سب فوج کو دے دیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا


 

ہمارا اب بھی وہی مؤقف ہے جو پہلے تھا مالکی یا موت

سحر بلوچ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اوکاڑہ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پچھلے دنوں ہونے والی پشتون تحفظ ریلی میں انجمنِ مزارعینِ پنجاب کی خواتین نے نہ صرف شرکت کی بلکہ پشتون تحریک کے بانی 24 سالہ منظور پشتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔

جہاں لاپتہ افراد کے ورثا کو اس تحریک کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا ہے، وہیں انجمنِ مزارعین پھر سے اپنے موقف کو لے کر سامنے آئی جس میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔

’ہمارا نعرہ ایک ہی ہے۔ مالکی یا موت۔ ہم اپنے بول سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے‘ یہ کہنا ہے چک 12/4 ایل کی بتُول بی بی کا جو پچھلے 18 سال سے اپنی فصلوں کو بچانے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔اس تحریک میں شامل لوگ پاکستانی فوج سے اپنے حقوق اور بالخصوص اپنی زمین مانگ رہے ہیں۔

میں جب ان سے ملنے ان کے گھر پہنچی تو پتہ چلا کہ گھر ان کا نہیں کسی اور کا ہے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بہت سے کسان پہلے سے موجود تھے جو بیک وقت اپنے مسئلے بیان کرنے لگے۔

18 سال پہلے شروع ہونے والی اس تحریک کا مقصد ملٹری فارمز کی زمینوں پر قبضے کا ہے۔ 17000 ایکڑ کی زمین پر 19 گاؤں ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر گندم، مکئی اور چاولوں کی کاشت ہوتی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ یہ زمین ریوینیو اتھارٹی کے مطابق ان کی ہے اور اس پر کاشت کرنے والوں کو اپنی اُگائی ہوئی فصل کا حصہ یعنی بٹائی ان کو دینی ہو گی۔

دوسری جانب اوکاڑہ فارمز پر کاشت کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے آباؤ اجداد کی ہے۔

بتول نے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد سیدھے لوگ تھے جو برطانوی راج کے دور سے ان زمینوں پر کھیتی باڑی کر رہے تھے۔

’وہ اپنی زمینوں پر اُگایا ہوا گندم بغیر کسی حیل و بحث کے بٹائی کے طور پر دے دیا کرتے تھے۔ لیکن سنہ 2001 میں ہم نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ ہماری زمین ہے اور اس پر اگائی ہوئی گندم بھی ہماری ہے۔ اگر ہم یہ سب اٹھا کر فوج کو دے دیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا؟‘

برطانوی راج کے بعد زمینیں فوج کو چلی گئیں جس کے نتیجے میں کسان فوج کو کئی سالوں تک حصہ دیتے رہے۔

پرویز مشرف کے دور میں کسانوں سے ان کی کاشت کے پیسے وصول کیے جانے لگے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ بھی طے پایا تھا کہ فوج کسانوں کو کبھی بھی نکال سکتی ہے لیکن کسان اس بات کی نفی کرتے ہیں۔

سنہ 2017 میں فوج اور ملٹری فارمز پر کام کرنے والے کسانوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے مطابق کسان پیسے دینے کے بجائے اپنی کاشت کا حصہ فوج کو دیں گے جس کے بدلے میں فوج ان کو ان کی زمینوں سے نہیں نکالے گی۔

اس معاہدے پر 1250 دستخط ہونے تھے لیکن اب تک صرف 126 دستخط ہی ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی کئی کسان اس معاہدے کے خلاف ہیں۔

محمد شفیق عرف پنُو اس وقت انجمنِ مزارعینِ پاکستان کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہمارے لوگ اس وقت اس حق میں نہیں ہیں کہ اپنی کاشت کی ہوئی فصل اٹھا کر دے دیں۔ اگر دیکھا جائے تو اب بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا ہے۔‘

اوکاڑہ میں موجود صحافیوں کے مطابق ان فصلوں کی اصلی مالک پنجاب حکومت ہے لیکن وہ کبھی بھی اس بات پر فوج کو نہیں للکارے گی۔

اوکاڑہ کے کسان اس بات کی ضمانت سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے اس دعوے سے دیتے ہیں جو انھوں نے اوکاڑہ میں کی جانے والی ایک تقریر کے دوران یے تھے۔

نواز شریف نے اوکاڑہ کے کسانوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی زمین ان سے کوئی نہیں چھین سکے گا۔ جو نہیں ہو سکا۔ فوج کے موقف کے مطابق ان زمینوں کی ملکیت پاکستان کی آزادی کے بعد ان کے زیرِ انتظام آ گئی۔

اس تنازعےکے نتیجے میں 1900 لوگوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں مردوں سمیت خواتین بھی گرفتار ہوئیں ہیں۔ چک 12 سے اب تک 15 خواتین کے خلاف مقدمے درج ہوئے ہیں۔

بتُول بھی کئی بار گرفتار ہوئیں اور ساتھ ہی اپنے گھر والوں کو گرفتار ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔

’ہم خواتین اپنے مردوں کے سامنے آ جاتی تھیں تاکہ فوج اور پولیس جب دھاوا بولیں تو پہلے ہمیں لے کر جائیں۔ اس کے نتیجے میں کئی خواتین کی زبردستی طلاق کروائی گئی تاکہ وہ شرمندگی کے مارے گھر بیٹھ جائیں۔‘

اس تنازعے کے سماجی اثرات یہ نکلے کہ ایک وقت میں مزارعین کی کئی لڑکیوں کی طلاق کروائی گئی تاکہ وہ شرمندگی سے گھر بیٹھ جائیں۔

اس بارے میں بتول نے کہا ’جب ہمارے داماد جیل کاٹ کرگھر واپس آئے تھے تو انھیں پکڑ کر زبردستی طلاق ناموں پر دستخط کروائے گئے جس سے لڑکیاں گھر بیٹھ گئیں۔ لیکن جب ہم نے علاقے کے مولانا صاحب کو پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ایسی صورت میں نکاح نہیں ٹُوٹتا کیونکہ طلاق دینے والے شخص کی مرضی شامل نہیں تھی۔‘

بتول پہلے خود گرفتار ہوئیں پھر ان کے بھائی پھر آخرکار بھتیجے کو گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ معاہدے کی خبر آنے سے یہ تاثر گیا کہ شاید اب یہ تحریک اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی لیکن بتول کے ساتھ موجود کسانوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

’وہ کچھ لوگ ہیں جنھوں نے معاہدہ کیا ہے۔ ہمارا اب بھی وہی مؤقف ہے جو پہلے تھا مالکی یا موت۔‘

بتول نے بتایا کہ جب پولیس اور فوج نے سنہ 2014 میں ان کے گاؤں کا گھیراؤ کیا تب انھوں نے اگلے گاؤں پیغام پہنچا دیا تھا۔

’ہم نے انھیں کہہ دیا تھا کہ ہمارے گاؤں کی جانب مت آنا چاہے ہم زندہ رہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ہم سب خواتین ڈنڈے لے کر باہر نکل گئیں۔ کسی کا بازُو ٹُوٹا کسی کا سر پھٹا۔ فرق یہ تھا کہ ان کے پاس اسلحہ تھا اور ہمارے پاس ڈنڈے۔ جب ہم اتنی حد تک لڑ سکتے ہیں تو اتنی آسانی سے اپنی زمین بھلا کیوں دیں گے۔‘

Advertisements

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s