”کیا نیشنلزم فاشزم ہے؟“


Mir Mohammed Ali Talpur

تحریر : میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

کراچی میں ’سندھ رائٹرزاینڈ تھنکرز فورم‘ نے حال ہی میں ’نیشنلزم اور انٹرنیشنلزم‘ پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا، سندھ میں چھڑی ایک بحث کے بعد جس میں کچھ لوگ فاشزم کا نیشلزم کیساتھ موازنہ کررہے ہیں۔ مجھے دوستوں کی طرف سے مدعو کیا گیا تھا اور میں نے وہاں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ مضمون میری اُس گفتگو پر مبنی ہے۔

Is nationalism fascism?

سندھ میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جہاں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ نیشلزم فاشزم کا مترادف ہے اورلبرل ازم حب الوطنی کا۔ اس سے قبل کہ میں آگے بڑھوں، آئیں دیکھتے ہیں کہ فاشزم کیا ہے۔ جب ہم فاشزم کے بارے میں بات کررہے ہوں تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ لفظ کہاں سے آیا ہے۔ یہ لاطینی ”Fasci“ (فاشائے) سے آیا ہے جس کے معنی ہیں ’گٹھا‘ اور ”Fascis“ (فاشِس) یا ”fasces“ (فاشیس) جو اسکا صیغہءجمع ہے جسکے معنی ہیں لکڑی کی چھڑیوں کا ایک گٹھا جسکے اوپر کلہاڑی کا پھل ابھرا ہوا ہے، یہ قدیم رومی سلطنت میں مستعمل تھی، جس سے مراد مختلف لوگوں یا قوموں کی جبری یکجائی ہے جیساکہ طاقت ہمیشہ تعداد میں ہوتی ہے یعنی کہ افراد کی تعداد، اسلحہ اور گولہ بارود اور جنگی جہازوں کے بیڑے کیساتھ فوجی طاقت، سیاسی اور قانونی برادری، ثقیف دانشور، وسائل سے بھرپور کاروباری طبقہ، اور سب سے بڑھ کر بین الاقوامی بینکار جو اس فاشسٹ ہستی کو برقرار رکھنے کیلئے اہم ترین عنصر ہے۔ اگرچہ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو باضابطہ طور پر ایسے علامات استعمال نہیں کرتے لیکن ان کا طرز عمل خالصتاً فاشسٹ سطور پر استوار ہے۔ ان میں پاکستان، ایران اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔ اگر اسے سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو اس کی سادہ تعریف کچھ یوں ہے: کسی معاشرے کو اس طرز پر منظم کرنا جس میں حکومت ایک آمر کی سربراہی میں ہو جو لوگوں کی زندگیوں پر مکمل اجارہ داری رکھے اور جس میں عوام کو حکومت کیساتھ اختلاف کرنے کی اجازت نہ ہو یعنی کہ انتہائی سخت تسلط یا عملداری والی حکومت۔

اصل بحث پر کچھ کہنے سے قبل میں چاہتا ہوں کہ ارسطو مزید کچھ چیزوں کی وضاحت کریں۔ جب بات ظالموں (پڑھیں ریاستوں) کی ہوتو ارسطو کہتا ہے کہ وہ ایسے طریقے بروئے کار لاتے ہیں جو انہیں لوگوں پر آسانی سے حکومت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ”ظالم کے تین مقاصد یہ ہیں: اول، اپنے غلاموں کی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف شخص کسی کیخلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع نہ کردیں – اور اسی سبب جابر اچھے لوگوں کیخلاف محاذ آراء ہوتے ہیں؛ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں سے انکی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طرز پر حکومت نہیں کی جاسکتی بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دیگر لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دیگر لوگوں کیخلاف مخبری نہیں کرتے؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوں اور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوں تو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کر پائیں گے۔“ -ارسطو (384 قبل مسیح تا 322 قبل مسیح)

لوگوں کو فوج، رینجرز، فرنٹیئر کور، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کے ہاتھوں جس ذلت کا سامنا ہے وہ مجھے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ سب نے اسے براہ راست دیکھا ہوگا اور اس کا نتیجہ اس طاقت کے آگے، جسکا وہ سامنا کررہے ہوتے ہیں، اپنی خودداری اور خود اعتمادی کھونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوئم، بداعتمادی پیدا کرنا ہے اور ایسا وہ لوگوں کے ذہنوں میں ان خیالات کے بارے میں شکوک و شبہات کی بوائی سے کرتے ہیں جن کیلئے وہ جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں؛ مثال کے طور پر ”کیا نیشنلزم فاشزم نہیں ہے۔“ وہ ابہام گوئی اور مغالطہ آمیز حربے بھی استعمال کرتے ہیں، وہ یہاں موجودہ دور کی ناانصافیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے ماضی پر زور دیتے ہیں، جیساکہ ٹالپروں کی حکمرانی، جو یہاں پر کچھ لوگوں کیلئے ہدفِ غضب بنا ہوا ہے، تاکہ موجودہ دور کی نا انصافیوں سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ جب لوگ منقسم، فریب زدہ اور بدنظمی کی حالت میں ہوں تو انہیں بے اختیار بنانا آسان ہوتا ہے۔ ریاستوں کے ان تینوں مقاصد کی ترویج ہمارے درمیان موجود وہ لوگ کرتے جو ہمارے درمیان نااتفاقی، مایوسی اور انتشار پیدا کرتے ہیں جبکہ بظاہر وہ فلسفیانہ لگتے ہیں۔

اس نئی بحث کا مقصد میرے خیال میں دورُخا ہے۔ پہلا یہ دکھانا ہے کہ آپ ایک ڈیموکریٹ اور لبرل ہیں اور یہ مقبول عام ہوکر ریاست اور بہت سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی کفالت مہیا کراتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پیسہ بہانے سے وہ عوام کی ثقافتی اقدار اور انکے حالات تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس پہلو کو کوئی معاف کرسکتا ہے اور (ارادتاً ابہام گوئی سے) اسکے بارے میں لبرل ہو سکتا ہے۔ اسکا دوسرا پہلو جان لیوا، خطرناک اور مہلک ہے کیونکہ یہ ریاست کی اطاعت گزاری اور غلامی کے اس ایجنڈے سے چشم پوشی کرواتا اور اسے فروغ دیتا ہے جو آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آپ اسکے آگے اپنے تمام حقوق اور جذبات سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ یہ جانتا ہے کہ آپ کیلئے سب سے بہتر کیا ہے اور یہ ان سب چیزوں کو سنبھال سکتا ہے جن پر آپکا انسانی وقار زندہ رہتا، قائم و دائم رہتا اور پنپتا ہے۔ ریاست کا مقصد اور خواہش کبھی بھی آپ کی ضروریات پوری کرنے کا نہیں ہوتا بلکہ مختلف حربوں کے تحت یہ فقط اطاعت گزاری چاہتا ہے اور یہ مخملی دستانے پہنے آہنی ہاتھوں سے کاری ضرب لگاتا ہے۔ وہ لوگ عین یہی کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نیشنلزم فاشزم ہے۔ یقینا نیشنلزم کو جابر کو گالیاں دینے کی حد تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے لیکن پھر اس کے ساتھ ساتھ لبرل ازم کو جمہوریت اور افہام و تفہیم کے نام پر ریاستی تشدد کی حمایت کرنے کی بھی آزادی نہیں دی جانی چاہئے۔ آپ محض اس بنیاد پر جاکر ریاست کی حمایت نہیں کرسکتے کہ نیشنلسٹ جماعتیں ویسی نہیں ہیں کہ آپ انکے جسطرح سے ہونے کی خواہش رکھتے ہوں۔ شیخ سعدی کہتے ہیں:

”اگر از جہان، ہما شود معدوم

کس نہ رود زیرِ سایہءبوم

اگر دنیا سے معدوم ہما ہوجاوے

تو کوئی زیرِسایہءاُلّو نہ جاوے“

یہ عذر کہ نیشنلسٹ جماعتیں اتنی اچھی نہیں ہیں تو اس سے فاشسٹ ریاست کی حمایت کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔

ریاست اطاعت گزاری کے فروغ کیلئے مختلف آلات اور طریق کار استعمال کرتی ہے اور عناد پر مبنی اسکے منصوبوں کی تعمیل وہ نام نہاد لبرل دانشور بخوبی کرتے ہیں جو قومی آزادی کی جدوجہد کی مذمت کرتے ہیں اور اسے فاشسٹ کہتے ہیں اور اس طرح سے ہمارے خلاف کیا جانیوالا ریاستی تشدد نہ صرف ضروری بلکہ قانونی اور جائز سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ انکا لبرل ازم ہے تو انکا فاشزم کیسا ہو گا؟ بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں ریاستی تشدد کا ارتکاب بالکل انہی بنیادوں پر کیا جارہا ہے اور وہ لوگ جو اس دلیل کو بڑھاوا اور فروغ دیتے ہیں کہ نیشنلزم فاشزم ہے، وہ عوام کیخلاف ریاستی تشدد میں اسکے معاون اور عوام کیخلاف جرائم کے ارتکاب میں برابر کے شریک ہیں۔

یہ ریاست کبھی بھی لوگوں کیلئے نہیں ہوگی۔ بنگلہ دیش اور وہاں بنگالی نیشنلزم کیخلاف ان کا تشدد نظر انداز کیا جاتا ہے اور اسے بھلا دیا گیا ہے کیونکہ اُسوقت بھی ایسے دانشور تھے جنہوں نے تشدد کا ارتکاب کرنے والوں، یعنی فوج، الشمس اور البدر کی حمایت انہی دلیلوں کے تحت کی تھی کہ نیشنلزم فاشزم ہے۔ کیا بنگالی فاشسٹ تھے جب انہوں نے اپنے قومی حقوق کا مطالبہ کیا تھا یا پاکستانی اسٹابلشمنٹ فاشسٹ تھی؟ میرا خیال ہے کہ اس بات کو سمجھنے میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ کون کیا تھا۔ کیا بلوچستان اور سندھ میں خودارادیت کے حقوق کا مطالبہ فاشزم ہے؟ میرا ماننا ہے کہ ان کے آزاد ہونے کے حق کا مطالبہ فاشزم نہیں ہے بلکہ قومی خود ارادیت کے حق کو دبانا فاشزم ہے۔

ریاست اور اس کے ارادے اور کردار کے بارے میں میخائل باکونن نے بخوبی اظہار کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ ”عوامی زندگی میں … حب الوطنی کے نقطہءنظر سے جب یہ چیزیں ریاست کی عظیم تر شان و شوکت کو بڑھانے اور اس کی طاقت کے تحفظ یا توسیع کیلئے کی جاتی ہیں تو یہ سب کچھ فریضے اور اخلاقی برتری میں بدل جاتے ہیں۔ فقط یہی شے اس بات کو واضح کردیتی ہے کہ قدیم اور جدید ریاستوں کی پوری تاریخ کیونکر محض گھناونے جرائم کا ایک سلسلہ ہے؛ کیونکر تمام ادوار اور تمام ممالک کے ماضی اور حال کے بادشاہوں اور وزیروں، سیاستدانوں، سفارتکاروں، بیوروکریٹس، اور جنگجووں کیساتھ اگر سیدھے سادے ضابطہءاخلاق اور انسانی انصاف کے نقطہءنظر سے انصاف کیا جائے تو وہ ہزار بار سے بھی زائد محنت بامشقت یا پھانسی گھاٹوں کی سزا کے مستحق ہیں۔ وہاں کوئی ایسی دہشتگردی، کوئی ستم گری، بے حرمتی، یا جھوٹی گواہی، کوئی فریبکاری، کوئی بدنام زمانہ خیانت، کوئی حقیر ڈاکہ زنی، کوئی بے باک لوٹ مار یا ذلت آمیز دھوکہ دہی نہ تھی اور نہ ہے جسکا ارتکاب روزانہ ریاستوں کے نمائندوں کی طرف سے نہ کیا جارہا ہو، اور یہ سب کچھ کسی اور عذر کے تحت نہیں بلکہ ان لچکدار الفاظ کے تحت کیے جاتے ہیں جو نہایت موزوں لگتے ہیں مگر پھر بھی انتہائی ہولناک ہیں: یعنی ’ریاست کی خاطر‘۔“ تو کیا نیشنلسٹ فاشسٹ ہیں یا اسٹابلشمنٹ اور اس کے معذرتخواہ؟

آیا ’ریاست کی خاطر‘ جن ہولناکیوں کا ارتکاب اس ریاست نے بنگلا دیش، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں کیے ہیں وہ ان لبرل دانشوروں کو اس ریاست کی حقیقی روح کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں ہیں کہ وہ ان دلائل کیساتھ میدان میں نہ اتریں جن سے ’ریاست کی خاطر‘ عوام کیخلاف تشدد کو فروغ دینے اور جواز فراہم کرنے میں مدد ملتی ہو۔ آیا وہاں کوئی سوجھ بوجھ نہیں ہے جس سے وہ تاریخ یا موجودہ دور کے منظر نامے کو سمجھنے کے قابل ہوں کہ ترجیح عوام کو حاصل ہونی چاہیے نہ کہ ریاست کو۔ لیکن جب ترجیح مادی مفادات ہوں تو عوام کی فلاح و بہبود اور انکے حقوق کا حق جاکر بیکل جھیل میں کود سکتے ہیں جوکہ دنیا کی سب سے گہری جھیل ہے۔

نیشنلزم جو فلسطینیوں کو مستعد رکھتی ہے، ترکی میں کردوں کی اپنے وطن اور اپنے حقوق کی مانگ کو، اور ان کشمیریوں کی بھی، جنکا نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارت کیساتھ کوئی تعلق ہے، تو کیا انہیں بھی فاشسٹ قرار دیا جائے؟ یا پھر نیشنلزم کے فاشزم ہونے کی دلیل یہاں محض بلوچ اور سندھی عوام کے مطالبات تک محدود ہے؟

قومپرستوں کو اکثر تشدد کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور ان کی مذمت کی جاتی ہے لیکن جو بات بڑی آسانی سے فراموش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا تشدد اس زیادہ بڑے تشدد کا ردعمل ہوتا ہے جسکا ارتکاب مقتدراوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انتفادہ ازخود پیدا نہیں ہوتیں۔ نام نہاد لبرلوں کی طرف سے قومپرستوں کی نہ صرف مذمت کی جاتی ہے بلکہ وہ مستعدی سے ریاست کی جانب سے بروئے کار لائے جانیوالے تشدد کا جواز بھی یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ اگر آپ پر تشدد ہیں تو جواب بھی پرتشدد ہوگا۔ اگر وہ کبھی ریاستی تشدد کی مذمت کر بھی لیں تو وہ انتہائی ملائم اور بزدلانہ پیرایہ میں ہوتا ہے۔ ریاست کے تشدد کو تو ایک غلاف چڑھی منظوری مل جاتی ہے لیکن شدید نکتہ چینی قومپرستوں کے تشدد کیلئے مخصوص کی جاتی ہے۔ ریاستی تشدد کی حمایت کرنے والے تمام افراد انسانیت کیخلاف جرائم میں شریک ہیں اور ریاست کے ساتھ ساتھ وہ بھی فاشسٹ ہیں اور نہ کہ نیشنلسٹ جو اپنے لئے ایک پروقار اور آزادی کی زندگی کے حق کے متلاشی ہیں۔

بعض اوقات لوگوں کی اپنے قومپرست کاز کیلئے دی گئی بڑی قربانیوں کو لبرلوں کی طرف سے ایک حقارت آمیز و باعث ملامت شے بنایا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک فالتو نقصان ہے۔ کیا ہو چی منھ کی زیر قیادت امریکیوں کیخلاف ویتنامیوں کی دی گئی قربانیاں فالتو تھیں، عمر مختار کی زیر قیادت اٹلی کیخلاف لیبیائی عوام کی دی گئی قربانیاں فالتو تھیں، اسرائیلی قبضے کیخلاف فلسطینیوں کی انتفادہ فالتو تھیں؛ بڑی قربانیوں کے بعد کامیابی حاصل کرنیوالی قومی جدوجہد کی بے شمار مثالیں موجود ہیں؟ فریڈرک نطشے کہتے ہیں کہ، ”اپنے آپ کا مالک بننے کے استحقاق کیلئے کسی بھاری قیمت کی ادائیگی کچھ بھی نہیں۔“ ایک پروقار اور آزاد زندگی کیلئے کوئی بھی قیمت اتنی بڑی نہیں ہے۔ قومی آزادی کی جدوجہد یقینا ”اپنے آپ کا مالک بننے کے استحقاق“ کی جدوجہد ہے۔

قومپرستوں کو اس بات کیلئے بھی تنبیہہ اور نصیحت کی جاتی ہے کہ جو جدوجہد وہ کررہے ہیں اس میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ ویتنامیوں سے یہی کہا گیا، بنگالیوں کو بھی یہی سبق دیا جاتا رہا اور بلوچ اور سندھیوں کو بھی یہی کہا جا رہا ہے۔ آئی ایف اسٹون (1907 تا 1989) نے اُن لوگوں کے جذبات اور خیالات کا بڑے شاندار انداز میں اظہار کیا ہے جو جدو جہد کرتے ہیں: ”لڑائی کی صرف وہی قسم لڑنے کے قابل ہے جسے آپ ہار جائیں، کیونکہ کسی نہ کسی کو تو یہ لڑنی ہی ہیں اور ہارنی اور ہارنی اور ہارنی ہیں اور یہاں تک کہ کسی دن، کوئی ایک جسے اتنا ہی یقین ہو جتنا کہ آپ کو ہے، جیت جائے۔ کسی کو آج سے ایک سو سال بعد ایک اہم اور بڑی لڑائی جیتنے کیلئے ضروری ہے کہ دیگر بہت سارے لوگ لڑنے کو تیار ہوجائیں، محض اسکا مزہ لینے اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلئے آگے بڑھیں اور لڑیں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ ہار جائیں گے۔ آپکو ایک شہید کی طرح محسوس نہیں کرنا چاہئے۔ آپکو اس سے لطف اٹھانے چاہیے۔“ یہ ہمیشہ فتح کی امید ہی ہوتی ہے جو لوگوں کو لڑائی جاری رکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔

وہ لوگ جو قومپرستی کی مذمت کرتے ہیں، اسلئے کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنے وسائل پر اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں، بھول جاتے ہیں جو کچھ فرانٹز فینن اپنی کتاب ’افتادگانِ خاک‘ میں کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”ایک زیرنوآبادیت عوام کیلئے سب سے زیادہ محکم اور اہمیت اور اولیت کی حامل شے، سب سے زیادہ مادی و حقیقی ہونے کے سبب، سب سے پہلے زمین ہے: زمین جو کہ انہیں رزق فراہم کرتی اور سب سے بڑھ کر انہیں قدر و منزلت عطاء کرتی ہے۔“ اپنے وطن کے استحصال اور جبر سے آزاد ہوئے بغیر کوئی قوم وقار اور امن کیساتھ نہیں رہ سکتی۔ دوسرا چارہ اطاعت گزاری اور غلامی کا ہے جس کیلئے ایمینوئل کانٹ کہتے ہیں، ”کوئی خود کو ایک کیڑا بنالے تو بعد میں یہ شکایت نہیں کر سکتا اگر لوگ اسے پیروں تلے روند دیں۔“

ایک مطیع اور اطاعت شعار لبرل، جو وفاقیت اور اس کے تحت قوموں کے اتحاد کے نام پر اپنے حقوق کیلئے لڑنے والے لوگوں کیخلاف ریاستی جبر کی حمایت کرتا ہو، کے بجائے میں ایک فاشسٹ ہونے کو ترجیح دیتا ہوں جو عوام کی قومی آزادی کیلئے ایستادہ ہو۔ یہ ہمیشہ فاشزم ہی ہوتی ہے جسے لبرل قومی آزادی کی مخالفت میں مختلف حیلوں بہانوں اور عذر کے تحت اپناتے ہیں اور قومپرستوں کی فاشسٹ کے طور پر مذمت کرتے ہیں۔ اگر خیر بخش مری، مخدوم بلاول، شیر محمد مری، مجید لانگو، علی شیر کرد، حمید بلوچ، سرائے قربان، بالاچ مری، اکبر خان بگٹی اور وہ تمام لوگ، جو بلوچستان اور سندھ کیلئے جیئے اور مرے ہیں، فاشست تھے یا فاشزم کے حامی تھے تو پھر مجھے فخر ہوگا اگر میرا شمار بھی انہی لوگوں میں کیا جائے۔

بشکریہ: بلوچستان ٹائمز ڈاٹ کام، 29 اپریل 2016

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s