”سیاہ مزاح“: سیاستدانوں کے وعدے


996955_638254246217360_949661212_n

تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ: لطیف بلیدی

میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر وعدے بم ہوتے تو یہاں ایک بھی زی روح زندہ نہ بچتا۔ وعدے سستے داموں ملتے ہیں اور یہ لوگوں کو ان چیزوں کی بابت باور کرانے کیلئے بہ آسانی دستیاب ہتھیار ہے جنہیں عام صورت میں لوگ ردی سمجھ کر رد کردیتے ہیں۔ یہاں پر حتیٰ کہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے عدالتوں کے وعدوں، مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے، پانی پر گاڑیاں چلانے اور اچھے طالبان کی کسی صورت حمایت نہ کرنے کے پختہ مگر خالی خولی وعدوں پر بھی مکمل طور پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ لوگ سادہ لوح اور وعدہ ساز پُرفریب طور پر چالاک ہیں جو لوگوں کی انتہائی حد تک مختصر یادداشت کی بیماری پر انحصار کرتے ہیں جس میں یہاں کے لوگ مبتلا ہیں اور وہ ہمیشہ نبھائے نہ گئے وعدوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق اُس خود ساختہ مقدر پرستی سے ہے جو اس خطے کے لوگوں کی نفسیات کا حصہ ہے اور اس کا زیادہ تعلق مذہب اور طویل نوآبادیاتی نظام کے اثرات سے ہے جس میں تعلیم اور میڈیا کے ذریعے ’ریاستی بیانیے‘ کے غالب اثر و رسوخ کا تذکرہ اگر خارج ہو؛ ایک ایسا بیانیہ جس نے بنیاد پرستی کی شیطانیت، جمود اور بلا چون و چرا سرخم تسلیم کرنے کو فروغ دیا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ہے جو یہاں پھلی پھولی ہے۔

“Black Humour”: On the Politicians Promise

معادیات بھی اس جمود اور غیر ضروری تحمل کی روش کا ذمہ دار ہے۔ مذاہب اپنی اصل روح میں کبھی بھی ایک سی نہیں رہتیں کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کے ذاتی مفادات اور بیانیہ ان کی ضروریات کے مطابق انہیں ڈھال دیتی ہیں نہ کہ اس کے برعکس کسی اور طرح سے۔ اسی لئے مارکس نے کہا تھا کہ، ’مذہب عوامی افیون ہے۔‘ بر سبیل تذکرہ مارکس کا یہ قول اس تناظر میں ہے کہ، ”مذہب مظلوم مخلوق کی آہِ سرد ہے، ایک سنگدل دنیا کا دل ہے، بالکل اسی طرح سے جیسے یہ کسی روح سے عاری صورتحال کی روح ہو۔ یہ عوام کی افیون ہے۔“ بلوچ معاشرے کی سیکولر اقدار پاکستان کیلئے ایک پھٹکار ہے جو جدوجہد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یہ اس کے بیانیے کے برخلاف ہے۔ لہٰذا اس بات میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کا سب سے بڑا وکالت کرنے والا اور فراہم کنندہ فوج ہے؛ خاموشی سے سر خم تسلیم کرنے کو یقینی بنانے کیلئے بلوچ معاشرے کے موجودہ اقدار کو تبدیل کرنے کی انتھک کوشش کی جارہی ہے۔

آواران کے حالیہ دورے کے دوران نواز شریف نے آواران کی معجزانہ بحالی کا وعدہ کیا تھا؛ وہ اس حوالے سے سنجیدہ ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ بالاکوٹ زلزلے کو آٹھ سال بیت چکے ہیں اور وہاں بحالی کا کام ابھی تک نصف بھی مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ 2012ء میں اس تباہ کن زلزلے کی ساتویں برسی پر ایک اخبار نے رپورٹ کیا کہ مقامی لوگوں نے بالاکوٹ اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، دنیا کو یہ یاد دلانے کیلئے کہ حتیٰ کہ سات برس بعد بھی وہ بحالی کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

پرانے شہر سے 20 کلومیٹر جنوب میں بکریال کے مقام پر ایک نیو بالاکوٹ تعمیر کیا جانا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی رک گیا۔ وہاں کے مقامی زمین مالکان کو ادائیگی کے مطالبے کے باعث ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ 2012ء تک وہاں پر 60 فیصد سے زائد اسکولوں اور ہسپتالوں سمیت سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا کام مکمل نہیں کیا گیا تھا۔ پرانے بالاکوٹ شہر کے بہت سے رہائشی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے عطیہ کردہ تیار مصنوعی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ اس کی وجہ پیچیدہ ڈیزائن، تعمیری مواد کیلئے کثیر لاگت اور ایرا (ارتھ کویک ریکنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی) کی ناقص تکنیکی تعمیراتی منصوبہ بندی تھی۔ اگر بالاکوٹ کے عوام کا حال یہ ہے جن کیلئے انہیں دنیا سے کروڑوں ڈالر ملے ہیں تو آواران کے عوام کا مقدر کیا ہوگا؟

چونکہ نواز شریف کے پاس پیش کرنے کیلئے اور کچھ بھی نہیں تھا تو لہٰذا وہ آواران کے نام نہاد بزرگوں سے وعدوں کا سہارا لے کر وہاں سے چلتے بنے؛ قدرتی طور پر عوام پر تو اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ ان کے قریب پھٹک سکیں۔ بزرگوں کا یہ فرض کردہ غول، کہ جنہیں مدد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، ایک انوکھی شے ہے کیونکہ زلزلے سے قبل وہاں پر اس کا کوئی وجود نہ تھا؛ ضرور فوج نے اسے تخلیق کیا ہوگا کیونکہ امدادی کاموں میں مدد کے بہانے وہ پوری طاقت کیساتھ وہاں وارد ہوئی تھی۔ ان بزرگوں میں سے ایک ضرور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قدوس بزنجو رہے ہونگے، جی ہاں وہی جنہوں نے اپنی نشست پی بی 41 آواران 544 ووٹوں کے ساتھ جیتی لیکن دی گئی خدمات کے عوض ڈپٹی اسپیکر شپ سے نوازے گئے۔ دست چنیدہ وزیر اعلیٰ سمیت باقی ماندہ بزرگ بھی شکر گزاران سے زیادہ کچھ نہ تھے جو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہر لفظ پر سر ہلاتے رہے کہ انعام و اکرام کی برسات جاری رہے۔ یہ بزرگان، سب کے سب بھوسے کے پتلے، اسٹابلشمنٹ کی حمایت کے بغیر صفر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں اور اس عوام سے ڈرتے ہیں جن کے بزرگ ہونے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ بین الاقوامی امداد کو مسترد کرنے کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت نے بحالی کیلئے غیر ملکی امداد سے انکار کر دیا ہے کیونکہ ”ہمیں باہر سے مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ بلوچستان حکومت میری ہے۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔“ نواز شریف کو لوگوں کے مصائب کی ذرّہ بھر پرواہ نہیں ہے بلکہ فقط اپنی انا کی تسکین کیلئے انہوں نے دہرایا کہ ”بلوچستان حکومت میری ہے۔“

نواز شریف موج عہد و کناں میں بہتے گئے اور مرنے والوں کے اہل خانہ کیلئے 5 لاکھ اور زلزلے کے زخمیوں کو 1.5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ضرور خود کو بھی حیران کردیا ہوگا جب انہوں نے کہا، ”حکومت آواران کو شمسی توانائی کے ساتھ 24 گھنٹے بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور پانی کی ضروریات پوری کرنے اور علاقے کو سیراب کرنے کیلئے ڈیموں کی تعمیر کرے گی۔ میری حکومت آواران کو کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے برابر ایک ’ماڈل ضلع‘ بنائے گی۔“ ایک اسٹابلشمنٹ جو شہروں کو بجلی، جنکی لازمہ حیات بجلی ہے، فراہم کرنے کے قابل نہیں رہی ہو، اس کا آواران کیلئے سات دن رات دن بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیساتھ ایک جنت کا وعدہ حیرت انگیز نہیں ہے؟ آواران کو کراچی کے برابر لانے کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ روزانہ ایک درجن افراد قتل کرکے اسے کراچی کی مقتل گاہوں کے قریب لانا ہے۔ ایک اسٹابلشمنٹ جو کئی دہائیوں سے بلوچ پر ظلم ڈھارہی اور ان کا استحصال کرتی آ رہی ہے اچانک سے ایک محسن بن جاتا ہے اور ایک مجازی جنت کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر یہ سیاہ مزاح نہیں تو اور کیا ہے؟

میرا خیال ہے کہ نواز شریف کے دورے اور اُنکے وعدوں کی شہنائی کی گونج میں جس بات کی طرف لوگوں نے دھیان نہیں دیا وہ ان کے بندے ڈاکٹر مالک نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ”میں آواران کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ ضلع چھوڑ کر نہ جائیں جہاں ان کے باپ دادا دفن ہیں۔ حکومت ملازمتیں اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی۔“ یہ بات صرف اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ لوگ فوج کی موجودگی میں اضافے کے سبب علاقہ چھوڑ رہے ہیں اور پاکستانی حکومت پر اعتماد کے مکمل فقدان کے باعث کل چھ بٹالین اور آٹھ ہیلی کاپٹر ظاہراً امداد اور بحالی کیلئے تعینات کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ماڈل ٹاون کا کوئی منصوبہ نہیں ہے؛ فوج علاقے کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک چھاونی کی تعمیر کی تیاری کر رہی ہے۔ ایک چھاونی فقط ایک چھاونی ہے خواہ کیوں نہ اس کا لیبل بھی تبدیل کردیا جائے۔ لوگ ان کے ارادوں اور متوقع سلوک سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور اسی لئے اس سے دور جا رہے ہیں۔ وہ ایک چھاونی میں نہیں رہنا چاہتے جو کہ حکومت آواران کو بنانا چاہتی ہے۔ آواران میں فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی خواہشات کے تابع غلاموں کی طرح رہنے کے بجائے وہ دوسری جگہوں میں غربت کی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مصنف 1970 کی دہائی کے اوائل سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابسطہ ہیں۔ وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں اور

mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ: نیکڈ پنچ، 14 نومبر 2013

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s