خواب سے محبت


تحریر : میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی
(نوٹ: یہ ان چار مضامین کی پہلی قسط ہے جو بیک وقت شائع ہوئی تھیں)

بلوچستان کی وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی اور وقفے وقفے کے بعد دیر تک جاری رہنے والی انقلابی حالت، سیاسی شورش کو ’غیر ملکی شیہہ‘ کے طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موجودہ حالات کیخلاف عوام کی طرف سے محسوس کی جانیوالی آزردگی اور مایوسی کی شدت اور وسعت کا آئینہ دار ہے۔

Mir Muhammad Ali Talpur

سب سے زیادہ غلط فہمیاں بلوچ جدوجہد کے بارے پائی جاتی ہیں اور اس میں بلوچ کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ پاکستانی اسٹابلشمنٹ کا مذہب کے زیر اثر ریاستی بیانیہ ہے۔ کوئی بھی نام یا ثقافتی نسل جس کا دور سے بھی مسلمانوں کیساتھ قریبی تعلق ہو تو اس کیلئے تاکید پر مبنی انکی محبت غیرمشروط ہے؛ پاکستانی فلسطین، کشمیر، روہنگیا اور کوئی بھی جسکا مسلمانوں کیساتھ کسی بھی طرح کا کوئی تعلق ہو، انکی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم اسی بنیاد پر وہ بلوچ کو غدار اور اسلام دشمن قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔

کتنا اور کس حد تک یہ ملک اسلامی ہے یہ سب دیکھ سکتے ہیں۔ ریاستی بیانیہ بلا کسی چوں چرا کے قبول کیا جاتا ہے اور یہی چیز ریاست کیلئے ذہنوں اور رائے کے توڑنے مروڑنے میں آسانی پیداکرتا ہے۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کیلئے بلوچ مسئلہ شجر ممنوعہ ہے اور سوشل میڈیا عام طور پر یا تو غلط معلومات پھیلاتا ہے یا منفی طور پر جانبدار ہوتا ہے۔ گراونڈ پر اس کام کو سرانجام دینا کافی کٹھن ہے اور میڈیا کی گنجھلدار کوریج اسے دوگنا مشکل بنا دیتی ہے۔ بہت کم کالم نگار بلوچ مسائل کے بارے میں لکھتے ہیں اور حتیٰ کہ بہت ہی کم اخبارات عام رجحان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں چھاپتے ہیں، یہاں تک کہ بلاگز بھی انہیں قبول نہیں کرتے۔بلوچستان کے ماضی اور حال کا تعین بلوچ بحیثیت قوم اپنے استقلال اور صلاحیتوں کا لوہا منوا کر کیا کرتا اور اس کا مستقبل نئے چیلنجز پیش کررہا ہے جو کہ بلوچ سے بطور ایک قوم کے زیادہ برتر اور غیرمتزلزل نقطہ نظر کا تقاضا کرتا ہے۔ بلوچ قوم کی استقامت اور جذبے کا امتحان ان کیخلاف جاری منظم ’غلیظ جنگ‘ سے لیا جا رہا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں پاکستانی اسٹابلشمنٹ اور اس کے پراکسی قاتل دستوں کی طرف سے 700 سے زائد بلوچ کارکنوں اور عام لوگوں کو اغواء کرکے، تشدد کا نشانہ بناکر، قتل کرکے اور پھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھینک دیا گیا ہے تاکہ بلوچ آبادی میں خوف اور دہشت کے بیج بوئے جائیں اور وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پرہیز کریں۔ یہ سفاکیت و بیہیمیت بلوچ کو اطاعت گزاری کروانے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستانی اسٹابلشمنٹ سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ لگائے گئے داو کو بڑھائے چونکہ ویسے بھی وہ معاشی طور پر دیوالیہ ہیں، انہیں بلوچ وسائل کی ضرورت ہے اور چین اس جرم میں ان کا شراکت دار ہے اور اس نے انہیں بلوچستان کے وسائل کا استحصال کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کر رکھا ہے، گوادر کاشغر سڑک اور پائپ لائن جیسے آرائشی منصوبوں کیساتھ جنکا بلوچ مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ چین کو ایک آسان اور سستا توانائی کوریڈور فراہم کرنے کیلئے اسکی ضرورت ہے۔

’غلیظ جنگ‘ کے مرتکبین کیلئے ارجنٹائن اور چلی کے طرز پر ایک عام معافی پر غور کیا جارہا ہے۔ یہ عام معافی لوگوں کو یہ باور کروائے گی کہ جرائم کے مرتکبین کو پہلے سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے؛ وہاں کبھی بھی نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی ’غلیظ جنگ‘ کے مرتکبین کیخلاف کبھی کسی مقدمے کی سماعت ہوئی ہے لیکن یہ بالکل کسی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ 1971 میں بنگلہ دیش میں کئی ملین افراد قتل ہوئے اور لاکھوں خواتین کی عصمت دری کی گئی اور وہاں کسی ایک پر بھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ بلوچ کیلئے انصاف کی توقع رکھنا بعید از عقل ہے لیکن اس سے ان تمام بلوچوں پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جنہیں اپنے لوگوں سے محبت ہے، کہ وہ پاکستانی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے آواز بلند کریں خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں اور جسطرح سے بھی کرسکتے ہوں۔

بلوچ کو ریاست کے بیانیے کو چیلنج کئے بغیر دنیا کو اپنا بیانیہ پیش کرکے ریاست کے بیانیے کو چیلنج کرنا چاہئے۔ ریاست کے بیانیے کو چیلنج کئے بغیر وہ کبھی بھی دنیا کو اپنی جدوجہد اور اپنے خواب کو سمجھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ بلوچ کو اپنی بے مثال جدوجہد کی تاریخ پیش کرنے اور اسے محفوظ کرنے کے اس بنیادی اہمیت کی حامل بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ انکی آنیوالی نسلیں اس سے سیکھیں اور باقی ماندہ دنیا اسکی حقیقت کو جانے۔ ٹویٹر پر ٹویٹس اور فیس بک پر اسٹیٹس خواہ جتنی بھی اہم، بامعنی اور عمیق کیوں نہ ہوں مگر وہ کبھی بھی سنجیدہ اور سرشار ادب کا متبادل نہیں ہونگے۔

جدوجہد کے کلچر کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ بلوچ متاثر ہوکر اور متحرک رہ کر ثابت قدم اور ڈٹے رہیں کیونکہ پاکستان اپنے تمام وسائل کیساتھ مالی منفعت کیلئے محبت اور غلامی کے فوائد کیلئے رغبت پیدا کرنے کیلئے بلوچوں کی ذہن شوئی میں مصروف ہے۔ اگر یہ مشکل حالات ہمیں اپنی جدوجہد کی سطح میں اضافے کیلئے ہماری روحوں کو جدوجہد اور مزاحمت کی ثقافت کے لٹریچر کی تخلیق کیلئے اکسا نہ سکیں تو ہم بلوچ قوم کیلئے اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام ہونگے۔ بلوچ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں؛ یہ وہ مقصد ہے جس کی وہ آرزو رکھتے ہیں اور یہ وہ خواب ہے کہ جسکی وہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کیلئے، اس کے پاس دستیاب رقم کیساتھ، یہ کام انتہائی آسان ہے کہ وہ اطاعت گزاری اور غلامی کے بدلے ملنے والے فوری انعامات کی لالچ سے نئے رنگروٹ حاصل کرلے جبکہ ہمیں ایک خواب کیلئے قربانیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہے، ایک خواب جو سب سے زیادہ محبوب ہے مگر پھر بھی اسکا حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے اور لوگوں کو اس پر قائل کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہمیں اس خواب سے محبت کرنی ہے تاکہ ہم اس خواب کیساتھ لوگوں کو متاثر کرنے کے قابل ہوں۔ میں تمام بلوچوں سے ایک پرخلوص اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس خواب کیلئے متحد ہوجائیں کیونکہ جب تک کہ ہم متحد نہیں ہوں گے تو یہ خواب ہمیشہ صرف ایک خواب ہی رہے گا۔

تاریخ

بلوچ کو اب اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے یا اب وہ اس بابت فکر مند نہیں ہیں کہ وہ پاکستان سے اپنی علیحدگی کیلئے کوئی تاریخی، سیاسی یا اقتصادی جواز پیش کریں لیکن وہ لوگ جنہیں اس موضوع پر علمی اور تاریخی دلچسپی ہے ان کیلئے میں یہ تاریخ پیش کررہا ہوں۔

بلوچ کا ماخذ اور ابتدائی تاریخ اساطیر اور لوک داستانوں کے دھند میں لپٹی ہوئی ہیں۔ بعض مورخین کا دعویٰ ہے کہ وہ کلدانی ہیں؛ کچھ کا اصرار ہے کہ وہ عرب ہیں کیونکہ اسی طرح کے نام کے حامل قبائل اب بھی وہاں رہتے ہیں جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ وہ ترکمان ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ بلوچ وقت کے ساتھ ساتھ ہجرت کرکے یہاں آئے، شاید ظلم و ستم کی وجہ سے، چونکہ بلوچ کا اس سنگلاخ و ناہموار قطع زمین کو اپنے مسکن کے طور پر انتخاب کرنے سے یہی پتہ چلتا ہے۔

وہاں کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے جو ان پیش کیے گئے نظریات کو ثابت کرنے میں معاون ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خطے کے قریبی علاقوں میں بہت سارے بلوچ رہتے ہیں جو موجودہ دور کے پاکستان، افغانستان اور ایران میں آباد ہیں اور قبائلی، لسانی، سماجی اور خونی بندھن کا دعویٰ کرتے ہیں جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ میں ایک نسل ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا اپنے بھائیوں کیلئے احساس انسیت، خواہ وہ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں، بذات خود انکی تاریخی وحدانیت کی طرف ایک اشارہ ہے اور یہ امر ان کے اپنے اقتدار کے تحت اتحاد کیلئے ان کی خواہش کا اظہار بھی ہے۔

قبائلی داستانیں ضرورت کے وقت مختلف افراد یا گٹوں کو قبیلے کی مختلف پرتوں میں یکجاہ کرکے ساتھ لینے کے واقعات سے بھری پڑی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان داستانوں میں ان علاقوں کے نام اور وہاں قدم جمانے کیلئے لڑی گئی لڑائیوں کا ذکر بھی ہے جہاں آج بلوچ قبائل موجود ہیں۔ یہ شریک کار بنانے کا عمل بلوچی اور براہوی زبانوں کے درمیان فرق کی بھی وضاحت کر سکتے ہیں۔ دری، فارسی اور کردی کے ساتھ ساتھ بلوچی بھی انڈو یوروپی زبانوں کی شاخوں میں سے ہے؛ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ اس کا ماخذ ایک معدوم زبان ہے۔

مختلف اوقات میں کوششیں کی گئیں کہ بلوچ اور براہوی کے درمیان فرق پیدا کیا جائے اس امید میں کہ یہ فرق ان کے درمیان موجود اتحاد کو کمزور کردے گا لیکن یہ کامیاب نہیں ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تقسیم کے بعد جب بلوچستان کو عارضی طور پر آزادی کا درجہ حاصل تھا، خان کلات کی اسمبلی کے غالب براہوی بولنے والے ارکان کی اکثریت نے کثرت رائے سے بلوچی کو قومی زبان کے طور پر قبول کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فردوسی کے ’شاہنامہ‘ میں بلوچ کا ذکر موجود ہے جو اشارہ کرتا ہے کہ وہ کافی حد تک ایک اہم قوت تھے کہ اس میں ذکر کا مستحق قرار پائے۔ ایران میں ان دونوں نسلوں کے درمیان مخاصمت اور مذہبی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے وہاں بلوچ کی تاریخ جان بوجھ کر مٹائی یا مسخ کرکے پیش کی جارہی ہے۔

بلوچ لوک داستانوں میں 12 ویں صدی میں کرمان اور سیستان سے میر جلال ہان کی قیادت میں مکران میں 44 بلوچ قبائل کی آمد کا بھی ذکر موجود ہے۔ وہاں کے مقامی حکمران کو شکست دینے کے بعد سب سے پہلی بلوچ کنفیڈریسی کا قیام عمل میں آیا۔ میر احمد یار خان کہتے ہیں کہ اصل مرکزی گروہ مکران آیا، ایک چھوٹا گروہ سیستان گیا اور براہوی نامی ایک گروہ کلات میں بس گیا۔ میر جلال ہان کی موت اس کے بیٹوں کے درمیان عداوت اور مکران اور کلات کے درمیان تنازعے پر منتج ہوئی۔

پھر یہاں میر چاکر خان رند یا ’بلوچِ اعظم‘ آئے جنہوں نے آج کے بلوچستان کے بڑے حصے پر حکومت کی اور اس کا دارالحکومت سبی (سیوی) کو بنایا۔ رند اور لاشار کے درمیان خانہ جنگی بلوچ حکمرانی کیلئے کمزوری کا موجب ثابت ہوئی اور 1511ء میں چاکر نے ہجرت کی اور ستگرہ ملتان میں جلاوطنی کے دوران انہوں نے وفات پائی۔ بلوچ نے شیر شاہ سوری سے تخت دوبارہ حاصل کرنے میں ہمایوں کی مدد کی اور انہیں دہلی کے قریب فراخ نگر اور بہادر گڑھ کے نام سے جانے جانیوالی دو جائیدادیں دی گئیں۔ بہت سے اردو بولنے والے بلوچوں نے تقسیم کے بعد سندھ کی طرف ہجرت کی۔

ڈیرہ جات کنفیڈریسی سہراب خان دودائی (1451) نے قائم کی جو چاکر خان کے ہم عصر تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ فتح خان کے ڈیرہ جات ان کے صاحبزادوں کے نام سے منسوب ہیں۔ ڈیرہ غازی خان جو غازی خان ملرانی بلوچ سے منسوب ہے اگرچہ بعض کہتے ہیں کہ وہ بھی سہراب خان دودائی کے صاحبزادے تھے۔ یہ کنفیڈریسی رندوں کیساتھ تنازعے کی وجہ سے کمزور ہوگئی اور یہ تنازعہ منظوم داستان کی شکل میں محفوظ ہے۔ قبائل کے مابین دشمنی نے بلوچ کی طاقت کو اسطرح سے مرتکز ہونے نہیں دیا جسطرح میر نصیر خان نے کلات کی خانیت کیلئے کی تھی۔

کلات کی خانیت حقیقی معنوں میں قریب 1666ء میں شروع ہوئی جب میر احمد خان اول نے وہاں کی سرداری سنبھالی۔ میر گل خان نصیر کے مطابق وہ سب سے پہلے سربراہ تھے جنہوں نے ایک مقتدر کی حیثیت سے کلات پر حکمرانی کی اور افغانوں کیساتھ مسلسل تفاوت میں رہے۔ ان کی وفات کے بعد میر محراب نئے خان منتخب ہوئے اور اپنی حاکمیت قائم کرنے کیلئے وہ ایرانیوں سے لڑے ۔

نصیر خان، کلات خانیت کے چھٹے خان، کیساتھ سنہری دور (1741-1795) شروع ہوا۔ اس مدت کے دوران وہ، ان سے قبل یا انکے بعد کسی بھی دیگر حکمران کے مقابلے میں زیادہ، پورے بلوچستان کو ایک مرکزی بیوروکریسی کے قیام کے قریب لائے۔ ان کا ایک ’وزیر‘ (وزیر اعظم) تھا جو تمام داخلی اور خارجی امور کی نگرانی کرتا اور ایک ’وکیل‘ تھا جسکی ذمہ داری ریاست کی زمینوں سے آمدنی اور رسمی طور پر منسلک حاکموں اور سرداری ریاستوں سے خراج وصول کرنا تھا۔ دو قانون ساز کونسل تھے، قبائل کی طرف سے منتخب کردہ ایوان زیریں اور بزرگوں پر مشتمل ایوان بالا جو مشاورتی حیثیت میں خدمات سر انجام دیتا تھا۔ نینا سوڈلر کیمطابق یہ رشتہ داری کی بنیاد پر قبیلے کے مختار کل سربراہ اور مرکزی بیوروکریٹک ریاست کی سربراہی کے درمیان کی کوئی چیز تھی۔

سن 1747ء میں نادر شاہ کی موت کیساتھ نصیر خان نے ایران کی باج گزاری کی حیثیت کو رد کردیا۔ جب احمد شاہ نے افغانستان میں ایک نئی سلطنت قائم کی تو نصیر خان کو گیارہ سال تک افغان حکم فرمائی تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن جب ایک بار انہوں نے اپنی فوجی طاقت مضبوط کرلی تو افغانوں پر فوجی لحاظ سے چڑھائی کردی اور 1758ء میں احمد شاہ کی افواج کیخلاف جنگ کرکے انہیں حالت امتناع تک پہنچا دیا اور ایک امن معاہدہ جسے ’کلات معاہدہ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، اس میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ خانِ بلوچ افغانستان کو خراج ادا نہیں کرے گا، دونوں اطراف عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے اور افغانستان کے قبضے میں موجود خانیت کے تمام علاقے خانیت کو واپس لوٹائی جائیں گی، پر دستخط کیے گئے۔

نصیر خان کو تمام بلوچوں کی طرف سے ایک ہیرو کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جو کچھ انہوں نے بلوچ کو ایرانی اور افغانی باجگزاری کے طوق کو اتار پھینکنے اور بلوچستان میں خود بلوچ کی اپنی ایک منظم حکمرانی قائم کرنے کیلئے کیا۔ انکے دور اقتدار میں خاران، سیستان (ایران، افغانستان) کے کچھ حصے، ایرانی بلوچستان، ڈیرہ جات، کراچی، مکران، چاغی، جیکب آباد اور کوئٹہ خانیت کا حصہ تھے۔ انہوں نے پانی پت کی تیسری لڑائی (1761) میں مراٹھوں کیخلاف ہندوستان کے مسلمانوں کی مدد کی اور 1765ء میں سکھوں کیخلاف احمد شاہ کی مدد کی۔

سن 1795ء میں ان کی رحلت کے بعد ان کے سات سالہ بیٹے میر محمود خان جانشین ہوئے لیکن
انتظامی امور انکے ’وزیر‘ اخوند فتح محمد چلایا کرتے۔ انکے دور اقتدار میں ڈیرہ جات پر افغانوں کا قبضہ ہوگیا، مکران اور مغربی بلوچستان کے دیگر سرداروں نے بھی خراج دینے سے انکار کر دیا، مختصر یہ کہ 1810ء میں پوٹنگر اور دیگر نے خانیت کو افراتفری اور انتشار کی حالت میں پایا۔

سن 1817ء میں محراب خان محمود خان کے جانشین بنے لیکن انہوں نے سرداروں اور وزیروں کیخلاف ایک نہایت ہی جابرانہ پالیسی اپنائی جو صرف ان قوتوں کو متنفر کرنے میں کامیاب ہوئی جو کہ خانیت کو مضبوط بنانے میں انکی مدد کر سکتے تھے۔ برطانوی حکومت نے بھارت میں اپنی طاقت مرتکز کرنے کیلئے افغانستان میں سازشیں شروع کر دی تھیں اور علاقے کو محکوم بنانے کیلئے وہ سانٹھ گانٹھ کے کھیل مصروف تھے۔ وہ شاہ شجاع کو ایک بار پھر افغانستان کے بادشاہ کے طور پر نصب کرنے کیلئے کابل تک فوجیں بھیجنا چاہتے تھے اور انہیں دریائے سندھ کے پاس موجود اپنی فوج کو بولان کے ذریعے ایک محفوظ راستے کی ضرورت تھی۔ برطانوی حکومت محراب خان کو اطاعت گزاری پر مجبور کرنے کیلئے دھمکیوں اور وعدوں کے ذریعے ان پر دباو ڈالتے اور انکی خوشامد کرتے رہے اور آخر کار 1839ء کے اوائل میں محراب خان نے محفوظ راستے اور رسد کیلئے کیپٹن برنز کیساتھ ایک معاہدے پر دستخط کردیئے۔

برطانوی حکومت کسی زیادہ لچیلے شخص کو بطور خان دیکھنا چاہتے تھے تاکہ انہیں کسی پریشانی کے بغیر خطے میں اپنی حکمرانی کے خواب کی تکمیل میں آسانی ہو۔ قبائل نے ہمیشہ خان کی فرمانبرداری نہیں کی اور مری قبیلے کی طرف سے بولان پاس اور اس سے ملحقہ علاقوں میں برطانوی افواج پر حملے کیے گئے۔ اس چیز کو جواز بناکر سر جان کین کی قیادت میں جنگی سامان سے لیس فوج نے 11 نومبر 1839ء کو کلات کا محاصرہ کیا اور 13 نومبر کو محراب خان اپنے وفادار حامیوں کے ہمراہ قتل کیے گئے۔ محراب خان کی برطانوی حکومت کیخلاف سرکشی کے اس عمل کے سبب انہیں ایک ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے برطانوی حکومت اپنی مرضی کیمطابق بلوچستان کے امور میں ساز باز کرتی رہی۔

ٹالپر، ایک بلوچ قبیلہ، جو ڈیرہ غازی خان کے علاقے بھرگرہ سے آیا تھا جہاں ان میں سے کچھ اب بھی رہتے ہیں اور کبھی کبھار کہا جاتا ہے کہ وہ مری قبیلے سے ہیں اور کبھی کبھی لیغاری کی شاخ کہلاتے ہیں، تقریباً 1670ء عیسوی میں سندھ میں آئے اور بعد میں 1783 سے لیکر 1843 تک سندھ پر حکومت کی۔ میر شہداد خان، بھرگرہ سے تعلق رکھنے والے میر سلیمان کاکو کے پوتے جو 1734 میں انتقال کر گئے، وہ شخص تھے جنہوں نے سندھ میں ٹالپر حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ ان کے صاحبزادے میر بہرام خان کلہوڑہ حکمرانوں کے وزیر تھے اور ان کے پوتے میر فتح علی سندھ کے پہلے ٹالپر حکمران تھے۔ وہ اگرچہ بلوچ نژاد ہونے کے باوجود خانیت اور دودائی کنفیڈریسی کیساتھ ایک مشترکہ محاذ نہیں بنا سکے۔ بلوچ اقتدار کے یہ چھوٹے چھوٹے مراکز اگر اسوقت متحد ہوچکے ہوتے تو شاید آج بلوچستان کی ایک مختلف تاریخ ہوتی۔

سن 1854ء میں برطانیہ نے وسطی ایشیاء اور ایران کی طرف سے کسی بیرونی حملے کیخلاف اپنے علاقوں کے دفاع کیلئے خان، بلوچستان کے حکمران، کیساتھ ایک معاہدہ کیا۔ 1870ء میں برطانوی حکومت نے بلوچستان کی خانیت کیساتھ سرحد کی تخصیص کرنے پر اتفاق کیا۔ 1871ء میں برطانوی حکومت نے ایرانی تجویز قبول کر لی اور میجر جنرل گولڈاسمڈ کو مشترکہ فارس بلوچ باونڈری کمیشن کا چیف کمشنر مقرر کیا، ایران کی نمائندگی مرزا ابراہیم اور خانیت بلوچستان کی نمائندگی سردار فقیر محمد بزنجو نے کی جو مکران کے گورنر تھے۔ بلوچ مندوب نے مغربی بلوچستان کا دعویٰ پیش کیا اور ایرانیوں نے کوہک سمیت مکران کے بیشتر علاقے پر دعویٰ کیا۔

کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد، گولڈ اسمڈ نے تاریخ، جغرافیہ، ثقافت یا مذہب پر غور کیے بغیر، اور ان بلوچ سرداروں، جو خود کو خان کی رعیت شمار کرتے تھے، کے بیانات کو نظر انداز کرکے بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایرانی حکومت نے 4 ستمبر، 1871ء کو کوہک، اسفندک اور کونابستہ کے علاقوں سمیت ایک چھوٹے سے حصے کو فارس کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی۔ اس درخواست کو برطانوی بھارت کی حکومت کے حوالے کیا گیا اور اس پر جنرل گولڈاسمڈ سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے اپنا خیال تبدیل کرتے ہوئے اس علاقے کی منتقلی پر ایران کی طرفداری کی۔

سن 1896ء اور 1905ء میں ایک اینگلو فارسی مشترکہ سرحدی کمیشن ایران اور برطانیہ کے درمیان بلوچستان کو تقسیم کرنے کیلئے مقرر کیا گیا۔ سرحدی حد بندی کے عمل کے دوران برطانوی حکام نے بلوچستان کی خانیت کے کئی علاقے ایران کے حوالے کردیے جو ایرانی حکومت کو خوش کرنے کی امید کر رہے تھے تاکہ وہاں روسی اثر و رسوخ پر نظر رکھ سکیں۔ 1896ء کا معاہدہ 1854 اور 1876 کے معاہدوں کی صریحاً خلاف ورزی تھی جس نے فارس بلوچ سرحد کو ایران اور بھارت کی سرحد قرار دیدیا۔ 1905 کے معاہدے کے تحت خانیت نے میر جاوا کا علاقہ کھو دیا اور اسکے بدلے میں ایرانی حکومت نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ 1896 کے معاہدے کے مطابق اس سرحد کو حتمی شمار کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں کوئی مزید دعویٰ نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیستان کی حتمی سرحدی حدبندی برطانوی کمشنر سر میکموہن کی طرف سے 1904 میں ہوئی، یہ بلوچ افغان سرحد یا میک موہن لائن نیو چمن سے لیکر فارس بلوچ سرحد تک کے علاقے پر محیط ہے۔ اس سرحد کی حدبندی 1896 میں بھارت افغان باونڈری کمیشن کی طرف سے کیپٹن (بعد میں سر) اے ہنری میک موہن کی سربراہی میں کی گئی۔ یہ سرحد بلوچ کے ملک اندر سے گزرتی ہے جس نے ایک ہی خاندان کو ایک دوسرے سے جدا کیا اور ایک ہی قبیلے کو ایک دوسرے سے الگ کردیا۔ فارس بلوچ سرحد کی حدبندی کی طرح برطانیہ نے یہاں پر بھی خان سے مشاورت نہیں کی جو اس سرحد کی قانونی درستگی کو مشکوک بنادیتی ہے۔

اگرچہ خانیت کی طاقت اپنی سابقہ شان و شوکت کھو چکی تھی لیکن پھر بھی قبائلی سرداروں کی طرف سے خان کو، حاکمیت کی وفاداری کے پابند ہونے کے سبب، قدر و منزلت حاصل تھی جس نے برطانوی حکومت کو بلوچ کیساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے خانیت کو ایک خصوصی حیثیت دینے پر مجبور کیا۔ انہوں نے یہ بھی سوچا کہ ایک قائم شدہ عملداری اور اتحاد کی علامت کو اچانک ہٹانا اس خطے کو اسکی غرض و غایت کے حوالے سے استعمال کرنے کے انکے مقاصد کیلئے سودمند ثابت نہیں ہوگا لیکن خانیت کیساتھ انکے تعلقات برطانیہ کے نہایت محدود مفادات پر مبنی تھیں اور کوئی بھی معاہدہ یا کوئی بھی مراعات دی یا لی گئیں انکی رہنمائی اکیلے اسی اصول نے کی۔

سن 1841، 1854 اور 1876 کے معاہدے اور مابعد کی گئی تبدیلیاں اور برطانیہ کے فائق مفادات، باوجود اسکے کہ خانیت کی آزاد حیثیت کو سب نے قبول کیا تھا اور یہ 1947 تک جاری رہی جب آخر کار برطانیہ نے نامناسب عجلت کیساتھ اقتدار چھوڑا تو یہ لاکھوں لوگوں کیلئے مصائب کا باعث بنی اور اس سے بلوچ اور دیگر قومیتوں کے مفادات خطرے میں پڑ گئے وگرنہ وہ اپنی منتخب کردہ راہ چل پڑتے جس سے وہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی دنیا میں رہ رہے ہوتے۔

میر محمد علی ٹالپر کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : ویو پوائنٹ آن لائن، جمعرات، 10 اکتوبر2013
http://www.viewpointonline.net/loving-the-dream.html

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s