بلوچ رہنما یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں: سفارتی فتح یا فوٹو سیشن


Hammal Haider Baloch_BNM_EU

تحریر: ساجد حسین

ترجمہ : لطیف بلیدی

کچھ لوگ اسکی تشہیر بین الاقوامی سطح پر بلوچ کاز کیلئے سب سے بڑی سفارتی کامیابیوں میں سے ایک کے طور پر کر رہے ہیں۔ دیگر اسے محض چند گورے سیاستدانوں کیساتھ ایک بلوچ رہنما کا فوٹو سیشن قرار دے رہے ہیں۔

تصاویر میں ہمّل حیدر بلوچ، بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان خارجہ، یورپی ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروہ سے گھرے ہوئے ہیں کہ گویا جو کچھ بلوچ صاحب کہہ رہے ہیں وہ اسے نہایت انہماک سے سن رہے ہیں۔

Baloch leader in EU Parliament: Diplomatic triumph or photo session

پریل کی 13 اور 14 تاریخ کو بی این ایم کے رہنماء نے ایک مبصر کے طور پر اسٹراسبرگ فرانس میں یورپی یونین پارلیمنٹ کے ایک سالانہ اجلاس میں شرکت کی اور وہاں انہیں بلوچستان میں انسانی حقوق اور سیاسی صورتحال کے بارے میں ایک پریزنٹیشن دینے کی اجازت دی گئی۔

بعد میں بی این ایم کی ایک پریس ریلیز میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اگلے اجلاس میں بلوچستان پر قرارداد پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

بلوچ صاحب نے بلوچستان ٹائمز کو بتایا کہ ”جی ہاں، نومبر 2012ء میں میرے یورپ آنے کے بعد یہ کم از کم میری پارٹی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کسی اہم فورم تک رسائی حاصل کرنے کیلئے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو لابیئنگ کرنے میں کئی سال لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”ایسا راتوں رات نہیں ہوتا۔ ہم مایوس ہوچکے تھے۔ کبھی کبھی آپ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ آپکے لوگ قتل کیے جا رہے ہوں، ان پر بمباری کی جا رہی ہو اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور ان کی خاطر آواز بلند کرنے کے ذمہ داروں میں سے ایک میں ہوں۔ گوکہ کچھ عرصے بعد آپ کو لگتا ہے کہ کوئی سننے والا نہیں۔ لیکن اگر آپ اپنا کارم جاری رکھیں تو اسکا صلہ ملتا ہے۔“

پاکستان کی فوج 2005ء سے بلوچستان میں علیحدگی پسند بغاوت کو بڑی بے رحمی کیساتھ کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو ”غائب“ کیا گیا ہے، اذیتیں دی گئیں ہیں اور مارا گیا ہے۔ سینکڑوں تاحال خفیہ فوجی حراستی مراکز میں صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ان میں چند کئی سالوں سے اور چند ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے۔ اجتماعی قبروں میں ناقابل شناخت لاشیں پائی گئی ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں کو بلوچستان کے پہاڑوں میں پھینک دیا گیا، ان کی قمیض کی جیب میں ایک چٹھی کیساتھ جن پر ان کے نام لکھے ہوتے ہیں جوکہ اکثر فوج کی طرف سے انکے رشتہ داروں پر کیا گیا ایک احسان ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے پیاروں کی شناخت کرسکیں اور انہیں تلاش کرنا بند کردیں۔

ہمّل حیدر کو 2012ء میں ان کی پارٹی کی طرف سے لندن بھیجا گیا تاکہ وہ ان مسائل کو اجاگر کریں اور پاکستان کی فوجی اسٹابلشمنٹ کیخلاف دنیا کا دباو ڈلوانے میں مدد کرسکیں۔

بلوچ صاحب نے کہا کہ ”میں یہ نہیں کہوں گا کہ یورپی ارکان پارلیمنٹ کیساتھ اس سیشن سے ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن یہ آگے کی طرف ایک بڑا قدم ضرور ہے۔ وہ سنجیدہ تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے بلوچستان کے بارے میں مبہم طور پر سنا تھا لیکن تفصیلات نہیں جانتے تھے۔ ہماری ملاقات کے اگلے روز یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے ایک رکن البرٹو سیریو نے بلوچستان کے بارے میں بڑے پرجوش انداز میں بات کی۔“

انہوں نے کہا کہ انہیں ایک رکن، فلویو مارچوسئیلو، کی طرف سے سیشن کیلئے مدعو کیا گیا تھا جنہیں وہ ایک مشترکہ دوست کے ذریعے جانتے تھے۔ انہوں نے تقریباً 40 سے 50 ارکان پارلیمنٹ اور ایک نائب صدر کیساتھ ملاقات کی جو پاکستان میں اقلیتوں کے مسائل دیکھتے ہیں۔ ”انہوں نے مجھے بتایا، اور وہ کافی سنجیدہ تھے، کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے دوران ایک قرارداد پیش کریں گے۔“

اجلاس میں شرکت اور بلوچستان کے معاملات کے بارے میں یورپی یونین کے اراکین پارلیمان کو بریفنگ دینے کے علاوہ انہیں ظہرانے پر مدعو کیا گیا اور اس کے بعد ان کی طرف سے دیے گئے ایک عشائیے کے اجلاس میں ان سے پاکستان اور بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں مزید دریافت کیا گیا۔ انہوں نے نائب صدر انتونیو تاجانی کیساتھ بھی ون ٹو ون ملاقات کی۔

”وہ خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بنیاد پرست اسلام کے پھیلاو کے بارے میں فکر مند تھے۔“

تو اگلا قدم کیا ہوگا؟ میں نے ان سے پوچھا۔

”انہوں نے اس سال جون کے وسط میں یہاں لندن میں ایک عشائیے میں ملاقات کیلئے مجھے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے میرے ساتھ بزنس کارڈز کا تبادلہ کیا اور ہم ای میل کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ یہ صرف ابتداء ہے۔ ہماری پارٹی اب اس کی پیروی کرنے جا رہی ہے۔“

ایک آزاد ریاست کے قیام کیلئے بین الاقوامی سفارتکاری بلوچ تحریک کی سب سے بڑی کمزوریوں میں سے ایک رہی ہے۔ یورپی ارکان پارلیمنٹ کی اتنی بڑی تعداد کیساتھ بلوچ صاحب کی ملاقات یقیناً ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن انکا یہ کہنا درست ہے کہ یہ صرف ابتداء ہے۔ اگر چیزیں مزید آگے نہیں بڑھتیں تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ یہ محض گورے سیاستدانوں کیساتھ ایک اور فوٹو سیشن تھا۔

بشکریہ : بلوچستان ٹائمز ڈاٹ کام، 21اپریل 2016

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s