ذکری کون ہیں؟


zikri

تحریر: محمد اکبر نوتیزئی

ترجمہ: لطیف بلیدی

محمد اکبر نوتیزئی کی بلوچستان میں ذکری برادری کے ماخذ، روحانی ضابطہ عمل اور عصر حاضر کے خدشات پر رپورٹ

بی بی دُری بلوچ، جو اپنی عمر کے چھٹے عشرے میں ہیں، ہر سال 27 ویں رمضان کی رات کوہ مراد آتی ہیں۔ رات کے وقت وہ ایک دائرے کے وسط میں کھڑی ہوتی ہیں جسے مقامی بلوچی زبان میں چوگان کہتے ہیں، اور تقریباً 300 ذکری بلوچ ان کے ارد گرد کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ خوش الحانی سے اللہ، رسول اللہ (ص) اور بزرگان دین کی حمد و ثناء گاتی ہیں۔ وہ بلوچی اور فارسی زبانوں میں آنجہانی ارواح کے لئے بھی گاتی ہیں اور ان کی بخشش کیلئے دعا کرتی ہیں۔ وہ لوگ جو ان کے گرد دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں وہ سب ان کے کہے الفاظ کو زور زور سے دہراتے ہیں۔ جیسے ہی وہ گانا ختم کرتی ہیں بی بی جمالی بلوچ نامی ایک اور خاتون، جو کہ تقریباً اسی عمر کی ہیں، ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔ یہ پوری رات جاری رہتی ہے۔ الغرض رمضان کی 27 ویں رات ایک بہت ہی خاص رات سمجھی جاتی ہے۔

Who are the Zikris?

ذکریوں کی اکثریت بلوچ ہیں جو بلوچستان کے جنوبی حصے میں مکران نامی علاقے میں رہتے آ رہے ہیں۔ مکران کے علاوہ ان کی بستیاں آواران، خضدار، لسبیلہ، کراچی، اندرون سندھ اور ایران کے سیستان و بلوچستان کے خطے میں بھی ہیں۔ غیر سرکاری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ذکری بلوچوں کی عالمی آبادی لگ بھگ 750,000 ہے۔ ان میں سے زیادہ تر خاص بلوچستان میں رہائش پذیر ہیں۔

Hate speech in the form of graffiti left by religious fundamentalists, targetting Zikris

Hate speech in the form of graffiti left by religious fundamentalists, targetting Zikris

حکیم بلوچ، جو ایک بڑے بلوچ مصنف اور بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹری رہے ہیں، نے مجھے بتایا کہ ذکری مصر کے فاطمید مسلک سے آئے تھے۔ اس عبارت کے مطابق، انہوں نے پورے ایران کا سفر کیا اور صدیوں قبل مکران کے ساحل پر پہنچے۔ انہوں نے مجھے مختصراً بتایا کہ وہ ایک مسلم فرقے سے تھے اور آپ ان کی توضیح بہ آسانی شیعہ یا سنی کے طور پر کر سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ ان دونوں کے درمیان کی شے ہیں۔

حکیم بلوچ نے مجھے بتایا کہ ”پاکستان کے چاروں صوبوں میں ذکری موجود ہیں۔ اور یہ لوگ مزید آگے نہیں جاسکے کیونکہ وہ حملے بالکل نہیں کیا کرتے تھے۔ اور نہ ہی انہوں نے اپنے فرقے کی تبلیغ کیلئے جنگ کا سہارا لیا۔ انہوں نے اپنے عقائد خود تک محدود رکھے۔ اور آج دن تک، وہ سب سے زیادہ پرامن معاشرہ ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا، ”اگرچہ پرانے دور میں وہاں کمیونزم نہیں تھی، مگر ملک (بادشاہ) ملا مراد، ایک ذکری رہنما، ایک طرح سے کمیونسٹ تھے کیونکہ وہ مکران کے مفلس و ناداروں میں مال و دولت، فصلیں وغیرہ یکساں طور پر تقسیم کیا کرتے۔“

Places of worship of Zikri Baloch called “Zikir Khana”

Places of worship of Zikri Baloch called “Zikir Khana”

کچھ دیگر لکھاریوں کے مطابق، ذکری بلوچ ہندوستانی صوفی سید محمد جونپوری کے پیروکار ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جونپوری نے 15 ویں صدی میں فرقے کی بنیاد رکھی، جب انہوں نے مہدی، اسلام کی مسیحائی مصلح، ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ذکری نظامِ عقیدہ کے پیروکار بلوچستان میں 16 ویں صدی میں پھلے پھولے۔ ایک معروف بلوچ مورخ شاہ محمد مری نے اس نمائندے کو بتایا کہ ”سادہ لفظوں میں یہ کہ ذکری بلوچ ہیں جو بلوچستان کے مکران ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ، ”وہ خالص بلوچ ہیں جو کہ سادہ لوح، دیسی کوہ نشین، چرواہے اور خانہ بدوش ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ روایتی طور پر روحانی عقائد کی تقسیم و تفریق میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔“

جب میں نے ممتاز بلوچ سیاسی رہنماء میر غوث بخش بزنجو کی تحریروں کی ورق گردانی کی تو وہ 1981ء میں لکھتے ہیں: ”وہ بلوچ جس نے اپنی زندگی پہاڑوں میں گزاری ہو اور کبھی کوئی شہر نہیں دیکھا ہو تو وہ مذہبی نقطہءنگاہ میں لبرل ہوتا ہے۔“ وہ مزید لکھتے ہیں، اور بلوچوں کے درمیان ایک ہی قبیلہ کسی حد تک مختلف طور طریقوں کے ساتھ دو یا اس سے زائد مذہبی گروہوں میں منقسم ہے، لیکن اس سے ان کے درمیان تعلقات کبھی کشیدہ نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ، وہ ذکری بلوچ اور نمازی بلوچ (ذکریوں طرف سے اپنے سنی بلوچ ہم وطنوں کیلئے استعمال کی جانے والی اصطلاح) کی مثال دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے رسم و رواج اور طور طریقے بہت ملتے جلتے ہیں کہ کئی جگہوں پہ یہ بالکل ممکن ہے ایک ہی خاندان میں سے ایک بھائی ذکری ہو اور دوسرا نمازی۔

چونکہ ذکریوں کی اکثریت بلوچوں کے درمیان پائے جاتے ہیں، وہ امن و آشتی سے نمازی بلوچوں کیساتھ اکھٹے رہتے آئے ہیں۔ تاریخی طور پر وہاں ان کے مابین نہایت کم، اگر کبھی ہوئی بھی ہو تو، کشیدگی رہی ہے ما سوائے نصیر خان، خان کلات (1749 تا 1795)، کی طرف سے ذکری بلوچوں کے علاقوں پر کیے گئے پہلے بڑے حملے کے دوران۔ ترقی پسند لکھاری بلاوجہ انہیں بلوچستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ’بنیاد پرست‘ حکمران قرار نہیں دیتے، انہوں نے ذکریوں کیساتھ اپنے تنازعے کو مذہبی رنگ میں رنگنے کا انتخاب کیا۔

ڈاکٹر نعمت گچکی، ایک بلوچ دانشور اور حال ہی میں شائع کتاب ’بلوچ: شناخت کی تلاش میں‘ کے مصنف نے مجھے بتایا کہ، ”خان کلات اور کیچ کے سرداروں کے درمیان مفادات کا ٹکراو تھا جو کہ ذکری تھے۔“ انہوں نے مزید کہا: ”مکران پر بہت سے خاندانوں نے حکومت کی تھی: ہوت، بلیدی اور بالآخر گچکیوں نے۔ لہٰذا، گچکی اس سلسلے میں آخری تھے، اور ان کی دور حکومت اور نصیر خان کی حکمرانی ایک ساتھ آئیں۔ نصیر خان نے اس وقت کے دوران تاریخ میں پہلی بار اپنے اقتدار کو توسیع دی تھی جو آج کے بلوچستان کی شکل میں ہے۔ انہیں مختلف سرداروں کے ساتھ تنازعے کا سامنا کرنا پڑا جنہیں شاید انہیں ٹیکس ادا کرنے کا خیال اچھا نہیں لگا تھا۔ تو لہٰذا، انہوں نے ان سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔“

وہ مزید کہتے ہیں: ”گچکی ایک مضبوط قوت تھے اورگچک (گچکیوں سے منسوب) پنجگور اور مکران میں بلوچستان کے کسی بھی دوسرے مقامات، ماسوائے کچھی کے، کی نسبت سب سے زیادہ امیر تھا۔ اس وجہ سے خان کلات کے کیلئے یہ ضروری تھا کہ وہ گچکیوں سے ٹیکس نکالے۔ ملاوں کی اکساہٹ پر خان کلات نے مکران پر حملہ کردیا۔ دوسری طرف، خان کلات نے خود بھی ملاوں کو ذکریوں کیخلاف پرچار کرنے اور ان کیخلاف تشدد کو ہوا دینے کی حوصلہ افزائی کی۔“

جہاں تک ذکریوں کے عقائد کا تعلق ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے چونکہ ان کا مذہب کوئی تبلیغی مذہب نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی چیز کیساتھ تنازعے میں جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محض اسی سبب وہ آج تک قائم و دائم ہیں۔

گچکی صاحب نے مزید کہا: ”ذکریوں کا مذہب اور اس کا ماخذ نامعلوم ہے اس امر کے باوجود کہ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ اس فرقے کا بانی یا تو اٹک (پنجاب) یا حیدرآباد (ہندوستان) سے آیا تھا۔ میرے اندازے میں یہ (ذکریت) یہیں کی پیداوار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچ کے اس عقیدے میں کوہ مراد ہی وہ جگہ ہے جہاں سے انہیں یہ مذہبی تحریک ملی اور ان کی عبادت کے تمام مقامات کیچ اور مکران میں ہیں۔ لہٰذا، اس تناظر میں، کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ ان کا اصل ماخد مکران ہی ہے۔“

اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ بات جب زبان، رسومات، شادی بیاہ، تدفین وغیرہ کی آئے تو ذکری بلوچ اور نمازی بلوچ کو ممیز نہیں کیا جا سکتا۔ مری صاحب کہتے ہیں کہ ”شاید چند صدیوں قبل کوئی ذکری اور نمازی بلوچ کو فرقوں اور مذاہب کی بنیاد پرتقسیم کر سکتا تھا۔ مگر آج، آپ مکران چلے جائیں، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون ذکری یا نمازی ہے۔ کوئی باپ ذکری ہے تو اسکا بیٹا نمازی۔ ان کے درمیان شادیاں بھی ہوتی ہیں۔“

نعمت گچکی صاحب اپنے رائے کے اظہار میں یہ بھی کہتے ہیں: ”مجھے نہیں لگتا ہے کہ وہ کہیں اور سے آئے ہیں۔ ان کا تعلق یہیں سے ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ عقیدہ مکران کے اسی علاقے میں پھلا پھولا اور باقی بلوچستان میں اور کراچی بھر کے ساحلی علاقوں تک پھیلا۔ گو کہ ذکریوں کا ایک بڑا حصہ کراچی میں رہ رہا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ان سب نے ہجرت کی ہے۔ ان میں سے کئی کراچی، اورماڑہ اور گڈانی کے قدیم دیسی باشندے ہیں۔“

حکیم بلوچ مجھے بتاتے ہیں: ”اب، ذکری بلوچوں کیخلاف نفرت پیدا کی گئی ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس سے قبل وہاں ’ذکری اورنمازی‘ کے درمیان ایک دوشاخی تقسیم تھی؛ اب یہ ’ذکری اور مسلمان‘ کی شکل میں ہے۔ اس کے علاوہ، صوبے میں ان کے بارے میں بہت ساری خرافات بھی پائی جاتی ہیں۔“

حکیم بلوچ نے کہا، ”میری رائے میں، ذکری خالصتاً بلوچ ہیں، اور وہ بلوچ ثقافت کے بہترین نمائندوں میں سے ہیں۔“

رمضان کی 27 ویں کو ذکری بلوچ کوہ مراد، جو ان کے کیلئے ایک مقدس مقام سمجھی جاتی ہے، پر خصوصی عبادات کرتے ہیں۔ شاہ محمد مری مزید کہتے ہیں: ”وہ صرف مسلمان ہیں؛ شیعوں سے ایک وسیع تعلق کے ساتھ۔ وہ لوگ سادہ لوح ہیں جن کے چار دشمن ہیں۔ ایک بھیڑیا جو ان کے مال مویشیوں پر حملہ کرتا ہے؛ دوسرا خشک سالی ہے؛ تیسرا چور جو ان کی چیزیں چراتا ہے؛ چوتھی قبیلوں کے درمیان تنازعہ ہے۔ اور اس آخری دشمن کو روکنے کیلئے، ان کے عقائد کا ایک آسان ترین مجموعہ ہے۔ ان کے بڑی عبادت کی رات رمضان کا 27 واں ہے اور وہ سب کے سب اس عبادت کیلئے دور دراز علاقوں سے کوہ مراد آتے ہیں۔ نمازیوں کے برعکس ان کا دعویٰ ہے کہ مہدی پہلے ہی آ چکے ہیں۔“

ماضی میں 1977ء تا 1988ء میں جنرل محمد ضیاءالحق کی آمریت کے دنوں میں ذکری بلوچوں کو بھی دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح امتیاز اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1974ء کے بعد جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے احمدی آئینی طور پر غیر مسلم قرار پائے تو ضیاء حکومت کے پورے دور میں قدامت پسندوں نے یہ بھی دباو ڈالا اسی طرح سے ذکری بلوچوں کو بھی غیر مسلم قرار دیا جائے۔

بلوچ مورخ مری صاحب یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”جی ہاں، ذکری بلوچوں کو مذہبی جماعتوں اور ریاست کے زیر سرپرستی ملاوں کے ہاتھوں حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن تربت کی مقامی آبادی اور بلوچ نے بحیثیت مجموعی اور ایک قوم کی حیثیت سے اس کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ اور آج تک ملا اور ریاست سے منسلک انتہا پسند قوتیں اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ذکریوں کو الگ تھلگ کیا جائے اور پھر انہیں ایک غیرمسلم مذہبی اقلیت قرار دیا جائے تاکہ وہ انہیں مار سکیں۔“

گچکی صاحب نے ضیاء دور حکومت میں ذکری بلوچوں پر دباو کے پیچھے دیگر عوامل پر بھی روشنی ڈالی۔ ”بعض مولویوں نے مکران اور بلوچستان میں دیگر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ذکریوں کو اقلیت ہونے کی طرف دھکیل دیں۔“ انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ، ”بنیادی طور پر، اسے انتخابی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ مکران میں قومپرست جیت رہے تھے۔ اسی لئے سیاسی جماعتوں اور اسلام آباد میں حکومت نے سوچا کہ ذکری بلوچوں کی حمایت کے سبب قومپرست جیت رہے تھے جن کی وہاں ایک بھاری اکثریت ہے۔ ذکریوں کیساتھ تعلقات منقطع کرنے سے وہ انتشار پیدا کر رہے تھے تا کہ قومپرست ہار جائیں۔“

ستم ظریفی یہ ہے کہ ضیاء کے جانے کے بعد ذکریوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ انہیں متشدد انتہا پسند قوتوں کی طرف سے ایک مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کے 1988ء میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بننے پر انہوں نے ذکریوں کو ان متشدد انتہا پسندوں سے محفوظ رکھا۔ انہی وجوہات کی بناء پر ان کی حکومت کو دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے غیرمعمولی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔

سن 2014ء میں ضلع آواران میں ان کی ایک عبادت گاہ، ذکر خانے، پر نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے حملے میں چھ ذکریوں کو قتل کیا گیا۔ اُسی سال، ایک بس کے ذکری مسافروں پر بلوچستان کے ضلع خضدار میں حملہ کیا گیا۔ ان میں سے سات زخمی ہو گئے۔

ان سب کے علاوہ، موجودہ دور میں ذکری بلوچوں کو ایک اور تشویش لاحق ہے؛ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سڑک اور متعلقہ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے نقل مکانی۔

سی پیک کی سڑک گوادر سے شروع ہوتی ہے جہاں ذکریوں کی ایک اچھی خاصی آبادی ہے۔ اس کے علاوہ، سی پیک کی سڑک مکران بھر کی ذکری بستیوں سے ہوتی ہوئی گزرتی ہے۔ امان اللہ بلوچ، جو کہ ایک بزرگ اور تعلیم یافتہ ذکری بلوچ رہنماء ہیں، نے مجھے بتایا: ”جی ہاں، سی پیک جہاں سے گزرتی ہے وہاں کئی علاقوں میں ذکری برادری کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ ایک طرف گوادر سے شروع ہوکر مشرقی تربت (ایم 8) میں ہوشاب تک اور دوسری طرف گوادر سے لسبیلہ اور اس کے ساتھ ساتھ آواران سے بھی۔ جہاں یہ منصوبہ (سی پیک) جڑتا ہے وہاں برادری کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن بالواسطہ اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔“

ایم 8 تربت کو ہوشاب سے ملاتی ہے، جہاں کوئی بھی ذکریوں کی ایک اچھی خاصی آبادی دیکھ سکتا ہے۔ وہ علاقے جہاں ذکریوں کی ایک مضبوط موجودگی ہے ان میں گوادر اور ارد گرد کے علاقے، تربت شہر، کیساک، کِکّن، شہرک، شاپک، سامی، کرکی، ہوشاب اور ڈنڈار اور کولواہ کے کچھ حصے شامل ہیں۔

سن 2004ء کے بعد سے، جب پانچویں بلوچ شورش شروع ہوئی، بسا اوقات سرکاری حکام نے ذکریوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے جو حکومت کو نشانہ بناتی ہیں۔

سی پیک کے دور سے قبل چند ذکریوں کیلئے خود شورش ایک اہم خطرہ تھا۔ وہاں وسیع پیمانے پر قیاس آرائی کی جاتی تھی کہ ذکری برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں پر بلوچ باغی گھات لگا کر حملہ کرتے اور انہیں اغواء کرتے ہیں۔ یہ امر اسے مزید المناک بنا دیتی ہے کہ بعض اوقات سیکورٹی حکام کی طرف سے ذکریوں کو مسلح بغاوت میں اہم کردار ہونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حکیم بلوچ کا ماننا ہے کہ ذکری بلوچ کم متشدد لوگ ہیں اور جب سوال بقاء کو ہو تو وہ معقول انداز میں سوچتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اسی سبب بہت سے ذکری نوجوانوں نے حصول تعلیم کیلئے اپنے آبائی علاقے چھوڑے ہیں تاکہ ان کے آبائی علاقے کو درپیش تشدد کی متعدد شکلیں ان کی تعلیم پر اثرانداز نہ ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ بہتر تعلیم ان نوجوانوں کیلئے سی پیک کے ذریعے پیدا ہونے والے روزگار کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔

ماضی میں قانون نافذ کرنے والے فورسز پر حملے ہوئے اور اس کے نتیجے کے طور پر ریاستی فورسز کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کی گئیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ شہرک، شاپک، سامی اور ہوشاب شورش کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب ان علاقوں کو باغیوں کی سرگرمی سے آزاد ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے حالیہ دنوں میں علاقوں کا دورہ کیا اور ایم 8 روٹ کا افتتاح کیا۔

خالد بلوچ، جو تربت میں مقیم حقوق کے سرگرم کارکن ہیں، بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیکیورٹی کے مسائل کے باعث ذکری برادری کے ایک بڑے حصے نے تربت کے دیہی علاقوں سے ہجرت کی ہے۔ ذکریوں کی آج کی نقل مکانی کی کئی وجوہات میں سے ایک سی پیک کی سڑک ہے۔ حالیہ برسوں میں اس برادری نے بسا اوقات خود کو علیحدگی پسندوں اور ریاست کے درمیان جنگ کی لڑائی میں مخالف سمتوں سے گولہ باری کی زد میں پایا ہے۔

خالد نے مجھے بتایا کہ ”وہ زیادہ تر تربت شہر، حب، کراچی، کوئٹہ یا دیگر بڑے شہروں میں چلے گئے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو مالی طور پر کمزور تھے مکران ڈویژن کے دیگر اضلاع میں چلے گئے ہیں جہاں ان کے رشتہ دار پہلے ہی موجود تھے، جیساکہ پسنی، گوادر اور گوادر کے دیگر دیہی علاقوں میں اور پنجگور اضلاع میں۔“

جیساکہ خالد بلوچ مشاہدہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں ذکری ہر 27 ویں رمضان کی رات کو بڑی تعداد میں کوہ امام پر موجود ہوتے تھے۔ تب سے ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، دسیوں ہزار سے محض ہزاروں تک۔

میں نے گوادر سے تعلق رکھنے والے ذکری برادری کے ایک اور رکن جان محمد بلوچ سے بات کی تھی اور اس نے کہا: ”سرکاری طور پر ہم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کتنے لوگوں نے ان علاقوں کو چھوڑا ہے۔ جو میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ گوادر میں ایک چھوٹے سے بازار کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے جسے زیادہ ذکری بلوچ چلاتے تھے۔“ انہیں توقع ہے کہ جیسے جیسے سی پیک کے منصوبوں پر کام میں تیزی آئے گی ذکریوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ”ہم، ان علاقوں کے عوام، کو اب تک سی پیک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لئے ہے لیکن درحقیقت ہمیں صرف مشقت والے کام ملے ہیں، کوئی حقیقی فوائد نہیں ملے۔“

ذکری کمیونٹی کے ایک رکن گلزار احمد بلوچ نے سی پیک اور گوادر پورٹ منصوبے کے بارے میں بات کرتے وقت اس خدشے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ”یقینا، نہ صرف ذکری بلوچ بلکہ بہت سی دیگر بلوچ برادریاں سی پیک کی سڑک سے متاثر ہوئی ہیں۔ گوادر میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں مقامی بلوچوں کو مرکزی شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور مختلف مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ اب تک یہ نہیں ہوا ہے۔ لیکن یہ بحث ہو رہی ہے۔“

جب ذکری برادری کی جانب امتیازی سلوک کے بارے میں پوچھا گیا تو گلزار بلوچ کہتے ہیں: ”تاریخی طور پر کسی بھی قسم کے مسائل نہیں رہے ہیں۔ موجودہ دور میں کچھ قوتوں کی طرف سے ذکری برادری کی جانب نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔ ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہیں ہماری برادری کی جانب نفرت پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک سازش کا حصہ ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے مذہبی رسومات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔“

وہ مزید کہتے ہیں کہ ”اس تناظر میں، ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں اپنے مذہبی رسومات کی نمائش کو کم کرنا پڑے گا۔ یا شاید، یہاں تک کہ ہمیں اپنے طور طریقوں میں سے کچھ کو ترک کرنا پڑے۔“

انہیں اس بات پر بھی تاسف ہے کہ ماضی میں ذکری بلوچ بلوچستان کے مکران ڈویژن میں آبادی کا شاید 90 فیصد تھے جبکہ اب یہ کم ہوکر 30 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اس امتیازی سلوک کے باعث ہوا ہے جو ذکری برادری کو درپیش ہے۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اندرونی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) ہیں لیکن اس حقیقت کی کوئی سرکاری قبولیت نہیں ہے اور سنگین نتائج کے خوف کے سبب کسی بھی صورت میں ذکری خود کو توجہ کو مرکز نہیں بنانا چاہیں گے۔

خالد کہتے ہیں کہ ”جیسے جیسے سی پیک کی سڑک ذکری برادری کی آبادی والے علاقوں سے گزرتی جارہی ہے، وہ حفاظتی اقدامات سے دباو کی وجہ سے ان جگہوں سے نقل مکانی کررہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے شبہے کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ ذکری بلوچ علیحدگی کی مہم کے ہمدرد ہیں۔“

تاہم انہوں نے زور دے کر کہا: ”حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ مکران کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے ذکری بلوچ علیحدگی پسند تحریک سے زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ ان جماعتوں کے لئے ایک اہم ووٹ بینک رکھتے ہیں جو پارلیمانی سیاست میں مشغول ہیں۔ اور وہ ان کے لئے ووٹ دینا جاری رکھیں گے!“

بشکریہ: دی فرائیڈے ٹائمز، 29 ستمبر 2016

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s