پاکستان کے اقتصادی اہداف کی راہ میں حائل بلوچ باغی رہنما


تحریر: کولن فری مین(بیرونی نامہ نگار)
ترجمہ: لطیف بلیدی

کوئٹہ، بلوچستان: ایک ایسا ملک جہاں مسلح انتہا پسندوں کی کوئی کمی نہیں، پروپیگنڈے کا نشریہ اس چہرے سے اچھی طرح واقف ہے۔

قومی سپاہ کا مفرور رہنما کسی خفیہ پہاڑی مقام سے ایک کیمرے کے سامنے حکومت کو جھڑکتے ہوئے مخاطب ہے، جسے حکومت نے پہلے ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا، جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہا ہے۔

لیکن ان کے بغل میں رکھی ہوئی رائفل کے باوجود ڈاکٹر اللہ نذر کا پیغام پاکستان کے عسکریت پسند گروہوں کے معمول کے انداز بیان سے مختلف ہے۔

پہلی بات یہ کہ وہ ایک تعلیم یافتہ شخص کے لہجے میں بات کرتا ہے جو کسی زمانے میں ایک باقاعدہ ڈاکٹر تھا۔ اور انتہا پسندی کی تبلیغ کے بجائے وہ اس کی شدید مذمت کرتا ہے اور طالبان اور القاعدہ پر یکساں طور پر کڑی تنقید کرتا ہے۔

اگرچہ یہ عمل انہیں اسلام آباد کے انتہائی مطلوب افراد کی طویل فہرست میں ہونے سے نہیں روک سکتا۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ عشروں سے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی قیادت کر رہے ہیں جو پاکستان کے وسیع جنوب مغربی صوبے کی آزادی کیلئے تحریک چلارہی ہے اور مار رہی ہے۔پہاڑی سلسلوں کے ساتھ جھلسا دینے والے گرم صحرا کا یہ بیلٹ بلوچستان جو کہ مرکزی دھارے سے الگ تھلگ محض ایک اور قبائلی علاقہ ہوا کرتا تھا۔ کئی دہائیوں سے اس کی یہ شکایات کہ اسے پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ رکھا گیا ہے، بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے حتیٰ کہ اگر یہ شکایات بندوق کی نوک پر کی گئی ہوں تو تب بھی۔

آج اگرچہ ڈاکٹر اﷲ نذر جیسے لوگ پاکستان کے اہم ترین اہداف میں سے ایک، یعنی پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک، کی راہ میں رکاوٹ ہیں جو ان کی سرزمین کے ذریعے گزرے گی۔

یہ راہداری چینیوں کو بحیرہءعرب کے لئے ایک نہایت تیز ترین راستہ فراہم کرے گی، اور یہ بلوچستان کی بے جان پورٹ گوادر کو پاکستان کے دبئی میں تبدیل کر دے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ وہاں چین کی مغربی سرحد سے ہمالیہ کے ذریعے بل کھاتی 1,800 کلومیٹر طویل ایک سڑک، تیز رفتار ریلوے، توانائی کے منصوبوں اور گہرے پانی کے نئے دکّے ہوں گے۔

یہ منصوبہ، جس کی زیادہ تر مالی اعانت بیجنگ سے ہوگی، جو 54 بلین امریکی ڈالر (198 بلین درہم) مالیت کی ہے، جسے وہ صوبہ جہاں شدید آبی قلت ہے اور جہاں 50 فی صد گھرانے غربت کا شکار ہیں، ممکنہ طور پر خوش آمدید کرے گا۔

اگرچہ سی پیک میں بات صرف پیسے کی نہیں ہے۔

مغرب کے لئے ایک شارٹ کٹ کے طور پر خود کو پیشکش کرتے ہوئے، پاکستان بیجنگ کے پچھواڑے میں اپنے لئے ایک اسٹراٹیجک مقام حاصل کررہا ہے جو اس کے لئے اپنے تاریخی حریف بھارت کی طرف سے ڈرانے دھمکانے کے امکان کو بھی کم کر دیتا ہے۔ وزراء ”چین پاکستان نوآبادیت“ کے دعووں کو مسترد کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خوشحالی لائے گی اور اس سے بلوچوں کی احساس محرومی ختم ہو جائے گی۔

پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے گزشتہ ہفتے سوال اٹھایا کہ ”چینی صنعتوں کو کیوں کر پاکستان نہیں آنا چاہئے جبکہ بیشتر ممالک میں انہیں قائم کیا جا رہا ہے؟“
”سی پیک منصوبے کے تحت قائم کیے جانے والے تجارتی علاقوں میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔“

اگرچہ علیحدگی پسندوں کے لئے بات صرف یہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے بلوچستان میں نہ صرف چینی مزدوروں کی بڑی تعداد کے پہنچنے کا امکان ہے جس نے ان کے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ بلکہ انہیں زیادہ تشویش ان منافع بخش ملازمتوں سے بھی ہے جن پر ناجائز طریقے سے پاکستان کے باقی حصوں سے لاکھوں پنجابیوں کو لایا جائے گا جو ترقی کے نام پر بلوچ شناخت کو تہس نہس کردیں گے۔

سی پیک کے تعمیری علاقے پہلے ہی سے جنگی علاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
2014ءکے بعد سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، فوج کے زیر انتظام چلنے والی تعمیراتی کمپنی جس کے کام کی وہ قیادت کررہے ہیں، کے کم از کم 44 کارکنان کو علیحدگی پسندوں کی طرف سے بم حملوں اور دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) کے ذریعے ہلاک کیا گیا ہے۔

”ہم سی پیک منصوبے پر ہر روز حملے کر رہے ہیں،“ ڈاکٹر نذر نے گزشتہ ستمبر رائٹرز کو بتایا، جس سے اسلام آباد کے ان دعووں کی بھی تردید ہوتی ہے کہ اس نے انہیں ایک سال قبل ایک حملے میں ہلاک کیا تھا۔ ”اس کا مقصد بلوچ آبادی کو ایک اقلیت میں تبدیل کرنے کا ہے۔“

مشکے کے غریب علاقے میں پیدا ہوئے ڈاکٹر اﷲ نذر مڈل کلاس کے بلوچ طلبا کی ایک بڑی تعداد میں سے ایک ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آخری حربے کے طور پر ہتھیار اٹھائے ہیں۔

وہ ارجنٹائن کے مارکسی انقلابی چے گویرا کے مداح ہیں اور اعترافاً سیکولر ہیں۔ اور وہ طالبان اور القاعدہ جیسے شدت پسند گروہوں کو کرپٹ پاکستانی حکومت کی تخلیق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے خون بہانے سے کبھی نہیں ہچکچایا ہے، اور نہ ہی دیگر مسلح علیحدگی پسند دھڑوں نے جو بی ایل ایف کیساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ یہ سب مل کرسیکورٹی فورس کے 2,000 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اگرچہ حکومتی اعداد و شمار 1,200 کے قریب ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اعلیٰ سرکاری ترجمان انوار الحق کاکڑ ڈاکٹر اﷲ نذر کی آزادی کے جنگجو کی شبیہہ سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ سی پیک کے کارکنوں پر حملے کرنے والوں کے دل میں کس طرح سے واقعتاً بلوچستان کے طویل مدتی مفادات ہو سکتے ہیں، ان کی رائے میں یہ لوگ ہمسایہ افغانستان سے افیون کی تجارت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے دی نیشنل کو بتایا کہ ”میری رائے میں یہ کسی شورش کے بجائے امن و امان کا ایک مسئلہ ہے، اور یہ بہت زیادہ مقبول حمایت کبھی حاصل نہیں کر پائی ہے۔ انہیں اپنے کنٹرول والے علاقوں کے ذریعے گزرنے والی منشیات کی اجازت دینے کے لئے پیسوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔“

ان دونوں دعووں کی توثیق کرنا آسان نہیں ہے، تاہم، جیسا کہ پاکستان طویل عرصے سے بیرونی دنیا کی طرف سے بلوچستان کو دیکھنے کے بارے میں حساس رہا ہے۔ امریکہ کافی عرصے سے کوئٹہ پر طالبان رہنما ملا عمر کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے اور اگرچہ اسلام آباد اس طرح کے دعووں کی بیشتر تردید کرتا ہے، عام طور پر کوئٹہ دونوں مغربی اور مقامی صحافیوں کے لئے ناقابل رسائی علاقہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں کہ اس کے باعث بے شمار بلوچ کارکنوں کی ”گمشدگی“ کی جانچ پڑتال نہیں ہو پاتی، اور جو لوگ قتل ہوتے ہیں اس کے لئے حکومت علیحدگی پسندوں کے اندرونی تنازعات کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

اس ماہ حکومت کی طرف سے منظم کردہ سفر میں دی نیشنل کو اجازت دی گئی تھی، جس کے دوران عہدے داروں نے یہ بھرپور دعویٰ کیا کہ شورش کا اثر کم ہورہا ہے۔ فوج کی سدرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بتایا کہ صرف گزشتہ سال تقریباً 800 جنگجووں نے حکومت کے ایک مفاہمتی منصوبے کے تحت ہتھیار ڈالے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ”ترقی آنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے لیے چیزیں بہتر ہونی چاہئیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ جگہ بہترین ہے لیکن یہ عراق یا شام نہیں ہے۔“

”علیحدگی پسند دہشتگرد اتنے ہی برے ہیں جتنے کے مذہبی دہشتگرد ہیں،“ مقامی مارکیٹ کے ایک 23 سالہ تاجر شریف ہادم نے کہا، جہاں انسداد دہشت گردی پولیس باقاعدہ گشت کرتی ہے۔

پھر بھی، جبکہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر اﷲ نذر اپنے پہاڑ ی ٹھکانوں میں خود کو روز بروز زیادہ تنہا محسوس کر رہے ہوں، زیادہ اعتدال پسند بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچوں کی شکایات رہیں گی۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر سی پیک کی وجہ سے باہر کے لوگ بلوچستان پر چڑھ دوڑیں تو یہ گوادر کو ایک اور دبئی میں نہیں بلکہ ایک اور کراچی، پاکستان کا ایک اور بڑا ساحلی شہر، میں تبدیل کر دیں گی جو کہ طویل عرصے سے اپنی بین النسلی فسادات کے لئے بدنام زمانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”مجھے مسلح گروہوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، لیکن ہمیں ڈر ہے کہ ساحلی علاقہ بلوچ عوام کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان مکمل طور پر اسلام آباد کے کنٹرول میں ہے اور اسے سیاسی کچرا پھینکنے کے لئے ایک ڈمپنگ گراونڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے اب ختم ہونا چاہیے۔“

بشکریہ: دی نیشنل ( متحدہ عرب امارات)، 20 مارچ، 2017
صفحہ اول

Advertisements

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s