بی ایس او آزاد کی بیسویں مرکزی قومی کونسل سیشن کا انعقاد


BSO Azad 20th Counsel Session
چائنا کی سرمایہ کاری سے عالمی امن و بلوچ قومی شناخت کو خطرات لاحق ہیں
بانک کریمہ بلوچ

مرکزی قومی کونسل سیشن کے پہلے روزچیئرپرسن کے افتتاحی خطاب، سیکڑیری رپورٹ، آئین ، دوسرے دن تنظیمی امور ، عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال زیر بحث رہے

بی ایس او آزاد کی بیسویں مرکزی قومی کونسل سیشن بیاد بابا خیر بخش مری، شہید رضا جہانگےر، کمبر چاکر، شفیع بلوچ، کامریڈ قیوم، شکور بلوچ، کمال بلوچ ،رسول جان ،اکرام بلوچ و شہدائے آزادی، بنام چیئرمین زاہد بلوچ، چیئرمین ذاکر مجید بلوچ، سمیع مینگل، آصف قلندرانی بلوچ، ڈاکٹر دین محمد، غفور بلوچ، رمضان بلوچ و اسیرانِ آزادی یکم نومبرکو بانک کریمہ بلوچ کی صدارت میں شروع ہوا۔سیشن میںقائم مقام چیرپرسن بانک کریمہ بلوچ کی افتتاحی خطاب، تنظیمی سابقہ کارکردگی رپورٹ، آئین سازی ،تنظیمی امور، تنقید برائے اصلاح و سوال جواب، علاقائی و بین الاقوامی سیاسی صورت حال، اختتامی خطاب، اور آئندہ لائحہ

عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔عظیم بلوچ شہدا کی یاد میں خاموشی اور قومی ترانے کے بعد سیشن کی کاروائی کا آغاز کیا گےا۔ سیشن کے پہلے دن کی کاروائی میں بانک کریمہ بلوچ نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ گزشتہ سیشن سے موجود ہ سیشن کے انعقاد تک کاسفر بظاہر مختصر رہا، لیکن تےن سالوں میں آنے والے مشکلات اور تکالیف اور تجربات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو بی ایس او آزاد نے اس دوران ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ گزشتہ قومی کونسل سیشن کے بعدنئے سرے سے بی ایس او آزادنے سائنسی بنیادوں پر اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔یونیورسٹی اور کالجوں میں نوجوانو ں کی تربےت کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بھی نوجوانوں کو تنظیم سے وابستہ رکھنے کے لئے لیڈران نے قربانیاں دی ہیں۔تنظیم کی فعالےت اور نوجوانوں میں پزیرائی کو دیکھ کر ریاستی اداروں نے بلوچ قومی تحریک کے خلاف بھرپور پروپگنڈے کا آغاز کیا ۔ بی ایس او آزاد کے خلا ف ریاستی کریک ڈاﺅن میں انتہائی شدت لائی گئی تاکہ بلوچ نوجوانوں کو تنظیمی و سیاسی تعلیم سے بے بہر کیا جا سکے ۔تنظیمی سرگرمیوں سے خائف ریاستی ادارے جوکہ تنظیم پر غےر اعلانیہ پابندی پہلے ہی لگا چکے تھے، مارچ 2013میں باقاعدہ بی ایس او آزاد کو کالعدم قرار دیا گےا۔گزشتہ سیشن کے بعدریاستی کریک ڈاﺅن میں شدت لانے کے ساتھ ساتھ اصلاح و تنقید،غوروفکر کے نام پر ایک الگ محاز تنظیم و تحریک کے خلاف شروع کی گئی ،لیکن مستقل مزاج کارکنان و لیڈران کی قربانیوں کی بدولت بی ایس او آزاد نہ صرف روز بہ روز فعال ہو تا رہا بلکہ بلوچ عوام میں بھی اپنی سرگرمیاں مختلف شکلوں میں جاری رکھا۔ لٹریچر و دیگر پروگرامز سے عوام کی تربےتی پروگرامز بدستور جاری رہے۔بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ ایک طرف جہاں ریاستی دباﺅ و پروپیگنڈوں سے تنظیم کو جوائن کرنے والے نوجوان مایوسی و انتشار کا شکار ہونے لگے، تو دوسری طرف بی ایس او آزاد کے سینئر ممبران میں سے چند نے دانستہ طور پر پروپیگنڈوں کا ساتھ دے کر غےر سیاسی سرگرمیوں کا شعوری و لاشعوری طور پر حصہ بن گئے اوربی ایس او آزاد کی پالیسیوں کو میڈیا میں لاکر اُچھالنے اور تنظیمی لیڈر شپ کے خلاف منافقت کی حد تک پروپگنڈوں کا حصہ بن گئے۔ اوربی ایس او آزاد کی پالیسیوں کے برعکس نومنتخب لیڈران کی شناخت کو میڈیا میں ظاہر کیا گےا۔با نک کریمہ بلوچ نے کہا کہ اگر اُن سخت حالات میں بی ایس او آزاد کی موجودہ لیڈر شپ مقابلہ کرنے کے بجائے میڈیا پروپیگنڈوں کا شکار ہوتی تو آج بی ایس او آزاد کی موجودہ شکل ہمارے سامنے نہ ہوتی۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید رضا جہانگےر بلوچ کی شہادت اور چئیرمین زاہد بلوچ کی گر فتاری کے بعد بعض حلقے مایوسی کی حالت میں تنظیم کے بارے میں منفی قیاس آرائیاں کرنے لگے۔لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ چیئرمین زاہد بلوچ، رضاجہانگےر کی قربانیوں و تنظیم کے مخلص جہد کاروں کی جدوجہد نے تنظیم کو کسی نقصان کا شکار ہونے نہیںدیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس گزشتہ تحریکوںکی کمزوریوں کے تجربات ہیں، گزشتہ ادوارمیں تحریک اس وجہ سے اپنا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ وہاں سیاست کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ایک حلقے تک محدود رکھا گیا تھا۔ لیکن آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک ماضی کا حصہ نہ بن جائے تو ہمیں بلوچ عوام کی سیاسی تربےت کرنا ہو گا۔بانک کریمہ بلوچ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ ہم پاکستان جیسی ریاست سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں،آزادی جیسے عظیم مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہمیں ہمہ وقت تےار رہنا ہو گا۔افتتاحی خطاب کے بعد مرکزی سکریٹری جنرل نے مرکزی سیکرٹری رپورٹ پیش کی گئی ۔اجلاس کے دوسرے روز میں تےسرے ایجنڈے آئین سازی پر سیر حاصل مباحثہ کے بعد تنظیمی آئین میں ضروری ترامیم لائی گئیں۔سیاسی صورت حال کے ایجنڈے پر مباحثہ کرتے ہوئے رہنماﺅں نے کہا دنیا کی سیاست میں مستقل دوست و مستقل دشمن کا تصور موجود نہیں۔ کیوں کہ دنیا کے تمام ممالک اپنے مفادات کو اولےت دے کر ہی اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی منظر نامے میں چائنا کا ایک انتہائی متحرک کردار ہے۔ایک معاہدے کے تحت پاکستان نے چین کو گوادر میں ہزاروں ایکٹراراضی 40سالہ لیز پر دیا ہے۔اس اراضی پر چین 46بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کریگی۔گوادر سمیت بلوچستان بھر میں چائنا سمیت دوسرے ممالک و کمپنیوں کی معاہدات و سرمایہ کاری سے بلوچستان میں بہت بڑے ڈیموگرافک تبدیلی لانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔چائنا کو سستے داموں بلوچستان میں لامحدود سرمایہ کاری کی اجازت در اصل بلوچستان کو چین کی جدید نو آبادی بنانا ہے، جسے کوئی بھی بلوچ قبول نہیں کرے گا۔ چائنا اپنے روایتی حریف ممالک پر دباﺅ بڑھانے اور اپنے فوجی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے بلوچستان میں معاشی سرمایہ کاری کے نام پر کھربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک چکا ہے۔ پاکستان جیسے غےر ذمہ دار و ناقابلِ بھروسہ ریاست پرچائنا کا بھروسہ اصل میں بلوچستان کے اہم جغرافیہ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ رہنماﺅں نے کہا کہ چائنا اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے پاکستانی فوج کی عسکری مدد کرکے بلوچ قومی تحریک کو کاﺅنٹر کرنا چاہتی ہے تاکہ گوادر تا چائنا اکنامک کوریڈور ، گیس پائپ لائنوں اور فائبر آپٹکس کی تعمیر کو محفوظ بنایا جا سکے۔ بلوچستان میں چائنا کی سرمایہ کاری جہاں عالمی امن کے لئے خطرے کا باعث ہے وہیںپر بلوچ قومی شناخت کو بھی اس سے سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔کیوں کہ ان سڑکوں کی تعمیر کی صورت میں دونوں ریاستوں کی جانب سے اپنی آبادیوں کو بلوچستان میں منتقل کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے وہ انتہائی شدت اختےار کر جائے گا۔ بلوچستان کے جغرافیہ کی وجہ سے دوسرے ممالک بھی بلوچستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔ رہنماﺅں نے کہا کہ بلوچ سرزمین کو عالمی توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے طاقتوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنان سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لیں۔ کیوں کہ پاکستان چائنا بلوچ وسائل سے مستفید ہونے اور بلوچ عوام کو مزید زیر دست رکھنے کے لئے سیاسی و عسکری حوالے سے متحد ہو چکے ہیں۔چائنا کی جانب سے ملنے والے فوجی امداد کا بلوچستان میں استعمال اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کو مایوس کرنے اور آزادی کی تحریک کا راستہ روکنے کے لئے پاکستان کئی محازوں پربیک وقت بر سرِ پیکار ہے۔ نئے کیڈرز کو تحریک میں شامل ہونے سے روکنے کے لئے تنظیموں و سیاسی لیڈران و تحریک کے خلاف منظم انداز میں بھرپور پروپگنڈہ کیا جا رہا، جبکہ بلوچ عوام کو تحریک سے دور کرنے کے لئے فوجی قوت کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنے پراکسی گروہوں کا سہارا لیکر مذہبی منافرت پھیلا رہا ہے ، بلوچستان میں مذہبی منافرت پھیلانے اور سیکولر بلوچ معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ دینے کے لئے نام نہاد مذہبی گروہوں کو فوجی کیمپوں میں تربےت دیا جارہا ہے اورانہی پراکسی گروہوں کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پنجگور ، تربت، مستونگ، دشت سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسکولوں کو نظر آتش کیا گےا۔ بلوچ تعلیم یافتہ طبقے کو انہی پراکسیوں و آرمی کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گوادر میں زاہد آسکانی بلوچ، جھاﺅ میں استاد علی جان بلوچ،خضدار میں پروفیسر رزاق، کوئٹہ میں شہید صبا دشتےاری سمیت سینکڑوں بلوچ دانشور ریاستی فورسز و ان کے پراکسیوں کے ہاتھوں قتل کےے جا چکے ہیں۔بلوچستان میں ریاستی تعلیم کا معیار پہلے سے ہی انتہائی گرا ہوا ہے ۔ بینکنگ نظریہ تعلیم کے زریعے بلوچ نوجوانوں کی تخلیقی و تنقیدی صلاحےتوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ لیکن اب انہی تعلیمی اداروں کو عملاََ فوجی چھاﺅنیوں میں بدلا جا چکا ہے تاکہ بلوچ نوجوانوں کو سیاست و تعلیم سے دور رکھا جا سکے۔ بلوچ معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کاﺅنٹر پالیسیوں کے تحت نفسیاتی حربے آزمائے جا رہے ہیں۔راہ چلتے لوگوں کو اُٹھا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاشیں پھینکنے سے خوف و حراس پھیلارہے ہیں۔ معزز بلوچ فرزندان کی سر راہ تذلیل اور خواتےن و بچوں پر تشدد کے ذریعے انہیں خاموش کرنے کی غےر انسانی پالیسیوں پر ریاستی فورسز بغےر کسی رکاوٹ کے عمل پھیرا ہیں۔ غرض کہ بلوچ آزادی کی سیاسی تحریک کو کاﺅنٹر کرنے کے لئے ریاستی ادارے کثیر الجہتی کاﺅنٹر پالیسیوں پر بیک وقت عمل پھیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی کارکن کی حیثےت سے ہمیں اس بات سے باخبر رہنا ہو گا کہ قابض ریاست قومی تحریک کو کاﺅنٹر کرنے کے لئے ان سے بھی زیادہ پیچیدہ حربوںکاسہارالے سکتی۔جنہیںصرف باشعورسیاسی کارکن ہی ناکام کرکے اپنے عوام کی رہنمائی کر سکتے ہیں

1 Comment

Filed under News

One response to “بی ایس او آزاد کی بیسویں مرکزی قومی کونسل سیشن کا انعقاد

  1. Reblogged this on balochrightscouncil and commented:
    LONG LIVE BSO AZAD

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s