طلباء کیلئے سیاست کیوں ضروری ہے


تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

مورخہ 26 نومبر 1967 بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا یوم تاسیس ہے اور اب اسکی عمر 49 برس ہوگئی ہے۔

Mir Muhammad Ali Talpurان تمام سالوں کے دوران اس نے بہت سارے اتار چڑھاو دیکھے ہیں لیکن اس نے بلوچ قومی جدوجہد میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور اس کا ہر اول دستہ رہا ہے اور مستقبل کی بلوچ قیادت کیلئے یہ ایک نرسری ہے۔ اب اسے اور بھی زیادہ بھاری ذمہ داری اٹھانی ہے: اسے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی اور علمی دونوں میدانوں رہنمائی کرنی ہے کیونکہ پاکستانی اسٹابلشمنٹ بلوچستان میں اپنے استحصال اور نا انصافیوں کیخلاف سیاسی طور پر آگاہ اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ بی ایس او (آزاد) نے اپنی میراث کی پاسداری وفاداری سے کی ہے۔

کینیڈا میں مقیم بلوچ طلبا اور دوستوں نے مجھے ”طلباء کیلئے سیاست کیوں ضروری ہے“ پر کچھ لکھنے کیلئے کہا۔ جو کچھ میں نے لکھا اسے وہاں ایک سیمینار میں پڑھا گیا اور یہاں میں اسے آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

Why politics is necessary for students

عزیز دوستو، ہمسفر ساتھیو، خواتین و حضرات:

دوستوں کی طرف سے مجھے کہا گیا ہے کہ میں ”طلباء کیلئے سیاست کیوں ضروری ہے“ پر چند الفاظ کہوں۔ اب اس کے بارے میں لکھنا اتنا ہی مشکل اور اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ”زندگی کیلئے خوراک کیوں ضروری ہے“ کے بارے میں لکھنا کیونکہ طالب علموں کیلئے سیاست اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ زندگی کیلئے خوراک۔

یہ نہ صرف وہ علم ہے جو آپ کو کتابوں سے حاصل ہوتا ہے جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آپ کیسے شخص بنیں گے؛ آپ جو بنیں گے اس پر آپ کے معاشرتی و ثقافتی اقدار، آپ کا گھر، آپ کے دوست اور یقینا جو کچھ آپ کی سیاست ہے اس کا بھی بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

ہم اپنے ماحول اور اپنے منتخب کردہ سیاست کی پیداوار ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم مزید آگے بڑھیں میں ایک مثال دینا چاہوں گا کہ طلباء کیلئے سیاست کیوں ضروری ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ آگ جنگلات کیلئے تباہ کن ہوتے ہیں چونکہ وہ درختوں اور جنگلی حیات کو تہس نہس کردیتے ہیں لیکن ان لگنے والی آگوں کا ایک اور کردار بھی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درخت بڑی تعداد میں بیج گراتے ہیں لیکن یہ بیج نہیں پھوٹتے کیونکہ وہ خوابیدہ حالت میں ہوتے ہیں اور تب تک نہیں پھوٹتے جب تک کہ انہیں جگایا نہ جائے۔ آگ کی گرمی انہیں جگا دیتی ہے اور وہ اگنا شروع کردیتے ہیں۔ انسان ساختہ جنگلات میں ببول کے بیجوں کو پھیلانے سے قبل انہیں ابلتے ہوئے پانی میں پھینکا جاتا ہے جو کہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ پھوٹ کر اُگ سکیں۔ لہٰذا سیاست بھی وہی گرمی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سماج کے بیج (طلبا) اگ سکیں اور بلوغیت پائیں۔

سیاست کے بغیر کوئی طالبعلم اُسی خوابیدہ بیج کی طرح ہے اور ایک خوابیدہ بیج سے جنگل کو کوئی خاص استفادہ نہیں ہوتا۔ صحیح سیاسی خیالات رکھنے والا ایک طالبعلم معاشرے کو بہتر طور سمجھتا ہے اور بہتر تفہیم کیساتھ ہم بہتر طور اسکی خدمت کر سکتے ہیں۔ کسی کو بھولبلیاں، جو کہ تمام معاشرے ہوتے ہیں، میں راہ تلاش کرنے کیلئے اس کے پاس ایک اخلاقی قطب نما ہونا چاہئے اور سیاست ایک طالبعلم کیلئے وہی اخلاقی قطب نما ہے۔

میں جانتا ہوں کہ کچھ دوستوں کو میرے ’صحیح سیاسی خیالات‘ کے الفاظ کا استعمال عجیب لگے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اسے کسی مخصوص مکتبہءفکر جانب متعصبانہ تصور کریں لیکن میں اس بات کو واضح کرنا چاہوں گا کہ ہاں میں جانبدار ہوں اور جیسا کہ مارک ٹوائن نے کہا تھا کہ، ”میں جانتا ہوں کہ میں اس معاملے پر جانبدار ہوں، لیکن میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں گا اگر میں نہ ہوتا۔“

جی ہاں، میں جانبدار ہوں اور میں اس سیاسی مکتبہءفکر کی حمایت کرتا ہوں جو سامراج اور جدید نوآبادیت کی مخالفت کرتا ہے؛ اُس سیاست کی مخالفت کرتا ہے جو اقلیتوں کو حقوق سے محروم کرتا ہے، جو عورتوں سے نفرت کرتا ہے، جو ریاست کے حمایت یافتہ مذہب کو فروغ دیتا ہے، جو ایک مخصوص زبان اور ثقافت کو ان قوموں پر تھوپتا ہے جو انکی جکڑ میں ہوتے ہیں۔ سیاست کا صحیح ہونا ضروری ہے تاکہ وہ طالب علموں کو انسانیت کیلئے مفید بنائے۔ وگرنہ دوسری صورت میں معاشرہ پیچھے چلا جائے گا۔

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے گوکہ سیاست طلباء کیلئے ضروری ہے لیکن اس کا صحیح قسم کی سیاست ہونا زیادہ ضروری ہے۔ ایسی سیاست جو طالبعلم میں انسانی اقدار کو اسکے ذہن پر نقش کرتا ہے اور صحیح راستے پر چلنے کیلئے اسے ایک ایسا اخلاقی قطب نما فراہم کرتا ہے جو اسے انسانیت کی نجات کی طرف لے جاتا ہے اور پھر اسے اس بات کی تعلیم بھی دیتا ہے کہ ناانصافی خواہ کسی کی بھی طرف سے ہو اسکی مخالفت کی جانی چاہیے۔ یہ کہ رواداری صرف انہی تک محدود نہ ہو بلکہ یہ دیگر لوگوں سے بھی برتنی چاہئے۔

اس بات کی توضیح ناقابل تردید صداقت سے کی جا سکتی ہے: یہاں بی ایس او-آزاد کے علاوہ دیگر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) موجود ہیں لیکن وہ پاکستانی ریاست اور اداروں کی اطاعت گزاری کو فروغ دیتے ہیں اور اس کے شریک کار ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ اس ریاست اور اس کے اداروں نے نہ صرف بلوچ کو ان کے تمام حقوق سے محروم کر رکھا ہے بلکہ وہ بلوچ عوام کے خلاف منظم ’غلیظ جنگ‘ کی ذمہ داری میں بھی حصہ دار ہیں۔ ظالموں کی حمایت کرنے کی سیاست کس طرح سے صحیح سیاست ہو سکتی ہے؟ وہ لوگ کہ جن کے پاس کوئی اخلاقی قطب نما نہیں ہوتا ان کا انجام ظالموں اور جابروں کی حمایت کرنے پر ہوتا ہے اور وہ بہ آسانی دستیاب آلے کے طور پر نظام کے ساتھ کام کرنے کے بہانے تراشتے ہیں۔ بہانوں کی تعداد خواہ کتنی بھی ہو ناانصافیوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور ظالموں کی حمایت کرنے کا جواز پیش نہیں کر سکتیں۔

تمام کھانے آپ کو زندہ اور صحت مند نہیں رکھ سکتے؛ بعض کھانے کی اشیاء آہستہ آہستہ مگر آخرکار آپ کی صحت کو برباد کردیں گی۔ سیاست بھی کھانے کی طرح صحیح قسم کی ہونا ضروری ہے جو کسی بھی طرح سے طالب علموں کیلئے فائدہ مند ہو۔ یہ آخر کار طالب علم کا انتخاب اور ہوشمندی ہے کہ وہ اُس سیاست کو منتخب کرے جس پر وہ عمل پیرا ہونا چاہتا ہے لیکن آخر میں انتباہ کے طور صرف ایک بات کہہ دوں کہ اگر آپ صحیح سیاست کا انتخاب نہیں کرتے ہیں تو آپ کا انجام غلط سیاست کی حمایت کرنے پر ہوگا۔ تو میرے عزیز دوستو، اگر ہم غلط کرتے ہیں تو ہم غلط کو صحیح کی جگہ لینے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

وہ لوگ جو صحیح سیاست کا انتخاب کرتے ہیں ان کو اکثر اس کے نتائج، بے ثمری اور اس کی قیمت کی ادائیگی کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے؛ جی ہاں، ہم جس راہ کو منتخب کرتے ہیں اسکے نتائج بھی ہوتے ہیں اور اسکی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے اور اگر آپ اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں تو اپنا انتخاب کر لیں۔ آخر میں، میں اپنے دوستوں، ہمسفر ساتھیوں اور ان سب لوگوں کو، جو آج یہاں موجود ہیں، بتانا چاہوں گا کہ:

میں کروں دل سے قبول ہو جو بھی نزول؛

ہو مجھے محسوس، حتیٰ در حالتِ ملول؛

ہے یہی بہتر کہ ملے محبت پھر فراق

اس سے کہ کرے نہ محبت کوئی اِک بار۔

لارڈ الفریڈ ٹینیسن

مصنف 1970 کی دہائی کے اوائل سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابسطہ ہیں۔ وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں اور

mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ: بلوچستان ٹائمز، 28 نومبر 2016

Advertisements

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s