کوئی قیدی نہیں رکھنا: پختونخواہ اور بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

وہ کہ جنہیں جیلوں میں رکھا جا سکتا ہو انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے، اسی طرح سے پختونخوا اور بلوچستان کی جیلوں کو قیدیوں کی گنجائش کی سطح پر رکھا جاتا ہے

Mir Muhammad Ali Talpurچند دن قبل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے ڈائریکٹرآئی اے رحمان صاحب نے اپنے مضمون ”قیدیوں کے حقوق“ (14 نومبر ، روزنامہ ڈان) میں قیدیوں کو لاحق خطرات پر حال ہی میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منعقد سیمینار کے بارے میں لکھا تھا جس میں یہاں کی عدلیہ کے درخشاں ستاروں نے شرکت کی تھی۔ قیدیوں کو درپیش دیگر مسائل کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ بھیڑ نے خصوصی توجہ حاصل کی کیونکہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 21,527 ہے جن میں 52,318 قیدی رکھے گئے ہیں جبکہ سندھ میں 11,939 کی گنجائش کے برخلاف 14,119 قیدی موجود ہیں؛ اسے قطعاً ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔

Take no prisoners – Mir Mohammad Ali Talpur

جیل کی گنجائش سے زیادہ بھیڑ ایک عالمی مسئلہ ہے جو اکثر فسادات کا موجب بنتی ہے جس میں قیدیوں کو بلا کسر تکالیف جھیلنی پڑتی ہیں۔ امریکہ میں اس وقت کم از کم سات ریاستوں کی جیلیں اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش سے 25 فیصد اوپر ہیں جس میں 196 فیصد کیساتھ الباما سرفہرست ہے، اس کے بعد 144 فیصد کیساتھ الینوئے ہے۔ ’اکانومسٹ‘ کی 2012ء کے ایک سروے کے مطابق؛ ہیٹی میں جیلوں کی گنجائش سے زائد بھیڑ تقریباً 350 فیصد، وینزویلا میں تقریباً 275 فیصد، ایران قریب 200 فیصد اور پاکستان 175 فیصد ہے۔ یہاں تک کہ برطانوی جیلوں میں بھی گنجائش سے زیادہ بھیڑ ہے۔

جیلوں کی گنجائش سے زیادہ بھیڑ قیدیوں کیلئے زبردست مسائل پیدا کرتی ہے جو یقینی طور پر بہتر حالات کے مستحق ہیں تاہم اصل ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے جو اپنے شاہی قیدیوں یعنی صدر اور وزیر اعظم پر روزانہ لاکھوں خرچ کرتی ہے جو یقینا قیدی ہیں کیونکہ وہ بمشکل ہی کوئی جوکھم لے کر باہر نکلتے ہوں اور حتیٰ کہ دور دراز کی اسکیموں کا افتتاح بھی وہ اپنی متعلقہ رہائش گاہوں سے کرتے ہیں، مگر ریاست عام قیدیوں کی حالت میں بہتری لانے سے انکاری ہے۔

اتفاق سے صرف 2012ء میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاوس کیلئے اخراجات روزانہ بالترتیب 1.68 ملین روپے اور 1.92 ملین روپے تھے۔ رحمان صاحب بجا طور پر کہتے ہیں کہ ”پاکستان کی جیلیں اپنے ظالمانہ قوانین، بے جا کرپشن، امیر اور غریب کے درمیان امتیاز، اور بے لگام تشدد کے حربوں کیساتھ محض ملک کی مجموعی صورتحال کی ایک چھوٹی سی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جیلروں اور قیدیوں کے درمیان کوئی معقول رابطہ نہیں ہے بالکل اسی طرح سے جیسے کہ حکمرانوں اور شہریوں کے درمیان کوئی بامعنی گفتگو نہیں ہوتی ۔“

قیدیوں کی حالت زار غیرمشروط ہمدردی کا مستحق ہے؛ تاہم یہ بھیڑ کا مسئلہ نہیں تھا جس نے میرا ہوش اڑا کر رکھ دیا۔ پختونخواہ اور بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کے اعداد و شمار نے بلاشبہ مجھے حیران کر دیا۔ رحمان صاحب نے لکھا ہے کہ، ”خیبر پختونخواہ (کے پی کے) میں، قیدیوں کی تعداد (8,113) اپنی گنجائش (7,996) کے مقابلے میں معمولی سی زیادہ تھی اور بلوچستان میں جیل کی آبادی (2,483) اور گنجائش (2,473) کے درمیان فرق بھی کم تھا، صرف 10 کا فرق۔“ کیا یہ اعداد و شمار حیرت انگیز نہیں ہیں اس حقیقت کے باوجود کہ بلوچستان میں ایک طویل سیاسی بغاوت چل رہی ہے اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں جنگ کی حالت ہے؟

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جیل کی کم آبادی پر سیمینار میں سوالات اٹھائے جانے چاہیے تھے مگر گوکہ بظاہر اسے معمول کی سی چیز تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا یقینی طور پر یہ ایک بڑی نحوست کی طرف اشارہ ہے جو کہ ان دونوں صوبوں پر چھائی ہوئی ہے۔ پوری توجہ جیل میں بند قیدیوں کی جانب وقف کی گئی لیکن افسوس کی بات ہے کہ ’لاپتہ قیدیوں‘ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا؛ لاپتہ قیدیوں کا اتنا بڑا ہاتھی سیمینار کے بغلی راستوں پر چلتا رہا لیکن اس پر ذرہ بھر بھی دھیان نہیں دیا گیا۔ یہ بات واقعتاً حیران کن بھی ہے اور خوفناک بھی کہ وہ لوگ جو عوام اور قوانین کی مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں، جنہوں نے اس سیمینار کو آراستہ کیا ہوا تھا، لیکن ان لوگوں میں مختلف علاقوں میں جیل کی آبادی میں فرق اور اس کے اثرات کو دیکھنے کا احساس نہ تھا۔ اعداد و شمار زور زور سے چلّا کر بولتے ہیں لیکن انہیں سننے کے قابل ہو نے کیلئے خواندگی سے زیادہ کسی اور شے کی ضرورت ہے۔

ان درخشاں ستاروں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ پختونخواہ اور بلوچستان کی جیلوں میں کوئی بھیڑ نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہاں ایک منظم ’غلیظ جنگ‘ جو ”جان کی امان نہ دینا، کوئی رحم نہیں دکھانا، کوئی قیدی نہیں رکھنا“ کے نصب العین کیساتھ جاری ہے۔ وہ کہ جنہیں جیلوں میں رکھا جا سکتا ہو انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے، اس طرح سے پختونخوا اور بلوچستان کی جیلوں کو قیدیوں کی گنجائش کی سطح پر رکھا جاتا ہے۔ ہزاروں لاپتہ بلوچوں اور 700 سے زائد قتل کرکے بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں میں پھینکے گئے بلوچوں نے بلوچستان کی جیلوں کو بھیڑ سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

اسی طرح کے طرز عمل نے خیبر پختونخواہ کی جیلوں میں بھی قیدیوں کی آبادی کو قابل انتظام سطح پر رکھا ہوا ہے۔ بلوچستان کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے چلا آرہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں صورتحال یقینا انتہائی خراب ہے۔ مئی 2011ء میں خیبر پختونخوا کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماورائے عدالت قتل، صوابدیدی گرفتاریاں اور حراست، اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگیاں جاری رہی ہیں جبکہ فوج کی معاونت سے چلنے والے لشکروں (مسلح گروہوں) نے کسی بھی طرح کی نگرانی یا جانچ پڑتال کے بغیر سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ جولائی 2009ء اور مئی 2011ء میں فوجی آپریشن کے اختتام کے درمیان وادی سوات میں مشتبہ باغیوں کی 282 لاشیں ملی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ علاقے کے مقامی لوگوں کی طرف سے ان ہلاکتوں کو سیکورٹی فورسز سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کہا کہ مشتبہ باغیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد، بچوں سمیت، کو سوات میں تلاشی اور فوجی کارروائیوں کے بعد فوجی حراست میں رکھا جانا جاری ہے۔

اس سال 16 جنوری کو قبائلی علاقہ خیبرایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں نے ایک رات قبل قبائلی علاقے کے باڑہ تحصیل میں مردہ حالت میں پائے گئے 15 رشتہ داروں کے جنازے لے کے پشاور میں گورنر ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ انہوں نے ہلاکتوں کیلئے سیکورٹی فورسز پر الزام عائد کیا اور گورنر اور حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ اس سال جولائی میں ایک بار پھر کم سے کم 21 مشتبہ عسکریت پسندوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں خیبر ایجنسی کے شورش زدہ علاقے باڑہ ڈویژن کے خانگئی علاقے میں پائی گئیں۔ ان اموات کے بعد علاقے میں عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی عمل میں لائی گئی۔

مزید برآں بلوچستان میں شورش کے علاوہ ہزارہ اور دیگر شیعوں کو بھی ہدف بنایا جاتا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی شیعوں پر کثرت سے وحشیانہ حملے کیے جا رہے ہیں لیکن مجرم کبھی پکڑ ے نہیں جاتے۔ دراصل گرفتار ہونے والے ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کی طرح جیل توڑ کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ بلوچستان میں اُن قیدیوں کو ہائی سیکورٹی جیلوں سے فرار ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے بھی جیل کی آبادی کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

مورخہ 12 نومبر 2013ء کو پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے پروانہءحاضری ملزم کی درخواست، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے بریت کے بعد روح اﷲ کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے سینٹرل جیل پشاور سے اٹھایا تھا، کی سماعت کے دوران کہا کہ ”اگر ریاست اور استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہو جائے اور بعد میں ایجنسیاں جیلوں سے افراد کو اٹھا کر لیجائیں تو عدالتوں کا مقصد اور فائدہ کیا ہے۔ اس سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دہشت گردی کے الزامات سے بری قیدیوں کو جیلوں سے اٹھا کر عدلیہ کی ’تذلیل‘ بند کرنی چاہئے۔

خیبر پختونخوا کی جیلوں کی آبادی کو اس طرح سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ بلوچستان میں مسئلے کو اس سطح تک پہنچنے سے قبل ہی حل کرلیا جاتا ہے اور ریاستی پالیسیوں کیخلاف ناراضگی ظاہر کرنے والے مشتبہ افراد کو فرنٹیئر کور (ایف سی)، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور ان کے پراکسی گروہ قتل کر رہے ہیں جنہیں اُسی طرح کے خفیہ فنڈز سے فنڈ فراہم کیے جاتے ہے جنہیں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے انسداد بغاوت کیلئے 2008ء تا 2009ء میں 400 ملین استعمال کیے۔ مارچ 2011ء میں بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ، ”ہم ہر روز لاشیں برامد کررہے ہیں جیسا کہ ایف سی اور پولیس اپنی مرضی سے دن دہاڑے لوگوں کو اٹھا رہے ہیں لیکن ہم مجبور ہیں۔ ایف سی کو کون پوچھ سکتا ہے؟“

ایسا لگتا ہے کہ بلوچ کیخلاف مظالم روکنے میں کوئی بھی آمادہ نہیں ہے اور اسی لئے ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کی قیادت میں 20 بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کوئٹہ سے کراچی تک 750 کلومیٹر طویل ایک شدید صبر آزما مارچ طے کیا جو ابھی تک صرف کراچی پہنچا ہے۔

دلچسپ مگر غیر تعجب خیز بات یہ ہے کہ بدعنوانی کی شیطانیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ لیے چلتی ہے۔ خرم حسین نے اپنے مضمون ”پوشیدہ معیشت“ (28 فروری 2013ئ، روزنامہ ڈان) میں اسٹیٹ بینک کے تحت چلنے والے 16 کلیئرنگ ہاوسز کے اعداد و شمار دیے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ، ”گیارہ ستمبر کے بعد نمونہءکل میں آدھے شہر اپنے کلیئرنگ ہاوسز کے ذریعے گزرنے والی رقوم میں تیزی سے اضافے کا ایک رجحان دکھائیں گی۔ دوسرے نصف کے لئے، لکیر سیدھی ہے۔ وہ شہر کہ جن میں اضافے کا رجحان ہے ان میں پشاور سب سے آگے پھر فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور کوئٹہ قریب قریب ہیں۔ 2011ء میں پشاور سے جو رقوم چیک کے ذریعے کلیئر کروائی گئیں وہ 13 کھرب سے تجاوز کرگئی ہیں! اسی سال کوئٹہ میں یہ رقم 900 ارب روپے سے ذرا کم تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ محض ایک سال میں صرف ان دو علاقائی شہروں کے کلیئرنگ ہاوسز کے ذریعے جانے والی رقم تقریباً 20 کھرب روپے ہے۔ ان اعداد و شمار کا موازنہ فیصل آباد کے 14 کھرب روپے، راولپنڈی کے 13 کھرب روپے اور ملتان کے 826 ارب روپے کیساتھ کیا جاسکتا ہے۔“ یہ حقیقی معنوں میں حیران کن ہے، نہیں ہے!!

وہ اسے پوشیدہ معیشت سے منسوب کرتے ہیں جو ”مختصر طور پر سرکاری ریکارڈ پر ظاہر ہوتا ہے اور پھر دوبارہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔“ ایسا لگتا ہے کہ یہ پیسہ اُنہی لوگوں کے پاس جاتا ہے جنہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ پیسہ کہاں جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے علاوہ غیر قانونی طور پر لین دین کا پیسہ یقینا قانونی طور پر لین دین کے پیسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، اور یہ اعداد و شمار بہت زیادہ ہوتے اگر انہیں بھی ریکارڈ پر لایا جاتا۔ یہ یہی بڑا پیسہ ہے جو ان طاقتوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ صورتحال کو ہنگامہ خیز رکھیں تاکہ وہ بڑے پیمانے پر منافع کمانا جاری رکھ سکیں۔

سیاہ معیشت ہنگامہ خیز حالات میں پنپتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہنگامہ خیز حالات کو فروغ دیتی ہے۔ وہ جو اختیاردار ہیں، اس کا استحصال کرکے اربوں کماتے ہیں۔ اختلاف رائے اور ڈائیورسٹی کو کچلنے کی ریاستی کوشش کے علاوہ یہ ’غلیظ جنگ‘ اسٹابلشمنٹ کے تمام اداروں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کو فروغ دے رہی ہے۔ کرپشن غلیظ جنگ کو دوام دیتی اور اس کے پیچھے وجوہات میں سے ایک ہے۔ وہ جو ذمہ دار ہیں اور اس ’غلیظ جنگ‘ کو چلا رہے ہیں پیسے کی اس بارش سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور رشوت ستانی جیسے دیگر منافع بخش کاروبار سے بھی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کرپشن اتنے بڑے پیمانے پر بلا روک ٹوک اور دیدہ دلیری سے ہورہی ہے جسے صرف کوئی اندھا ہی دیکھنے سے انکاری ہو۔ جس طرح سے جیل کی آبادی کے اعداد و شمار ’غلیظ جنگ‘ کو بے نقاب کرتے ہیں اسی طرح سے اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار اس کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں جو اسے جنم دیتی ہے لیکن کوئی بھی اسے دیکھنا نہیں چاہتا۔ جب تک کہ ’غلیظ جنگ‘ کے ذمہ داران منافع کماتے رہیں گے تب تک بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی جیلیں بھیڑ سے آزاد رہیں گی اور انسانی اموات کی تعداد بڑھتی رہے گی اور یقیناً یہ اونٹ کی کمر توڑ دے گی اگر اس نے پہلے سے ہی نہ توڑ دی ہو۔

مصنف 1970 کی دہائی کے اوائل سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابسطہ ہیں۔ وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں اور

mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ: نیکڈ پنچ، 22 نومبر 2013

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s