بلوچ اب آزادی سے کم کچھ نہیں مانگتے


Mir Mohammad Ali Talpur

بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بلوچ دانشور اور رہنماءمیر محمد علی ٹالپر کا بول میڈیا کلیکٹو کیساتھ انٹرویو

مورخہ: یکم مارچ 2015 لاہور

(تحریری متن)

سوال: میر صاحب میں آپ سے پہلا سوال کروں گا کہ آپ ہمیں بلوچستان کی جو موجودہ صورتحال ہے، سیاسی اور اس کے علاوہ وہاں پر جتنے بھی مسائل چل رہے ہیں، جن کے بارے میں یہاں کے جو لوگ ہیں، پنجاب کے، ان کو بالکل معلومات نہیں ہے۔ نہ میڈیا بتاتا ہے نہ کوئی اور ذریعہ ہے اس کو جاننے کا ۔ چونکہ آپ اس جدو جہد سے منسلک رہے ہیں تو ہمیں بتائیں کہ وہاں پہ جو موجودہ سیاسی صورتحال ہے، وہ کس طرح کی ہے؟

“Baloch demand nothing short of independence”

جواب: اصل میں جو موجودہ صورتحال ہے، وہ خود بخود ایک دن میں تو پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس کا پورا ایک تاریخی سلسلہ ہے کہ جب 27 مارچ 1948ء کو پاکستان نے بلوچستان کو، آزاد بلوچستان کو، خان کلات سے زبردستی دستخط کرواکر پاکستان کے ساتھ ضم کیا تھا، تب سے یہ مسئلہ ہے۔ اس کے فوراً بعد شہزادہ عبدالکریم گئے تھے، لڑے۔ اور پھر ان کے بعد، ایک دفعہ پھر خان کلات پر 1958ء میں حملہ کیا گیا۔ اور ان کو گرفتار کیا۔ پھر نواب نوروز خان گئے، جاکر پہاڑوں میں لڑے۔ ان کو دغابازی کرکے پکڑا۔ بیٹوں، دوستوں اور ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ پھر اس کے بعد شیر محمد خان مری جدوجہد کرتے رہے کہ بلوچوں کو اپنے حقوق ملیں۔ اس کے بعد پھر 1973ء کی جدو جہد ہوئی۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کروائے۔ لوگوں نے اس چیز کیخلاف مزاحمت کی۔ عطاءاللہ خان مینگل کی حکومت تھی، اس کو فروری 1973ء میں برطرف کیا تھا۔ قدرتی طور پر لوگ ناراض ہوتے ہیں، پہلے ہی انکے حقوق غصب تھے، جو امید بنی تھی، اس کو بھی سلب کر دیا گیا۔ بڑے پیمانے پر لوگوں نے اس کی مخالفت کی، اور لڑے بھی۔ خیر پھر وہ سلسلہ تو ختم ہوا۔

لیکن اکثر یہ کہتے ہیں کہ بلوچ تحریک ختم ہوگئی تھی۔ بلوچ تحریک ختم ہوئی… میں اس سے اتفاق نہیں کروں گا کیونکہ ایک تو بڑی تعداد میں بلوچ مہاجرین چلے گئے تھے افغانستان اور وہیں پر رہے۔ حالانکہ ضیاءالحق نے سب کو واپس آنے کیلئے ایمنسٹی وغیرہ دی تھی۔ جو فارملٹی پوری کرتے ہیں کہ بھائی آپ لوگوں کو معافی ہے آپ آجائیں۔ بلوچوں کو اعتماد نہیں تھا، اس لئے وہیں پر رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو کیمپ تھے، مری علاقے میں یا دوسرے علاقوں میں، چند اور جگہوں پر، اُن کو برقرار رکھا گیا تھا کیونکہ ان کی نیتوں پر کبھی بھی اعتبار نہیں تھا۔ دودھ کا جلا چھاچ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ تو دودھ کے جلے تھے، چھاچ بھی ہمیشہ پھونک پھونک کر پیا کرتے ہیں۔ تو اسی وجہ سے لوگ اس سلسلے میں رہے۔ بلوچ مزاحمت یا بلوچ تحریک ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہاں، ایک توقف جس کو کہیں کہ یعنی ایک چیز کچھ وقت کیلئے رک جاتی ہے، اس طرح سے تھی۔

پاکستان کی بلوچوں کیساتھ مخاصمت تو پہلے سے ہی تھی لیکن مشرف کے آنے کے بعد وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آگئی۔ یہ صاحب کہتے رہے کہ یہ 1999ء ہے، 1970ء نہیں، ان کو پتہ بھی نہیں چلے کہ ان کو کہاں سے کیا مار لگی۔ اور یوں ہوجائیں گے اور وہ ہوجائیں گے۔ آج وہ خود نہیں ہے لیکن بلوچ آج بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بڑی شدت اختیار کی اس نے جب نواب خیر بخش خان کو جھوٹے الزامات کے تحت سنہ 2000ء میں گرفتار کرکے جیل میں رکھا۔ جھوٹ کیسے ثابت ہوسکتا ہے، مجبوراً ان کو چھوڑنا پڑا۔ پھر نواب اکبر بگٹی کیساتھ وہ تنازعہ ہوا۔ اتنی عمر میں ان کو یہاں سے وہاں دوڑاتے رہے، پھر آخر میں جب وہ مری علاقے میں گئے، وہاں پر جاکر انہوں نے بمباری کرکے ان کو شہید کیا۔ تو یہ ایک سلسلہ ہے، ایسا نہیں ہے کہ آج کی جو صورتحال ہے، وہ ازخود نہیں ہے۔ یہ سلسلہ ہے جو چلا آرہا ہے۔ لوگوں نے شدت سے اس چیز کیخلاف مزاحمت کی ہے۔

اور اس کا دوسرا عنصر یہ ہے، جو اب بھی چل رہا ہے، میں مشرف سے لیکر اب کے حالات تک سمجھتا ہوں کہ اب کے حالات یہی ہیں۔ اُس سے پہلے بھی لوگوں کو اُٹھا کر لے جاتے تھے لیکن 2007-08 میں؛ ڈاکٹر اللہ نذر کو 2005ء میں اُٹھا کر لے گئے تھے، 2006ء میں جب ان کو چھوڑا تو وہ مرگ کے قریب تھا۔ لوگوں کو لے جاتے تھے اُن کو مار پیٹ کر زیادتیاں کرکے پھر اُن کو چھوڑ دیتے تھے۔ 2007ء اور 2008ء کے بعد، یعنی جب پی پی پی کی حکومت آئی، پھر انہوں نے ’مارو اور پھینک دو‘ والی پالیسی بڑے منظم طریقے سے اپنائی۔ یعنی سرگرم بلوچ کارکنوں کو اُٹھانا، ان کو ٹارچر کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا، اُن کی جیبوں میں پرچیاں ڈال کر اُ ن کے نام شناخت کروانا کہ یہ فلاں ہیں۔ ان کا پہلا مقصد یہ تھا کہ جو سرگرم کارکن اور پڑھے لکھے لوگ، اکثر جو مارے گئے ہیں وہ پڑھے لکھے لوگ تھے، ہیں جس کو ایجوکیٹد یوتھ کہتے ہیں، ان کا قلاقمع کرنا اور دوسروں کو خوفزدہ کرنا۔ یعنی لوگوں کو ڈرانا کہ تمھارے ساتھ بھی یہی حشر ہوگا اگر تم نے بلوچ آزادی کی بات کی، بلوچ وسائل اور بلوچ ساحل پر اور ان چیزوں پر اگر آپ نے ہمیں قبضہ کرنے سے روکا تو آپ کا حشر بھی یہی ہوگا۔

تو اب بھی وہی سلسلہ جاری ہے۔ اب تک دوہزار سے زائد، میرا خیال ہے تین ہزار کے قریب ہونگے جن کو مارکر پھینکا گیا ہے۔ جو لوگ مارے گئے ہیں ان میں سے تئیس لوگ ہیں جن کو خود ذاتی طور سے جانتا تھا۔ وہ افغانستان میں میرے ساتھ رہے تھے جب وہاں پر ہم پناہ گزین کی حیثیت سے رہتے تھے۔ یعنی ذاتی طور پر میرا ان سے واسطہ اور تعلق تھا، وہ مارے گئے ہیں۔ ماما قدیر کے مطابق بیس ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ اُن میں بھی چھ سات میرے جاننے والے ہیں جو غائب ہیں۔ تو آج کی صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے تشدد ہے اور بلوچوں کی طرف سے مزاحمت ہے۔

ایک اور بات ڈاکٹر مالک پر بھی کہتا چلوں۔ کیونکہ ان کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ مڈل کلاس، نیشنلسٹ، لوگوں کا نمائندہ ہے۔ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ آپ اس بات سے اندازہ کریں کہ ان کی کیچ کی جو سیٹ ہے، اُس میں اُس نے اپنی سیٹ جیتنے کیلئے صرف چار ہزار ووٹ حاصل کئے۔ کیونکہ وہاں پر بلوچ مزاحمت کاروں نے کال دی تھی کہ بلوچستان میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اس وجہ سے لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے۔ انکے اپنے حلقے میں صرف سترہ فی صد ووٹ پڑے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ جو ڈپٹی اسپیکر ہے، قدوس بزنجو، وہ اپنے حلقے پی بی 41 آواران میں 544 ووٹوں سے کامیاب ہوا ہے۔ نادرا اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 2013ء کے الیکشن میں 65 فیصد ووٹ جعلی تھے۔ باقی کتنے ووٹ رہے ان کیلئے اگر یہ 65 فیصد ووٹ جعلی تھے؟ تو یہ نہ نمائندے ہیں، نہ ہی بلوچوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ صرف بلوچستان میں ایف سی (فرنٹیئر کور) اور فوج کی حکومت کو ایک قانونی جواز دینا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا سویلین چہرہ ہیں۔ بلوچوں اور بلوچ حقوق کے خلاف جو بھی جرائم ہو رہے ہیں، یہ اُس میں پوری طرح ملوث اور شریک ہیں۔ اور ان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ بلوچوں کی جو مزاحمت ہے، وہ بلوچ جو اپنا حق مانگ رہے ہیں، ان کا قلا قمع کیا جائے، ان کو کمزور کیا جائے، تاکہ یہ ان سے مل بیٹھ کر اپنے مفاد کیلئے کام کرتے رہیں۔

تو اب صورتحال یہ ہے کہ بلوچ اب آزادی سے کم کچھ نہیں مانگتے ہیں۔ میڈیا بلوچوں کو اسی بات کی سزا دیتی ہے۔ کیونکہ بلوچ آزادی کی بات کرتے ہیں۔ ان کو رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ یا جو بلوچ مارے جاتے ہیں، ان کو اکثر لوگ یہ کہہ کر جواز فراہم کرتے ہیں کہ وہ تو آزادی پسند ہیں، وہ پاکستان توڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کشمیر ڈے تو مناتے ہیں۔ آپ کشمیر ڈے منانے کیلئے پورا ملک بند کردیتے ہیں۔ اور بڑے جھنڈے اور سب چیزیں کرتے ہیں۔ لیکن آپ نہیں سمجھتے کہ بلوچوں کو کسی قسم کا کوئی حق ہے کہ وہ بھی آزاد ہوں۔ کیونکہ وہ، جیسا کہ میں نے کہا کہ 27مارچ 1948 سے قبل وہ آزاد تھا۔ تو اب حالات یہ ہیں اور یہ اسی طرح رہیں گے۔ بلوچوں کو ان کی طرف سے کوئی بھی توقع نہیں اور بلوچ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ماسوائے اس کے کہ وہ لڑتے رہیں۔

سوال: میرصاحب، میں اپنا اگلا سوال کروں گا۔ یہاں پہ میں نے، سوشل میڈیا میں، آپ کی جو تحریریں اور مضامین ہیں، ان کے ذریعے یہ پڑھا تھا کہ کچھ مہینے پہلے بلوچستان میں، خاص طور پر تربت اور کچھ دیگر علاقوں میں، جو پبلک لائبریریز تھیں، اُن کو بند کیا جا رہا تھا۔ جس نوجوان کے ہاتھ میں کتاب دیکھتے تھے اس سے چھین کے پھاڑ دیا جاتا تھا۔ ریاست کا جو یہ طرز عمل ہے، کتابوں کی دکانوں کو بند کرنا، پبلک لائبریریز کو بند کرنا، اور وہ کتابیں جن پہ پابندی لگائی جارہی ہے، اس میں لینن کی کتاب ہے، رسل کی کتاب ہے، ابوالکلام آزاد کی کتاب ہے، کچھ اور نیشنلسٹ مٹیریل ہے، ان کووہاں پر تو پابندی لاگائی جا رہی ہے، لیکن یہاں پر ہر دکان پہ ملتی ہے۔ تو ریاست کا جو یہ رویہ ہے، اس کو کس طرح سے دیکھتے ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب: اس رویے کو… کسی بھی جابر اور قابض حکومت کے پاس سب سے بڑا ہتھیار جو ہوتاہے وہ یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو مفلوج کیا جائے۔ چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہو۔ چاہے وہ اسکولوں میں جو سلیبس پڑھایا جاتا ہے، اس کے ذریعے ہو۔ چاہے وہ مدرسوں اور مولویوں کے ذریعے ہو۔ جب یہ چیزیں بھی آپ کیلئے کارگر ثابت نہ ہوں تو آپ ان کو جسمانی طور پر ان چیزوں سے روکتے ہیں۔

آپ اس بات سے اندازہ کریں کہ تین سال پہلے تربت کی ڈگری کالج میں بچوں نے اپنا کتابی میلہ لگایا۔ وہاں پر ایف سی نے حملہ کیا اور بڑے غرور کے ساتھ اس کی فلمیں بنیں کہ بھائی یہاں پر دیکھو یہ تخریب کاری کیلئے جو لٹریچر ہے، وہ یہاں پر بانٹا جا رہا ہے۔ اور لوگوں کو اُکسایا جارہا ہے۔ کتابیں وہی تھیں جیسا آپ نے کہا کوئی چے گویرا کی تھی، کوئی برنارڈ رسل کی تھی، کوئی مولانا ابوالکلام آزاد کی، فلسفے کی کتابیں۔ یہ کتابیں پڑھنا سب کیلئے جائز ہے، بلوچوں کیلئے یہ جائز نہیں ہے۔ ان کو کتابوں سے خوف آتا ہے۔ اور ہر ظالم کو کتابوں سے خوف آتا ہے۔ ہلاکو نے جو عراق میں بغداد کی لائبریریاں جلائی تھیں، ان کو خوف تھا کتابوں سے۔ اور یہاں پر بلوچستان میں تو یہ منظم طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

ابھی پچھلے سال گوادر میں زاہد آسکانی کو مارا گیا۔ وہ اسکول سسٹم چلاتے تھے، ان کا اسکولوں کا ایک سلسلہ تھا۔ وہ انگلش پڑھاتے تھے۔ وہ خود باہر سے پڑھ کے آیا تھا۔ باہر رہتا تھا، پھر یہاں آیا، لوگوں کو تعلیم دینے کیلئے۔ داعش نے اس کے مارنے کا دعویٰ کیا کہ ہم نے مارا ہے۔ تو یہ داعش جو ہے، جیسا کہ کمپیوٹر کی اپ گریڈ ہوتی ہے، آپ نے کور ٹو سے کورفائیو لگادیا، صرف نام کی تبدیلی ہے، یہاں پر داعش نام دے دیا ہے، ہیں تو یہ وہی لوگ، ان ہی کے بھیجے ہوئے لوگ، ان ہی کے پالے ہوئے لوگ۔

آپ اندازہ کریں کہ جب ستمبر 2013ء میں آواران میں بڑا زلزلہ آیا تو وہاں پر نہ کسی بلوچ تنظیم کو جانے کی اجازت دی گئی کہ وہ جا کر مدد کریں، نہ ہی یو این او کو اجازت دی گئی، نہ کہ کسی اور آکسفیم وغیرہ کو۔ حالانکہ انہوں نے منتیں کیں کہ اتنا بڑا زلزلہ آیا ہے، ہمیں اجازت دی جائے۔ انہوں نے جماعت الدعوة اور دوسری مذہبی جماعتوں کو وہاں پر لیجاکر پہنچایا۔ اب بھی انہیں وہاں پر بٹھائے ہوئے ہیں۔ اور اب بھی آپ کو وہاں پر ان کی چاکنگز ملتی ہیں۔ ان کے وہاں پر جانے کے بعد آواران کے علاقے میں ذکریوں پر حملے شروع ہوئے۔ ذکریوں سے منافرت کی جارہی ہے۔ اُن کو تنگ کیا جارہا ہے، جو تفریق بلوچوں نے کبھی کی ہی نہیں ان کے خلاف۔ شیعہ سنی کی فرقہ واریت کو تو وہ وہاں استعمال کرتے ہیں اور ہزاراوں کو مارتے ہیں۔ یہی مارتے ہیں، جو ان کے پالے ہوئے لوگ ہیں۔ اب بلوچوں میں بھی ذکری اور نمازی کا مسئلہ پیدا کررہے ہیں۔

کتابوں کا بند کرنا، مذہبی عنصر وہاں پر لانا، ان سب کا اصل مقصد، جس کو گرانڈ اسٹراٹیجی کہتے ہیں، اس کا حصہ ہیں۔ یعنی بلوچوں کی جو تحریک ہے، اُسے ناکام کیا جائے۔ کیونکہ دشمن ایک طرف سے وار نہیں کرتا ہے۔ یہ ان کے سہ رُخی، چار رُخی حملے ہیں۔ کہ ہرطرف سے بلوچوں پر وار کیا جائے۔ اور انہیں کسی بھی طریقے سے، جو اپنی آزادی کیلئے کوشش کررہے ہیں اور لڑ رہے ہیں، ختم کیا جائے۔

سوال: میں اگلا سوال کروں گا کہ یہاں پہ تقریباً ایک سال پہلے، یا اس سے بھی زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، ماما قدیر کی لانگ مارچ آئی تھی۔ ماما قدیر جو کہ کوئٹہ سے پیدل یہاں پر آئے، پھر اسلام آباد پہنچے۔ تو میں بھی اس میں شامل تھا، میں نے یہ دیکھا کہ پنجاب کے، لاہور کے بہت چنیدہ، چند لوگ اس میں شامل تھے۔ کروڑ کی آبادی کا شہر اور پچاس سے سو لوگ اس میں شامل ہوئے۔ آپ پنجاب کے اس رویے کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

جواب: میرا خیال میں یہ رویہ… ایک تو ہماری باتیں لوگوں تک پہنچی ہی نہیں ہیں۔ یعنی کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ بلوچ کیا چاہتا ہے۔ لوگوں کے پاس اس کا مسخ شدہ رخ پہنچتا ہے۔ ہر جگہ پر یہی ہے کہ جو ٹیلیویژن نے کہہ دیا، جو اخبار نے کہہ دیا، وہ سچ سمجھا جاتا ہے۔ چاہے وہ مارشل گورنگ کا جھوٹ ہو یا انفارمیشن منسٹر پرویز رشیدیا شیخ رشید یا رحمان ملک ہو، خواہ کوئی بھی ہو۔ تو قصہ مختصر، ان کا جھوٹ معتبر ہے، ہمارا سچ نہیں مانا جاتا۔

میرا خیال میں یہ ستم ظریفی ہے کہ ماما قدیر جو کوئٹہ سے پہلے کراچی اور پھر کراچی سے یہاں تک پیدل پہنچے۔ اور کچھ نہیں تو انسانیت کی بنیاد پر اس کی جرات کو ہی سلام کیا جاتا۔ انہیں زندہ دلانِ لاہور کہا جاتا ہے۔ وہ زندہ دلان کم از کم اتنی زندہ دلی تو دکھاتے۔ خیر گِلہ نہیں ہے، ہم کہیں کہ ہمیں گلہ ہے اس چیزسے۔ گلہ نہیں ہے۔ کیونکہ جو دوست حمایت میں آئے، انہوں نے اس خلاء کو کافی حد تک پُر کیا۔ ہمارا پیغام یہی ہے کہ جو ہمارے مسائل ہیں، جو ہماری بات ہے، اُسے بھی سمجھیں۔ صرف وہی جو حکومت آپ کو بتاتی ہے، وہ سچ نہیں ہے۔ اور بلوچستان پر جو زیادتیاں ہیں، اس کو اس نظر سے دیکھا جائے۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کشمیر کیلئے پورا ملک بند کردیتے ہیں۔ فلسطین کیلئے یہاں پر بڑے مظاہرے ہوتے ہیں۔ برما کے روہنگیا کیلئے بڑے مظاہرے ہوتے ہیں۔ اگر کہیں پر کوئی کارٹون بن جاتا ہے تو لاکھوں کروڑوں میں لوگ نکل آتے ہیں۔ بلوچستان میں انسانیت سوز ظلم مظالم ہورہے ہیں، اور اُس پر کسی کے کان پر جون بھی نہ رینگے؟ تو اس سے آپ کیا اندازہ کرتے ہیں۔ پھر اب بلوچوں کا ایسے عوام کی طرف کیا رویہ رہے جو ان کے کسی بھی احساس کو سمجھ نہ پائے اور ان کی کسی بھی تکلیف سے ہمدردی بھی نہ کرسکے۔ یہ گلہ نہیں ہے۔ ان کو ہی سمجھنا چاہئے، یہ باتیں میرے سمجھانے کی نہیں ہیں۔ انسانیت نہ بلوچ ہے، نہ پنجابی، نہ سندھی، نہ پشتون ہے۔ انسانیت انسان ہے۔ اگر ہم میں انسانیت ہی نہیں ہے، تو ہم نہ بلوچ بن سکتے ہیں، نہ پنجابی، نہ پشتون۔ اسلام اور مسلمان تو پھر بعد میں آتے ہیں۔ اول تو ہم انسان ہیں۔ انسان نہیں ہیں تو پھر ہماری کسی بھی قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میراخیال ہے ہمیں سمجھانے کی ضرورت ہے، اُس سے زیادہ اُن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اس میں آپ فیس بک پر، ٹوئیٹر پر، ویسے بھی عام اخباروں میں، بلاگز پر، جیسا کہ نیکڈ پنچ ہے، یا ویو پوائنٹ آن لائن تھی، یا مختلف بلاگز ہیں، اُن پر آپ ان چیزوں کو پڑھ کر سمجھ اور سوچ سکتے ہیں۔ جو بھی بلوچ ویب سائٹس ہیں وہ تو پی ٹی اے نے بند کر رکھی ہیں۔ جو بھی نفرت پھیلانے والی ان کی مذہبی ویب سائٹس ہیں، وہ سب کھلی ہوئی ہیں۔ لیکن بلوچ جو اپنے حق کی بات کرتے ہیں وہ تمام کی تمام بند ہیں۔ ایک تو یہاں پر یہ ہماری بات پہنچانے کیلئے دشواریاں پیدا کرتے ہیں۔ یہ منظم ہے۔ یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ اگر ہمارا سچ لوگوں تک پہنچ جائے تو لوگ ہمیں بہتر طور پر سمجھیں گے۔

سوال: میرا آخری سوال کہ 1970 کی دہائی میں آپ اس جد و جہد کا حصہ تھے، کیا کبھی آپ پکڑے گئے، کبھی آپ نے براہ راست تشدد، جو ریاست کرتی ہے بلوچوں پر، بلوچ جد وجہد کے کارکنوں پر، کیا آپ نے ان کو براہ راست دیکھا یا کبھی اس کا تجربہ ہوا؟

جواب: بدقسمتی سے ہمارے بہت سارے دوست اور ساتھی پکڑے گئے۔ میں، آپ اسے خوش قسمتی کہیں یا جو بھی کہیں، کبھی پکڑا نہیں گیا۔ لیکن قطع نظر اس سے کہ میں پکڑا گیا یا نہیں، مجھے میرے دوستوں کا، میرے احباب کا، جو اب بھی پکڑے جاتے ہیں، خیال رہتا ہے۔ جیسے زاہد بلوچ غائب ہے، ذاکر مجید غائب ہے، میرا دوست، میرا طالب علم تھا اکبر مری، علی خان مری ہے، اور ایسے سینکڑوں میرے جاننے والے دوست احباب ہیں، جو غائب ہیں۔ اور اُن کے ساتھ جو تشدد ہوتا ہے، وہ تو آپ کو اندازہ ہی ہے کہ کس طرح ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتے ہیں، جن کو اپنے اہل خانہ بھی شناخت کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ کسی کا کوئی پُرانا نشان جو ہوتا ہے، اس کے ذریعے اُن کی شناخت کی جاتی ہے۔ تو اس سے قطع نظر کہ میں براہ راست انکے جبر کا شکار رہا یا نہیں، لیکن مجھے اُن تمام احباب، اُن تمام دوستوں اور اُن تمام ساتھیوں کا غم، افسوس اور غصہ، یہ سب چیزیں میرے ساتھ ہیں۔ جس کسی کے ساتھ بھی زیادتی ہوتی ہے، ہمیں افسوس ہوتا ہے، صدمہ ہوتا ہے اور غصہ آتا ہے۔ تو یہ رہے گا اور جب تک یہ ایسا کرتے رہیں گے، یہ غصہ، یہ شدت بڑھتی رہے گی۔

وہ کہتے ہیں ناں کہ ”شامت ِ اعمالِ ما، صورتِ نادر گرفت“، یہ اپنے کیے کا بھگتے ہیں۔ بنگال جب آزاد ہوا ہے، اِن کا کیا دھرا تھا۔ بنگالی تو سب سے زیادہ پیش پیش تھا کہ پاکستان بنے۔ وہ اِن لوگوں سے زیادہ بُرجوش تھے کہ پاکستان بنایا جائے اور وہ اُس کیلئے مرمٹنے کیلئے تیار تھے، سب کچھ کرنے کیلئے تیار تھے۔ لیکن انہوں نے ان کو دھکیل دھکیل کر آخر مجبور کیا کہ بھائی آپ ہمارے ساتھ نہ رہیں۔ تو وہ چلے گئے۔ بلوچ تو پہلے ہی آزاد تھے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ، 227 دن تک، 11 اگست 1947ء سے لیکر 27 مارچ 1948ء تک وہ آزاد رہے اور پھر اُن کی آزادی کو غصب کیا گیا۔

اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا جو یہ رویہ ہے، وہ یوں ہے کہ یہاں پر جو حاکم ہیں اور اسٹابلشمنٹ ہے، جن کے پاس سب اختیارات ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ کائنات خدا نے 14 اگست 1947ء میں پیدا کی تھی۔ اُس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ جو کچھ ہے یہی ہے۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہزارہا سال سے اس خطے میں لوگ رہے ہیں، ان کی اپنی تہذیب ہے، تمدن ہے، تاریخ ہے، اور ان کے اپنے رواج ہیں، سب چیزیں ہیں۔ ان سب کو مٹا کر وہ کہتے ہیں کہ نہیں بھائی جو کچھ محمد بن قاسم نے کہا تھا، آپ اُس کو تسلیم کریں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی ہزارہا سال کی پوری تاریخ و تمدن کو چھوڑ کر اِن کے کہے پر 14 اگست 1947ء کے پیچھے لگیں؟

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles, Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s