ڈومپاس


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

نوآبادکار جانتے ہیں کہ ڈومپاس بذات خود تسلی بخش انداز میں آبادی کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی لئے وہاں پر دیگر تکمیلی میکانزم اور انتظامات ہونے چاہیئیں تاکہ اس مکمل کنٹرول کو یقینی بنا سکیں جسکے وہ آرزومند ہیں

Mir Muhammad Ali Talpurجنوبی افریقہ میں نوآبادکاروں کو پتہ تھا کہ انہیں مخالفت کی تمام شکلوں کو کنٹرول کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے مطابق آبادیاتی خصوصیات کی تبدیلی کو منظم کریں اور اسکی نگرانی کریں۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے ایک پاس متعارف کروایا جسے افریکانز (زبان) میں سیاہ فاموں، وہ لوگ جو اس غیرانسانی اور توہین آمیز ہتھکنڈے سے متاثر تھے، انہیں کنٹرول کرنے کیلئے جو اس زمین کی حقیقی مالکان تھے، کی طرف سے ’ڈومپاس‘ (ڈمب پاس) کہا جانے لگا جسکا مطلب ’احمق پاس‘ ہے۔ پاکستان نے بلوچ عوام کیلئے اپنے ڈومپاس کا نسخہ نکالا ہے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں اسے کھلی چھوٹ حاصل ہو۔ انہوں نے اسکی ابتداء گوادر سے کی ہے لیکن یہ پورے بلوچستان میں پھیل جائیگی کیونکہ وہ گوادر سے کاشغر تک اُڑ کر نہیں جا سکتے اور انہیں نقل و حمل کیلئے زمین استعمال کرنی پڑے گی جس سے راستوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ ان کے کٹھ پتلی ڈاکٹر عبدالمالک نے پہلے ہی سے تشویش کا اظہار کردیا ہے: ”گوادر کاشغر شاہراہ کی تعمیر پر جب بھی کچھ پیش رفت ہوتی ہے تو دشمن عناصر امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔“ انکی نیت پورے بلوچ عوام کیلئے ڈومپاس کے نظام کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک سیکورٹی اقدام ہوگا لیکن بعد میں آخرکار بلوچستان میں نسلی امتیاز پر مبنی رنگبھیدی نظام قائم کر دے گا۔

Dompas

پاس کے قوانین کا مقصد رنگبھید کے تحت افریقیوں کی تحریک کو کنٹرول کرنا تھا اور جسکی بتدریج ارتقاء ان ضابطوں سے ہوئی جو 18 ویں اور 19 ویں صدی میں کیپ کالونی کے ڈچ/ ولندیزی اور برطانوی غلام دارانہ معیشت کی طرف سے عائد کی گئی تھیں۔ 19 ویں صدی میں پاس کے نئے قوانین نافذ کیے گئے تاکہ سونے اور ہیروں کی کانوں کیلئے سستا اور مطیع افریقی محنت کشوں کی قابل اعتماد فراہمی یقینی بنائی جائے۔ 1952ء کے پاس قوانین ایکٹ کے تحت 16 سال سے زائد عمر کے سیاہ فام جنوبی افریقیوں کیلئے ہر جگہ اور ہر وقت ڈومپاس ساتھ رکھنا لازمی تھا۔ ڈومپاس اس شخص کے بارے وسیع معلومات کیساتھ بھری ہوئی ہوتی۔ اس میں انگلیوں کے نشانات، تصاویر، روزگار کی ذاتی تفصیلات، ملک کے ایک مخصوص حصے میں رہنے کیلئے حکومت کی اجازت، اس علاقے میں کام کرنے یا روزگار ڈھونڈنے کی اہلیت اور اس مزدور کی کارکردگی اور رویے پر آجر کی رپورٹیں شامل ہوتیں۔ اگر کوئی مزدور اپنے آجر کو ناراض کردیتا اور وہ معقول وقت کی مدت کیلئے اس کتابچے کی توثیق کرنے سے انکار کردیتا تو اس مزدور کا اس علاقے میں رہنے کا حق خطرے میں پڑ جاتا۔اگر پاس بک میں مزدور کے بارے میں کوئی منفی تاثر درج ہوتا تو پاس کے قانون کے مطابق سرکاری حکام کے پاس مزدور کو اس علاقے سے بے دخل کرنے کا اختیار ہوتا۔ اسے ’توثیقی اخراج‘ کے طور پر جانا جاتا تھا اور اس پر کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے عملدرامد کیا جاسکتا تھا۔ حکام کو ان کی کارروائیوں کیلئے کوئی وضاحت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ’توثیقی اخراج‘ زدہ مزدور کے خاندان کے افراد کا اس علاقے میں رہنے کا حق سلب کیا جاتا اور انہیں بے دخلی اور بانتستان (سیاہ فام آبادی کیلئے مقرر کردہ علاقہ) میں جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ڈومپاس کو اپنے ساتھ رکھنے کو بھول جانا، گم کردینا یا چوری ہوجانا کسی کیلئے گرفتار اور قید ہوجانے کا موجب ہوتا۔ ہر سال 250,000 سے زائد سیاہ فاموں کو پاس قانون کے تحت تکنیکی جرائم کیلئے گرفتار کیا جاتا۔ اس کے نتیجے میں ڈومپاس رنگبھید کے سب سے زیادہ قابل نفرت شے کی علامت بن گیا۔ جب تیزی سے مہنگے اور غیر موثر ہوتے پاس قوانین کو 1986ء میں منسوخ کر دیا گیا تو اس وقت تک یہ قوانین 17 ملین گرفتاریوں کی وجہ بنے۔

لوگوں نے اپنی جانوں کی قیمت پر نوآبادکاروں کی طرف سے نافذ اس ظالمانہ کنٹرول کیخلاف مزاحمت کی۔ لوگوں نے مختلف طریقوں سے مزاحمت کی۔ پھر 21 مارچ 1960ء میں شیپروِل قتل عام ہوا جب 5,000 سے 7,000 کے درمیان مظاہرین کا ایک گروہ جوہانسبرگ کے قریب شیپروِل کی بستی میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن پر اکٹھا ہوئے اور پاس بک نہ رکھنے پر خود کو گرفتاری کیلئے پیشکش کیا تو جنوبی افریقہ کی پولیس نے سیاہ فام مظاہرین کی بھیڑ پر فائر کھول دیا، اس میں 69 افراد ہلاک، ان میں سے کئی کو پیٹھ میں گولیاں ماری گئیں، اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ دو اہم تنظیموں، افریقی نیشنل کانگریس (اے این سی) اور پین افریکن کانگریس (پی اے سی)، دونوں نے پرامن جدوجہد چھوڑ دی اور مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا۔

نوآبادکار جانتے ہیں کہ ڈومپاس بذات خود تسلی بخش انداز میں آبادی کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی لئے وہاں پر دیگر تکمیلی میکانزم اور انتظامات ہونے چاہیئیں تاکہ اس مکمل کنٹرول کو یقینی بناسکیں جسکے وہ آرزومند ہیں۔ سفید فام جنوبی افریقیوں نے اس کے حصول کیلئے بانتستان بنائے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے راستے سے ملحقہ علاقوں کو آہستہ آہستہ بانتستانوں میں تبدیل کر دیا جا سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں 1950ء کا گروپ ایریاز ایکٹ نے زمینوں کی تقسیم کی، جہاں کالے اور گورے الگ الگ رہائشی علاقوں میں مقیم تھے۔ اس ایکٹ نے جنوبی افریقہ میں مختلف علاقے قائم کیے جہاں ہر نسل کے لوگ اپنے الگ علاقے میں رہ اور کام کرسکتے تھے جس میں امتیازی طور پر سفید فاموں کیلئے بہترین، شہری صنعتی اور زرعی علاقوں کو ایک طرف قائم کیا گیا تھا۔ کالوں پر ان علاقوں میں جگہ کرائے پر لینے یا جائیداد پر قبضہ حاصل کرنے کی ممانعت تھی جنہیں ’سفید فام زون‘ تصور کیا جاتا تھا جب تک کہ انہیں ریاست کی طرف سے اسکی اجازت نہ دی جاتی۔ گوادر ریزیڈینس پاس کا پورا مقصد ایک ایسا علاقہ بنانا ہے جہاں بلوچ کے داخلے کو اپنی مرضی کیمطابق محدود اور کنٹرول کیا جاسکے، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ چینی وہاں محفوظ ہوں خواہ یہ حفاظت بلوچستان میں رنگبھید کا میکانزم قائم کرنے کی قیمت پر ملے۔

چین صرف اپنے ڈالروں کی سرمایہ کاری کیلئے اپنا منافع چاہتا ہے۔ یہ کسی کا دوست نہیں ہے اور اسے اپنی منفعت کے سوا کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے خواہ یہ منفعت جبر اور فوجی کارروائیوں کی قیمت پر ملے جو کہ بلوچ پر بھاری نقصانات کی کاری ضرب لگا رہی ہیں۔ ایک چینی کمپنی، زونرجی کمپنی، جو کہ پنجاب میں 900 میگاواٹ کا سولر پاور پراجیکٹ بنا رہی ہے۔ پاکستان جنوری 2016 سے 14.15 سینٹ فی یونٹ سے 9.25 سینٹ فی یونٹ تک نرخوں میں کمی کی نظر ثانی پر غور کر رہی ہے۔ اس کمی نے چین کو مشتعل کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ منافع میں اس کمی سے پاکستان میں سی پی ای سی پروگرام کے تحت کام کرنے والے چینی کاروباری اداروں پر ایک تباہ کن اثر پڑے گا۔ چین کا بلوچستان میں ہونا بلوچ کیلئے نہیں ہے، حتیٰ کہ پاکستانیوں کیلئے بھی نہیں ہے۔ یہ منافع چاہتا ہے خواہ وہ بلوچ کے خون سے ہی رنگا کیوں نہ ہو۔

چین اور پاکستانی اسٹابلشمنٹ کے درمیان گٹھ جوڑ کوئی حیران کن بات نہیں ہے چونکہ دونوں کو صرف منافع نظر آرہا ہے، انہیں لوگوں کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ بات پھر ہمیں بلوچ کی جانب لیجاتی ہے جو 27 مارچ 1948ء کے بعد سے جبر اور اپنے وسائل کے لوٹ مار کیخلاف مزاحمت کرتے آرہے ہیں۔ بلوچ کے پاس اور کوئی متبادل ہے ہی نہیں ماسوائے اسکے کہ وہ اپنی جانوں کے نذرانوں کیساتھ اپنے حقوق اور وسائل کی حفاظت کریں اور حتیٰ کہ حکومت بھی مانتی ہے کہ اس سال 8,000 سے زائد افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے نائب چیئرمین، نے گزشتہ سال کہا تھا کہ 20,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

جب لوگ یہ دیکھیں کہ انکا وجود داو پر لگا ہوا ہے، جیسا کہ جنوبی افریقہ کے سیاہ فام تھے، تو وہ ان لوگوں کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں جو انکا استحصال کریں اور پاس قانون جیسی چیزوں کیساتھ انکے وقار کی توہین کریں۔ بلوچ مزاحمت تو کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں پاکستان کی عام آبادی کے درمیان کوئی حمایت حاصل نہیں ہے کیونکہ جب انہیں علیحدگی پسند اور دہشتگرد کا لیبل لگا دیا گیا ہو تو بظاہر انہیں انسانی ہمدردی کے لائق بھی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ جو آج خاموش ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ لوگ جو منافع اور فقط منافع کے متلاشی ہیں بالآخر اپنے مظالم کا شکار کرنے کے انتخاب میں امتیازی سلوک نہیں برتیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی بالکل ایسے ہی سلوک کیلئے اس قطار میں کھڑے ہوں جو آج بلوچ کیساتھ برتا جارہا ہے۔

مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 15 نومبر 2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s