتا رہے، کسی کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں؟

حمل حیدر: ڈاکٹر منان بلوچ غیر معمولی کردار کامالک اور نہایت ہی متحرک لیڈر تھے ۔سخت ترین حالات میں بھی اس نے پورے پارٹی نظام کو سنبھالے رکھااور تنظیم کی ہر سرگرمی کی خبر رکھتے تھے، اس نے جو خلا چھوڑی ہے اسے پر کرنا شاید آسان نہ ہو مگر بی این ایم کے پاس قابل اور تجربہ کاردوستوں کی لمبی فہرست ہے۔پارٹی لیڈرشپ صلاح و مشورے کے بعدضرور کسی ذمہ دار دوست کا چناؤ کریگا تاکہ وہ سیکریٹری جنرل عہدے پر طریق احسن کام کرسکے۔

Courtesy: Sangar

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s