Tag Archives: Sardar Ataullah Mengal

“The more you get hurt, the more you scream”

There is a big weakness of the Baloch: they have always fought alone [as a single tribe] or with one another rather than fighting against a common enemy.

Shah Meer Baloch

Balochistan’s first chief minister, Sardar Attaullah Mengal, is said to be the fourth pillar of Baloch nationalism, and the only one alive today. The other pillars were Mir Ghaus Bakhsh Bizenjo, Nawab Khair Bakhsh Marri and Nawab Akbar Khan Bugti.

Born in 1929, Mengal spent his childhood in Lasbela and later moved to Karachi. He was declared the chief (sardar) of Mengal tribe in 1954.

Mengal was introduced to politics by Mir Ghaus Bakhsh Bizenjo, a founding member of the National Awami Party (NAP) – who also briefly served as the governor of Balochistan in 1972-73. In 1962, Mengal was elected to the West Pakistan provincial assembly; Bezinjo ran his election campaign.

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

کسی اور دن کی یادیں

تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

Mir Muhammad Ali Talpurفروری 1973ء میں حلف اٹھانے کے محض 10 ماہ بعد سردار عطاءاللہ مینگل کی حکومت کی غیر قانونی اور غیر منصفانہ برطرفی کے بعد بلاجواز اور ظالمانہ فوجی آپریشن کیخلاف بلوچ کی مزاحمت صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ طویل، وسیع اور مضبوط ترین جدوجہد تھی۔

مینگل سرکار نے بڑی امیدیں اور توقعات لئے یکم مئی 1972 میں حلف اٹھایا لیکن روز اول سے اسے اپنی راہ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی حکومت نے لسبیلہ میں اتھل پتھل پیدا کیا اور جام غلام قادر، سابق ریاست کے آخری حکمران، کے حامیوں کی صوبائی حکومت کے مبینہ ظلم و ستم کیخلاف ہتھیار اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی۔ مینگل حکومت کو اس مصیبت پر قابو پانے کیلئے لیویز فورس میں اضافہ کرنا پڑا چونکہ وفاقی حکومت نے مدد بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ جام غلام قادر، لسبیلہ کے جام، مینگل حکومت کی برخاستگی کے بعد وزیر اعلیٰ بنے۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

بلوچستان کے تین سردار

رزاق سربازیthree-sardar-of-balochistanنیشنلزم سیاسی گرامر کا وہ تاب خوردہ سوال ہے جو دیوہیکل ریاستوں کو لے ڈوبا۔ اس کی تاب خوردہ پیچیدگی کی تفہیم کیلئے دانش و حکمت کے کتنے کلیے سامنے آئے لیکن بے سود نکلے۔ انقلاب کے سپنے دیکھتی آنکھوں نے نظریات کی کتنی بہاریں گزار دیں لیکن سب ہی بے ثمر ثابت ہوئے۔ مارکسی اس کی فلسفیانہ گھتی سلجھاتے سلجھاتے خود ہی ڈھیر ہوگئے ۔ صحیح یا غلط؛ اس میں کچھ ایسا سیاسی جادو ہے جو ہر خاص و عام کو یک جان کردیتا ہے۔
Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

بلوچ لاپتہ افراد : ایک روح شکن کہانی (حصہ اول) تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

لوگ ان مظالم کو عدم دلچسپی کیساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ لاپتہ اور ہلاک کیے گئے بلوچوں کو محض ایک شماریاتی حیثیت دیکر خارج البلد کردیا گیا ہے

Mir Mohammad Ali Talpur

بلوچ لاپتہ افراد اور ان کے تباہ حال رشتہ داروں کی خاموش اور دکھ بھری پکار انسانیت کی روح کو ریزہ ریزہ کرنے کیلئے کافی زوردار ہے، لیکن بظاہر یہاں کے مرکزی دھارے کے معاشرے اور میڈیا پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑ رہا، دونوں اس دکھ بھری پکار پر بہرے ہیں۔ جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے، اسے معاشرہ اور میڈیا بڑی حد تک یا تو دیکھے سے انکاری ہیں یا ان مظالم کو صحیح قرار دینے کیلئے جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام ریاستی ادارے اس جرم کے ارتکاب میں معاون اور آمادہ ہیں، اور انہوں نے متاثرہ افراد کو اپنے درد کا اظہار کرنے کیلئے اپنی زندگی اور اعضاءکا خطرہ مول لینے کیلئے مجبور کر رکھا ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ 10 فروری کو کراچی میں ایک بڑی بلوچ ریلی نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے آزاد بلوچستان کا ایک بڑا پرچم بھی اٹھا رکھا تھا، یہ جان کر کہ کینہ پرور پاکستانی ریاست ان لوگوں کو بھی سزا دیتی ہے جو اغواءکیے گئے لوگوں کی لاشیں وصول کرنے جاتے ہیں۔ گُلّے، بہار خان پیردادانی کے بیٹے نے اپنے رشتہ داروں، جبری طور پر غائب کیے گئے دو بھائی اور میرے سابقہ شاگرد محمد خان اور محمد نبی کی لاشیں وصول کی تھیں، 15 اگست، 2012ءکے بعد سے لاپتہ ہے۔ ریاست ان لوگوں کیلئے ایک مناسب تدفین بھی نہیں چاہتی جن کو وہ مار دیتی ہے۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

COMMENT : Baloch missing persons: a soul rending saga — I — Mir Mohammad Ali Talpur

People view these atrocities disinterestedly because the Baloch missing and dead have been relegated to merely statistical status

Mir Mohammad Ali TalpurThe silent anguished cry of the Baloch missing persons and their devastated relatives is loud enough to rend the very soul of humanity, but seemingly, it has no effect on the mainstream society and media here, both deaf to this anguished cry. Society at large and the media either refuse to see what is happening in Balochistan or try to justify the atrocities. All state institutions aid and abet in this crime, forcing the affected people to risk life and limb to express their pain. Little wonder then that in Karachi on February 10, a large Baloch rally carried banners and placards demanding freedom. They carried a large independent Balochistan flag, knowing well that the unforgiving Pakistani state even punishes people who go to receive the dead bodies of abducted people. Gullay, son of Bahar Khan Pirdadani, had received the bodies of relatives — two forcibly disappeared brothers, my former students Mohammad Khan and Mohammad Nabi — and is missing since August 15, 2012. The state does not even want a decent burial for those it kills.

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up