پاکستان کے غلیظ بڈھے


Memoona-the victim of an acid attack

تحریر: محمد حنیف
ترجمہ: لطیف بلیدی

کراچی، پاکستان :جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہاں ان متقی مردوں کی کوئی کمی نہیں ہے جنکا ماننا ہے کہ دنیا کے بیشتر مسائل اپنی عورتوں کی تھوڑی سی ٹھکائی کرکے حل کیے جا سکتے ہیں۔ اور مرد کو عورت کی تھوڑی سی ٹھکائی کرنے کے اس خداداد حق کے کاروبار نے پورے پاکستان کے متقی مردوں کو ایک جُٹ کیا ہے۔

چند ہفتے قبل پاکستان کے سب سے بڑے صوبے نے ایک نئے قانون کی منظوری دی جسے خواتین کیخلاف تشدد کے تحفظ کا پنجاب ایکٹ (پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائلینس ایکٹ) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے ان بنیادی اقدامات کی بِنا ڈالی ہے جو کہتے ہیں کہ ایک شوہر اپنی بیوی کو نہیں پیٹ سکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ممکنہ طور اپنے گھر سے بیدخلی کا بھی۔ اس میں ایک ہاٹ لائن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جس پر عورتیں بدسلوکی کو رپورٹ کرنے کیلئے کال کر سکتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں، مجرموں کو ایک جی پی ایس مانیٹر کیساتھ ایک کڑا پہننے کی ضرورت ہوگی اور انہیں بندوق خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

Dirty Old Men of Pakistan

Pakistan coalition of more than 30 religious and political parties

تیس (30) سے زائد مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ایک اتحاد نے اس قانون کو غیر اسلامی، پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کی ایک کوشش اور ہمارے سب سے زیادہ مقدس ادارے، یعنی خاندان، کیلئے ایک واضح اور موجود خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے اگر حکومت اسے واپس نہ لے تو۔ان کی منطق کچھ اس طرح سے ہے: اگر آپ سڑک پر کسی شخص کو پیٹتے ہیں تو یہ ایک مجرمانہ حملہ ہے۔ اگر آپ اپنی خوابگاہ میں کسی کی پٹائی کریں تو آپ اپنے گھر کی حرمت کے باعث محفوظ ہیں۔ آپ کسی اجنبی کو جان سے مار دیں تو یہ قتل ہے۔ اگر آپ اپنی بہن کو گولی مار دیں تو آپ اپنی غیرت کا دفاع کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نفیس لوگ، جو اس بل کیخلاف مہم چلا رہے ہیں، نہ یہ اپنی بیویوں کو پیٹنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنی بہنوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ صرف اپنے ہمزادوں کے ایسا کرنے کے حق کیلئے لڑ رہے ہیں۔

یہ صرف حزب اختلاف کی جماعتیں نہیں ہیں جو اس بل کیخلاف ہیں: حکومت کے مقرر کردہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اسے ہمارے مذہب اور ثقافت کے منافی قرار دیا ہے۔ اس کونسل کا بنیادی فریضہ اس بات کو یقینی بنانے کا ہے کہ ملک کے تمام قوانین شریعت کیساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔ لیکن بنیادی طور پر یہ مٹھی بھر بڈھوں کا ایک گروہ ہے جو یہ فکر لیے نیند کی آغوش میں جاتے ہیں کہ وہاں وہ ساری عورتیں ایسی ہیں جو انہیں اپنے بستر میں لیجانے کیلئے پھانسنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے اسی لئے اس کونسل میں کوئی متقی خواتین نہیں ہیں، اگرچہ پاکستان میں ان کی بھی کمی نہیں ہے۔

کونسل کے ماضی کے اعلانات نے ایک شخص کے کسی نابالغ سے شادی کرنے کے حق کا دفاع کیا ہے، دوسری یا تیسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی سے اجازت لینے کے اطلاق کو معطل کیا ہے، اور عورتوں کیلئے عصمت دری کو ثابت کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ شاید یہ ملک کا سب سے مراعات یافتہ غلیظ بڈھوں کا کلب ہے۔

ہم میں سے کچھ معمول کے مطابق ان متقی بڈھوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ محض چند پیٹ بھرے مذہبی جنونی نہیں ہیں۔ اصل میں وہ پاکستانی مردوں کی اجتماعی بدبختی کو ایک آواز فراہم کررہے ہیں کہ ان کی عورتیں آپے سے باہر ہیں۔ یونیورسٹی امتحانات کے نتائج کو دیکھ لیں؛ تمام اعلیٰ پوزیشن خواتین لے رہی ہیں۔ کسی بینک میں جائیں؛ وہاں ایک عورت اپنی سجاوٹی ناخنوں کیساتھ آپ کے پیسے گن رہی ہے۔ اپنا ٹی وی چلائیں؛ وہاں ایک خاتون صحافی ہے جو طاقتور مردوں سے سیاست اور کھیلوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

ان میں سے ایک صحافی حال ہی میں بل کی مخالفت کرنے والے ایک مشہور مفتی کو بھون رہی تھی۔ حیرت زدہ مفتی نے کہا: آپ ایک عورت ہیں یا آپ ٹی وی کی ایک صحافی؟ وہ کافی پیشہ ورانہ تھی اسی لئے دندان شکن جواب نہیں دیا: آپ کو ئی مفتی ہیں یا محض ایک اور بوڑھے احمق؟

اسے اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تین دہائیاں قبل، بیشتر پاکستانی خواتین جنکے پاس اجرتی ملازمتیں تھیں محض گھریلو خدمتگاری کیا کرتی تھیں اور دیگر ڈاکٹر، استانی یا کبھی کبھار وکیل جیسے روایتی پیشوں تک محدود تھیں۔ وہاں خواتین کی ایک دلیرانہ اور چھوٹی سی تحریک تھی۔ خواتین ناول لکھ رہی تھیں اور فلمیں بنارہی تھیں، لیکن وہ تعداد میں کم تھیں۔ اب وہ جہاز اڑا رہی ہیں، کمپنیوں کی سربراہی کررہی ہیں، سڑکوں پر پولیس کا کام سرانجام دے رہی ہیں، پہاڑوں پر چڑھ رہی ہیں، آسکر ایوارڈ جیت رہی ہیں اور نوبل انعام یافتہ ہیں۔ ملک بھر میں لاکھوں خواتین ایسی ہیں جو اپنے گھروں میں چھوٹے بیوٹی پارلر چلارہی ہیں اور دیگر عورتوں کو روزگار دے رہی ہیں اور اس سے انہیں کسی حد تک آزادی حاصل ہوئی ہے۔

لیکن ہر بینک ٹیلر یا کیشیئر کی نسبت وہاں اب بھی لاکھوں خواتین ایسی ہیں جو صرف مزارع یا گھریلو خدمتگار ہیں۔ ہر ٹی وی صحافی کی نسبت بہت سی خواتین ایسی ہیں جو نصف غلامی میں رہ رہی ہیں، دھلائی اور صفائی کرتی ہیں، اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انکی پرورش کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھائے ہوئی ہیں۔

چلیں صرف ملاوں اور مفتیوں کو دوش نہیں دیتے ہیں۔ زن بیزاری یا عورت سے نفرت کسی بھی مذہب سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جنہوں نے کبھی بھی کسی مسجد کو اندر سے نہیں دیکھا ہے یا وہ صوفی جو کائنات کیساتھ ایک ہونا چاہتے ہیں کسی عورت کیساتھ ایک آفت جاں یا پالتو بکری کے درمیان کی سی شے جیسا برتاو کرنے سے قبل دو بار نہیں سوچیں گے۔

جب یہ بل پنجاب اسمبلی میں منظور کیا جا رہا تھا تو پارلیمنٹ کے بعض اراکین اس سے دور رہے۔ وہ شاید اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم میں سے چند خود کو حقوق نسواں کا علمبردار کہتے ہیں۔ ”دیکھیں، میں نے اپنی بہن کو اسکول جانے سے کبھی نہیں روکا ہے، اپنی گرل فرینڈ کو کبھی بھی آنکھیں نہیں دکھائی ہیں۔ یہ مجھے حقوق نسواں کا علمبردار بناتے ہیں، ٹھیک ہے؟ لیکن ہمیں اپنے خاندانوں کی حفاظت ضرور کرنی ہے۔ آپ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ خاندان سے محبت کرنے والا حقوق نسواں کا علمبردار کوئی شخص ایک جی پی ایس ٹریکر کیساتھ پھرتا رہے، کیا آپ ایسا چاہتے ہیں؟“

وہ بات جو واقعی حقوق نسواں کے نام نہاد علمبردار مردوں کو خوفزدہ کیے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ اصل میں کئی خواتین اب ایک عورت ہونے کے بارے میں بات کرنے سے بور ہو چکی ہیں۔ وہ اپنے کام کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ایک فلم ڈائریکٹر برے اداکار کے بارے میں بات کرتی ہے۔ ایک ترقیاتی کارکن فنڈنگ کے بھونڈے طور طریقوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ ایک نوکرانی اپنے سیل فون اور ڈٹرجنٹ کے معیار کے بارے میں بات کرتی ہے۔

میرے پڑوس میں ایک عورت ہے جو تیزی سے چلتی ہے۔ وہ ہمیشہ دو بچے اپنی بغل میں لیے ہوئے ہوتی ہے۔ شیرخوار نہیں بلکہ تین چار سالہ تنومند بچے، بھاری اور وزن دار۔ وہ تیزی سے چلتی ہے۔ جب آپ نے دو بچے اٹھائے ہوئے ہوں تو شاید آپ کو تیزی سے چلنا پڑتا ہے۔ اسے وہاں کثرت سے گزرنے والی گاڑیوں سے لفٹ ملنے کی توقع نہیں ہے۔ وہ ٹیکسی کا کرایہ ادا نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے بس کی جانب جا رہی ہے۔ ہمیشہ اپنے بغل میں دو بچے لیے اور اپنے کندھے کے گرد ایک بیگ کیساتھ۔ وہ لوگوں کے گھروں میں قرآن کا سبق پڑھاتی ہے۔

مجھے نہیں لگتا کہ وہ تمام متقی مرد، یا کوئی اور، دو بچے اٹھائے ہوئے اس عورت کو یہ بتا سکتے ہوں کہ اسے اپنے روزانہ کی پیدل مسافت کس طرح سے طے کرنی چاہیے۔ اگر کوئی اس سے یہ پوچھے کہ اس معاشرے میں ایک عورت ہونا انہیں کیسا لگتا ہے تو شاید وہ یہی جواب دے گی کہ ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کام کر رہی ہوں؟“

محمد حنیف ”اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز“ اور ”آور لیڈی آف ایلس بھٹی“ ناولوں کے مصنف، ”بھٹو“ کے اوپیرا کیلئے غنائیہ نگار اور نیو یارک ٹائمز کے مراسلاتی رائے دہی کے لکھاری ہیں

بشکریہ: نیو یارک ٹائمز، یکم اپریل 2016

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s