بندوق کے سائے تلے (پہلا حصہ) تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


ا 1973 تا 1977 کی فوجی کارروائی کے دوران جنگی علاقے میں ہزاروں بے گناہ افراد جاں بحق ہو ئے، ہزاروں داخلی طور پربے گھر ہوئے

مسٹر اکرام سہگل کی ’نیوز لائن‘ مارچ 2012 میں چھپنے والی تحریر ”بابتِ سلطنت اور فوج “ بلوچ کےخلاف غلط معلومات اور تعصب کی ایک پوٹلی ہے۔ وہ اس بات پر مضطرب ہیں کہ میڈیا صرف اور صرف سیکورٹی اسٹابلشمنٹ کو ہی بلوچستان بحران کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، وہ دعویٰ کرتے ہےں کہ، ”ہمارے زیادہ تر مسائل کی بنیاد کود کر نتائج اخذ کرنا ہے ، جو غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں اور پھر جان بوجھ کر ان نصف سچائیوں کا مسخ کرنا ہے تاکہ وہ عوام کے خیال کے مطابق ہوں۔“ انہیں لگتا ہے کہ، ”موزونیت سے عاری میڈیا کا علیحدگی پسند رہنماو¿ں کا پروجیکشن نسلی تقسیم اور تشدد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔“ شاید وہ یہ سوچتے ہےں کہ بلوچ جدوجہد اور ریاست کی طرف سے مظالم محض ذرائع ابلاغ کے تخیل کی ایک منگڑھنت کہانی ہے۔

سفاکانہ قتل اور پھینکنے کی ریاستی پالیسی انہیں مناسب لگتی ہے۔ وہ نیم دلی سے مانتے ہیںکہ ، ”کوئی اس حقیقت کو نہیں جھٹلاسکتا کہ بلوچ کو ہدف بنا کر قتل کیا جارہا ہے، لوگ اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ کہ ریاستی اداکار قتل اور لاپتہ کرنے میں ملوث رہے ہیں ۔“ پھر وہ ایک لولا لنگڑاجواز پیش کرتے ہےں کہ ، ”سرزمین کے بیٹے“ برابر تعداد میں آبادکاروں کو بھی تو مار رہے ہیں۔ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی حالیہ رپورٹ کیمطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت نسلاً بلوچ ہیں۔

سہگل ہمیں بتاتے ہےں کہ 29 دسمبر، 1973 ءکو، جب ان کا بیٹا کراچی میں پیدا ہورہا تھا، عطاءاﷲ کی نمائندہ حکومت کی برخاستگی کے بعد،کاہان کے قریب ان کی کمپنی مری باغیوں کی بھاری گولہ باری کی زد میں تھی۔ بلوچ بجا طور پر ان کو حملہ آور سمجھتے تھے، اور ان سے کسی دعوت طعام و قیام کی توقع تو نہیں کی جا سکتی تھی۔ پھر وہ تو کہتے ہیں، ”اس سال کے دوران، بہت سے فوجی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے“، اور مزید کہتے ہیں کہ،” ایک واقعے میں، باغیوں نے ہمارے اُنّیس فوجیوں کا سر قلم کر دیا تھا۔“

خیر، میں بھی اس وقت بلوچ قوم پرستوں کےساتھ مری کے علاقے میں تھا اور یقینا مری کبھی بھی ایسے گھناو¿نے عمل میں ملوث نہیں رہے۔ ان کا دعویٰ عِلّت کی نفی کرتا ہے، یعنی کہ کسی گوریلا کے پاس ممکنہ طور پر اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ گھات لگا کر حملہ کرے اور پھر فوجیوں کا سر قلم کرسکے۔ گھات لگاکر حملے کرنا جوابی کارروائی کو مدعو کرنا ہے اور وہ بھی ان ہیلی کاپٹروں، جیٹ طیاروں اور گاڑیوں نقل و حمل کے ساتھ جو فوج کے پاس ہمہ وقت موجود ہوتیں، صرف کوئی احمق ہی ہوگا جو گھات لگا کر حملہ کرنے بعد وہاں ٹھہرے گا۔

کالم نگار مزید کہتے ہیں کہ فوج بھی مریوں کیخلاف اسی طرز کی جوابی کارروائی کر سکتی تھی لیکن اس نے نرمی برتی کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ ان کا سردار (قبائلی سربراہ) جو کہ کابل میں آرام سے رہ رہا تھا، اور مریوں کوگمراہ کیے ہوا تھا۔ اتفاق سے، سردار خیر بخش مری اور سردار عطاءاﷲ مینگل دیگر بلوچ رہنماو¿ں سمیت 1978 تک جیل میں تھے۔ وہ غلط معلومات اور مسخ شدگی کےلئے میڈیا کو مورود الزام ٹھہراتے ہےں۔ 1973 تا 1977 کی فوجی کارروائی کے دوران جنگی علاقے میں ہزاروں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہو گئے، ہزاروں داخلی طور پربے گھر ہوئے، سماجی اور اقتصادی زندگی بری طرح متاثر ہوئی، ریوڑ چرالئے گئے ، فصلوں کو تباہ کر دیا گیا، اور پورے بلوچستان کو دہشت زدہ کیا گیا تھا۔ آٹھ افراد، جنھیں میں نے ذاتی طور پر جانتا تھا، بشمول میرے عزیز دوست دلیپ داس عرف جانی داس، لاپتہ ہوگئے، جنکی بابت پھر کبھی نہیں سنا ۔ شیر محمد عالیانی جوکہ ایک قبائلی، ایک بزرگ، ایک ضعیف العمر تھے، اٹھالیا گیا تھا کیونکہ کاہان کے قریب ان کے مسکن کے علاقے میں گھات لگا کر ایک حملہ ہوا تھا؛ بعد میں ان کی وحشیانہ طور پر تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔ تدڑی سے تعلق رکھنے والے مراد خان رمکانی کو بھی اسی طرح ہلاک کیا گیا۔ نڈر اسد اللہ مینگل اور احمد شاہ کرد کراچی میں اغوا اور ہلاک کیے گئے تھے۔ دکھائی گئی ’لحاظِ مروّت‘ کی مثالیں قلم بند کرنے کیلئے بہت زیادہ ہیں۔

آبادی اور قبائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سہگل کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مقابلے میں پنجاب اور سندھ میں زیادہ بلوچ آباد ہےں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈیرہ غازی خان کو اس کے قبائلی علاقوں سمیت 1950 میں پنجاب میں شامل کیا گیا تھا، اس وجہ سے پنجاب میں بلوچ آبادی میں اضافہ ہوا۔ وہ پشتون گورنروں کی تقرری کے انقطاع کی بابت بہت پریشان لگتے ہیں۔ برآمد شدہ ’وائسرائیوں‘ نے صرف بین النسلی کشیدگی کو بڑھاوا دیا ہے۔ اویس غنی فرمانروا تھے جب سردار اکبر بگٹی کو ہلاک کیا گیا۔

سہگل بلوچ اور سرداروں کےخلاف اپنے تعصب کو ایک صریحاًفرضی کہانی کو بار بار دہراتے ہوئے ظاہر کرتے ہےں کہ ماضی کے کچھ متکبّر بلوچ سردار کرنل سنڈیمن کو ایک کجاوہ میں اپنے کندھوں پر لاد کر پنجاب سے بلوچستان میں کئی میل تک اٹھاکر لائے تھے۔ عجب طور سے، نہ تو کسی ایک سردار کا نام دیا گیا اور نہ ہی جگہ کا۔ کسی کو بدنام کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسکے بارے میں غیرمصدقہ کہانیاں پھیلا دو، یہ جانتے ہوئے کہ باقی کام تعصبات خود کرلیں گی اور یقینا یہاں بلوچ کے بارے میں کسی بھی جھوٹ پر بہ آسانی یقین کرلیا جاتا ہے۔ مزید برآں یہ باور کرانے کیلئے کہ برطانیہ کے پاس سنڈیمن کی نقل و حمل کےلئے گھوڑے نہیں تھے؛وہ پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں جو کہ قرب المرگ بیمار جناح کو ہوائی اڈے سے لانے کی خاطر ایک کھٹارا ایمبولینس اسپیئر ٹائر کے بغیر بھیجیں۔

موجودہ قوم دوست رہنماو¿ں کےخلاف اپنے ’تعصب‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے سہگل کہتے ہیں، ”یہ افسوس کی بات ہے کہ ایک چھوٹی سی عسکریت پسند اقلیت جسکی قیادت کچھ ظالم اور جابر سرداروں کی اولادیں کررہی ہے، ”جمہوریت اور آزادی“ کی بات کرتے ہیں۔“ ان کی دوسری شکایت یہ ہے کہ، ”بلوچ اب فوجی چھاو¿نیوں کی موجودگی کےخلاف احتجاج کرتے ہے لیکن انہوں نے تب کوئی احتجاج نہیں کیا تھا جب برطانیہ نے اُنیس ویں صدی کے اواخر میں کوئٹہ میں آگرہ کے بعد برطانوی ہندوستان میں سب سے بڑی چھاو¿نی کی تعمیر کی تھی۔“ مجھے حیرت ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیا کہیں گے جنہوں نے وفاداری سے برطانیہ کی خدمت کی اور ایک 50 سالہ طویل عرصے تک بلا تعرض خالصہ(سکھ) حکمرانی کےلئے اپنی خدمات پیش کیں۔ کسی نے لاہور میں بادشاہی مسجد کی بے حرمتی کیخلاف مزاحمت نہیں کی جسے رنجیت سنگھ اپنے اسطبل کے طور پر استعمال کرتا رہا ۔ سید احمد شہید کو سکھ حکمرانی کےخلاف مزاحمت کرنے کےلئے بریلی سے آنا پڑا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ، رنجیت سنگھ کی پسندیدہ گھوڑی الف لیلیٰ کی نمائشی باقیات، جسکی ایملی ایڈن نے لیلیٰ کے نام سے خاکہ کشی کی تھی، لاہور میوزیم میں مزین ہے۔ انہیں ”ظالم اور جابر سرداروں“ کی غیر حقیقی خفیف غلطیاں تو یاد ہیں، لیکن امت کے موجودہ محافظ اوررہنماو¿ں کی ماضی کو بھول جاتے ہیں۔ وہ انتخاباً کچھ کو تو یاد رکھتے ہےں اور دیگر تکلیف دہ حقائق کو درگزر کردیتے ہیں۔

سہگل کا کہنا ہے کہ بلوچ سرداروں نے ورثاءکے حوالے سے ذلت آمیز برطانوی شرائط مان لیں تھیں، لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ 1839 میں مریوں نے سارتاف اور نافُسک کی لڑائی میں برطانیہ کو شکست دی تھی؛ میر محراب خان، خان آف قلات، قلات کا دفاع کرتے شہید ہوئے تھے۔ 1917 میں مریوں نے پہلی عالمی جنگ کے لئے رنگروٹ دینے سے انکار کردیا تھا اور گُمبازاور ہرب کے مقامات پر اپنے آتش زنوں اور تلواروں کیساتھ برطانوی مشین گن کےخلاف جنگ کا انتخاب کیا تھا؛ برصغیر میں ماسوائے مریوں کے کسی اور نے انکار نہیں کیا تھا۔ بلوچ کی برطانیہ کیخلاف مزاحمت کی ایک شاندار تاریخ ہے، جبکہ دوسروں نے، ٹیپو سلطان کے علاوہ، اطاعت شعاری سے غلامی کی تھی۔

کچھ سرداروں کی سنڈیمن سے اطاعت شعاری ایک ناقابل معافی اور گھناو¿نا جرم ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ برصغیر میں تمام لوگوں اور پورے علاقوں کی خالصہ راج اور برطانوی حکومت کےلئے عاجزانہ رضامندی ان کے پنکھوں کو ذرّہ بھر بھی نہیں ہلاتی۔ان کا الزام ہے کہ، ”اب وہاں جان بوجھ کر ایک غیر بلوچ سیادت کے تاثر کو تخلیق کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی قیادت مقامی بلوچ پر مشتمل ہے۔“ وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام ہوئے ہیں کہ اس تاثر کی ٹھوس وجوہات ہیں ۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچ حساسیت کومکمل طور پر نظرانداز کرتی ہے، اور جہاں تک بدعنوان مقامی بلوچ سیاسی قیادت کا تعلق ہے، تو انکے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں، بار بار کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں ایف سی ایک متوازی حکومت چلاتی ہے۔

(جاری ہے)

مسٹر سہگل کا مضمون :
http://www.newslinemagazine.com/2012/03/of-empire-and-army-a-historical-understanding-of-balochistan/

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
 mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ، 22 اپریل 2012

To Download/Read in PDF: Banduq.ke.Saey.Tale_Mir Mohammad Ali Talpur

About these ads

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, News, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s