ریاست کے کچھ پلانٹڈ لوگ بلوچ قومی تحریک آزادی کو نقصان پہنچارہے ہیں ،مہران بلوچ


mehran-baloch

کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ رہنما مہران بلوچ نے سنگر آن لائن کو دئیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ حیر بیار مری میرے بھائی ہیں میرا ان کے ساتھ نہ کوئی ذاتی رنجش تھی اور نہ ہے،کرپشن الزام کے حوالے سے میں بلوچ قوم اور بلوچ رہنماؤں کے سامنے اور ان کی عدالت میں احتساب کے لئے ہمیشہ تیار تھا اور ہوں بشرطیکہ دوسرا پارٹی بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرے یہ ممکن نہیں کہ الزام لگانے والا کہے کہ عدالت بھی میرا، جج بھی میرے اور تم صرف اپنے آپ کو میری عدالت کے سامنے احتساب کے لئے پیش کریں۔

حیربیار مری اور بابا وطن خیربخش مری کے درمیان اختلافات کی اصل وجوہات تو شاید حیر بیار صاحب ہی بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جس سے انہوں نے اپنا راستہ نواب صاحب سے الگ کرلیا۔ نواب مری کا چونکہ خیال تھا کہ یہاں میڈیا آزاد نہیں ہے اور اگر اختلافاتات میڈیا پر لائے جائیں تو ریاست اور اس کے ادارے اس صورت حال کو ایکسپلوآئٹ کرکے اپنے مفاد میں استعمال کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئی ایس آئی نے ایک میڈیا سیل بنارکھا ہے جن کا کام بلوچ تحریک میں ابہام ، غلط فہمیاں اور دیگر طرح کے حربے استعمال کرکے تحریک کو نقصان پہنچانا ہے اب یہ بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں اور رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ ان کا کس طرح سے مقابلہ کریں گے۔براہمدغ بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہابراہمدغ بگٹی نے کوئی یوٹرن لی ہے اور میرا نہیں خیال کہ اتنی بڑی قربانیاں دینے کے بعد وہ کوئی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اس تحریک کے لئے نہ صرف براہمدغ بگٹی، ان کے خانداں، قبیلے نے بڑی قربانیاں دیں بلکہ ان کے پارٹی کے بے شمارکارکنوں اور رہنماؤں نے اس تحریک کے لئے اپنا خون پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا جن کی جڑیں بلوچ عوام میں نہ ہوں ان کا بلوچ قوم کی رہنمائی کامحض دعوی کرنے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔اب بلوچ قوم اتنی باشعور ہو چکا ہے کہ اب کوئی شعبدہ باز اپنے سٹنٹس سے جیسے کہ کبھی جرگہ بلانا، کبھی انٹرنیشنل کورٹ کا ڈرامہ رچانا اور کبھی دشمن کو یہ باور کرانا کہ میرے واپس آجانے سے بلوچ تحریک آزادی کو خیر باد کہہ دیں گے اگر ان سٹنٹمینوں کے سٹنٹس یا آنے جانے سے بلوچ تحریک کمزور ہوتا تو پاکستان یہ کب کا آزما چکا ہوتا۔جہاں تک ہماری غلط حکمت عملی کا تعلق ہے تو یقیناًہم سے بھی بہت ساری غلطیاں و کوتاہیاں ہوئیں ہونگی جس کے سبب ہمیں نقصان اٹھانا پڑا ۔

میں پاکستان کی ناکامیوں کو بھی بلوچ سفارتی کامیابی تصور کرتا ہوں۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s