کیا میں آپ کے لیے کچھ لکھ سکتا ہوں؟


محمد خان داؤد

شاید ہاں؟

شاید نہیں؟

نہیں میں آپ کے لیے کچھ نہیں لکھ سکتا

اور کیسے لکھ سکتا ہوں

اور لکھوں بھی تو کیا؟

بہت غور کرنے پر

میں یہی سمجھ پایا ہوں کہ

آپ کے اندر ایک عظیم ماں کی روح ہے

وہ مائیں نہیں جو چرواہا جنتی ہیں

پر وہ مائیں جو نبی اور دھرتی کے بہادر بیٹے جنتی ہیں

وہ مائیں جو باغی جنتی ہیں

وہ مائیں جو دھرتی کے عاشق جنتی ہیں

وہ مائیں جو دل نواز دل سوز بیٹے جنتی ہیں

وہ مائیں جو عیسیٰ جتنی ہیں

وہ مائیں جو حسین جنتی ہیں

وہ مائیں جو آپ سسی اور آپ پنہوں ہوتی ہیں

وہ مائیں جو آپ منصور اور آپ انا الحق ہوتی ہیں

وہ مائیں جو آپ سرمد اور آپ ابھی چند ہوتی ہیں

وہ مائیں جو آپ پرچم آپ دھرتی ہوتی ہیں

وہ مائیں جو عظیم بیٹوں کے قتل پر دیوانی نہیں ہو تیں

پر ان ماؤں کو دھرتی آپ مبارک باد دینے آتی ہے

وہ مائیں جو یروشلم جیسی ہیں

وہ مائیں جو مکہ جیسی ہیں

وہ مائیں جو بلوچستان جیسی ہیں

وہ مائیں جو سراسر محبت ہوتی ہیں

جو محبت جنتی ہیں اور محبت جیتی ہیں

میں یہی سمجھ پایا ہوں کہ آپ بلوچ دھرتی کی عظیم ماں جیسے ہیں

اگر آپ کی روح ماں جیسی نہ ہوتی

تو سسئیوں جیسی گھائل بلوچ بیٹیاں

آپ کو دیکھ کر ہی کیوں رو پڑتی ہیں؟

ان کے گال کیوں گیلے گیلے ہو جاتے ہیں؟

ان کے نین کیوں اشک بار ہو جا تے ہیں؟

کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ جب ہم دل سے درد کو بیان کریں گے

تو یہی آگ بڑھ کر ہمیں گلے لگائے گا

ہمارے آنسو پونچھے گا

اور گال چومیں گا

اور ان سسئیوں کا درد ٹھہر جائے گا

تو میں آپ پر کیا لکھوں؟

لکھو بھی یا نہیں

یرو شلم کی عظمت جیسے

بلوچ دھرتی کی محبت جیسے

مجھے بتائیے کہ لکھوں بھی تو کیا

اور نہ لکھوں بھی تو کیا؟

آپ حروف کی قید سے آزاد ہیں

بہت آزاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s