ضمیر کب جاگے گا؟


 

اختر عباس

wahid-balochواحد بلوچ کی گمشدگی کا سنا تو حضرت ابوذر غفاری یاد آ گئے۔ ابوذر غفاری اسلام کے پہلے سوشلسٹ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک پھیلتی اسلامی سلطنت میں دولت کے ارتکاز کے خلاف وہ انصاف کا پہلا اور سچا دھرنا، احتساب کی پہلی اور معتبر آواز تھے۔

ابوذر دربدر جا کر لوگوں کو دولت اور طاقت کے ارتکاز کے خلاف بیدار کرتے اور سورۃ الہمزہ کی تفسیر فرماتے، سونا جمع کرنے والوں کی پیٹھوں کے داغے جانے کی تفسیر۔

ابوذر غفاری نے مار کھائی، طعن و تشنیع کا سامنا کیا۔ شاید شر پسندی اور بغاوت کے الزام بھی لگے ہوں۔ آخر کار ربذہ کے مقام پر جلاوطن ہو گئے۔جلاوطنی بھی کیسی جگہ، دنیا سے دور، ایک نا معلوم مقام، جہاں کوئی انسان نہیں بستا تھا، جہاں سے قافلے بھی راستہ بدل کر چلے جاتے تھے۔

پھر اسی ویرانے میں وفات فرما گئے۔ بیٹی اکیلی تھی، باپ کے غسل اور کفن دفن کا انتظام بھی نہ تھا۔ کیسی لاچارگی تھی! اور کس کے مقدر میں؟

“آسمان کے نیچے ابوذر سے زیادہ سچا کوئی نہیں ہے۔”

یہ گواہی کس نے دی؟ اس ہستی ﷺ نے کہ جس کے لیے اللہ نے زمین و آسمان تخلیق کیے۔ مگر اسی سچے ابوذر کو دفنانے والا وہاں کوئی نہیں۔ ان کی بیٹی کی بے بسی نمٹانے والا کوئی نہیں۔ دیر گئے ایک بھولا بھٹکا قافلہ آیا جس نے آسمان کا قرض زمین میں اتار دیا۔

واحد بلوچ بھی کچھ سر پھرا سا تھا۔ ایسی باتیں کرتا جو خطرناک تھیں۔ اس معاشرے میں خطرناک باتیں کرنے والے زیادہ عرصہ نہیں جی پاتے۔ اندھی گولی کو خطرناک باتیں کرنے والوں کے گھر کا راستہ صاف صاف دکھائی دیتا ہے۔

اندھی گولی سے بھی زیادہ بھیانک وہ اندھیرا ہے جو زندوں کے گم ہو جانے پر چھا جاتا ہے۔ واحد بلوچ کی بیٹی بھی تن تنہا ہے۔

یہ بیٹیوں کا بھی رشتہ بھی کچھ عجیب ہوتا ہے۔ بابل کی دہلیز وہ خمیر ہے جس سے بیٹی کا وجود بنا ہوتا ہے! کوئی اور بھول بھی جائے، بیٹی نہیں بھولتی۔ آخر بھول بھی کیسے سکتی ہے؟ باپ کے ساتھ جذبے کی اس ڈوری سے جڑی رہتی ہیں جو موت بھی نہیں قطع کر سکتی۔

واحد بلوچ کی بیٹی ہر دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ باپ کی گمشدگی کے لیے در بدر پھرتی ہے، مگر یہ شہر بھی عجیب شہر ہے۔ یہاں کُھلے دروازوں کو کمزور دستکوں کے جواب میں صرف بند ہونے کی عادت ہے۔

اقبال کو بھی متاع کارواں کے چھوٹ جانے کی شکایت تھی، بلکہ قافلے کے دل سے احساسِ زیاں چھن جانے کی۔ ایک غلطی ہم سے پہلے بھی ہوئی تھی اور اس کی سزا ہم بھگت چکے ہیں۔

لیکن سیکھنے کی بیماری ہم کو لاحق نہیں۔ جن کے پاس اختیار ہے ان کی نظریں کمزور ہیں۔ چند گز تک تو سب کچھ دکھائی دیتا ہے، پر اس سے آگے نظر دھندلی ہو جاتی ہے۔

برداشت کی رفو گری کم ہے، دامن کو چاک کرنے کی ہوس زیادہ۔ بلوچوں کو پیار سے رام کرنے کی ضرورت ہے، سمجھنے کا حوصلہ چاہیے۔ بیرونی سازشوں کا شور اتنا بلند ہے کہ اپنے دامن کے داغ سجھائی ہی نہیں دیتے۔

غداری کا الزام ایک ایسا سرٹیفیکٹ ہے جو کفر کے سرٹیفیکٹس کی طرح ہر گلی اور ہر محلے میں دستیاب ہے۔ واحد بلوچ کو بھی شاید ایسا سرٹیفیکٹ دیا گیا۔ اس کا غائب ہونا بھی شاید ایسے کسی سرٹیفیکٹ کا باعث ہے۔

مسنگ پرسن (گمشدہ افراد) ہونا بھی کیا اذیت ہے۔ خاموشی، تنہائی، بھیانک اندھیرا، اپنے نہ ہونے سے زیادہ اپنے پیاروں کے ہونے کا خوف۔

کس کو درد ہوا ہوگا، کون میری یاد میں رویا ہوگا۔ جو زندہ ہیں وہ اپنی جگہ در گور۔ میرے دوست کے والد صابر نظامی مرحوم، ضیاء دور میں مختصر عرصے کے لیے مسنگ پرسن ہوئے تھے اور معروف صحافی، دانشور و کالم نگار حیدر جاوید سید بھی ایک طویل عرصے تک یوں غائب رہے تھے۔

وہ شاہی قلعہ لاہور کے حبس خانے کے مہمان بنے۔ تشدد سہا، طعنے سنے، گالیاں کھائیں۔ ان کی روداد انٹرنیٹ کی دیواروں پر رقم ہے، پڑھنے والے پڑھتے ہیں اور اس دور کو یاد کرتے ہیں جب اختلاف رکھنا جرم ہوتا تھا۔

ایک کہانی اس سارے قضیے میں عجیب ہے۔ جو صاحب اس تہہ خانے کے انچارج تھے، بعد میں پیپلز پارٹی کے رہنما بنے۔ دبنگ، کلف والے کپڑوں میں، اچھے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ عہدہ جس میں ہٹو بچو کا تڑکا بھی شامل ہوتا ہے! کیا لوگوں کا ضمیر ریٹائرمنٹ کے بعد جاگ جاتا ہے، جب جسم حکم دینے والے کی چھڑی کے سحر سے نکل جائے؟

کیا واحد بلوچ کے اغوا کاروں کا ضمیر بھی جاگے گا؟ کسی این جی او میں جا کر؟ ٹی وی پر تجریہ نگار بنتے وقت یا کسی جمہوری حکومت میں انسانی حقوق کے پینل میں ایک نئی تنخواہ پر؟ یا پھر ایک لمبی خاموش چپ؟

واحد بلوچ مگر اپنی سزا تنہا کاٹے گا۔ اپنے حصے کے ربذہ میں، جہاں اس کی بیٹی بھی اس کے ساتھ نہیں۔ جدائی کے دکھ کے ساتھ ساتھ شاید جسمانی اذیت بھی؟ کیا کوئی قافلہ ہے جو اسے بستی میں واپس لا سکے؟ کیا کوئی ہے جو اس کی بیٹی کی بے بسی دفنا سکے؟ مردوں کے شہر میں کوئی زندہ انسان؟

قافلہ حجاز میں ایک بھی حسین نہیں ہے

اگرچہ ہے تابدار ابھی، گیسوے دجلہ و فرات



akhtar-abbasاختر عباس اس آخری نسل کے نمائندے ہیں جس نے لکھے ہوئے لفظوں سے دور افتادہ رشتوں کا لمس محسوس کیا۔ وہ اس پہلی نسل کا بھی حصہ ہیں جس نے الیکٹرانک میسیجنگ کی برق رفتاری سے دلوں کے رنگ بدلتے دیکھے۔ کم لکھتے ہیں اور زیادہ سوچتے ہیں، اور نابیناؤں کے شہر میں خواب سجانے بیٹھے ہیں۔

Courtesy: http://www.dawnnews.tv

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s