افغانستان میں امن و سلامتی


Afghanistan — Peace and Security

تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

افغانستان کے بارے میں لکھنا مشکل ہے حتیٰ کہ ان لوگوں کیلئے بھی جو وہاں رہتے ہیں اور تقسیم کے تمام اطراف کے لوگوں کیساتھ رابطے میں ہیں۔ افغانستان کے حقیقی تجزیہ کار کبھی بھی بے دھڑک بات نہیں کرتے اور اپنے خیالات اور نقطہءنظر کو لوگوں کے سامنے بڑی احتیاط اور ہیجان کیساتھ پیش کرتے ہیں چونکہ افغانستان کم از کم چار دہائیوں سے مختلف لوگوں کی آمد کا شکار رہا ہے۔ وہاں اکثر حکومت مختلف ہاتھوں میں تبدیل ہوتی رہی ہے اور بیشتر تشدد کے ذریعے، تو لہٰذا یہ تقسیم، تنازعہ اور سیاسی بے چینی نہ صرف شدید ہے بلکہ نقصان دہ اور زہریلی بھی۔ آپ وہاں محبت اور ہمدردی کی توقع نہیں کر سکتے جہاں طویل عرصے سے بڑی شدت کیساتھ نفرت کے شعلے بھڑکائے گئے ہوں، بہت سوں کی طرف سے جن کے دلوں میں افغان عوام کیلئے کوئی محبت نہیں ہے یا وہاں پر امن ان کے مفاد میں نہیں۔ افغانستان نہ صرف اپنے جغرافیہ بلکہ اپنی تاریخ کا بھی شکار رہا ہے؛ گھمنڈی طاقتوں کے مفادات اور ان کے مختار کل کارندوں نے افغان عوام پر فقط مصائب کا انبار لگایا ہے۔

Afghanistan — Peace and Security

میں افغانستان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا اور اسکا بھی دعویٰ نہیں کرتا کہ میں وہاں کی سیاسی اور عسکری صورتحال سے واقف ہوں اور جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ ابوبکر صدیق اور محمد تقی صاحب جیسے لکھاریوں کو پڑھنے سے ہے۔ میرے پاس جو ہے وہ اس ملک کیساتھ ایک روحانی تعلق اور محبت ہے کیونکہ میں نے دیگر ہزاروں بلوچوں، زیادہ تر مریوں، کیساتھ 1978ء تا 1991ء زندگی کے 13 سال افغان عوام کے ایک مہمان کے طور پر وہاں گزارے ہیں۔یہ سال افغانستان کی تاریخ کے سب سے ہنگامہ خیز اور یادگار سال تھے جنہوں نے افغانستان اور دنیا کی تاریخ کا بہاو مستقل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ میں جون 1978ء میں افغانستان گیا، چار دن میں دلائی سے شوراوک تک سے پیدل چلا اور یہ اپریل 1978ء کے ثور انقلاب کے فوراً بعد تھا۔ پہلے تین سال میں نے زابل ولایت (صوبے) میں اپو تنگی کے پہاڑوں میں کیمپ میں گزارے اور باقی دس سال لشکرگاہ کے باہر ہوائی اڈے کے قریب واقع ’قلعہ کُہنہ‘ کے کھنڈرات میں جو کہ اسوقت ہلمند میں سوویت فوج کا سب سے بڑا کیمپ تھا۔

میں بمشکل ہی کبھی ان کیمپوں، جہاں ہم رہتے، سے دور جا پاتا کیونکہ لوگوں کی طبی اور تعلیمی ضروریات کی دیکھ بھال میری ذمہ داری تھی۔ تاہم، میں ایسے اوقات میں بھی کابل میں ہوتا جس کیلئے بہت سے لوگ اپنا ایک بازو اور ٹانگ بخوشی دے دیتے۔ میں 27 دسمبر 1979ء کو کابل میں تھا جس دن حفیظ اﷲ امین کو معزول کیا گیا اور دور سے وہ شدید لڑائی دیکھی جو وزارت داخلہ اور ریڈیو سٹیشن میں ہو رہی تھی چونکہ ہم پرانے میکرویان کے بلاک نمبر 10 کے اپارٹمنٹس نمبر 26 اور 40 میں رہتے تھے۔ مجھے 31 دسمبر کو اپنی سالگرہ کابل ضلع جیل میں منانی پڑی کیونکہ پرجوش پارٹی کیڈر یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ ہم لوگ اب مہمان تھے اور ’اشرار‘ (باغی) نہ تھے جیسا کہ انہوں نے ہمیں قرار دیا تھا۔ میں 29 فروری 1980ء کو کابل کے مضافات میں تھا جب کابل کے عوام نے سوویت یونین کے ملوث ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ میرے خیال میں شاید ہی کسی نے اب تک اتنی بڑی تعداد میں شعلے دیکھے ہوں جو اس رات کابل میں ان جگہوں کو جلانے کیلئے گرائی گئیں جہاں پر لوگ احتجاج کر رہے تھے۔ اگلی صبح ہم شہر میں داخل ہوئے جہاں دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے تھے اور فضاء میں بارود کی تیکھی بو موجود تھی۔ ایک سندھی دوست نے ہوٹل میں اپنے آپ کو اتنا غیر محفوظ محسوس کیا کہ وہ ہمارے ساتھ رہنے کیلئے آ گیا۔

میں فطرتاً اتنا ملنسار نہیں ہوں اور اس کے علاوہ مجھے اقتدار میں موجود لوگوں سے ملنے کا بھی شوق نہ تھا اور اگر کبھی ملا بھی تو کسی کی خاطر یا کسی کی ہمراہی میں۔ میں حفیظ اللہ امین سے اقتدار میں آنے سے قبل ملا تھا، میری ایک آدھ بار ڈاکٹر نجیب اللہ سے ملاقات ہوئی تھی جب وہ سلامتی کے وزیر تھے اور ایک مرتبہ صدر بننے کے بعد۔ میں نے ببرک کارمل کے صدر بننے کے بعد دارالامان محل میں اسد اللہ سروری، وہ خاد (افغان انٹیلی جنس) کے سربراہ تھے، سے ملاقات کی تھی۔ عزیز اساس اور عمر راوند میکرویان میں ہمارے پڑوسی تھے۔ حکام سے میری ملاقاتیں کبھی کبھار ہوا کرتی تھیں کیونکہ میں زیادہ تر کیمپ میں ہوتا تھا اور وہاں پر ایک مرتبہ ببرک کارمل کے بھائی محمود بریالے اور اسلم وطن جار نے دورہ کیا تھا۔

امریکہ، پاکستان، یورپ اور عرب ممالک کی طرف سے کی جانیوالی جارحیت سے پیدا شدہ اس مشکل صورتحال، جس سے وہ دوچار تھے، کے باجود افغان میزبانوں نے ہم بلوچوں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی۔ ہمیں ماہانہ وظیفہ ملتا اور آٹا وغیرہ ہمارے کیمپ میں پہنچایا جاتا اور کبھی کبھار گھریلو استعمال کی اشیاء بھی فراہم کی جاتیں۔ یقینا اپو تنگی میں زندگی اتنی آسان نہ تھی؛ جبکہ لشکر گاہ میں لوگ چھوٹے موٹے کام کیا کرتے یا بھیڑ بکریوں کی تجارت کی جاتی۔

ہمارے لوگوں کو نام نہاد مجاہدین کی طرف سے نشانہ بنایا گیا اور بہت سے بلوچوں کو بسوں پر سفر کے دوران اٹھایا اور قتل کیا گیا، ہماری گاڑیوں پر گھات لگا کرحملے کیے گئے، ہمارے کیمپوں پر راکٹ فائر کیے گئے، گلوں کی دیکھ بھال کرنیوالے چرواہوں پر حملے کیے گئے۔ جب ہم اپو تنگی میں تھے تو مجاہدین کی طرف سے ہمیں گھیر لیا گیا اور چونکہ ٹرک آٹا نہیں لا سکتے تھے تو انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لانا پڑے۔ یہ اس ناکہ بندی کے بعد تھا جب ہمیں حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ٹرکوں میں لشکر گاہ منتقل کیا گیا۔ اگرچہ بلوچ کبھی بھی مجاہدین کیخلاف کسی بھی کارروائی میں ملوث نہیں رہے لیکن وہ ہمیں دشمن سمجھتے تھے اور یہ کوئی بے ترتیب عمل نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 – 1975ء میں افغان سیل اس مقصد کیلئے قائم کیا تھا کہ وہ بلوچ کیلئے افغانوں کی مدد کو روک سکیں۔ افغانستان کی موت اور تباہی کی آگ کا ابتدائی شعلہ تب روشن کیا گیا تھا اور آج اسکے شعلے بظاہر کسی کے قابو میں نہیں ہیں۔ امریکی کوششوں کے باوجود امن و سلامتی میں پیشرفت سست اور مبہم رہی ہے۔

وہاں اپنے قیام اور افغانستان اور افغان عوام کیلئے اپنے روحانی تعلق کے باوجود مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی افغانستان کے بارے میں لکھنے کا اہل نہیں ہوں لیکن کچھ افغان دوستوں کے اصرار پر لکھ رہا ہوں اور امید کرتا ہوں ان میں کوئی فہم کی بات ہو۔

افغانستان میں امن کے بغیر اس خطے اور دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا؛ یہ افراتفری اور بحران عالمی طاقتوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ افغان عوام کیلئے سب سے بہتر کیا ہے۔ اگر دنیا ثور انقلاب کو اپنے حال پر چھوڑ دیتی تو آج دنیا ایک مختلف جگہ ہوتی، جہاں کوئی اسامہ بن لادن نہ ہوتے اور ممکنہ طور پر دہشت گردی کیخلاف کوئی جنگ نہ ہوتی لیکن ایسا ہونا ہی نہ تھا۔ پاکستان نے انتقام کی آگ کیساتھ اسلام پسندوں کی پرورش، انہیں افغان حکومت کیخلاف وہاں تعینات کرنے کیلئے، پہلے ہی سے شروع کر دی تھی۔ امریکہ نے ویتنام میں اس ذلت کا بدلہ لینے کی خواہش میں ایک ایسی آگ لگائی کہ اب وہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب ہر چیز پر اپنے برانڈ کے اسلام کو غالب کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور لوگ بھیجے، یہ جانے بغیر کہ مرغیاں آخر کار آرام کرنے گھر لوٹیں گی؛ داعش (اسلامک اسٹیٹ) کی ابتداء اسی دور میں ہوئی تھی۔ مغربی دنیا اور عرب ممالک دونوں آج انہی بیجوں کی فصل کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے بوئے تھے۔ ”جب وہ ہوا کے بیج بوئیں گے تو آندھی کی فصل کاٹیں گے۔“

ہوائی اڈے اور سوویت فوجی کیمپ کے سامنے رہتے ہوئے ہمیں ہلمند دریا کے اس پار سے کٹیوشیا راکٹ کی فائرنگ، مِگ لڑاکا طیاروں کی شکل میں بہت سی کارروائیاں دیکھنے کو ملیں۔ چند مرتبہ مرجہ، ناد علی، سنگین اور دیگر جگہوں میں کارروائی کیلئے وہاں ان گنت ہیلی کاپٹر گن شپ اور ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر آئے۔ مجھے افسوس ہے کہ اسوقت تصویریں لینے کیلئے میرے پاس ایک اچھے لینس والا کوئی کیمرہ نہیں تھا۔ بات یہ ہے کہ اس طرح کی بڑی فوجی کارروائیوں کے باوجود سوویت فوج ناکام رہی۔ محض طاقت نے کبھی بھی کوئی فتح حاصل نہیں کی ہے۔

افغانستان میں امن فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں آئے گا کیونکہ 70 اور 80 کے عشروں کی طرح اس طاقت کا مقابلہ ان کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو کہ امن کو عدم استحکام کا شکار بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اب امریکہ کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس کی وہ سوویت یونین کیلئے تمنا رکھتا تھا اور اس کیلئے پیدا کیا تھا، مگر افغان عوام کی قیمت پر۔ اُسوقت کی طرح اب بھی پاکستان افغانستان میں امن کیخلاف ہے، تب یہ ڈالروں اور بلوچ کیلئے افغان حمایت کی روک تھام کیلئے تھی اور اب یہ ’اسٹراٹیجک گہرائی‘ اور افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی اپنی گنجھلدار پالیسی کیلئے ہے۔

افغانستان کے مقدر کا فیصلہ، علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی گنجھلدار مفادات کے سبب، دوسروں پر چھوڑ دیاگیا ہے اور لومڑیوں سے مرغیوں کے ڈربے کی دیکھ بھال کرنے کی توقع قطعی طور پر خطرناک ہے اور یہ افغان عوام کیلئے مہلک رہی ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کہ افغان عوام متحد ہونے کا فیصلہ نہیں کرلیتے اور اپنے مفادات کو اپنی بنیادی تشویش اور ترجیح بنانے کا عمل شروع نہیں کردیتے افغانستان میں امن کبھی قائم نہیں ہوگا۔ تاہم، اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں ہر قیمت پر اتحاد اور امن قائم ہونا چاہئے۔ افغانستان کے عوام کیلئے امن اور اس کیساتھ خوشحالی لانے کیلئے ضروری ہے کہ رجعت پسند قوتوں کا مقابلہ کیا جائے خواہ وہ کسی بھی شکل میں خود کو پیش کرتے ہوں۔ وہ ہمیشہ وقت حاصل کرنے اور دوبارہ منظم ہونے کیلئے صلح کی پیشکش کرتے ہیں۔

یہ محض ایک فرضی بات ہے کہ ثور انقلاب کے بعد سے ترقی پسند افغان حکومتوں کی مخالفت کی بنیادی وجہ غیر ملکی مداخلت کیخلاف مزاحمت، اپنے مادر وطن اور افغان عوام سے ان کی محبت تھی۔ درحقیقت اس بات میں کوئی دم نہیں ہے کہ غیر ملکی مداخلت کوئی مکروہ شے ہے، تو پھر 70 اور 80 کی دہائیوں میں کیونکر امریکی، پاکستانی اور عربوں کی مدد لی گئی اور کیوں اب پاکستان اور عربوں کی شمولیت کو خوش آمدید کیا جارہا ہے۔ یہ زمین کیلئے محبت نہیں بلکہ ان لوگوں کے مفادات، خواہ وہ سیاسی، اقتصادی یا مذہبی ہوں، کی تکمیل کیلئے ہے جو دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ سمجھوتہ افغانستان میں کبھی بھی امن نہیں لائے گا؛ رجعت پسند قوتوں سے کبھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ عوام کی ترقی کیلئے کام کریں گے۔

جیساکہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ طاقت کا استعمال کبھی بھی کہیں بھی فتح کا موجب ثابت نہیں ہوا ہے تو لہٰذا یہ توقع رکھنا سعی لاحاصل ہے کہ امریکی فوجی مدد اس مسئلے کو حل کر دے گی جسے پیدا کرنے میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ امریکہ افغانستان چھوڑ دے؛ انہیں وہاں رہنا چاہئے اُس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دینے کیلئے جو انہوں نے پیدا کیا تھا۔ اس موقع پر افغانستان کو اپنی قسمت کے حوالے کرکے چھوڑ دینا محض عالمی امن و استحکام کو مزید خطرے میں ڈال دینے کے مترادف ہوگا جیساکہ پاکستان اور عرب حکمران اپنے سیاسی اور مذہبی اثر و رسوخ کیساتھ افغان عوام کے مقدر کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

ان تمام افغانوں، جنہیں افغانستان اور افغانوں سے محبت ہے اور اس میں جنکے مفادات داو پر لگے ہوئے ہیں، کو متحد ہونا پڑے گا نہ صرف جسمانی طور پر رجعت پسند قوتوں کیخلاف مزاحمت کرنے کیلئے بلکہ ایک مخصوص مزاج اور ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی جس میں ترقی پسند اور امن پسند قوتیں پنپ سکیں اور طاقت حاصل کر سکیں۔ افغانستان کی جنگ آخر کار اسی محاذ پر جیتی یا ہاری جائے گی نہ کہ فوجی محاذ پر۔ اس جنگ اور فیصلہ کن فوجی جنگ کی جیت کو یقینی بنانے کیلئے افغانوں اور دنیا کیلئے اس بات کا ادراک کرنا ضروری ہے کہ جب تک کہ پاکستان اور عرب حکمرانوں کے اس اثر و رسوخ کو ختم نہیں کیا جاتا افغانستان میں امن کبھی قائم نہیں ہو گا۔

جس افراتفری، انتشار، دردِ زِہ، موت، تباہی، نقل مکانی، ذہنی کرب، دکھ، رنج و الم اور المیے کا افغان عوام مسلسل شکار رہے ہیں، جو انہیں 1978ء سے امریکہ، پاکستان، سوویت یونین کی طرف سے اپنے مفادات کیلئے افغانوں کی مدد کرنے کی درخواست کے تحت، عرب حکمرانوں کی طرف سے اسلام کے نام پر اور ان افغانوں کی طرف سے جنہوں نے نمائش کے طور پر حب الوطنی کے نام پر افغان عوام کے تمام دشمنوں کی خدمت کرکے پہنچائی گئی ہیں، ان سب کے بعد اب افغان عوام امن کے مستحق ہیں۔ تاہم یہ امن نہ صرف افغان عوام کی ذمہ داری ہے بلکہ دنیا بھر کے اُن تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہیں اس سیارے اور اس میں بسنے والی انسانیت سے پیار ہے۔ یہ ذمہ داری اس بات سے بھی مشروط ہے کہ رجعت پسند قوتوں کو آخر کار کمزور اور تباہ کرنے کیلئے ایک بے رحمانہ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور یقینا فوجی کوشش کی ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ افغان عوام کو فتح، امن اور ہم آہنگی میسر ہو اور ان تمام لوگوں کو بھی جو پوری دنیا میں نئے نوآبادیاتی نظام اور ظلم کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

Mir Mohammad Ali Talpurمیر محمد علی ٹالپر نے ’نیوز لائن‘، ’دی رپورٹر‘ (حیدرآباد سے نکلنے والا ایک ماہنامہ) ، ’ڈان‘ اور ’دی نیوز‘ کیلئے لکھا ہے اور تین سال (2010ء تا 2013) تک ’ڈیلی ٹائمز‘ کیلئے لکھتے رہے اور 2015ء میں اس کے لئے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ان میں سے بیشتر مضامین تک ”Play Google @ Ustad Talpur“ پر رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ڈیلی ٹائمز کیلئے لکھے گئے مضامین کا خلیج میں بسنے والے بلوچوں کیلئے عربی میں ترجمہ احمد یعقوب اور صلاح بلوچ نے کیا ہے اور اسے ”بلوچ بیداری: بلوچ مسئلے پر مضامین“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین ماما عبدالقدیر بلوچ کی قیادت میں کیے گئے لانگ مارچ میں شرکت کی تھی اور 26 دن تک ماما اور بہادر بلوچ خواتین کے ہمراہ مارچ کیا۔ یہ مارچ 106 دنوں میں مکمل ہوا تھا۔

اسوقت وہ اسٹراٹیجک سینٹر فار انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک ریسرچ فیلو اور اسکی سہ ماہی اشاعت کے ادارتی بورڈ کے ایک رکن ہیں۔

بشکریہ افغان ٹربیون ڈاٹ کام، 12اپریل 2016

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s