انصاف کے کمزور ہاتھ تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


لوگ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کیوں یہ ایجنسیاں اور ان کے کارندے مغوی افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی لاشوں کی نمائش کرکے اپنے لئے مذمت اور غصہ کو دعوت دیتی ہیں۔ اس کے پیچھے جھڑکبازی کی ایک انتہائی سادہ منطق ہے؛ ان لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھانا جو بلوچ حقوق کے لیے لڑنے کی ہمت رکھتے ہوں

میں نے گزشتہ ہفتے اپنے ٹکڑے معرفت پانا (ڈیلی ٹائمز، 12 فروری، 2012) میں خدشات کا اظہار کیا تھا کہ امریکی کانگریس کی سماعت کے ”بلوچ کے لئے منفی نتائج“ آ سکتے ہیں جیسا کہ پاکستان ، ”صرف امریکہ کو یہ دکھانے کے لئے کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اُن کی کمیٹیاں کیا کہتی یا کرتی ہیں،پاکستان بلوچ کے خلاف اپنے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کردیگا۔“ حیف کہ یہ بات ایک سفاکانہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ کانگریس کی سماعت کے ایک دن بعد، بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے رہنما، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO آزاد)کے ایک لاپتہ سابق چیئرمین سنگت ثناءجنھیں 8 دسمبر، 2008 کو کولپور سے اغوا کیا گیا تھا، انکی مسخ شدہ لاش تربت کے قریب پھینکی ہوئی پائی گئی، سنگت ثناءکے چہرے اور سینے میں 30 گولیاں مار ی گئیں تھیں۔

کیا یہ ایران کی طرح 1988 میںمجاہدین خلق اور دیگر مقید مخالفین کو پھانسیاں دینے جیسا کردار ہوسکتی ہیں جو انھوں نے مجاہدین خلق کے حملوں کا بدلہ کیلئے کیں تھیں؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خواتین سمیت تقریباً 4500 کے اعداد و شمار دیے تھے۔ یہاں ذاکر مجید اور دیگر سینکڑوں لاپتہ ہیں۔ علامات منحوس ہیں۔

حاجی جان محمد مری، جوکہ شیرانی برادری کے ایک بزرگ تھے، انھیں اِس مہینے کی 10 تاریخ کو کراچی سے اغوا کیا گیا تھا اور انکی لاش 13 تاریخ کووندر سے ملی۔ انہوں نے پہلے بھی 2005 کو گرفتاری کے بعد دو سال کی حراست جھیلی تھی۔ میں انھیں اچھی طرح جانتا تھا چونکہ ہم افغانستان میں جلاوطنی کے دوران ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بلوچ کے خون کی قیمت پر امریکہ کو سبق سکھانے کےلئے پرعزم ہے۔

میر سمیع مینگل شہید کے والدحافظ عبدالقادر غلامانی مینگل کو خضدار میں جمعرات کو گولی مار دی گئی تھی۔ میر سمیع مینگل شہید کو 1 اکتوبر، 2010 کو اغوا کیا گیا تھا اور 28 دن بعد اس کی لاش عید الاضحی موقع پر خضدار کے قریب سے ملی۔ انکی جیب سے بلوچ رہنماو ¿ں اور تنظیموں کےخلاف ہتک آمیز ریمارکس پر مشتمل ایک نوٹ ملا اور کہا گیا کہ یہ بلوچ کےلئے عید کا تحفہ تھا۔ وہ اور کتنے بلوچوں کی زندگیاں چھیننے کے بعد یہ احساس کریں گے کہ بلوچ کی روح کو نہیں توڑا جا سکتا ؟

لوگ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کیوں یہ ایجنسیاں اور ان کے کارندے مغوی افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی لاشوں کی نمائش کرکے اپنے لئے مذمت اور غصہ کو دعوت دیتی ہیں۔ اس کے پیچھے جھڑکبازی کی ایک انتہائی سادہ منطق ہے؛ اُن لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھانا جو بلوچ حقوق کےلئے لڑنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ دوم، وہ جانتے ہیں کہ سزا سے استثنیٰ کا حامل ہوتے ہوئے وہ ان جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔

جھڑکباز ہمیشہ لوگوں کے لچک کی پیمائش اپنی نفسیات کے مطابق کرتے ہیں؛ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مظالم لوگوں کو اطاعت کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ ویتنام کی جنگ کے دوران امریکہ نے 7078032 ٹن کے بم گرائے، یعنی ہر ویتنامی مرد، عورت اور بچے کےلئے اوسطاً1000 پونڈ جوکہ دوسری جنگ عظیم کی بمباری کے اعتبار سے ٹنوں کے حساب سے تین اور آدھے کا تناسب ہے۔

اس کے علاوہ ویتنام کے 10 فیصد علاقے پر شدت کیساتھ 72 ملین لیٹر کیمیکلز کا اسپرے کیا گیا؛ جسکا 66 فیصد ایجنٹ اورنج، جو کہ ٹی سی سی ڈی ڈائی آکسنTCCD dioxin پر مشتمل تھا جوکہ مٹی اور فراہمی آب میں شامل ہونے کے بعد آخرکار خوردنی کڑی میں مل جاتی اور پھر ماں سے اس کی حمل کو منتقل ہوجاتی۔ ڈائی آکسن dioxins مٹی میں تادیر باقی رہتی ہیں اور جنگ متاثرین کے پوتے پوتیوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچانا جاری رکھتی ہیں۔ جنگ کے بعد سے ویتنامی ریڈ کراس نے ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ لوگوں کو رجسٹر کیا ہے جوکہ ایجنٹ اورینج کے سبب اپاہج ہوئے۔

1962 اور 1969 کے درمیان 688000 ایکڑ زرعی زمین پر کیمیائی ایجنٹ بلیو کے ساتھ اسپرے کیا جاتا رہا ؛ اس کا مقصد نیشنل لبریشن فرنٹ NLF کو خوراک سے محروم کرنا تھا لیکن یہ شہری آبادی تھی جسے چاول کی بری فصل کے سبب سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ 2003 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ویتنام میں 650000 افراد اب بھی اس پرانے اور سنگین مسئلے سے دوچار ہےں اور ایک اندازے کے مطابق 500000 افراد اس کیمیکل کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے صحت کے مسائل کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق جنگ کی وجہ سے تیس لاکھ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زائد افراد زخمی ہو ئے تھے۔ اسکے باوجود امریکہ جنگ ہار گیا اور ویتنامی سرخرو ہوگئے، سو یہ حربے لوگوں کی استقامت کے آگے ناکام ہوگئے اور یہ مظالم یہاں بھی بلوچ عوام کے جذبات کو نہیں توڑ سکیں گے ۔

وزیر اعظم گیلانی،جوکہ ’بلوچستان میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے‘ پر پریشان ہےں، انھوں نے ایک آل پارٹیز کانفرنس (APC) بلائی ہے۔ جبکہ ان کے وزیر داخلہ نے، جو کہ بلوچستان میں لوگوں کے اغواءاور قتل کے الزامات سے فوج اور نیم فوجی دستوں کو بری الذمہ قرادیتے ہیں ، کہا ہے کہ ایک تیسری قوت صوبے میں غیرمستحکم صورتحال کےلئے ذمہ دارہے۔ بلوچ کی ناراضگی پر خود کے بجائے دوسروں کو دوش دینا مسائل کو حل کرنے کی تمام کوششوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

کوئی بھی غیرتمند بلوچ اے پی سی میںاس وقت تک حصہ نہیں لے گا جب تک کہ پاکستانی ریاست روسی چرخے کی طرح بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کےساتھ کھلوار جاری رکھے گا اور بلوچ قوم کو مظالم میں اضافے کی دھمکی کے تحت یرغمال بنائے رکھے گا کہ اگر وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور جبر کے خلاف مزاحمت کرنے کی ہمت کرےں۔

’اڈیالہ گیارہ‘ کی واردات سے بلوچوں کے اغواءکا مسئلہ زیادہ واضح ہوچکا ہے؛ اغواءکے بعد انہوں نے جھوٹ بولا تھا، وہ تردیدیں جاری کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بناتے اور ہلاک کرتے رہے، تو اب اس بات میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ کون لوگ ان بلوچوں کے اغواءاور قتل کےلئے ذمہ دار ہیں۔ ابھی تک ’اسٹابلشمنٹ‘ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انکار کرتی آرہی ہے اور بے باکی سے بلوچ پر الزام لگاتی ہے کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کیلئے کام کررہے ہیں۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا اگر ’اڈیالہ گیارہ‘ کے تشدد اور ا موات کےلئے ذمہ دار ایجنسیوں کو ایک ہلکی سی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے یا نہیں ، وگرنہ وہاں فوجی افسر شاہی کےخلاف قتل اور تشدد کے الزام عائد ہو جائیں گے جو اس کےلئے ذمہ دار ہے۔ ’اڈیالہ گیارہ‘ کی سپریم کورٹ میں سماعت کے نتائج ہی پاکستانی ریاست کے انداز فکر کا سب سے زیادہ تعین کریں گے کہ وہ دیگر صوبوں کے مقابلے اپنے مخالفین کیساتھ کیسا رویہ اختیار کرتی ہے،لیکن اس کیس کے نتیجے سے قطع نظر، بلوچستان میں مظالم کم نہیں ہونگے۔ ’اسٹابلشمنٹ‘ کےلئے، خودمختاری کے ان کھوکھلے نعروں کے علاوہ بلوچستان میں اور بھی بہت کچھ داو ¿ پر لگا ہوا ہے۔

یہاں طاقت بر حق ہے، کیونکہ جنکے ہاتھوں میں اس دہشتگردی کے آلات ہیں انہیں کوئی بھی چیلنج نہیں کرسکتا۔ جان لاک (1632-1704) ’سول حکومت کا دوسرا مقالہ‘ میںیہاں کی صورتحال کی وضاحت کرتے ہےں: ”مجرم کے خطاب اور اس کے پیروکاروں کی تعداد سے جرم کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، جب تک کہ یہ سنگینی پیدا کرپائے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بڑے ڈاکو چھوٹوں کو سزا دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی اطاعت کریں؛ لیکن بڑے سرفرازی اور سرخروئی کے القابات سے نوازے جاتے ہےں،کیونکہ اس دنیا میں انصاف کے کمزور ہاتھوں سے وہ بہت زیادہ بڑے ہیں، اوریہ طاقت انہی کے اپنے پاس موجود ہوتی ہے جس سے مجرموں کو سزا ملنی چاہئے۔“

یہاں انصاف کے ہاتھ ہمیشہ کمزور رہیں گے کیونکہ یہاں دوسروں پر اثر انداز ہونیوالے مسائل پر بڑے پیمانے کی بے حسی پائی جاتی ہے، تو اب یہ بلوچ پر منحصر ہے کہ وہ خود اپنا دفاع کرے اور اپنے حقوق کاتحفظ کرے، باوجود اسکے کہ ان پر ’اسٹابلشمنٹ کے‘ نظریے کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کےلئے منظم طورپر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ خوش قسمتی سے تاریخ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی انصاف کے کمزور ہاتھوں کے آگے ہمیشہ کےلئے بڑا نہیں رہتا کیونکہ بلاشبہ تاریخی عمل ناقابل مزاحمت ہے۔

”گرچہ خدا کی چکّیاں ہیں پیستی آہستہ آہستہ ، پھر بھی وہ پیستی ہیں معمول سے زیادہ؛
گرچہ صبر سے رہتا ہے وہ منتظر کھڑا، سب کچھ درستگی سے ہے وہی پیستا ۔ “

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے۔
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ، 19 فروری2012

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s