بلوچستان اندرون و بدون خانہ


BNF Relly At Karachi Press club 10-2-2013 26

تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

بلوچ نے بدترین مظالم سہے ہیں اور راجہ پرویز اشرف کا حالیہ بیان اچھا شگون نہیں ہے

Mir Muhammad Ali Talpurوزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ’بلوچستان کی صورتحال: تصورات اور حقائق، آگے بڑھنے کا راہیں‘، جسے اسلام آباد میں فوج کے زیر انتظام نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کی طرف سے منظم کیا گیا تھا، کے قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ”چھوٹے علاقوں میں بدامنی“ پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیا تو یہ دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہیں۔ بعد میں انہوں نے اس کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ ”چھوٹے علاقوں“ میں بدامنی کا موازنہ بغاوت کیساتھ نہیں کیا جا سکتا۔

Balochistan within and without

وہ دونوں حوالوں سے غلط تھے: وہاں بغاوت ہورہی ہے اور یہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے، اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ مقتدرہ (اسٹابلشمنٹ) انتہائی پریشان اور مضطرب ہے۔

آئیے بلوچستان کے تناظر میں بغاوت کا جائزہ لیتے ہیں۔ بلوچستان اسوقت سیاسی بغاوت کے ساتھ ساتھ مسلح بغاوت سے بھی گزر رہا ہے۔ اصولی طور پر سیاسی بغاوت اپنی فراست اور وسعت کے لحاظ سے زیادہ نفوذ پزیر ہوتی ہے اسی وجہ سے ریاست کیلئے زیادہ مضمحل کن ہوتی ہے۔ سیاسی اور مسلح بغاوتیں ایک مہلک مرکب کی صورت میں ہمیشہ ایکدوسرے کی تکمیل کرتی اور ایک دوسرے کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ بغاوت کی تشریح کچھ اس طرح سے ہے کہ ”ایک منظم تحریک جسکا مقصد تخریب کاری اور مسلح تصادم کے استعمال کے ذریعے کسی قائم شدہ حکومت کا تختہ الٹنا ہو۔“ بغاوت اور گوریلا جنگ کو اکثر دہشتگردی کا مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن اہم فرق یہ ہے بغاوت ایک تحریک ہوتی ہے، کسی مخصوص سیاسی مقصد کیساتھ کی گئی ایک کوشش اور یہی چیز اسے دہشتگردی سے ممتاز کردیتی ہے۔ بغاوت کا حتمی مقصد کسی موجودہ حکومت کے علاقے کا مکمل یا جزوی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے اسے چیلنج کرنا، یا سیاسی طاقت کا اشتراک کرنے کیلئے سیاسی مراعات دینے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ بلوچ باغی بلوچستان کی سیاسی اور زمینی کنٹرول کیلئے ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں۔

بغاوتوں کو ملوث آبادی کے کچھ حصے کی فعال یا خاموش حمایت کی ضرورت ہوتی ہے؛ انتہائی جابرانہ اقدامات کے باوجود حکومت کی ناکامی سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ بغاوت کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔

بلوچ قوم پرستوں نے اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ سست رفتار نسل کشی اور گوادر جیسے میگا پروجیکٹس کے ذریعے آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی انہیں اپنی ہی سرزمین پر ایک اقلیت میں تبدیل کر سکتی ہے، لہٰذا انہوں نے بطور ایک قوم کے اپنی بقاء کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کا ایک شعوری انتخاب کیا ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ انکی آزادی کے حق کیلئے تاریخی اور سیاسی بحث بیکار ہے چونکہ جو قوتیں یہاں کا نظام چلارہی ہیں ماسوائے طاقت کے کسی اور چیز پر دھیان نہیں دیتیں۔

بلوچ قوم پرستی کوئی نیا رجحان نہیں ہے چونکہ دیسی باشندوں نے ہمیشہ ثابت قدمی کیساتھ حملہ آوروں کیخلاف اپنی سرزمین کا دفاع کیا ہے جیسا کہ برطانوی راج کیخلاف انکی مزاحمت سے ثابت ہوتا ہے۔ تمام بلوچ خود کو نوآبادیات مخالف جدوجہد کیساتھ مشخص کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ صدی کی پہلی چوتھائی میں بین الاقوامی سیاسی واقعات نے سیاسی بیداری کیساتھ بلوچ قوم پرستی کی پشتی بانی کی اور اس نے اسے قبائلی حدود سے بالاتر ہونے میں مدد دی اور یہ آہستہ آہستہ حقیقی معنوں میں روحانی اور مادی طور پر ایک قومی جدوجہد بن گئی۔

بلوچستان میں بغاوت 1948ء کے بعد سے فراست اور شدت کے مختلف درجات کیساتھ برقرار رہی ہے۔ اپنے سیاسی مستقبل اور وسائل پر کنٹرول کے ان کے جائز مطالبات پر مسلسل اور متکبرانہ بے اعتناعی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ کے رویوں اور عزم میں سختی اور پختگی آتی گئی۔ موجودہ دور کی بغاوت اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں کی نسبت سب سے زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر ہے، جیسا کہ ہر بغاوت ہر حوالے سے پچھلی کے مقابلے میں معیار کے لحاظ سے اعلیٰ تر سطح پر رہی ہے۔

اس طویل اور وسیع پیمانے پر پھیلی سیاسی اور مسلح بغاوت کو ’غیر ملکی عناصر کی طرف سے متحرک کردہ کارستانی‘ کے طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس جبر اور محرومی پر بلوچ عوام کی ناراضگی اور مایوسی کی شدت اور وسعت کا عکس ہے اور یہ ایک انقلابی تبدیلی کیلئے ان کی خواہش کا واضح اظہار بھی ہے۔

مارچ 1948ء میں بلوچستان کے پاکستان کیساتھ جبری اور غیر قانونی الحاق نے بلوچ قوم پرستی میں مزید جوش و ولولہ پیدا کیا اور انکی قومی جدوجہد نے واقعتا ایک سیاسی ہیئت اختیار کرلی۔ ریاست کی ہر نئی جارحیت آزادی کی جدوجہد کے مقاصد کیساتھ بلوچ معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے زیادہ بڑے پیمانے پر اس سے مشخص ہونے پر منتج ہوئی۔ 15 جولائی 1960ء میں مختصر فوجی سماعتوں کے بعد حیدرآباد اور سکھر جیل میں سات بلوچ شہداء کی پھانسی نے ایک آزاد بلوچستان کے قوم پرست خواب کو مزید تقویت دی اور میر شیر محمد مری اور علی محمد مینگل کی بالترتیب مری اور مینگل علاقوں میں جدوجہد کی وجہ بنی۔

تاہم، یہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے فروری 1973ء میں سردار عطاءاللہ مینگل کی منتخب حکومت کی غیر قانونی برطرفی اور اسکے نتیجے میں ہونیوالا فوجی آپریشن تھا جس نے واقعتا بلوچ جدوجہد آزادی کو بھڑکایا اور اس نے آزادی کیلئے قوم پرستوں کے غیرمصالحانہ موقف کو بنیادی مقصد بنتے دیکھا۔

موجودہ مرحلہ جنوری 2000ء میں جسٹس محمد نواز مری کے قتل کے جھوٹے الزامات پر نواب خیر بخش خان اور ان کے حامیوں کی گرفتاری کیساتھ شروع ہوا۔ پھر 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کے قتل اور اسکے بعد 2007ء میں میر بالاچ خان مری کے قتل نے مفاہمت کی تمام راہیں بند کردیں۔

مارچ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کے افتتاح کیساتھ، بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے انکے عزم کا پہلا امتحان سردار اختر مینگل کی مسلسل حراست کی شکل میں آیا اور وہ بری طرح ناکام ہوئے۔ انکے ملازموں کی طرف سے دو فوجی انٹیلی جنس اہلکاروں کیساتھ مبینہ بدسلوکی کیلئے انہیں نومبر 2006ء میں گرفتار کیا گیا تھا، پیپلز پارٹی کے وعدوں کے باوجود وہ مئی 2008ء تک قید میں رہے۔ وہ فوج کی رضامندی کے بغیر انہیں رہا نہ کر سکے۔ تمام سویلین حکومتیں ”فوج کی منشا“ کی مرہون منت ہوتی ہیں اور بلوچ یا بلوچستان پر آزادانہ طور پر فیصلہ نہیں کر سکتیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے صرف وعدوں، پیشکشوں، معافی اور غیر موثر کمیشنوں کیساتھ زبانی جمع خرچ کیا ہے۔ بلوچوں نے انکے دور حکومت میں بدترین مظالم سہے ہیں اور راجہ پرویز اشرف کے حالیہ بیانات کوئی اچھا شگون نہیں ہیں۔

بلوچ، کہ جنہیں ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، کیخلاف ریاست کے وسوسے کی جڑیں اب مزید گہری ہوچکی ہیں اور اس نے غیر مصالحانہ رویہ اختیار کرلیا ہے۔ بلوچ کے حوالے سے ریاست کے غیر مصالحانہ رویے کے پیچھے ایک سبب موجود ہے۔ ’مقتدرہ‘ کی ترجیح صرف اور صرف بلوچستان کے قیمتی رئیل اسٹیٹ اور وسائل ہیں، اور یہ بنگلہ دیش میں اس حماقت کی ایک نقل ہے۔

مقتدرہ کی یہ ناقص اور خطرناک بلوچ پالیسی کی جڑیں بہت گہری، انتہائی مضبوط اور انتہائی حد تک ہٹ دھرم ہیں، یہاں تک کہ یہ ایسے اقدامات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ جس سے قوم پرستوں کو کم از کم بات چیت کرنے پر اتفاق کرنے کیلئے کوئی عذر ملے۔ فوج بلوچستان میں اپنی مالیاتی، تجارتی اور اسٹراٹیجک مفادات کے ذریعے چمالنگ اور کاسا کی پہاڑیوں کے سنگ مرمر منصوبوں جیسے اقتصادی منصوبوں کا انتظام چلاتی ہے اور یہاں تک کہ 14 اگست کی تقریبات کا میدان بھی سجاتی ہے، یہ موجودہ جابرانہ اور غیرمصالحانہ پالیسی کے خاتمے کی کسی بھی رضاکارانہ کوشش سے باز رکھتی ہے یا سویلین لوگوں کو وہاں کے معاملات میں بات کرنے کی اجازت تک نہیں دیتی۔

سویلین حکومت یا سیاسی حزب اختلاف کے رہنماوں کی متوقع خواہش کی بنیاد پر بلوچ مسئلے کا ایک دوستانہ اور پرامن حل تب تک ناقابل حصول ہے جب تک کہ بلوچستان میں فوج کا مفاد اور اثر و رسوخ نہ صرف سویلین کنٹرول سے متجاوز بلکہ در حقیقت اسکی جگہ لینا جاری رکھے، جیسا کہ بلوچستان کے گورنر، وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور متفرق وزراء کی طرف سے عوامی سطح پر لگائے گئے الزامات میں کہا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان میں ایک متوازی حکومت چلارہی ہے۔

سپریم کورٹ، جو کہ اس حد تک طاقتور ہے کہ ایک وزیر اعظم کو معزول کرلے لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والے حیلے باز ایف سی کیخلاف خود کو لاچار پاتی ہے۔ ایف سی کیخلاف بلوچوں کے اغواء اور قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود کسی پر بھی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ایف سی حیلے بازی کرکے اپنے صوابدیدی اختیارات سے دستبردار ہونے سے کترا رہی ہے اور یہ امر مستقبل قریب میں بلوچ کیخلاف اس ’غلیظ جنگ‘ کے خاتمے کو خارج از امکان بنادیتی ہے۔

ایک غیر موثر آغازِ حقوق پیکج اور مفلوج این ایف سی ایوارڈ بلوچ کیخلاف جاری ’غلیظ جنگ‘ کے حوالے سے انکی ناراضگی اور غم و غصہ کا رخ موڑنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ فقط گزشتہ 18 مہینوں میں 500 سے زائد اغواء شدہ بلوچوں کی لاشوں نے صوبے کے زمین کو انکے خون سے رنگا ہے۔ بلوچ موقف بھی قدرتی طور پر سخت گیر ہوچکا ہے اور اسکا اظہار موجودہ دور کے مسلسل اور بڑے پیمانے پر کی جانیوالی بغاوت میں پایا جاتا ہے۔ اس موجودہ صورتحال کیساتھ قابل قیاس مستقبل میں ایک پرامن حل کی کوئی امید نہیں ہے۔

مقتدرہ اس بات کو نہیں سمجھتی کہ بلوچستان میں جبر اور ’غلیظ جنگ‘ کی حکمت عملی یقینی طور پر معاملات کو آگے بڑھانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے، 29 جولائی 2012

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s