افغانستان میں نئی سیاسی تبدیلی اور بلوچستان پر اس کے اثرات


تحریر: میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی 

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 15 جولائی 2021 کو کوئٹہ پریس کلب میں ”افغانستان کے بدلتے حالات اور بلوچستان پر اس کے اثرات“ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی لشکری رئیسانی، بلوچ دانشور اور مصنف ڈاکٹر دین محمد بزدار، سینئر سیاستدان ایڈووکیٹ ساجد ترین، پی ایچ ڈی سکالر سیف اللہ ناصر اور سینئر سیاستدان طاہر ہزارہ نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے سیمینار میں اس موضوع پر بلوچ دانشور میر محمد علی ٹالپر کا مقالہ پڑھا۔

اس سیمینار میں زیر بحث موضوع پر بات کرنے سے پہلے میں سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آج 15 جولائی ہے اور 61 سال قبل آج کے دن بٹے خان زرکزئی، سبزل خان زرکزئی اور غلام رسول نیچاری کو سکھر جیل میں پھانسی دی گئی جبکہ جام جمال خان زہری، مستی خان موسیانی، ولی محمد زرکزئی، اور بہاول خان موسیانی کو بلوچستان میں ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کرنے پر سمری ٹرائلز کے بعد حیدرآباد جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ میرا ان کے اور محترم نواب نوروز خان کے لئے ازلی اور غیر مشروط احترام و تعظیم؛ بلوچ قوم مادر وطن کے ان بہادر بیٹوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔

افغانستان ان لوگوں کے مذموم عزائم کا شکار رہا ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ بہتر جانتے ہیں کہ افغان عوام کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا، بجائے اس کے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ اپریل 1978 نے ”ثور انقلاب“ کو برپا ہوتے دیکھا اور یہ موجودہ دور کے افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ مغرب، عرب ممالک اور یقینا پاکستان (ازراہءمزاح) طیش میں آگئے۔ جبکہ دیگر ابھی بھی اپنے لائحہ عمل کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ پاکستان کے پاس پہلے ہی سے مفصل منصوبے موجود تھے چونکہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سے چند سال قبل ’افغان سیل‘ قائم کیا تھا اور وہ پہلے ہی سے افغان عوام پر افغانستان میں تباہی مچانے کے لیے رجعتی بریگیڈز کی پرورش کررہے تھے اور انہیں تقویت دے رہے تھے۔ شورش اور افراتفری کے وہ بیج جو بھٹو کے کہنے پر افغانستان میں بلوچوں اور پشتونوں کے حقوق کی حمایت کا مقابلہ کرنے کے لیے بوئے گئے تھے اب ملک بھر میں پھیل کر افغان عوام کے لیے بے تحاشہ مصائب پیدا کرنے کے لیے کے لیے تیار تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ مغرب، عرب ریاستوں اور پاکستان نے پیسے اور افرادی قوت کا استعمال کیا۔ مغربی اور عرب ریاستوں نے مالی معاملات سنبھالے جبکہ افرادی قوت فراہم کرنے کی ذمہ داری زیادہ تر پاکستان اور کچھ عرب ریاستوں پر آن پڑی۔ جتنی زیادہ شدید اور وسیع پیمانے پر انہیں حمایت ملی افغان عوام کی مصیبتوں میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔ پناہ گزینوں کی کئی لہریں آئیں جس نے بلوچستان کی آبادیاتی خصوصیات میں شدید قسم کی تبدیلیوں کو جنم دیا اور معاملات کو پیچیدہ بنانے کے لیے موجود سماجی تانے بانے بکھر گئے کیونکہ پاکستان اور ان کے مقامی حامیوں کے حمایت یافتہ گروہوں کو ہر سماجی، اخلاقی اور قانونی ضابطے کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ اور کسی قسم کی جوابدہی سے مکمل طور پر استثنیٰ دی گئی تھی۔ طاقت اور لاقانونیت کی حکمرانی میں پاکستانی ریاست نے مدارس کے پھیلاو کی حوصلہ افزائی کی تاکہ افغان عوام کے خلاف مداخلت پسندانہ جنگ میں جنگی ایندھن فراہم کیا جاسکے اور ساتھ ہی بلوچستان میں موجود سماجی، اخلاقی اور ثقافتی مزاج کو تبدیل کیا جائے اور قوم پرستانہ نظریے کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہب کو فروغ دیا جائے۔

یہ مداخلت پسندانہ جنگ قدرتی طور پر افغان عوام کے لیے نقصان دہ تھی۔ لیکن بیک وقت اس کے بلوچ عوام پر بھی تباہ کن اثرات پڑے اور وہ سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر نقصانات اٹھاتے رہے کیونکہ ان مداخلت پسند ریاستوں نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے بلوچستان کو افغانستان میں ان کی جنگ کو چلانے کے لیے ایک مستقل ٹھکانہ بنا دیا تھا۔ یاد رہے کہ بلوچستان اس مداخلت پسندانہ جنگ کے عمومی نقصانات کا حامل نہیں تھا بلکہ پاکستان کا ایک منتخب شکار تھا کیونکہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا تھا۔

مذکورہ بالا بیان 1978 سے 1992 کے عرصے تک کا احاطہ کرتا ہے اور 1992 کے بعد دیگر ریاستوں کی فعال شمولیت عملی طور پر رک گئی۔ تاہم، پاکستان نے مجاہدین کی حمایت فعال طور پر جاری رکھی۔ بلوچستان میں مدارس کا پھیلاو، بلوچستان کے سماجی، اخلاقی، ثقافتی مزاج میں تبدیلی کا عمل اور بلوچوں کے حقوق کی جدوجہد ایک کمزور اثر کے ساتھ جاری رہی کیونکہ مذہبی عناصر کو شریک کار بنایا گیا تھا اور وہ مسلسل بلوچ حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کا عملی اور نظریاتی طور پر مقابلہ کرتے رہے۔ 

موجودہ منظر نامے میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں طاقت کا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا اور اس وقت یہ طالبان کے حق میں جھکا ہوا ہے جنہیں پاکستان کی طرف سے حمایت اور پناہ دی گئی تھی کیونکہ پاکستان انہیں کابل میں کسی بھی سیکولر حکومت سے زیادہ اہم نظریاتی اتحادی سمجھتا ہے۔ 

مزید یہ کہ ماضی کے برعکس بلوچستان میں پاکستان کے مفادات اب ثانوی حیثیت کے حامل نہیں رہے۔ بلوچستان اور اس کے وسائل اب پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس وقت وہ بلوچستان کے وسائل کا استحصال کرنے کی کوشش میں چین کے ساتھ شراکت دار ہے۔ اپنے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ جیسے ملائم نام کی واضح پالیسی کے ذریعے عالمی تسلط کے اسٹراٹیجک خواب کی تعبیر کی خاطر چین کے لئے گوادر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اور اس پالیسی کا ایک اہم جزو چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ہے کیونکہ گوادر ممکنہ طور پر سنکیانگ کے لیے نقل و حمل کی محفوظ سڑک ہے اور BRI منصوبے میں اس کے اہم کردار ادا کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔ لہٰذا چین کی شمولیت سے بلوچستان ان دونوں کے لئے نہایت حساس اثاثے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور وہ بلوچ حقوق کے لیے چلائی جانے والی کسی بھی تحریک کو بے دردی سے دبا دیں گے کیونکہ بلوچوں کے حقوق کو ان کے منصوبوں اور مفادات کے خلاف سمجھا جارہا ہے۔ بلوچوں کے حقوق اور وسائل کے لیے چین سے کسی خیر کی امید رکھنا ببول کے پیڑ سے آم کی فصل کی توقع رکھنے کے مترادف ہے۔ ایغور اور تبتیوں کے ساتھ جو سلوک وہ کررہے ہیں ان سے کسی اچھائی کی امید کرنا خام خیالی ہے۔

اس وقت افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے نتائج کی پیش گوئی کرنا خطرناک ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہاں طالبان کی پیش قدمی اور بڑھتے اثر رسوخ سے نہ صرف بلوچ حقوق کی جدوجہد کرنے والے متاثر ہوں گے بلکہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) بھی متاثر ہو گی جو پشتون حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہاں اور وہاں کے طالبان دونوں بلوچ حقوق اور پی ٹی ایم کی سماجی تحریک کو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ (KPK) میں اپنے مفادات اور تسلط کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ، ایک بار جب وہاں ان کی بالا دستی قائم ہوگئی تو وہ ان دونوں خطرات کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان ان کوششوں میں شامل ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے بلوچ اور بلوچستان کو پاکستان، چین اور طالبان کے گٹھ جوڑ سے تین گنا زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

تو کیا کیا جانا چاہیے؟ جیساکہ طالبان اپنی افرادی قوت میں سے کچھ دیگر ممالک سے حاصل کررہے ہیں لیکن وہاں کوئی ’بین الاقوامی بریگیڈ‘ نہیں ہے جو افغان حکومت کی مدد کو آئے جس طرح سے فرانکو مخالف قوتوں کی انقلابی لوگوں نے مدد کی تھی۔ وقت بدل گیا ہے اور افغان حکومت کی مدد کے لیے کوئی بین الاقوامی بریگیڈ کے بننے کی توقع کرنا فضول ہے۔

ہم مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کر سکتے ہیں کہ وہ یہاں اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی دباو پیدا کریں تاکہ بلوچوں اور پشتونوں کے خلاف کثیر الجہتی خطرے کے متوقع زور کو ختم کیا جا سکے لیکن وہ اپنی پالیسیوں اور رسمی اعلانات میں ناقابل اعتماد اور متضاد ہیں اور ہمیشہ ان طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں جو مقتدر ہیں۔ اور یہاں پر موجود مقتدر طاقتیں بلوچ اور پشتون تحریکوں کو مہربان نگاہ سے نہیں دیکھتیں۔

بلوچ اور پشتون حقوق کی تحریکوں کو پامال اور ختم کرنے کے حقیقی خطرے کو ناکام بنانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ بلوچ حقوق اور پشتون حقوق کی تحریکوں کے درمیان بامعنی، پائیدار اور ٹھوس اتحاد ہونا چاہیے اگر وہ نہیں چاہتے کہ انہیں کچل کے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ فقط یہی راستہ ہے اگر بلوچ اور پشتون اپنے آپ کو پاکستان، چین اور طالبان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ان بدلتے ہوئے منظرناموں اور کثیرالجہتی خطرات نے نمٹنے کیلئے ہماری نجات اتحاد اور صرف اتحاد میں ہے۔ اگر ہم متحد نہیں ہوئے تو ہم تاریخ میں محض چند فٹ نوٹ بن جائیں گے اور ہمارے لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ 

بشکریہ: بلوچ یکجہتی کمیٹیhttp://sada-e-balochistan.com/archives/6543

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s