بلوچ عسکریت پسندوں کا ’رحمِ مادر‘ محاصرے میں


Pakistan army operation in Saheeji

تحریر: ساجد حسین

ترجمہ: لطیف بلیدی

بلوچستان کے زرّیں بُگ نامی ایک چھوٹے سے گاوں میں ایک چھ سالہ بچی مر گئی ہے۔ جمعرات کی صبح محمد عمر کی بیٹی سنگین اچانک مر گئی۔ اسے کسی بھی طرح کی کوئی بیماری نہیں تھی۔

اس کے چھوٹے سے گاوں سے پانچ کلومیٹر دور تقریباً ناقابل دخول کوہِ ساہیجی، جو مکران کے ہزاروں میل پر محیط ساحلی پہاڑی سلسلے کے ایک حصے پر مشتمل ہے اور تقریباً 1500 میٹر اونچا ہے، میں پاکستان فوج اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں کے مابین ایک شدید لڑائی جاری ہے۔

‘Mother’s womb’ of Baloch militants under siege

دن کو گن شپ ہیلی کاپٹر اس پہاڑی سلسلے میں گولہ باری کرتے ہیں اور رات کو وہ مارٹر گولے داغتے ہیں۔ عسکریت پسند انہیں دور رکھنے کیلئے راکٹوں اور نشانہ بازوں کا استعمال کرتے ہیں۔

البتہ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں آئی ہے، مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بچی لڑائی کی شدید گھن گرج کے صدمے سے فوت ہوئی ہے۔

کم از کم 60 گاڑیوں کیساتھ فوج نے ساہیجی کے دہن، جسے مات کوہ یا مادر کوہ کہا جاتا ہے، کامحاصرہ کرلیا ہے۔ وہ اب تک اندر داخل نہیں ہوئے ہیں چونکہ ساہیجی اتنا بڑا اور پیچیدہ ہے کہ اگر آپ ایک بار وہاں چلے جائیں تو آپ ہمیشہ کیلئے گم ہو سکتے ہیں۔ لیکن بلوچ عسکریت پسند اپنے پہاڑوں کو جانتے ہیں اور ساہیجی کئی سالوں سے ان کی محفوظ پناہ گاہ رہا ہے۔ قومپرست شعراء اس پہاڑ کو سرمچاروں، بلوچ عسکریت پسندوں کیلئے مستعمل ایک حسن تعمیر، کیلئے ”رحمِ مادر“ کہتے ہیں۔

کچھ فوجی قریبی دیہاتوں میں راشن اکھٹا کرنے اور مقامی لوگوں سے انہیں عسکریت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں پر لیجانے کیلئے ان کی رہنمائی کرنے کا کہتے ہیں۔

ایک مقامی پک اپ ڈرائیور نے بتایا کہ ”انہوں نے مجھے بلال اور ماما بگٹی تک لیجانے کا کہا۔ لیکن میں کس طرح لیجا سکتا ہوں؟ انہیں ساہیجی کی سمجھ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ میں بھی اس کے مشکل راستوں کو نہیں جانتا۔“

بلال اور ماما بگٹی بالترتیب بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کے دو مقامی کمانڈروں کے کوڈ نام ہیں۔

فوجیوں نے پک اپ ڈرائیور کو بتایا کہ ”ہم انکا انتظار کریں گے جب تک کہ ان کا کھانا ختم نہیں ہوجاتا اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں ہوجاتے۔“

ہوسکتا ہے کہ ڈرائیور ساہیجی کے پہاڑ پر فوجیوں کی رہنمائی نہ کرے لیکن ہتھیار ڈال دینے والے کچھ بلوچ عسکریت پسندوں کرسکتے ہیں۔

بدھ کے روز اس بہترین منصوبہ بندی کیساتھ شروع کیے گئے آپریشن سے قبل فوج نے پہلے ہی سے علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کیلئے چوکیاں قائم کی ہیں۔ کم از کم دو درجن عسکریت پسندوں نے ان چوکیوں پر ہتھیار ڈال دیے ہیں، یا تو ان کا کھانا ختم ہوچکا تھا یا پھر اس خوف سے کہ وہ اس محاصرے کو کبھی بھی توڑنے کے قابل نہ ہونگے۔ انہیں معلوم ہے کہ ساہیجی میں کس طرح داخل ہونا ہے اور وہاں کیسے گم نہیں ہونا ہے۔

ساہیجی گوادر کے بندرگاہی شہر سے محض ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی کامیابی کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اور بلوچ علیحدگی پسند عسکریت پسندوں، جو سی پی ای سی کی مخالفت کرتے ہیں چونکہ ان کے خیال میں یہ بلوچ کو انکی اپنی سرزمین پر ایک اقلیت میں تبدیل کردیگی، کیلئے ساہیجی وہ جگہ ہے جہاں سے وہ چین اور پاکستان کے درمیان اس ملٹی بلین ڈالر اقتصادی تعاون کے کام میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔

حکومت کے چین کیساتھ سی پی ای سی، جسکے تحت چین توانائی اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر اگلے 15 سالوں میں 40 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا، کے معاہدے پر دستخط کے بعد سے فوج نے بلوچ عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان اس معاہدے کو اپنی انحطاط پذیر معیشت کی بقاء اور اپنے معاشی حالات سدھارنے کیلئے اہم سمجھتا ہے۔

مبینہ طور پر چین نے معاہدے پر پُرامن عملدرامد کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر بلوچستان میں جہاں گوادر کی گہرے سمندر والی بندرگاہ واقع ہے۔ اس کے علاوہ، چین کو بندرگاہ سے ملانے والی سڑکوں کے نیٹ ورک کی بھی جو سینکڑوں کلومیٹر تک شورش زدہ بلوچستان میں سے گزرتی ہیں۔

چنانچہ فوج کو کسی نہ کسی طرح سے ساہیجی میں گھسنا ہے۔ انہیں وہاں پناہ لیے ہوئے بلوچ عسکریت پسندوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ وہ چین یا کسی بھی غیر ملک سے کبھی بھی کیے گئے اس بہترین اقتصادی سودے کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بھرپور آپریشن کیلئے انہوں نے مئی کے مہینہ کا انتخاب کیونکر کیا۔ سال کے اس دوران اس علاقے میں درجہ حرارت 40 اور بعض اوقات 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

جمعرات کو گرمی کی لہر کے سبب 10 فوجی بیہوش ہو گئے تھے اور انہیں ایک چھوٹے سے قریبی گاوں ہور کی ایک مسجد میں لایا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

ایک مقامی خاتون نے بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر 10 گاڑیوں میں تھکے ہوئے فوجیوں کو گوادر یا تربت بھیجتے ہیں اور وہاں سے تازہ دم فوجی لاتے ہیں۔

انہوں نے شکایت کی کہ ”ہمیں سونے کیلئے کسی ایئر کنڈیشنر کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس گرمی کے عادی ہیں۔ لیکن ان بموں اور گولیوں نے گزشتہ تین روز سے ہماری نیند حرام کی ہوئی ہے۔“

بشکریہ: بلوچستان ٹائمز ڈاٹ کام، 20 مئی 2016

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s