Tag Archives: Dr. Allah Nazar

پاکستان کے اقتصادی اہداف کی راہ میں حائل بلوچ باغی رہنما

تحریر: کولن فری مین(بیرونی نامہ نگار)
ترجمہ: لطیف بلیدی

کوئٹہ، بلوچستان: ایک ایسا ملک جہاں مسلح انتہا پسندوں کی کوئی کمی نہیں، پروپیگنڈے کا نشریہ اس چہرے سے اچھی طرح واقف ہے۔

قومی سپاہ کا مفرور رہنما کسی خفیہ پہاڑی مقام سے ایک کیمرے کے سامنے حکومت کو جھڑکتے ہوئے مخاطب ہے، جسے حکومت نے پہلے ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا، جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہا ہے۔

لیکن ان کے بغل میں رکھی ہوئی رائفل کے باوجود ڈاکٹر اللہ نذر کا پیغام پاکستان کے عسکریت پسند گروہوں کے معمول کے انداز بیان سے مختلف ہے۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

خصوصی رپورٹ: پاکستان کے باغی سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ روایتی حریف بھارت سے مدد کا خیر مقدم کریں گے

dr-allah-nazar

تحریر: اسد ہاشم
(رائٹرز، اسلام آباد بیورو)
(تدوین: مائیک کولیٹ وہائٹ اور ڈریزن جورگچ)
ترجمہ: لطیف بلیدی

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں آزادی کیلئے لڑنے والے ایک اہم باغی گروہ کے رہنما نے کہا ہے کہ وہ بھارت سے مالی اور دیگر مدد کا خیر مقدم کریں گے، غالب امکان یہی ہے کہ یہ الفاظ اسلام آباد کیلئے انتباہ ہوں جو نئی دہلی پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ وہاں پر مصائب پیدا کررہا ہے۔

پانچ سال بعد اپنے پہلے ویڈیو انٹرویو میں اللہ نذر بلوچ، بلوچ نسلی گروہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ، نے چینی اقتصادی راہداری، جس کے کچھ حصے وسائل سے مالا مال صوبے سے گزرتے ہیں، پر مزید حملوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

BLF Chief Baloch says Indian help ‘welcome’

Continue reading

1 Comment

Filed under Interviews and Articles

‘پاکستان مذہبی انتہاپسندی کا مسکن ہے، جب تک یہ قائم رہے گا امن قائم نہیں ہوگا‘:ڈاکٹر اﷲ نذر

dr-allah-nazar

انٹرویو: آرتی ٹیکوسنگھ
ترجمعہ ،لطیف بلیدی

ڈاکٹر اللہ نذر، جنہوں نے طب میں ڈگری حاصل کی ہے، پاکستان کے صوبے بلوچستان میں شورش کا سرکردہ چہرہ ہیں۔ ڈاکٹر سے عسکریت پسند بنے یہ شخص اس جنگ زدہ خطے میں سرگرم پانچ عسکریت پسند گروہوں میں سب سے بڑے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی سربراہی کررہے ہیں۔ اﷲ نذر، جو کہ روپوش ہیں، پاکستانی افواج کی طرف سے گزشتہ سال ایک جان لیوا حملے میں بال بال بچ گئے۔ یہ اس ای میل انٹرویو سے اقتباس ہے جو انہوں نے بلوچستان میں کسی نامعلوم مقام سے ٹائمز آف انڈیا کے آرتی ٹیکو سنگھ کو دیا تھا:

سوال: بلوچستان میں ایک منتخب صوبائی حکومت ہے لیکن بلوچ عسکریت پسند گروہ پاکستان کے اندر جمہوری نظام کا حصہ بننے سے انکاری ہیں۔ کیوں؟

‘Pakistan is nest of religious extremism, there will be no peace as long as it is there’: Dr. Allah Nazar

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

‘Pakistan is nest of religious extremism, there will be no peace as long as it is there’: Dr. Allah Nazar

Dr Allah Nazar

Aarti Tikoo Singh | TNN | Sep 27, 2016: Dr. Allah Nazar, who has a degree in medicine, is the leading face of the insurgency in Balochistan, a province of Pakistan. The doctor turned militant heads Balochistan Liberation Front (BLF), the largest among the five militant groups active in the conflict-torn region. Nazar, who is underground, survived an attempt on his life by Pakistani forces last year. Excerpts from an email interview he gave to TOI’s Aarti Tikoo Singh from an undisclosed location in Balochistan:

Balochistan has an elected provincial government but Baloch militant groups refuse to be part of the democratic system within Pakistan. Why?

Continue reading

1 Comment

Filed under Interviews and Articles

Dec 31: Shaheed Waris Baloch

Poster Shaheed Waris Baloch

Leave a comment

December 30, 2015 · 1:00 pm

Dr. Allah Nazar on the importance of Organization in the Baloch Liberation Struggle

A talk with Baloch Sarmachars at a Balochistan Liberation Front (BLF) camp somewhere in Balochistan on November 25, 201.1

Dr Allah NizarTyrants, powerful or evil nations have come to the conclusion that abducting or incarcerating people is to no avail.

Instead, we should settle there and rule the conquered people, take their resources, and hire the natives to extract their wealth.

Today, that is what’s happening to the Baloch in Punjabi-Pakistan and Iran occupied Balochistan.

Wherever they extract gold and other resources, they use the Baloch as their watchman. And Baloch is happy being enslaved.

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Balochistan on the brink

Landscapes of Balochistan

Landscapes of Balochistan

“I have seen the poverty. My arms are not a sign of terrorism, because my arms are bound totally by a political ideology, that ideology is to help for freedom and to seek it not only for Balochistan but for the rest of the world,” Dr Allah Nazar, BLF.

by Joshua Virasami

Entering Balochistan

“Come here, listen to this”, Ali slowly leafed through the pages of the local newspaper, “look, you see this small paragraph? This is an account from a fighter in the villages.” I asked him if he could translate. “Today we lost several fighters but we killed three Pakistani soldiers and shot down their helicopter”. I asked him whether he had visited the fighters in the Bolan Pass. “Yes, I’ve been there in my role as a government official but also as a Baloch, I negotiated with them on the release of a hostage, but I respect their fight”. We had just come down from Ali’s small mountain, he inherited it from his parents and we were now on his 7 acre farm which he had also inherited. He closed the newspaper and looked over to the mountain face, “People mark out their mountains by spelling their surname over it”, and he proceeded to point out where he had spelled out his surname, ‘Kurd’. Ali is however an ethnic Baloch.
Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up

داخلی محاذ بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ

home-front_Gawader
تحریر : مہوش احمد
ترجمہ: لطیف بلیدی
[حصہ چہارم]

گوادر پر 2004 کے حملے کے بعد کے ابتدائی چند سالوں تک بلوچ عسکریت پسندوں نے خود کو چھوٹے پیمانے کی کارروائیوں تک محدود کر رکھا تھا جس میں زیادہ تر فوج اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا جاتا۔ 2005 میں ﷲ نذر کے اغواء سے کچھ وقت پہلے، تین دہائیوں تک بلوچستان کی سیاسی قسمت پر حاوی رہنے والے اکبر بگٹی نے، جنہیں عام طور پر ایک پاکستان نواز سیاستدان سمجھا جاتا تھا، مشرف کی فوجی حکومت کیخلاف ایک شدید تنقید کا سلسلہ شروع کیا۔ رویے کی اس تبدیلی میں عمل انگیز عنصر ظاہراً سوئی، ضلع ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے گھر کے پچھواڑے میں واقع ایک گیس پیدا کرنیوالے شہر، میں پیش آنیوالا ایک ہولناک عصمت دری کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔

جب 2 جنوری 2005 کی رات شازیہ خالد اپنے کمرے میں سو رہی تھیں تو ایک آدمی داخل ہوا۔ اس نے انہیں بالوں سے پکڑا، ان کی گردن کو دبوچی، ان کی گردن کے گرد ٹیلی فون کا تار لپیٹا اور رسیور سے ان کے سر پر مارنا شروع کیا۔ پھر اس نے کئی بار ان کی عصمت دری کی۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up

داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ

VBMPLongMarch

تحریر : مہوش احمد
ترجمہ : لطیف بلیدی

[حصہ سوئم]

مارچ 2005 کی ایک رات تین بجے 35 سالہ ﷲ نذر ایک کتاب پر سر دھن رہے تھے کہ انہوں نے اگلے کمرے میں سے عجیب سی آوازیں سنی۔ وہ کراچی کے گلستان جوہر کے علاقے میں ایک دوست کے گھر پر تھے۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ شاید یہ انکی آوازیں ہوں گی جو گھر پر پانی اور دودھ لائے ہیں۔ وہ حیران ہوئے جب اندھیرے میں سے ہاتھ ابھر کر سامنے آئے۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے لوگوں کو بسوں سے اتار کر، رات کی تاریکی میں حملہ کرکے غائب کرنے کی کہانیاں 2005 تک پہلے سے ہی پھیلنا شروع ہوچکی تھیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ گزشتہ عشرے کے دوران کتنے بلوچ غائب ہو ئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی ایک مہم گروپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے حکومت کی بلوچ افراد کے لاپتہ کرنے میں ملوث ہونے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے نومبر 2013 اور فروری 2014 کے درمیان کوئٹہ سے اسلام آباد تک 2150 کلومیٹر طویل مارچ 100 دن میں مکمل کیا۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up

داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ

Baloch Sarmachar

تحریر : مہوش احمد
ترجمہ: لطیف بلیدی
[حصہ دوم]

ﷲ نذر کی سب سے پرانی یادیں فوجی کارروائی کیساتھ وابستہ تھیں۔ سن 1973 میں جب ﷲ نذر تین سال کے تھے، پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ برآمد کیا۔ چار دن بعد نکسن کو بھیجے گئے ایک خط میں بھٹو نے بھارت، افغانستان، عراق اور سوویت یونین پر ”تخریبی اور رجوعی عناصر“ کیساتھ ملکر ”سازش“ کرنے کا الزام لگایا جو ”ملکی سا لمیت میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔“ اسلحے کے اس ذخیرے کو انہوں نے (دیگر گروہوں کے ساتھ ساتھ) ملک کے بلوچ قوم پرستوں سے جوڑ دیا، بھٹو نے بلوچستان میں جمہوری طور پر منتخب پہلی صوبائی حکومت کو برخاست کرکے انہیں گرفتار کرلیا، ان کے رہنماوں کو ہمسایہ صوبہ سندھ کی جیل میں قید کردیا، اور آخر میں 55 افراد کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جسے حیدرآباد سازش کیس کے طور پر جانا گیا۔ محض دو سال قبل ایک خونی خانہ جنگی کے بعد پاکستان کا مشرقی بازو الگ ہوکر بنگلہ دیش بنا تھا؛ انکی خواہش تھی کہ ایک اور 1971 کو دہرانے سے بچا جائے۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Write-up