پشتون تحفظ تحریک اور گاندھی جی کا تیسرا مرحلہ


اسلحہ اب صرف قانون نافذ کرنے والوں کے پاس ہے، تو پھر یکایک یہ نامعلوم افراد کہاں سے وارد ہوجاتے ہیں اور قتل و غارت گری کے بعد کہاں چھپ جاتے ہیں؟

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

مہاتما گاندھی نے ہندوستان میں انگریز استعمار کے خلاف اپنے کھٹن اور صبر آزما مبارزے کے چار مراحل کو تین جملوں میں بیان کیا ہے۔

’پہلے وہ آپ کو نظر انداز کریں گے۔ پھر آپ کا تمسخر اُڑائیں گے۔اس کے بعد لڑیں گے اور پھر آپ جیت جائیں گے۔‘

ان چار جملوں میں پنہاں ہم جو نوید مسرت، سادگی اور رومانویت محسوس کرسکتے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سامراج سے اپنا حق طلب کرنا اتنا ہی آسان کام ہے جیسے بچہ چاکلیٹ یا آئس کریم لینے کے لیے اپنے ابا سے ضد کرتا ہے اور مختلف حیلے بہانے تراشنے کے بعد بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔

جب ہم پدر شاہی سماج میں والد یا خاندان کے کسی بڑے کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں تو تب بھی یہی قول صادق ٹھہرتا ہے لیکن کبھی کبھار ہم یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ریاست کے مقتدر ادارے بھی ایک ایسی پدر شاہی رویے کا شکار ہیں جو عوام کو اپنی مردانگی کے زریعے مرعوب کرنے، خوفزدہ کرنے، خاموش اور تابے دار بنانے کو ہی اپنا اصل مقصد سمجھتے ہیں۔ریاست کے مقتدر ادارے جو بلا شرکت غیرے خود کو اس وطن کے والی وارث گر دانتے ہیں، پی ٹی ایم کی تحریک کو ایک ایسی بند گلی میں لے آئے ہیں جہاں اب خون ریزی کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے۔اگر ہم گاندھی جی کے بیان کردہ مراحل میں پی ٹی ایم کی حرکت کو ٹٹولنے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ اس وقت تحریک تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

فروری میں جب یہ تحریک چل نکلی تھی تو اسے ایک خاص وقت تک نظر انداز کیا گیا، جب تحریک کے تخلیقی عمل نے نقلی، موقع پرست اور وظیفہ خور قبائلی منصب داروں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر پھینک دیا اور ممبر پر سے ایسے نعروں کی گونج شروع ہوئی جو ہر متاثرہ شخص اور گروہ کے کانوں کو اپنے لگتے تھے، تو یہاں بھی بات کہی ان کہی کردی گئی۔

ریاست کے مقتدر ادارے کے ترجمان نے تحریک کی نوجوان قیادت کو ہسنتے ہوئے ’بہادر نوجوان‘ کہ کرپکارا اور اس کے بعد ریاستی میڈیا نے انہیں اغیار کی باتوں میں آنے والے چند گمراہ نوجوانوں سے تشبیہ دی۔

مارچ کے وسط تک جنوبی پشتونخوا (شمالی بلوچستان) میں چار عظیم الشان جلسوں کے بعد میڈیا کے تمام چینلز کو الرٹ کردیا گیا کہ وہ انہیں کسی بھی قسم کی کوریج دینے سے گریز کریں اور اس کے برعکس تحریک کے سماجی جواز کو ختم کرنے کے لیے ایسے پروگرام چلائے جائیں جو عام عوام میں ان کے لیے نفرت اور تعصب کا باعث بن سکیں۔

لاہور، سوات، پشاور اور کراچی کے جلسوں میں سرگرم عمل کارکنوں کو جبری طور پر اٹھا یا جانا، انہیں حبس بے جا میں رکھنا، ان کے ہتک آمیز رویہ اور تشدد ایک ایسا مرحلہ تھا جس ریاستی اداروں نے خوف اور تشدد -و بطور آلہ استعمال کرنا شروع کردیا تھا-

اتوار(3 جون2018 ) کے دن وانا میں ایک ایسا خون ریز واقعہ ہوا ہے جس نے سوشل میڈیا پر کھلبلی مچا دی ہے۔

ملا نذیر گروپ کے ’گُڈ طالبان‘، اپریشن کے بعد پہلی دفعہ منظر عام پر آئے ہیں۔پاکستان ٹائمز کی رپورٹ اور دیگر آزاد رپورٹر یہی بتاتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے سرکردہ لیڈر علی وزیر کو ’گڈ طالبان‘ کی جانب سے پی ٹٰی ایم چھوڑنے یا مار دیے جانے اور ان کے گھر کو مسمار کرنے کی دھمکیاں ملی تھیں جس کے جواب میں تحریک کے ہزاروں لوگ ان کے گھر کے ارد گرد اکھٹے ہوئے اور ڈھال بن گئے تو ’گُڈ طلبان‘ نے ان نہتے لوگوں پر بے دریغ فائرنگ شروع کردی۔

لوگوں نے گولیوں کی جواب میں پتھر پھینکے، جس نے طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کیا لیکن اس کے بعد بقول رپورٹرز سیدھی فائرنگ سے تین نوجوانوں اور دو بچوں سمیت 10 افراد شہید اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

سوموار کے صبح تک میڈیا اور سیاست دانوں نے اس غیر معمولی قتل و غارت پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ہے۔دوسری جانب میڈیا اس کھلم کھلا دشت گردی کو نامعلوم مسلح افراد کی کارستانی بتا کر پتلی گلی سے نکل گیا۔

وانا کے واقعے سے ایک بات جو اب کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ کہ آپریشن میں گھروں سے بے دخلی کے بعد تمام تر آبادی نہتی ہوگئی تھی، ان کے پاس تو اپنی حفاظت کے لیے بھی اسلحہ نہیں رہا، اسلحہ اب صرف قانون نافذ کرنے والوں کے پاس ہے، تو پھر یکایک یہ نامعلوم افراد کہاں سے وارد ہوجاتے ہیں اور قتل و غارت گری کے بعد کہاں چھپ جاتے ہیں؟

پی ٹٰی ایم کے پلیٹ فارم سے جوتلخ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ مسلح عسکری جتھے تحریک کو دبوچنے اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی ٹھان چکے ہیں۔

اگرچہ اس بڑے سانحے کے بعد بھی تحریک کے قائدین پر امن اور منظم رہنے کو ہی اپنی کامیابی سے جوڑتے ہیں لیکن اس خون ریز واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ اب کشت و خون اور ٹارگٹ کلنگ کے نئے سلسلوں کی شروعات ہونے کو ہے، جس سے خصوصاً ریاست اور پشتونوں کے درمیان بیگانگیت، عدم تحفظ، نفرت اور تعصب کی خلیج مزید گہری ہو گی۔

پشتون تحفظ مومنٹ کی قیادت اپنے بیانیے اور اہداف سے پیچھے ہٹنے کے روادار نہیں اور ریاستی ادارے ان کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے اور مکالمہ کرنے کا انہیں اہل نہیں سمجھتے۔اگر مقتدر حلقوں میں شامل کچھ عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ اب بس تشدد ہی واحد آپشن ہے، تو انہیں اپنے موقف پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔زور زبردستی، تشدد اور دھمکیوں سے نہ تو پہلے مسائل حل ہوئے ہیں نہ اب ہوں گے۔
______________________________________
ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ افسانے لکھتے ہیں اور سماجی اور سیاسی معاملات پر باقاعدگی سے قلم اٹھاتے ہیں۔

Courtesy: Sujag.org

Advertisements

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s