انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھاتی رہونگی، بی بی گل کا ہنگامی پریس کانفرنس


bibi gul baloch

کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرنے کے لئے فورسز دھمکیوں کے بعد اب براہ راست کارکنوں کے گھروں کا محاصرہ اور خاندانوں کو حراساں کررہے ہیں۔

پچھلے کئی عرصوں سے ماما قدیر بھی اسی طرح کی دھمکیوں کا شکار رہے ہیں، سینکڑوں انسانی حقوق کی کارکنان اور لاپتہ افراد کا کیس لڑنے والے وکلاء اغواء ہو چکے ہیں جن میں متعدد کی لاشیں بعد میں برآمد ہوئی ہیں جن میں صدیق عیدو، علی شیر کرد سمیت کوئٹہ میں قتل کیے جانے والے سینکڑوں وکلاء شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے ماما قدیر اور نصراللہ کے ہمراہ یہاں پریس کانفرنس کی تھی، اس پریس کانفرنس کی جواب آج میرے گھر پر فورسز کی چھاپے کی صورت میں مجھے دی گئی۔ آج 31اگست کی صبح چھ بجے فورسز کی 20سے زائد گاڑیوں نے تحصیل تمپ کے علاقے گومازی میں میرے گھر کا محاصرہ کیا، گھر میں موجود میری خاندان کے افراد کو ذہنی و نفسیاتی حوالے سے حراساں کی گئی، جب ہمسائیوں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو فورسز نے ہوائی فائرنگ کرکے ان کو منتشر کردیا۔ 3گھنٹوں تک گھر کو محاصرے میں لینے کے بعد فورسز نے واپس ہوتے ہوئے گومازی کراس سے دو لوگوں کو اُٹھا کر اپنی کیمپ منتقل کردیا، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں لاپتہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر پر فورسز کا یہ چوتھا حملہ ہے، پہلے تین دفعہ کے چھاپوں کے دوران تمام گھر وں کو گھریلو اشیاء سمیت فورسز نے نظر آتش کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بلا شبہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل وقت کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ریاست میں لوگ گرفتار یا قتل ہوتے ہیں تو اس کی زمہ دار ظاہر ہے کہ ریاستی ادارے ہوتے ہیں، کیوں کہ ریاست کی قیام کا مقصد ہی لوگوں کو تحفظ دینا ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بلوچستان میں صورت حال مختلف ہے۔ بلوچستان میں 20000سے زائد لوگ لاپتہ ہیں اور تمام ریاست کے اداروں کی تحویل میں ہیں، ایسے کئی ثبوت بھی ججوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں،کوئٹہ میں ایف سی کے اہلکار نوجوانون کو گرفتار کررہے ہیں جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی عدالت میں پیش جا چکی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ فورسز کو زمہ دار قرار دے کر مغویوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں بجائے اس کے کہ حکومتی زمہ داران لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کے لئے فورسز کو پابند کریں آج فورسز نے میرے گھر کا محاصرہ کرکے مجھے خاموش رہنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کارکن کی حیثیت سے یہ میری اخلاقی زمہ داری ہے کہ میں بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھاؤں۔ یہ صرف میری اخلاقی زمہ داری نہیں بلکہ میں کہتی ہوں کہ ہر باشعور شخص انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھا کر اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ فورسز کی دھمکیاں اگرچہ میرے اور میری خاندان کے لئے اذیت کا باعث ہیں لیکن اس طرح کے ہتھکنڈے مجھے خاموش نہیں کرا سکتے۔انہوں نے حکومتی زمہ داران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دھونس و ھمکیوں سے چھپانے کے بجائے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں، میڈیا میں ’’سب اچھا ہے ‘‘ کا راگ الاپ کر حکومتی زمہ دار خود کو دھوکے میں رکھ سکتے ہیں لیکن اس طرح سے بلوچستان کے لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشوں اور نکل مکانی جیسے مسئلوں کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s