نکاسی ء سمندر


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

جہاں کہیں بھی مچھلی ظالم سے بچ نکلے تو وہاں ایفرائین ریوس مونٹ کے نکاسی ء سمندر والے ہتھکنڈے کا استعمال شروع ہوجاتا ہے۔ لوگوں کے سمندر کی نکاسی صرف ظلم اور جبر سے کی جا سکتی ہے جوکہ نسل کشی کے برابر ہوتی ہے

Mir Muhammad Ali Talpurچیئرمین ماو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ، ”گوریلا کا لوگوں کے درمیان نقل و حرکت کرنا ضروری ہے چونکہ مچھلی سمندر میں تیرتی ہے۔“ جہاں کہیں بھی لوگ اپنے حقوق کیلئے لڑ رہے ہوں، اس بنیادی اصول سے واقف ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے گوریلے یا سرمچار، جیسا کہ بلوچ انہیں اس نام سے پکارتے ہیں، بھی مختلف نہیں ہیں۔ وہ لوگوں کی مدد کے بل پر پنپتے اور زندہ رہتے ہیں جو کہ سمندر ہیں اور وہ مچھلیاں۔

Draining the sea

وہ لوگ جوعوام کو اپنے حقوق کے حصول سے روکنا چاہتے ہیں، چونکہ ان حقوق کا حصول انکی آمدنی کے ان منافع بخش ذرائع اور اس زمین پر انکے کنٹرول کو خطرے میں ڈال دینگی، وہ جانتے ہیں کہ سمندر ہمیشہ مچھلی کو برقرار رکھے گی لیکن انہیں نہیں۔ اسی لئے پاکستانی ریاست اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جو گوئٹے مالا کی حکومت نے استعمال کیے تھے جب وہ 1960ء کی دہائی اور اس کے بعد سے وہاں کی بائیں بازو کے گوریلا گروہوں سے لڑ رہی تھی جنہیں دیسی ماین اور غریب کسانوں کی حمایت حاصل تھی۔ 1982ء میں گوئٹے مالا کے صدر ایفرائین ریوس مونٹ نے کہا تھا کہ، ”گوریلا مچھلی ہے۔ لوگ سمندر ہیں۔ اگر آپ مچھلی کو پکڑ نہیں سکتے ہیں تو آپ کو سمندر کی نکاسی کرنی پڑے گی۔“ مونٹ پر جنوری 2012ء میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کیلئے فرد جرم عائد گیا۔ جہاں کہیں بھی مچھلی ظالم سے بچ نکلے تو وہاں ایفرائین ریوس مونٹ کے نکاسی ء سمندر والے ہتھکنڈے کا استعمال شروع ہوجاتا ہے۔ لوگوں کے سمندر کی نکاسی صرف ظلم اور جبر سے کی جا سکتی ہے جوکہ نسل کشی کے برابر ہوتی ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے اسٹابلشمنٹ کو اس عمل کی سعی کرنے اور سمندر کی نکاسی کیلئے حوصلہ افزائی کی ہے، اور انہوں نے اسکی ابتداء آواران اور مشکے کے علاقوں سے کی ہے جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ایک قومی روزنامے میں زاہد گیشکوری کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں فورسز کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ قیاساً قانون نافذ کرنے کیلئے وہاں موجود ہیں لیکن درحقیقت وہ وہاں لوگوں کو اختلاف رائے کا اظہار کرنے سے روکنے کیلئے سخت ترین اقدامات کا استعمال کررہے ہیں، ان نا انصافیوں کیخلاف جو 1948ء سے جاری ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، بشمول پولیس، لیویز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان کانسٹیبلری (بی سی)، کے عام سپاہیوں میں 2011ء میں 83,741 سے 2015ء میں 106,243 تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری طور پر فراہم کردہ اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک اندازے کے مطابق ایف سی میں 38,132 سے 52,000 کے اضافے کیساتھ افرادی قوت سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزید برآں فورسز میں افسران کی تعداد میں 248 سے 511 تک کا اضافہ ہوا ہے۔ حکام کہتے ہیں فورسز اب بھی 75 افسران اور 250 جونیئر کمیشنڈ افسران بھرتی کر سکتی ہیں تاکہ وہ انکے 58 بڑے ونگ اور 11 چھوٹے یونٹوں کی قیادت کریں۔ صدر ممنون حسین نے کوئٹہ میں اپنے حالیہ دورے پر کہا تھا کہ، ”فوج نے ایک نیا ڈویژن قائم کیا ہے جو کہ اس اہم منصوبے پر کام کرنے والے چینیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔“

پولیس نے 3,123 اہلکار بھرتی کیے ہیں اس طرح سے رواں مالی سال کے 9.3 ارب روپے کے بجٹ کیساتھ اسکی افرادی قوت میں 28,094 تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بی سی میں بھی 511 اہلکاروں کی شمولیت کیساتھ تازہ بھرتیاں دیکھی گئی ہیں۔ اب اسکی تعداد 9,149 افراد ہے اور اس کیلئے تین ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ لیویز کی تعداد 2011ء میں 13,000 سے بڑھ کر 2015ء میں 17,000 ہوگئی ہے۔ اس تعداد کو 2018ء تک 24,000 تک بڑھانے کے منصوبے ہیں جسکا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کیلئے سیکورٹی بہتر بنانا ہے۔ لیویز مقامی طور پر بھرتی کی گئی فورس ہے۔ لیویز کے ایک اہلکار نے انکشاف کیا کہ قلات، آواران، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، مستونگ، کچھی، سبی اور پیر اسماعیل زیارت سمیت صوبے کے سب سے زیادہ پریشان کن علاقوں میں تقریبا ً دو درجن سے زائد پلاٹون کی تعیناتی پر 35 ملین روپے کی رقم ماہانہ خرچ کی جا رہی ہے۔

جب سرکاری طور پر تمام تر توجہ بلوچ خواہشات کو دبانے کیلئے بلوچستان کو عسکریانہ بنانے اور فورسز کی طاقت بڑھانے کیلئے خصوصی بجٹ مختص کیے جانے پر وقف کی جارہی ہو تو کوئی یہ نہیں جانتا کہ ’غیر سرکاری‘ طور پر خاموشی سے مسلّمہ ’ڈیتھ اسکواڈز‘ کیلئے کتنی رقم مختص کی جا رہی ہے جو انسداد بغاوت کی ایک منظور شدہ حکمت عملی کے تحت بلوچ آبادی کو دہشت زدہ کر رہی ہیں۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی آمد کیساتھ بلوچستان میں جنگ میں تیزی سے شدت آئی۔ یہ جنگ کسی بھی طرح کی پابندیوں سے مبریٰ نقطہ نگاہ کیساتھ ارجنٹائن اور چلی میں لڑی گئی جنگوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ اکتوبر 2013ء میں سپریم کورٹ بینچ کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ 2008ء تا 2009ء کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سیکرٹ فنڈ میں سے 400 ملین روپے بلوچستان میں انسداد بغاوت کیلئے استعمال کیے گئے۔ یہ رقم ان ڈیتھ اسکواڈز کو بنانے کیلئے خرچ کی گئی تھی جیسا کہ 2008ء میں اسکے فوراً بعد اغواء کرو اور قتل کرو کا سلسلہ شروع ہوا۔ اگر فقط آئی بی نے 400 ملین روپے خرچ کیے ہیں تو ذرا تصور کریں کہ دوسروں نے کتنا خرچ کیا ہوگا اور اب بھی ان پر کتنا سرمایہ لگا ہوا ہے۔

لوگ بے تحاشہ اذیتیں جھیل رہے ہیں جب تمام تر پیسہ لوگوں کو دبانے کیلئے صرف کیا جارہا ہو۔ ملک کے باقی حصوں کے 272 کے مقابلے میں بلوچستان میں ہر 10,0000 ماوں میں سے 758 حمل کے دوران اپنی زندگی سے محروم ہوجاتی ہیں۔ پیدائش کے دوران بچوں کی اموات کا تناسب پاکستان کے دیگر حصوں میں ہر 1,000 بچوں میں سے 103 کے مقابلے میں بلوچستان میں 158 ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے (این این ایس) نے اس بات کی واضح نشاندہی کی ہے کہ بچوں میں دائمی غذائی قلت کا پھیلاو 52.2 فیصد ہے اور ماوں میں خون کی کمی 47.3 فیصد ہے۔

حسب معمول بلوچستان میں تعلیم کے بارے میں لکھنے کیلئے کچھ خاص نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں 900 گھوسٹ اسکولز ہیں جہاں وہ تین لاکھ ’گھوسٹ طالب علموں‘ کا اندراج دکھاتے ہیں اور فنڈ حاصل کر رہے ہیں۔ مئی میں پاکستان سماجی اور معیار زندگی پیمائش سروے (پی ایس ایل ایم) کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں خواندگی کی شرح 2013-2014ء میں مرد خواندگی کی شرح میں کمی کے باعث تین فی صد کم ہو کر 43 فیصد ہوئی ہے۔ بلوچستان میں خواتین کی تین چوتھائی ان پڑھ ہے جبکہ مردوں میں ناخواندگی کی سطح 45 فیصدہے۔ چند روز قبل شاہ زیب جیلانی نے بی بی سی کی رپورٹ میں ایک بلوچ صحافی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ کسی فوجی افسر نے ان سے کہا تھا کہ: ”جی ہاں، ہم ریاست مخالف عناصر کو مار رہے ہیں۔ اور ہم انہیں مارنا جاری رکھیں گے۔ آخر میں ہم اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں ہے۔“

بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی پالیسیاں گوئٹے مالا کے ایک اور صدر کارلوس آرانا اوسوریو (1970-1974) کی پالیسیوں کیساتھ بھی مشابہت رکھتی ہیں جنہوں نے 1970ء میں محاصرے کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اندازے کے مطابق ان کے دور اقتدار میں 20,000 گوئٹے مالائی شہری مارے گئے اور ایک شیطانی ظالم کیلئے یہ کسی دوسری صورت ہو ہی نہیں سکتی جنہوں نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ، ”ملک کو شانت کرنے کیلئے اگر اسے ایک قبرستان میں تبدیل کرنا ضروری ہو تو میں ایسا کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاوں گا۔“ تاہم، بلوچستان کو ایک قبرستان میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہو گا۔

مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 11 اکتوبر 2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s