خصوصی رپورٹ: پاکستان کے باغی سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ روایتی حریف بھارت سے مدد کا خیر مقدم کریں گے


dr-allah-nazar

تحریر: اسد ہاشم
(رائٹرز، اسلام آباد بیورو)
(تدوین: مائیک کولیٹ وہائٹ اور ڈریزن جورگچ)
ترجمہ: لطیف بلیدی

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں آزادی کیلئے لڑنے والے ایک اہم باغی گروہ کے رہنما نے کہا ہے کہ وہ بھارت سے مالی اور دیگر مدد کا خیر مقدم کریں گے، غالب امکان یہی ہے کہ یہ الفاظ اسلام آباد کیلئے انتباہ ہوں جو نئی دہلی پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ وہاں پر مصائب پیدا کررہا ہے۔

پانچ سال بعد اپنے پہلے ویڈیو انٹرویو میں اللہ نذر بلوچ، بلوچ نسلی گروہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ، نے چینی اقتصادی راہداری، جس کے کچھ حصے وسائل سے مالا مال صوبے سے گزرتے ہیں، پر مزید حملوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

BLF Chief Baloch says Indian help ‘welcome’

اس 46 ارب ڈالر کی لاگت والے تجارتی راہداری منصوبے کے تحت سڑکوں، ریلوے لائنوں اور توانائی کی پائپ لائنوں کے جال کے ذریعے مغربی چین کو پاکستان کے بحیرہ عرب کیساتھ منسلک کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔بلوچ نے کہا کہ ”ہم متمنی ہیں کہ نہ صرف بھارت کو سفارتی اور مالی طور پر بلوچ قومی جدوجہد کی حمایت کرنی چاہئے، بلکہ پوری دنیا کو۔“ ایک ڈاکٹر سے گوریلا رہنماء بنے شخص، جنکی عمر تقریباًپچاس سال ہے، نے رائٹرز کی طرف سے بھیجے گئے سوالات کے جواب فلمبند کرکے بھیجے ہیں۔

بھارتی مدد کیلئے ﷲ نذر بلوچ کی اپیل پاکستانی شبہات کو مزید گہرا کر سکتی ہے کہ وسیع و عریض جنوب مغربی صوبے میں دہائیوں پرانی بغاوت میں اس کا ہاتھ ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہمسایہ ممالک کے درمیان تاریخی طور پر کشیدہ تعلقات اس ماہ کشمیر میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں 18 ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بگڑ گئے جس کیلئے نئی دہلی نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

جمعرات کو بھارت نے کہا کہ اس حملے کے سب سے پہلے براہ راست فوجی ردعمل میں اس نے مشتبہ عسکریت پسندوں پر حملے کیے ہیں۔

اس حملے سے قبل پاکستان نے بھارت کے مسلم اکثریتی علاقے والے حصے میں ہونے والے مظاہروں پر کریک ڈاون کے دوران غم و غصے کا اظہار کیا تھا، اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر بلوچستان میں مظالم کا الزام لگا کر جواب دیا تھا۔

بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑنے والے تین اہم مسلح گروہوں میں سے ایک کے رہنما ﷲ نذر بلوچ نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے حمایت چاہتے ہیں لیکن بی ایل ایف کو مودی سرکار یا بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملی ہے۔

بلوچ نے مزید کہا کہ ”ہم نریندر مودی کی اخلاقی طور پر بلوچ قوم کی حمایت میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں،“ اپنے روایتی شلوار قمیض میں ملبوس، ایک خودکار رائفل گود میں لیے اور گولیوں سے بھرے میگزین ان کی بیلٹ پر لٹکے ہوئے تھے۔

پاکستان کی فوج نے ﷲ نذربلوچ کے انٹرویو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

خبر کی کوریج محدود
خیال کیا جاتا ہے کہ اﷲ نذر بلوچ وہ واحد رہنماءہیں جو جنگجووں کی ایک بڑی تعداد رکھنے والے علیحدگی پسند گروہ کیساتھ بلوچستان کے اندر رہتے ہوئے گوریلا جنگ لڑرہے ہیں؛ دیگر دونوں رہنماء یورپ میں جلاوطن ہیں۔

سلامتی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجووں کے حملے زیادہ تر صوبے میں کیے جاتے ہیں اور انہوں نے شورش کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مار بھی جھیلی ہے۔ تاہم رائٹرز بی ایل ایف کی کارروائیوں کے وسعت کا پیمانہ طے نہیں کر پائی ہے۔

پاکستان کو طویل عرصے سے یہ شبہ رہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں بغاوت کو ہوا دے رہا ہے۔ ان خدشات میں مارچ میں اضافہ ہوا جب پاکستان نے ایک شخص کو گرفتار کیا اور کہا کہ یہ بلوچستان میں را کا ایک جاسوس ہے اور اس پر ”تخریبی سرگرمیوں“ کا الزام عائد کیا۔ بھارت نے اس کے جاسوس ہونے کی تردید کی تھی۔

ایک اور اہم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان ریپبلکن پارٹی کے سوئٹزرلینڈ میں مقیم رہنما براہمدغ بگٹی نے گزشتہ ہفتے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے بھارت میں ”سیاسی پناہ“ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

بی ایل ایف کے سربراہ ﷲ نذر بلوچ کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ”ہزاروں“ جنگجو ہیں۔ بلوچستان تنازعہ پر ملکی میڈیا کی کوریج شاذ و نادر ہی ہوتی ہے اور غیر ملکی صحافیوں کو وسیع بنیادوں پر صوبے کے دورے سے منع کیا جاتا ہے۔

اﷲ نذر بلوچ نے سوالات کے جواب ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں دیے جسے الیکٹرانک ذرائع سے بھیجا گیا تھا۔

تاہم ریکارڈنگ کی صحیح تاریخ کی توثیق نہیں ہوسکی، وہ رائٹرز کی جانب سے چھ ہفتے قبل بھیجے گئے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ ان کے جوابات حکومتی دعووں کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ انہیں گزشتہ سال مار دیا گیا تھا۔

چینی ”سامراج“
پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں چین کی سرمایہ کاری بلوچستان پر پھر سے خصوصی توجہ لایا ہے، جو تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے لیکن بڑی حد تک انہیں بروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت سی پیک کی کئی سڑکیں بلوچستان بھر سے بل کھاتی ہوئی گوادر میں اس کے گہرے سمندر کے پورٹ تک پہنچیں گی۔

صوبے میں دائمی عدم استحکام، جس کا سامنا اسے 1948ء میں رسمی طور پر پاکستان میں شامل ہونے کے بعد سے بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے بغاوت کی لہروں کی شکل میں کرنا پڑا ہے، چین کیلئے باعث تشویش ہے اور اس نے پاکستان سے سیکورٹی کو بہتر بنانے کی اپیل کی ہے۔

ﷲ نذر بلوچ، جو کسی نامعلوم مقام سے بول رہے تھے، نے سی پیک کو ایک چینی ”سامراجی منصوبہ“ قرار دیا اور اس کے ساتھ منسلک سڑکوں، سیکورٹی اہلکاروں اور تعمیری عملے پر حملے کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی بہتر ہوئی ہے۔

وہ کامیابی کے ثبوت کے طور پر سی پیک کی تازہ پکی کی گئی سڑکوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہیں بلوچستان کے ناہموار علاقے کے باوجود گردن توڑ رفتار سے تعمیر کیا گیا ہے۔

چینی خدشات کو دور کرنے اور کوریڈور کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان 15,000 اہلکاروں پر مشتمل ایک فورس بھی تیار کررہا ہے جو کہ بنیادی طور پر آرمی کے حاضر سروس فوجیوں پر مشتمل ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ معمول کے مطابق بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ چین پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

گینگ نے کہا کہ ”ہمیں یقین ہے پاکستان منصوبوں کیخلاف حائل خطرات سے نمنٹنے کیلئے اپنی حفاظتی تبدابیر کو مضبوط بنائے گا اور پاکستان میں چینی اہلکاروں اور منصوبوں کے لئے سیکورٹی کی ضمانت فراہم کرنا جاری رکھے گا۔“

خطرناک کام
لیکن خطرات موجود ہیں۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، فوج کی طرف سے چلائی جانیوالی کمپنی جو کہ خطرناک علاقوں میں سی پیک کی سڑکوں میں سے اکثریت کی تعمیر کررہی ہے، نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اس کے سی پیک سائٹس پر ہونے والے حملوں میں 44 کارکنوں کو ہلاک اور تقریباً 100 کو زخمی کیا گیا ہے۔

ﷲ نذر بلوچ نے کہا کہ ”ہم سی پیک منصوبے پر ہر روز حملے کر رہے ہیں۔ کیونکہ اسکا مقصد بلوچ آبادی کو ایک اقلیت میں تبدیل کرنے کا ہے۔ یہ ہمارے وسائل کی لوٹ مار کرکے ہم سے چھین کر لے جارہا ہے۔“

ﷲ نذر بلوچ اور دیگر علیحدگی پسندوں کو خدشہ ہے کہ اگر دیگر نسلی گروہوں کے لوگ اس کے قدرتی وسائل کے استحصال پر کام کرنے کیلئے علاقے میں آجائیں تو مقامی بلوچ لوگ، جو ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 190 ملین آبادی میں سے تقریبا 7 ملین ہیں، اپنی آبائی سرزمین پر ایک نسلی اقلیت بن جائیں گے۔

باغی رہنما نے الزام لگایا ہے کہ تجارتی راہداری کے راستے سے 150,000 افراد کو سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کیلئے راستہ صاف کرنے کی خاطر سیکورٹی فورسز کی جانب سے بے دخل کیا گیا ہے۔

پاکستان کی فوج، جس کے ہاتھوں میں صوبے کی سیکورٹی کا بیشتر انتظام ہے، نے اس تعداد پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے بلوچستان میں ہزاروں افراد کو ہلاک یا منمانے طور پر گرفتار کیا گیا ہے، ایک الزام جسے پاکستانی سیکورٹی فورسز جھٹلاتے ہیں۔

طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات باغی گروہوں، بشمول بی ایل ایف، پر بھی لگائے گئے ہیں، ان پر اپنی بغاوت کے ایک حصے کے طور پر غیربلوچ شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اﷲ نذر بلوچ نے بی ایل ایف کی طرف سے شہریوں کی ہلاکت کی تردید کی، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا گروہ ”غداروں“ کے پیچھے ضرور جاتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ پاکستانی ریاست کے ساتھ مذاکرات کیلئے دروازہ کھلا رکھیں گے، تو باغی سربراہ بالکل واضح تھے: اس سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی جسے وہ ”سب سے بڑا دہشت گرد ملک“ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”قومی آزادی اور اقوام متحدہ کی موجودگی کے بغیر پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ہماری منزل مقصود آزادی ہے۔“

بشکریہ: رائٹرز، جمعرات، 29 ستمبر، 2016

1 Comment

Filed under Interviews and Articles

One response to “خصوصی رپورٹ: پاکستان کے باغی سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ روایتی حریف بھارت سے مدد کا خیر مقدم کریں گے

  1. Pingback: BLF Chief Baloch says Indian help ‘welcome’ | Baluch Sarmachar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s