دوزاب (زاہدان)، سيستان و بلوچستان میں ایرانی آئی آر جی سی قدس فورس کو مقامی بلوچوں پر حملے پر سخت جوابی کاروائی کا سامنا


تحریر: ظفر بلوچ

ترجمہ: بلوچ سرمچار

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سیستان اور بلوچستان کے علاقے دوزاپ (زاہدان) میں 17 نومبر 2021 سے 1 جنوری 2022 کے درمیان متعدد حملے جو ہوئے وہ ساراوان میں فروری 2021 کی باغی بغاوت اور کورن، دوزاپ (زاہدان) میں آئی آر جی سی کے اڈے پر قبضہ ہونے کے خلاف حکومت کی پالیسیوں کے تزویراتی مضمرات تھے۔ ان کے نتیجے کے طور پر، بلوچ ایندھن کے تاجروں اور IRGC کے درمیان لڑائیاں تقریباً ایک سال بعد موجودہ تنازعہ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

Iran’s IRGC Quds Force Attack on Baloch Compatriots in Dozap (Zahedan), Sistan and Baluchestan Face Strong Retaliation

فروری 2021 میں پاسداران انقلاب (IRGC) اور سراوان کے لوگوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 40 مظاہرین ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے. قتل عام کے بعد، زاہدان (سیستان و بلوچستان کی راجدھانی) کے علاقے کورین سرجنگل میں باغی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور علاقے میں آئی آر جی سی کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

سراوان، زاہدان، ایران شہر، خاش، سرباز اور دیگر مقامات پر بغاوت کا پھیلنا اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقت کے مراکز کے خلاف ایک قومی مزاحمتی قوت کے طور پر سیاسی اہمیت کا حامل ہے ۔ دوزاپ (زاہدان) کے علاقے میں شاہ بخش کے بلوچ قبیلے کے خاندان کے افراد جنہوں نے 24 فروری 2021 کو کورین میں آئی آر جی سی کے اڈے پر دلیری سے حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ قابض قوت اور نسلی تطہیر کی مستقل پالیسی کے طور پر حکومت ایران کی طرف سے انہیں نشانہ بناکر ختم کیا جا رہا ہے۔

بلوچ شہریوں اور ایران کے پاسداران انقلاب کے درمیان دشمنی سیستان اور بلوچستان میں ریاستی جبر، امتیازی سلوک، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کی مسلسل پالیسی کا نتیجہ ہے۔ معاشی محرومیوں کے علاوہ، خطہ منشیات کی لپیٹ میں ہے، جس سے حکومت کے IRGC کے اعلیٰ افسران کو مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کو منشیات کی لت میں مبتلا کر کے معاشرے کے سماجی اور اخلاقی اقدار کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

نومبر 2021 سے 1 جنوری 2022 کے درمیان IRGC قدس فورس اور ریاستی انٹیلی جنس نے مشترکہ آپریشن کر کے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ جس کا مقصد کورین میں فروری 2021 کی بغاوت اور انتقامی کارروائیوں کے ذمہ دار شاہ بخش قبیلے کی سرکردہ شخصیتوں کو ختم کرنا تھا۔

تاہم، حکومت ایک بڑے انہونی صورتحال کا سامنے کرنے والی تھی – بلوچ مزاحمتی قوتیں جوابی وار کرنے کے لیے تیار تھی۔ نتیجے کے طور پر، IRGC قدس فورس کے بیس تجربہ کار افراد مارے گئے، جن میں د‍و سینئر انٹیلی جنس افسران بھی شامل تھے . تہران کے لیے یہ صورتحال کافی شرمندگی کی وجہ بنی۔

17 نومبر 2021، زاہدان سے 120 کلومیٹر شمال میں دشت سمسور کے مقام پر IRGC قدس فورس کی جانب سے شروع کی گئی زمینی کارروائی کو مقامی بلوچوں کی جانب سے شدید فائر پاور کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ غلام شاہ بخش (رہنما)، ملک شاہ بخش (غلام کے بڑے بھائی)، محراب شاہ بخش (غلام کے کزن)، اور حمید حسنزہی۔ کئی گھنٹے تک مقابلہ کرتے رہے۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں IRGC کے بارہ فوجی مارے گئے جبکہ ملک شاہ بخش زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ غلام، محراب اور دیگر جنگجو موقع سے جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

Intelligence officers of IRGC Quds Force killed in the shortout. Left Mehran Shoorizadeh and right Mohsen Keikhaei

26دسمبر 2021 کو آئی آر جی سی قدس فورس کے دو سینئر انٹیلی جنس افسران، جو انٹیلی جنس پر مبنی پورے آپریشن کی منصوبہ بندی کے ذمہ دار تھے، غلام شاہ بخش کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ آئی آر جی سی قدس فورس کے سرکاری نیوز میڈیا نے اعلان کیا کہ افسر مہران شوری زادہ اور افسر محسن کیخائی غلام شاہ بخش اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے کی کوشش میں مارے گئے۔ انٹیلی جنس کے اس نقصان کو ان کے لئے ایک سخت دھچکا سمجھا جارہا ہے، جس سے سیستان اور بلوچستان میں آئی آر جی سی کے نیٹ ورکنگ میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

28 دسمبر 2021، غلام شاہ بخش، محراب شاہ بخش، اور ان کے ساتھیوں کا سراغ IRGC کے سپاہیوں کو مل جاتا ہے اور وہ ان کو گھیر لیتے ہیں۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں IRGC کے چار سپاہی مارے جاتے ہیں اور محراب شاہ بخش گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو کر دم توڑ دیتے ہیں-

یکم جنوری 2022، ضلع کورین، زاہدان: جس گھر میں غلام شاہ بخش اور ان کے ہم وطن چھپے ہوئے ہیں، پر IRGC قدس فورس کی بھاری نفری نے چھاپہ مارا، ایک بڑے علاقے کو گھیرے میں لے کر تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا۔ فائرنگ کا تبادلہ گھنٹوں تک جاری رہا جس کے نتیجے میں غلام شاہ بخش، محمد جان (غلام شاہ بخش کے سسر) اور حمید حسن زاہی کی جانیں گئیں۔ اس کے علاوہ IRGC کے چار فوجی ہلاک اور دیگر چار شدید زخمی ہوئے۔ مزید برآں، کورین سے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بدقسمتی سے گھر میں موجود خاندان کی خواتین اور بچوں کی موت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مسلح تصادم کے آخری خونی باب کے ڈراپ سین کے ساتھ، خطے کے لوگ ان بہادر بلوچ سپوتوں سے خود کو محروم محسوس کرتے ہیں جنہوں نے عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ غلام شاہ بخش کو اپنے ایک حالیہ ویڈیو پیغام میں سیستان اور بلوچستان میں منشیات کی فروخت کے خلاف بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے بدترین زہر ہے اور اسے روکنا اشد ضروری ہے۔ غلام شاہ بخش پر آئی آر جی سی قدس فورس کے حملے کی متعدد وجوہات میں سے ایک سیستان اور بلوچستان میں منشیات کی فروخت کو روکنے کا ان کا پرجوش عزم تھا۔

دوزاپ (زاہدان)، خاش، سراوان، سرباز، ایرانشہر اور سیستان و بلوچستان کے بلوچ عوام پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایران کی قابض فوج غلام شاہ بخش کے خاتمے کو مزاحمت پر اپنی فتح قرار دے رہی ہے۔ تاہم ایران کی حکومت یہیں نہیں رکھے گی۔ ان کا اگلا قدم یہ ہوگا کہ بلوچ عوام پر اپنی گرفت کو مزید سخت کیا جائے اور انہیں معاشی بقا اور مزاحمتی آلات سے محروم کیا جائے۔ سیستان اور بلوچستان میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خبروں کے ذرائع اور دیگر ذرائع ابلاغ پر مزید سختی کی جائے گی ۔

فائنل راؤنڈ میں، لوگوں کے پاس صدیوں سے موجود روایتی ہتھیار جو غیر ملکی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں کو حکومت ضبط کرے گی۔

اس خطے کے بلوچ قبائلیوں کی ایک طویل تاریخ ہے جس کی ان کے دشمنوں نے بھی عزت کی ہے۔ مستقبل میں جو کچھ بھی سامنے آئے، تہران کو سیستان اور بلوچستان پر طاقت اور قبضے کو مستحکم کرنے سے پہلے بلوچوں کی تاریخ کو سمجھنا اور دوبارہ پڑھنا چاہیے۔

Leave a comment

Filed under Reports

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s