قاصدین اور نائب قاصدین


تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ بلوچ کو یہ بتانا کیوں ضروری ہے کہ وہ محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں

Mir Muhammad Ali Talpurچند روزقبل اسلام آباد کے نصب کیے ہوئے بلوچستان کے مبینہ طور پر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے قومپرست وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے ایک اجلاس میں کہا کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو ان کی احساس محرومی دور کرنے کیلئے بڑے منصوبوں، بشمول چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے، میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سی پی ای سی خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیگی اور ایک بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کریگی۔ جنرل نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں۔ مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ بلوچ کو یہ بتانا کیوں ضروری ہے کہ وہ محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں؛ شاید اسٹابلشمنٹ یہ سوچتی ہے کہ اگر اس منتر کو مسلسل دہرایا جائے تو آخرکار بلوچ اپنے حقوق سے دستبردار ہوجائینگے اور راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹیبلوں سے بطور صدقہ جو کچھ بھی ان کی طرف پھینکا جائے وہ اسے قبول کرلیں گے۔

Qasids and naib qasids 

گزشتہ ماہ ڈاکٹر عبدالمالک نے ملازمتوں پر بلوچستان کی دیرینہ شکایات دور کرنے کیلئے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے حکام سے کہا کہ وہ پروازوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور غیر فعال ہوائی اڈوں کو بحال کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو دیگر وفاقی اداروں کی ملازمتوں میں بھی ان کا جائز حصہ دیا جانا چاہئے۔ تاہم، یہ صرف ڈاکٹر عبدالمالک نہیں ہیں جو بلوچ عوام کی ملازمتوں کے بارے میں فکر مند ہیں جیسا کہ جی پنگ، چائینیز پیس ڈویلپمنٹ فاونڈیشن (سی پی ڈی ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر، بھی پریشان لگتے ہیں۔ جولائی میں انہوں نے کہا کہ ملٹی بلین ڈالر لاگت والا سی پی ای سی منصوبہ تکمیل کے بعد گوادر کے عوام کیلئے روزگار کے مواقع یقینی بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی سرگرمیاں گوادر کے عوام کی طرز زندگی بدل دیں گی۔ سی پی ڈی ایف کے چیئرمین بی زونگ نے بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کریں گے۔ جہنم کی جانب لیجانیوالی سڑک نیک نیتی کیساتھ پکی کی جارہی ہے۔

Adv 1

پاکستانی اسٹابلشمنٹ کی خیر سگالی چیف اکاونٹس آفیسر جیولوجیکل سروے آف پاکستان کوئٹہ کے دفتر سے جاری کردہ ایک حالیہ اشتہار سے ظاہر ہو جاتی ہے جس میں ڈیٹا انٹری آپریٹر/کے پی او (بیسک پے اسکیل/ بی پی ایس گریڈ 14)، جس کیلئے درکار قابلیت بی کام یا بی اے/ بی ایس سی ہے۔ ان آسامیوں کی تقسیم اس طرح ہوگی: میرٹ: ایک، پنجاب: تین، سندھ: دو، خیبر پختونخوا: ایک اور فاٹا: ایک، لیکن بلوچستان کیلئے کوئی بھی نہیں۔ اسی اشتہار میں دو جونیئر آڈیٹر (بی پی ایس 11) کیلئے خالی آسامیاں، پنجاب کیلئے ایک اور سندھ کیلئے ایک ہیں۔ نچلے درجے کے تین کلرک (بی پی ایس 7) کیلئے تین خالی آسامیوں میں میرٹ پر: ایک، پنجاب: ایک اور خیبر پختونخوا: ایک۔ آخر میں باری آتی ہے قاصد (بی پی ایس 2) کی جہاں مقامی لوگوں کیلئے دو خالی آسامیاں موجود ہیں۔ سب سے آخری نائب قاصد (بی پی ایس 1) آتا ہے اور یہاں مقامی لوگوں کیلئے آٹھ آسامیاں خالی ہیں۔

مقامی لوگوں یعنی بلوچستان میں رہنے والوں کیلئے صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ ہے قاصد اور نائب قاصد کے عہدوں کا۔ قاصد اور نائب قاصد کے بارے میں چند الفاظ سے اس مضمون کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی؛ درحقیقت اس کا ترجمہ چپڑاسی اور نائب چپڑاسی ہے، یعنی پاکستانی حکومت کی نوکریوں میں بیسک پے اسکیل (بی پی ایس)/ بنیادی تنخواہ کے پیمانے پر سب سے نیچے۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان مختلف افسران کیلئے چھوٹے موٹے کام سرانجام دیں جن کیلئے وہ کام کرتے ہیں، اپنا آپ اور اپنی نوکری برقرار رکھنے کیلئے کسی قسم کا ناگوار عمل کیے بغیر اور انہیں زندہ رہنے کیلئے بعض اوقات ان افسران کے گھروں میں بھی یہی کام کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سماجی اور اقتصادی سیڑھی کا آخری زینہ ہے جس کیساتھ لوگ اس بے رحمانہ مسابقت کی حامل کتا کھائے کتے کو، آدمی کھائے آدمی کو، فرقہ کھائے فرقے کو والے پاکستان میں زندہ رہنے کیلئے چمٹے رہتے ہیں۔

مقامی کی اصطلاح بھی ایک انتباہ کیساتھ آتی ہے چونکہ کوئی بھی کسی جعلی ڈومیسائل اور یکساں طور پر آسانی سے ملنے والے شناختی کارڈ کیساتھ مقامی ہو سکتا ہے، جیسا کہ جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری کی طرح کا بلوچستان کے ڈومیسائل کیساتھ کوئی غیر بلوچ، یکساں طور پر مشہور ارسلان چوہدری کے والد، یا مناسب تعلقات کیساتھ جو کسی بھی طرح کے تناقس کو نظر انداز کرلیں۔ یہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے جنہوں نے گزشتہ ماہ صوبائی کوٹہ کی بنیاد پر روزگار دینے سے پہلے بلوچستان کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی جانچ پڑتال کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت پر زور دیا تھا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان میں بلوچ کیلئے حتیٰ کہ قاصد اور نائب قاصد کی نوکریوں پر بھی پابندی ہے، مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالمالک پی آئی اے اور دیگر وفاقی اداروں میں ملازمتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں؛ دعا کریں، پتہ نہیں انہیں وہاں کونسی نوکریوں کی پیشکش کی جائے گی؟

Adv 2

یکم اکتوبر کے ایک حکومتی اشتہار میں پورٹس اینڈ شپنگ کی وزارت نے گوادر (علاقائی دفتر) کے گودی کے کارکنوں کی حفاظت کی مستقل نظامت کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر (بی پی ایس 18) کے عہدے کیلئے درخواستیں طلب کی تھیں جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ درخواست دہندہ کم از کم مکینیکل یا الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری اور پانچ سال کا تجربہ رکھتا ہو اور اس پر جنس کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اچھی بات ہے، لیکن انتباہ یہ ہے کہ صرف پنجاب کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ شاید وہاں یہ کام کرنے کیلئے کوئی بلوچ اتنی اہلیت نہیں رکھتا لہٰذا اسے کرنے کیلئے پنجاب سے کسی کو آنا چاہیے۔

اس ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتایا کہ بیرون ملک تعینات 74 سفیروں اور ہائی کمشنروں میں سے صرف تین کا تعلق بلوچستان سے ہے اور پنجاب سے 39 ہیں؛ میں تو اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ یہ تینوں بلوچ ہیں۔ میں قاری کو حیران نہیں کروں گا کہ 40 وفاقی سیکرٹریوں کے موجودہ مجمع میں بلوچستان سے کوئی بھی نہیں ہے، سندھ سے صرف ایک جبکہ پنجاب کے پاس سب سے بڑا حصہ ہے خیبر پختونخوا کے بعد۔ بلوچستان سے صرف ایک ایڈیشنل سیکرٹری ہے۔ بظاہر اسلام آباد کو لگتا ہے کہ بلوچ محض اس قابل ہیں کہ وہ قاصدین اور نائب قاصدین ہوں۔

میرے دوست فاروق سلہریہ صاحب نے ایک نجی روزنامے میں اپنے ستمبر 2013 کے مضمون ’تعلیمی رنگبھید‘ میں کہا تھا کہ: ”بلوچستان کو ایک کالونی جیسی حیثیت دی گئی ہے جسکی جھلک ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی تقسیم کار میں ملتی ہے۔ یہ امتیازی سلوک کافی واضح ہے یہاں تک کہ جب اسکالر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وظائف پر بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے چھوٹے صوبوں کے حق میں توازن جھکانے کیلئے کوٹہ سسٹم متعارف کرایا، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بیوروکریسی اسے پنجاب کے حق میں کرنے کیلئے طریقہ کار میں توڑ مروڑ کی کئی ترکیبیں جانتی ہے۔ اس کے نتیجے میں 60 فیصد سے زائد پنجابی اپنے 50 فیصد کے کوٹہ پر بیرون ملک گئے جبکہ بلوچ کی نمائندگی اپنے چھ فیصد کوٹہ سے بھی کم رہی۔“

اپنے زیادہ تر جعلی 4,000 ووٹوں کیساتھ منتخب ہاتھوں سے چنے گئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، جب بلوچ مفادات کی دیکھ بھال پر فائز ہوں تو بلوچ حقوق کو روندا جاتا رہے گا۔ جدید دور کی ایک تمثیل اس بات کی وضاحت کریگی کہ وہ اور دیگر بلوچ سیاستدان پاکستان کی خدمت کرنے میں کس طرح سے پیچھے کی طرف سے جھکتے ہیں: کسی شخص کو ایک جادوئی چراغ ملا اور ایک جن نمودار ہوا جس نے اسکی تین خواہشات پوری کرنے کا کہا۔ اس کی پہلی خواہش یہ تھی ایک بہت بڑا، شاندار محل تعمیر کیا جائے، دوسری یہ کہ اسے کچھ مالکان دیے جائیں اور تیسری یہ کہ اسے وہاں پر بطور چوکیدار کے کام پر لگایا جائے۔ ہو سکتا ہے انہوں نے بھی اس جن سے دیگر مقامی لوگوں کیلئے قاصد اور نائب قاصد کی ملازمتوں کی فرمائش کی ہے۔

مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں

اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 18 اکتوبر 2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s