قوم پرستی، وفاق پرستی اور علیحدگی پسندی: مسئلہءبلوچستان


Mir Mohammed Ali Talpurانٹرویو: میر محمد علی ٹالپر
از: گل آور خان
تحریری نقل و ترجمہ: لطیف بلیدی

میر محمد علی ٹالپر کا گل آورخان کیساتھ کیا گیا یہ انٹرویو پیش کرنے میں ہمیں بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ انٹرویو مارچ 2013ء میں لیا گیا تھا۔ اُسوقت گل آور خان ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں ایک تحقیقی فیلو تھے اور اپنے پی ایچ ڈی بعنوان ’قوم پرستی، وفاق پرستی اور علیحدگی پسندی: پاکستان میں مسئلہءبلوچستان‘ پر کام کر رہے تھے۔ انٹرویو آڈیو کی شکل میں ریکارڈ کی گئی تھی اور ذیل میں ہم اسکا متن پیش کررہے ہیں۔

(نیکڈ پنچ ڈاٹ کام)

گل آور خان: میر صاحب، مختصر طور پر اپنا تعارف کریں۔

میر محمد علی ٹالپر: میں میر محمد علی ٹالپر ہوں۔ میں یہاں حیدرآباد سندھ میں رہتا ہوں۔ اصل میں ہم ٹالپر تقریباً 350 سال قبل بلوچستان سے یہاں سندھ میں آئے تھے۔ انہوں نے 1783 سے 1843 تک 60 سال کیلئے سندھ پر حکومت بھی کی، جب یہاں میانی کی جنگ میں برطانوی افواج نے ٹالپروں اور بلوچوں کو شکست دی۔ لیکن سندھ میں ٹالپروں کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے۔ یہاں انکے لوگوں کیساتھ بہت اچھے اور پرانے تعلقات ہیں۔ سندھ یا دیگر علاقوں میں حکومت کرنے والے دیگر خاندانوں کے لوگ باقی نہیں رہے چونکہ شاید ٹالپروں نے عوام کی خدمت کی تھی اسی وجہ سے وہ ابھی تک یہاں موجود ہیں۔

Nationalism, Federalism and Separatism: The Case of Balochistan

اور میرے والد صاحب کی سیاست برطانوی راج کیخلاف تھی۔ وہ خاکسار تحریک اور (آل انڈیا) کانگریس میں تھے۔ اس کے بعد وہ یہاں کی سیاست میں رہے، زیادہ تر حزب اختلاف میں، لیکن ایک مختصر مدت کیلئے وہ (جنرل) ضیاء کی حکومت میں وزیر دفاع تھے۔

میں 1971 سے لیکر 1991 تک بلوچوں کیساتھ، خاص طور پر مری قبیلے کیساتھ رہا۔ میں مری کے علاقے میں رہا اور اسکے بعد 13 سال تک افغانستان میں بحیثیت ایک پناہ گزین کے رہا۔ میں 1991 میں واپس آیا۔ واپس آنے کے بعد میں خاموشی سے، طبیعتاً ہی ایسا ہے کہ میں ایک خاموش زندگی گزارتا ہوں۔

میں لکھتا ہوں جب کبھی بھی مجھے لکھنے کا موقع ملا ہے۔ پہلے میں ’پوسٹ‘ کیلئے لکھتا تھا جو لاہور سے نکلتی تھی۔ پھر میں نے چند مضامین ڈان کیلئے لکھے۔ جب سے میرے دوست اور ہمسفر راشد رحمان ڈیلی ٹائمز کے چیف ایڈیٹر بنے تو میں نے ڈیلی ٹائمز کیلئے لکھنا شروع کیا۔ میں اب بھی ڈیلی ٹائمز کیلئے لکھتا ہوں۔ بس یہی مشغلہ رہتا ہے۔

گل آور خان: میر صاحب، بلوچ کے بارے میں آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ بلوچ کون ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: بلوچ اپنے تئیں ایک قوم ہے۔ بلوچ کی تاریخ کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آئے تھے اور ان کا ماخذ کیا ہے۔ اب بھی کئی چیزیں ہیں جو حتمی طور پر طے نہیں ہوئی ہیں۔ مثال کے طور عرب کہتے ہیں کہ بلوچ عرب ہیں۔ مطلب یہ کہ عرب یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن بنیادی نقطہ یہ ہے کہ چونکہ ان کی اپنی زبان ہے، اپنی تاریخ ہے، اپنی ثقافت ہے، وہ بذات خود ایک قوم ہیں۔ بلوچ خود ایک قوم ہے۔

لوگ عام طور پر اس بات کو نہیں سمجھتے۔ وہ اسے گڈ مڈ کردیتے ہیں جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ بلوچی فارسی یا دری کا ایک حصہ ہے، وہ کچھ اسی طرح کی بات کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں بلوچی، دری، کردی اور فارسی زبانوں کے ایک ہی ذخیرے سے تعلق رکھتے ہیں، انڈویورپین زبانوں کے ذخیرے سے۔ یہ بذات خود ایک زبان ہے۔ یہ کسی کی شاخ نہیں بلکہ بذات خود ایک زبان ہے۔

اور بلوچ ایک قوم ہے۔ انہوں نے ایک قوم کی حیثیت، سیاسی طور پر ایک قوم کی حیثیت، جیساکہ ثقافتی طور پر وہ ہمیشہ سے ایک قوم تھی اور ہمیشہ رہے گی لیکن سیاسی طور پر یہ ایک قوم نصیر خان نوری کے تحت وجود میں آئی اور ایرانی بلوچستان میں بھی دوست محمد خان کے عہد میں۔

بلوچ اس وقت بہت سے علاقوں میں منقسم ہیں۔ اس کے کچھ حصوں پر بلوچستان کے طور پر پاکستان کا قبضہ ہے، اس کا ایک حصہ پنجاب میں ہے جو پنجاب کے طور پر قبضے میں ہے۔ میرے خیال میں سندھ میں بلوچوں کی ایک بہت بڑی آبادی ہے۔ وہ سندھ میں بھی کسی اقلیت کے طور پر نہیں ہیں۔

تو لہٰذا بلوچ ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی ایک قوم ہے۔ وہ اپنے ملحق جغرافیائی علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ سندھ سے شروع ہوکر ایران کے حصوں تک جاتا ہے، افغانستان میں بھی ایک بڑی بلوچ آبادی ہے۔ تو بلوچ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر ایک قوم ہیں۔

گل آور خان: میر صاحب، نظریہ دان کہتے کہ ہیں قومیں بنتی ہیں، ریاستیں بنتی ہیں، اور جب بات وفاق کی آتی ہے، جہاں یہ لسانی، نسلی، قومی گروہ ایک ساتھ ملتے ہیں اور ایک معاہدہ کرتے ہیں اور اس کے بعد ایک وفاق رضامندی سے وجود میں آتا ہے، پاکستان بھی 1947 سے ایک وفاق ہے۔ تو آپکی رائے میں اسے کس طرح قائم کیا گیا یا کیسی رضامندی کیساتھ؟

میر محمد علی ٹالپر: درحقیقت بلوچ اس وفاق میں شامل ہونے کیلئے بالکل رضامند نہیں تھا۔ کیونکہ 4 اگست 1947 کو برطانیہ، پاکستان اور خان کلات کے درمیان ایک اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ ہوا تھا۔ اس اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹس کوو کو برقرار رکھا جائے گا۔ چونکہ برطانیہ اور کلات کے درمیان معاہدہ جوکہ میرے خیال میں 1876ء میں ہوا تھا، اس معاہدے کے تحت کلات کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی اور اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ میں اسے قبول کیا گیا تھا اور پاکستان اس معاہدے کا ایک دستخط کنندہ تھا۔ اور پھر 11 اگست 1947ء میں کلات کو آزاد قرار دیا گیا۔ اگرچہ سرکاری طور پر اسکا اعلان 15 تاریخ کو کیا گیا تھا کہ لیکن سب سے پہلے 11 اگست کو اسکا اعلان ہوا تھا اور آل انڈیا ریڈیو پر بھی اسے رپورٹ کیا گیا تھا۔ اور وائی بی فیل، جو کہ کلات کے وزیر خارجہ اور میرے خیال میں وزیر اعظم بھی تھے، اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ کلات کی آزادی، جو کہ بلوچستان تھا، کا اعلان 11 اگست کو کیا گیا تھا۔

اور جہاں تک وفاق کا تعلق ہے، وفاق کیلئے رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور وفاق کو وفاقی اکائیوں کے حقوق کو تسلیم اور انکا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جن افراد کو پاکستان پر حکومت کرنی تھی وہ اس طرح کی کوئی چیز بنانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اگر وہ ایک وفاق چاہتے تو وہ کبھی ایسا نہیں کہتے، جناح مارچ 1948 میں ڈھاکہ میں کبھی یہ نہ کہتے کہ اردو اور صرف اردو اس نئے خطے، اس نئی ہستی کی زبان ہوگی۔ اس نے وفاقی اکائیوں کو بطور اکائی کبھی قبول نہیں کیا۔ وہ اپنے نظریے کو تھوپنا چاہتے تھے۔

مثال کے طور پر وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کے سبب اور ایک ہی مذہب کے ہونے کے باعث ہم مسلمان ایک ہی قوم ہیں۔ لیکن جیسا کہ غوث بخش بزنجو نے بلوچستان کے ایوان زیریں میں اپنے دسمبر 1947ء کی تقریر میں کہا تھا کہ، ’اگر یہ ایسا ہے کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو پھر کیوں نہ افغانستان، عربوں اور دیگر تمام کو ایک ہی قوم بنا دیا جائے۔‘ تو لہٰذا اس کی بنیاد جھوٹ پر مبنی ہے؛ کہ مذہب کا عنصر کسی قوم کے ہونے کو متعین کرے۔ پاکستان نے دیگر تمام اکائیوں پر اپنے نظریات اپنے اسٹابلشمنٹ کی حکمرانی مسلط کرنے کی کوشش کی ہے جس میں سندھ، سرحد (این ڈبلیو ایف پی) اور بلوچستان شامل ہیں۔ پنجاب نے کبھی مزاحمت نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انہیں ہمیشہ اس پر غلبہ حاصل رہے گا۔ بنگالیوں کو بھی صعوبتیں جھیلنی پڑیں کیونکہ انہیں پاکستان کو کبھی بھی ایک وفاقی ریاست بنانا ہی نہیں تھا۔ یہ ہمیشہ سے ایک وحدانی ریاست رہی ہے اور یہ اب بھی ایک وفاق نہیں ہے۔

مثال کے طور پر، اگرچہ، بلوچستان میں موجودہ ڈھانچہ، اسمبلیاں، حکومت اور تمام ادارے کافی فرمانبردار و اطاعت شعار ہیں اور پاکستانی ریاست کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ لیکن جب گوادر چین کے حوالے کیا جا رہا ہے تو ان سے مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ لہٰذا، یہ کبھی بھی ایک وفاق نہیں رہا ہے اور یہ کبھی بھی ایک وفاق نہیں ہوگا۔ یہ محض یہاں، جسکی لاٹھی اسکی بھینس۔ وہ تمام جنکے پاس طاقت ہے جو کچھ چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پنجاب کے پاس فوج ہے۔ اور افسوس کی بات ہے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) تمام کی تمام پشتون ہے۔ وہ ایک طرح سے وفاق کی تائید نہیں کرتے۔ وہ وفاق کے نقطہءنظر کی تائید نہیں کرتے۔ پاکستان کبھی بھی ایک وفاق نہیں بن سکتا۔ کیونکہ زیادہ تر پنجاب… یہ زیادہ تر پنجاب کی وجہ سے ہے، وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کبھی بھی اس کو قبول نہیں کیا۔

گل آور خان: تو پھر میر صاحب، پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں بلوچ کیلئے کیا فوائد اور نقصانات ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: یقینی طور پر، مجھے نہیں لگتا ہے کہ بلوچ کیلئے یہاں کسی طرح کے بھی فوائد ہیں، بلوچ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کیونکہ مثال کے طور پر جب پاکستان نے 27 مارچ 1948ء میں کلات پر زبردستی قبضہ کیا تھا، اس وقت بھی انہیں اپنے حقوق حاصل نہیں تھے۔ پھر 1955ء میں ون یونٹ کا اعلان کیا گیا۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ حتیٰ کہ بنگالیوں کو بھی ان کی اکثریت کے حقوق سے محروم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ کیونکہ مغربی پاکستان ایک ناقابل تصور شے تھی؛ یہ بذات خود ایک ہستی نہیں تھی۔ کیونکہ وہاں وفاقی اکائیاں تھیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی قرارداد پاکستان کو بھی دیکھے تو اس میں آزاد ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق بنانے کی بات کی گئی ہے نہ کہ کوئی ون یونٹ وہ چاہتے تھے۔ اور یہی چیز اس ملک کیلئے زہر قاتل رہی ہے۔ کیونکہ ابتدائی طور پر مائنس بلوچستان، مائنس کلات، وہ اسے ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔

ابتدائی مراحل میں پاکستان کیلئے یہاں سندھ میں ایک بہت بڑا خیر سگالی کاجذبہ تھا۔ یہاں کے لوگوں نے مہاجروں کا کھلے دل اور کھلی باہوں سے خیر مقدم کیا اور یہاں انہیں رہنے کیلئے جگہ دی۔ یہ ان کی خیر سگالی تھی۔ وہ حقیقتاً اس چیز کو ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہاں بڑے خواب دیکھے لیکن ان کے خواب بہت جلد چکنا چور ہوگئے؛ اتنی ہی جلدی جب جناح نے کہا کہ زبان صرف اردو ہوگی، اور لیاقت علی اور دیگر نے قرارداد مقاصد پیش کی۔ انہوں نے یہاں آئے مہاجروں (ہندوستانی مہاجرین) کو زمینیں اور حقوق دینا شروع کر دیے اور جائیدادوں کا دعویٰ کیا تو لوگ سمجھ گئے۔

بلوچستان میں انہیں کبھی حقوق نہیں ملے کیونکہ نہ صرف 1948ء میں فوجی کارروائی کی گئی چونکہ جب آغا عبدالکریم پہاڑوں پر چلے گئے اور وہ افغانستان سے جدوجہد کر رہے تھے اور دیگر تمام بلوچ جو جدوجہد کررہے تھے۔ اس دور میں بلوچ قیادت کی اکثریت، جیساکہ میر گل خان نصیر، خیر بخش خان اور دیگر، کو یا تو سندھ میں جلاوطنی میں رکھا گیا تھا یا پھر حیدرآباد کے جیل میں۔ شیر محمد مری اور عطاءاللہ مینگل بھی جیل میں تھے۔ اور 1958ء میں جب مارشل لاء نافذ کیا گیا، انہوں نے مارشل لاء کا نفاذ اس الزام کے بہانے کیا کہ خان کلات ایک معاہدے کے تحت افغانستان کے ساتھ شراکت عمل میں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مارشل لاء اس عذر پر نافذ کیا گیا تھا کہ خان کلات پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے۔ خان کلات قید کیے گئے؛ میری (کلات شہر) پر حملہ کیا گیا اور اسے لوٹا گیا۔

تو یہ تب ہوا جب نواب نوروز خان اور دیگر جو ان کے شانہ بشانہ لڑے۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ اس کے نتیجے میں کیا ہوا۔ نواب نوروز خان کو انکے بیٹوں سمیت قید کیا گیا۔ میرے خیال میں ان کے دو بیٹے اور دیگر دوستوں، کچھ کو سکھر جیل اور کچھ کو حیدرآباد میں قید کیا گیا۔ 15 جولائی (1960) کو سرسری سماعت کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان میں سے چار کو سکھر میں اور تین کو حیدرآباد جیل میں۔

تو لہٰذا، پاکستان کا وفاق، میرا اصرار یہ ہے کہ یہ کبھی بھی ایک وفاق نہیں رہی ہے۔ میری بنیادی دلیل یہی ہے کہ یہ کبھی بھی ایک وفاق نہیں رہی ہے۔ حتیٰ کہ اگر صرف بہ خاطر دلیل آپ اسے مان بھی لیں، تواس نے کبھی بھی وفاقی اکائیوں کی مدد نہیں کی ماسوائے ان لوگوں کے جنہیں حکمران اشرافیہ فائدہ پہنچانا چاہتے تھے۔ یہاں پر کبھی بھی وفاق کا وجود ہی نہیں رہا۔ میرا نہیں خیال کہ کبھی بھی اسکا وجود یہاں پر ہوگا۔

اور بلوچ 27 مارچ 1948 کے بعد سے ہمیشہ گھاٹے میں رہے ہیں، اس کی 65 سال کی پوری تاریخ میں۔

گل آور خان: میر صاحب، جیساکہ ہم وفاق کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو وفاق کے اندر بلوچوں کے اہم مسائل اور شکایات کیا ہیں؟ بلوچ کیا چاہتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: میرا خیال ہے کہ بلوچ ایک طویل عرصے سے آزادی چاہتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ بلوچ، نواب خیر بخش خان یا شیر محمد خان جیسے لوگوں نے ہمیشہ صرف آزادی کی بات کی ہے۔ انکا ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ بلوچ اب بھی یہی چاہتے ہیں۔ تمام تحریکوں، 1948ء میں آغا عبدالکریم کی، 1958ء میں نواب نوروز خان کی، اور پھر 1962ء سے لیکر 1969ء تک شیر محمد خان اور علی محمد مینگل کی۔ ان کے رویے میں وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج سختی آتی گئی۔ وہ لوگ جو شاید پہلے پاکستان سے بلوچستان کی آزادی نہیں چاہتے تھے، لیکن پاکستان کے رویے کی وجہ سے آزادی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

ان رہنماوں میں سے چند کی پوزیشن ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ بلوچستان کو آزاد ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر خیر بخش خان، ابتدائی طور پر شاید غوث بخش بزنجو بھی اس میں تھے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا نقطہ نظر تبدیل کر دیا۔ عطاءاللہ جو اب اس کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جیسا کہ وہ دیکھا کرتے تھے۔ لیکن جس سطح پر پاکستان کیخلاف مزاحمت کی بلوچ تحریک جو بلوچستان میں چل رہی ہے وہ آزادی سے کم کسی بھی چیز پر اتفاق نہیں کرتے۔ وہ صرف آزادی چاہتے ہیں۔

جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ 2005 سے بلوچ تحریک ایک بار پھر اتنی شدت کیساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں، اور حکومت کی طرف سے اغواء کیے لوگوں میں سے گزشتہ تین سال کے اندر 700 سے زائد لاشیں یہاں پھینکی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ خود سپریم کورٹ بھی مانتی ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اور ایف سی اس میں ملوث ہیں۔ میرے خیال میں بلوچستان میں بہت کم خاندان ایسے ہیں جن کا کوئی جاننے والا، رشتہ دار یا تو غائب یا قتل نہیں کیا گیا ہو۔ لہٰذا، میرے خیال میں بلوچ آزادی کے سوا اور کسی چیز کے بارے میں بات کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔

گل آور خان: میر صاحب، جیسا کہ آپ نے کہا کہ تمام بلوچ رہنماء شروع سے ایک آزاد بلوچستان چاہتے تھے۔ لیکن اگر ہم تاریخ میں جائیں تو، 1960ء کی دہائی میں خیر بخش پارلیمنٹ کا حصہ تھے، 70 کے عشرے میں سردار عطاءاللہ مینگل وزیر اعلیٰ بنے، غوث بخش گورنر تھے۔ تو، اس تناظر میں آپ ہمیں کچھ حقائق فراہم کر سکتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: جناب، اصل میں اُسوقت بلوچ قوم میں شعور اور بیداری اس سطح پر نہیں تھی۔ آج کے اوزاروں کیساتھ، جیساکہ سوشل میڈیا ہے، (ماس) میڈیا ہے اور ٹیکنالوجی ہے، اور جس طرح سے لوگ اسے اپنے خیالات پہنچانے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور جس طرح سے لوگ اس پر ردعمل دکھاتے ہیں، یہ اس دور میں موجود نہیں تھے۔ آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب بلوچستان میں فوج بھیجی، مری علاقے میں، مری علاقہ اور سبی ایک دوسرے سے متصل ہیں، انکی سرحد آپس میں ملتی ہیں۔ اور حالت یہ تھی کہ مری علاقوں میں جو جنگ چل رہی تھی، اس کی خبر سبی تک نہیں پہنچ پاتی۔ آج، ابھی کہیں پر کچھ ہوجائے تو اسکی خبر فوراً دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ اس دور میں، جو اوزار انکے حق میں تھے، بہت محدود تھے۔ تو بادل نخواستہ اسی سوچ کے تحت کہ اور کچھ نہ سہی تو اس طرح سے بلوچوں کیلئے کچھ آسانیاں پیدا کی جائیں۔

وہ پارلیمنٹ میں بھی تھے اور عطاءاللہ اقتدار میں آئے لیکن آپ نے دیکھا کہ انہیں نو یا دس ماہ سے زیادہ برداشت نہیں کیا گیا۔ انہیں اس سے زیادہ برداشت نہیں کیا گیا۔ اور انہیں بیسیوں الزام لگاکر برخاست کیا گیا؛ بشمول عراقی اسلحے کی برامدگی کے۔ وہ عراقی شخص جو اپنے ساتھ یہاں (ہتھیار) لایا تھا، وہ خود ساواک کا ایجنٹ تھا۔ اور جب اسلحہ کراچی پہنچا تو وہ (حکومت) اس کے بارے میں جانتے تھے۔ رفیع رضا، جو اس دور کے ایک وزیر اور بھٹو کے ایک بہت قریبی ساتھی تھے، نے اس کے بارے میں ہمیں بتایا۔ جب وہ کراچی پہنچے تو انہیں اس بارے پتہ تھا اور انہوں اسے اسلام آباد میں عراقی قونصل خانے تک پہنچانے کی سہولت فراہم کی۔ اور پھر وہ میڈیا شو کیساتھ وہاں گئے اور اس کا الزام قومپرستوں پر لگایا۔

تو مختلف اوقات میں جدوجہد کی مختلف شکلوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ ایک تسلسل تھا۔ خیر بخش اپنے موقف پر غیر مصالحت پسند رہے۔ وہ ہمیشہ اس پر ڈتے رہے۔ باقی تمام لوگ پس و پیش کرتے رہے، اِس یا اُس چیز پر پیچھے ہٹتے رہے۔ میرے خیال میں خیر بخش خان قائم رہے اور وہ اب بھی اسی (موقف) پر قائم ہیں۔

گل آور خان: سوال ایک بار پھر اسی بابت ہے کہ بہت سے بلوچ قوم پرست 40، 50، 60، 70 کی دہائیوں میں اور موجودہ دور میں پاکستانی وفاق کیساتھ محاذ آرائی میں رہے ہیں۔ تو آپ کی رائے میں یہ تنازعہ ایک تسلسل ہے یا ان کے مقاصد مختلف تھے؟

میر محمد علی ٹالپر: میرے خیال میں یہ اسی کا ایک تسلسل ہے۔ فرض کریں کہ اگر آغا عبدالکریم نہ لڑتے تو نوروز خان والی جنگ نہیں ہوئی ہوتی۔ اگر نورو خان نہ لڑتے تو پھر شیر محمد خان شاید نہ لڑتے۔ اگر شیر محمد نہ لڑتے تو 1973 والی جنگ نہیں ہوئی ہوتی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ جدوجہد کا ہر مرحلہ معیار کے اعتبار سے اعلیٰ تر تھا۔ اس نے خود اپنی پرورش کی ہے اور یہ زیادہ اہم اور زیادہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ 1948ء میں جب آغا عبدالکریم اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ صرف دو تین سو لوگ تھے۔ جب نوروز خان لڑے، وہ چند ہزار تھے۔ پھر جب شیر محمد خان، عطاءاللہ خان اور علی محمد مینگل لڑے تو یہ اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اور جب 1973ء کی بغاوت ہوئی، تو یہ ایک بار پھر زیادہ شدید تھی اور بہت سارے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی بشمول مکران، مینگل علاقوں، مری علاقوں اور بولان کے، یعنی کہ یہ زیادہ بڑے پیمانے پر تھی۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ میں بھی لوگ اسکولوں میں ان کا ترانہ تک نہیں پڑھتے۔

گل آور خان: میر صاحب، انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، وفاقیں اور مملکتیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں، مسائل پیدا ہوتے، اور ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ تو آپکے خیال میں بلوچ مسئلے کا کوئی حل ہے؟ یہ وفاق پاکستان کے اندر رہتے ہوئے یا اس کے بغیر حل کیا جا سکتا ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: میں اس کا جواب صرف اپنی طرف سے دے سکتا ہوں۔ جیساکہ میں بلوچ تحریک کا ایک حصہ رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔ حال ہی میں ہونیوالے کراچی ادبی میلے میں جہاں محمد حنیف صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی تھی تو میں نے اپنے تعارف میں کہا کہ آج کی صورتحال ایسی ہے کہ میں پہاڑوں میں ہوتا لیکن عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے میں وہاں نہیں ہوں اور میں نے چیئرمین ماو کے حوالے سے کہا تھا: ”جنگ سیاست کے تسلسل کا دوسرا ذریعہ ہے۔“ تو میرے خیال میں لکھنا جنگ کے تسلسل کا دوسرا ذریعہ ہے۔ تو میں بھی لڑ رہا ہوں۔ میں نے لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

میرے خیال میں بلوچ کو جو نقصان پہنچا ہے، بلوچوں سے کی گئی اس 65 سال کی زیادتیاں، جو ہیں پاکستان کی طرف، جیسے رئیسانی والے، ڈاکٹر مالک یا ڈاکٹر حئی ہے، آپ ان سب کو جانتے ہیں، جو وفاق کی سیاست کرتے ہیں، وہ تو صرف یہی چاہتے ہیں کہ انہیں خبزریزے ملیں۔ مطلب یہ کہ وفاق کی میز سے جو کچھ گرے وہ انہیں نصیب ہو۔ لیکن باقی بلوچ جو ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ تصور ہی نہیں کرتے کہ بلوچستان وفاق میں رہے۔

آپ کو معلوم ہے میں سندھ میں رہتا ہوں۔ میں نے جو لوگ افغانستان میں پڑھائے تھے، مری قبیلے کے لوگ، میرا ان سے تعلق تھا، میں ان کا حصہ تھا اور وہ میرا حصہ تھے، ان میں سے میرے پڑھائے ہوئے 16 طالبعلموں کو اغواء کیا گیا اور ان کی لاشیں پھینکی گئیں۔ میں پاکستان کے بارے میں کیا سوچوں؟ میرا تو صرف یہ تعلق تھا کہ وہ میرے طالبعلم تھے، جن لوگوں کیساتھ چلتی رہیں زیادتیاں اور ابھی تک ہورہیں زیادتیاں، ایسا نہیں ہے کہ جنگ بندی ہوئی ہے، جنگ بندی بھی نہیں ہوئی ہے۔

ٹوئٹر پر کل حامد میر نے خضدار پر ٹویٹ کیا تھا کہ انہوں نے جو انٹرویو کیے تھے ان میں سے تین لڑکوں کوغائب کیا گیا ہے۔ اور یہ ہر روز کی بات ہے کہ لوگ غائب ہو رہے ہیں۔میرے جاننے والے جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ان میں سے دس بارہ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ بلوچستان میں ہمارے ایک جاننے والے تھے ناڑی کیہر کے نام سے، وہ لاپتہ ہے۔ میرا طالب علم تھا ڈاکٹر اکبر مری، جن کی تنخواہیں وغیرہ سپریم کورٹ نے ان کے خاندان والوں کو دلوائی تھیں، وہ بھی غائب ہیں۔ حب میں میرے جاننے والے ہیں، ان میں سے ایک 17 سالہ لڑکا جس کا شناختی کارڈ بھی ابھی تک نہیں بنا ہے، اپنے بھائی کی پیشی کیلئے گیا تھا۔ اس کے بھائی کو بھی پہلے غائب کیا گیا تھا پھر الزامات کیساتھ جیل میں ظاہر کیا گیا۔ اسے لسبیلہ سے بھائی کی پیشی سے لوٹتے وقت حب میں ساکران تھانے کے قریب اٹھا کر لے گئے، آج تک اسکا پتہ نہیں۔ یہ پچھلے سال کی بات ہے۔

تو ایسے حالات میں آپ لوگوں سے کیا توقع رکھیں گے کہ اب بھی لوگ رضامند ہونگے کہ پاکستان کے ساتھ رہا جائے؟ میرا خیال ہے یہ ان سے بہت زیادہ کی توقع کرنا ہے۔ اس طرح کے حالات اور ان تمام زیادتیوں کے باوجود، لوگوں سے توقع کی جائے کہ وہ اب بھی پاکستان کے ساتھ رہیں گے، جیسا کہ محمد حنیف نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ”آپ رات کو لوگوں کے ناخن کھینچ کر نکال لیں اور ان سے توقع کریں کہ وہ صبح کو ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائیں گے“، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

گل آور خان: میر صاحب، ہم ایک بار پھر واپس تاریخ میں جاتے ہیں۔ 1977ء سے 2000ء تک یہ ایک ایسا وقت کہ یہ سلسلہ کسی حد تک رکتا ہے بلکہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ 1977ء کے بعد ضیاء حکومت آئی، ایک سیاسی عمل شروع ہوا، مشرف کے آنے تک ایک خاموشی تھی۔ کیا یہ خاموشی وفاق کیساتھ شامل ہونے کیلئے تھی یا کچھ اور؟

میر محمد علی ٹالپر: میرے خیال میں نہیں۔ لوگ یہی کہتے ہیں کہ یہ وفاق کیساتھ شامل ہونے کی علامت تھی لیکن کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم 13 سے 14 ہزار بلوچ جو افغانستان میں بیٹھے تھے، وہ کیوں بیٹھے تھے؟ خیر بخش خان، شیر محمد خان، میر ہزار خان رامکانی، یا ہم جیسے چھوٹے موٹے کام کرنے والے، وہ 1991ء اور 1992ء تک جب تک کہ نجیب کی حکومت نہیں گئی ہے تب تک وہ افغانستان میں بیٹھے تھے۔ تو کیا وہ وفاق کی حمایت کر رہے تھے؟ نہیں۔ میرا خیال ہے نہیں کر رہے تھے۔ اسکا مقصد اپنی قوت کو قائم رکھنا تھا۔ اگر انہوں نے وفاق کیساتھ مکمل طور پر سمجھوتہ کیا ہوتا تو چونکہ 1977ء میں جب ضیاء نے عام معافی کا اعلان کیا تھا، تو جنہوں نے سمجھوتہ کرنا تھا، جنہیں وفاق کیساتھ رہنا تھا، مثلاً مہر اﷲ مینگل، اسلم گچکی، لال بخش رند، اور بزنجو والے جو تھے وہاں پر، وہ سب واپس آگئے۔

خیر بخش خان تب تک افغانستان میں نہیں آئے تھے، لیکن میر ہزار خان تھے، ہم جو اور سیاسی لوگ وہاں موجود تھے، انکا یہی فیصلہ تھا کہ یہ عام معافی قبول نہیں کرنی ہے کیونکہ اس عام معافی سے کچھ حاصل نہیں ہونا ہے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہاں، نوکریاں شاید ملیں ہوں، کچھ ٹھیکے ملے ہوں، ان لوگوں کو جو واپس آئے۔ خاموشی سی تو تھی لیکن یہ کہہ دینا کہ سب لوگ بالکل سو گئے تھے، لوگ سوئے نہیں تھے۔ کیونکہ اتنے سارے بلوچوں کا افغانستان میں موجود رہنا، اور ان کی عام معافی نظر انداز اور رد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ چیز ختم نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ لوگ کہتے ہیں کہ ختم ہوگئی تھی۔

گل آور خان: آپ نے پارلیمنٹرین کا ذکر کیا، نیشنل پارٹی، بی این پی عوامی اور بی این پی مینگل کا ذکر کیا، اور پھر وہ قوتیں ہیں، جنکا آپ نے ذکر کیا جو افغانستان میں تھے، ان میں سے آج بھی کچھ پہاڑوں پر بیٹھے ہیں، اس تناظر میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں کوئی فرق بلوچ نیشنلزم میں نظر نہیں آ رہا، کہ یہ دو طرح کی ہیں یا بلوچ قوم پرستی مختلف ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: یقینی طور پر بلوچ قوم پرستی مختلف ہے۔ کیونکہ دو رویے ہیں۔ ایک وہ قوم پرستی ہے جو بلوچ کا نام استعمال کرکے وفاق کے اندر اپنی حکومتیں، اپنے ٹھیکے، اپنے فائدے ڈھونڈتے ہیں، یہ ایک قومپرستی ہے۔ یہ قوم پرستی کی کرپٹ شکل ہے، یعنی قومپرستی کے نام کا استحصال کرنا۔ باتیں تو سبھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مالک بھی لوگوں کی بات کرتا ہے، ڈاکٹر حئی اور اختر مینگل بھی کرتے ہیں۔ لیکن انکا ہدف بہت محدود ہے جس میں لوگوں کو کوئی عمل دخل نہیں ہے، انکا اپنا ہے لیکن لوگوں کا عمل دخل نہیں ہے۔ وہ وفاق کیساتھ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں ہیں بلکہ اپنی فلاح و بہبود کیلئے رہتے ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر ہے، براہمدغ والے لوگ ہیں یا خیر بخش خان والے لوگ ہیں۔ آپ خیر بخش خان والے کہیں یا پھر، کیونکہ خیر بخش خان خود تو عمر رسیدہ ہیں، وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ یہ صحیح راستہ تھا وہ اب تک ساتھ ہیں۔ اور یہی قومپرستی کی اصل شکل ہے جو کہ واقعتا آج کے بلوچستان کیلئے اہمیت رکھتی ہے۔

آپ اس بات سے اندازہ کریں کہ میں اکثر لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر 1948ء میں آغا عبدالکریم بندوق نہ اٹھاتے تو نوروز خان بندوق نہ اٹھاتے، یا جو بندوق اٹھانے کا سلسلہ رہا ہے۔ تو آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ بلوچستان پر کس قسم کی یلغار ہوئی ہوتی۔ یعنی آبادیاتی خصوصیات جسے کہتے ہیں، یہ لوگ ڈر کی وجہ سے وہاں نہیں گئے ہیں۔ نہیں تو آپکے تمام بہاری، پنجاب کی اضافی آبادی، اور یہاں کے مہاجر، اردو بولنے والے لوگ، یہ سب بلوچستان پر قابض ہوجاتے۔ یہ صرف ان لوگوں کا خوف ہے کہ وہ ہمیں وہاں برداشت نہیں کریں گے، اس وجہ سے نہیں آئے۔ نہیں تو آبادیاتی خصوصیات میں اتنی تبدیلی آچکی ہوتی کہ اور بلوچ کتنے ہیں؟ صرف بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی پانچ ملین ہے۔ یہاں سے دس، بارہ ملین سے بھی زیادہ لوگ چلے گئے ہوتے۔ تو یعنی آبادیاتی خصوصیات کے حوالے سے وہ ختم ہوگئے ہوتے۔ جو وہ گوادر میں کوشش کر رہے ہیں یا حب میں انہوں نے ایک صنعتی علاقہ بنایا ہے۔

تو، یقینی طور پر قوم پرستی کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ موقع پرست قوم پرستی ہے جو اپنے فائدے کیلئے وفاق کیساتھ رہتی ہے۔ اور قوم پرستی کی دوسری شکل جو کہ قوم پرستی کی حقیقی شکل ہے۔ اصل میں اس قوم پرستی کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک چاہتے ہیں کہ ہم کھاتے پیتے غلام ہوں اور دوسرے کہتے ہیں ہم بھوکے رہیں لیکن آزاد ہوں۔ تو یقینی طور پر بلوچستان میں آج کے دور میں قومپرستی کی دو اقسام ہیں، دو طرح کے رجحانات موجود ہیں۔

گل آور خان: میر صاحب، پاکستانی ریاست اس بات سے مکمل طور انکار کرتی ہے اور اسکی رائے میں چند بلوچ سردار یا قبائلی سربراہ بلوچ مسئلے کیلئے ذمہ دار ہیں وگرنہ وہاں کوئی بلوچ مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بلوچ سرداروں کی طرف سے پیدا کی گئی ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: یہ سرکاری بیانیہ ہے۔ میرے خیال میں بلوچستان میں 99 فی صد سردار حکومت کے ساتھ ہیں۔ مثلاً رئیسانی، شاہوانی اور باقی جو بھی سردار ہیں وہ سب وفاق کے ساتھ ہیں۔ اب، ان کے علاقوں میں ترقی کیوں نہیں ہوئی؟ یہ مانا کہ وہ زیادہ تر تین سرداروں پر الزام لگاتے ہیں۔ اکبر تو خیر آخر میں آکر اس بات میں شامل ہوئے۔ اکبر نے تو اجازت دے رکھی تھی۔ سوئی سے گیس بھی چل رہی تھی اور سب چیزیں چل رہی تھیں۔

وہ عطاءاللہ، خیر بخش اور اکبر کو کہتے ہیں کہ یہ تین سردار نہیں مانتے ہیں۔ اکبر تو مانتا تھا۔ کیونکہ وہ 1973 میں گورنر بھی بنا۔ لیکن اب تو عطاءاللہ بھی ان ’شرپسند‘ سرداروں میں نہیں رہا۔ تو کیا وجہ ہے کہ اب تک وہاں کسی بھی قسم کی ترقی نہیں ہوئی؟ مکران میں کوئی سردار تو نہیں ہیں، وہاں پر ترقی نہیں ہوئی۔ چلیں اسکو بھی چھوڑیں، یہ جو رحیم یار خان میں غربت ہے یا کراچی کی کچی آبادیوں میں یا حیدرآباد میں یا سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت ہے، اس کے بھی ذمہ دار بلوچ سردار ہیں؟ یہ بہانے ساز کرتے ہیں۔ یعنی ناقص بڑھئی ہمیشہ اپنے آلات کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ جب انکو اپنی حماقتوں، نااہلیوں اور کرپشن کو چھپانے کیلئے کوئی اور عذر نہیں ملتا تو وہ بلوچ سرداروں کو دوشی ٹھہراتے ہیں۔ یعنی واقعی سندھ اور کراچی میں جو غربت ہے اس کیلئے بھی بلوچ سرداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ یا وہ سردار جو حکومت کیساتھ ہیں؟

اب حال یہ ہے کہ خاران کے نواب نوشیروانی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے کہ پاکستانی حکومت ابوظبی کے شیخ زید بن النہیان کو اجازت دے دیتا ہے کہ وہ واشک اور خاران میں آکر تلور کا شکار کریں۔ وہ جب شکار کیلئے آتے ہیں تو ان کے اہلکار پوسٹیں قائم کرتے ہیں اور وہاں کے کسان نہ کاریز استعمال کر سکتے ہیں نہ اپنی زمینوں پر جا سکتے ہیں۔ یہ تو حال یہ کررہے ہیں ان سرداروں کا جنہوں نے 1948ء میں، خاران اور مکران کے نوابوں نے سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کیے تھے۔ اور اسی کو بنیاد بنا کر جناح نے پھر زبردستی سے احمد یار خان سے دستخط کروائے تھے۔ تو وہ لوگ جنہوں نے ان کی خدمت کی، انکی حالت یہ ہے کہ انہیں بلوچستان ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنی پڑتی ہے کہ عرب جو یہاں آتے ہیں وہ ہمیں جینے نہیں دیتے، وہ اپنی من مانی کرتے ہیں اور ہم بے بس ہیں۔ اس میں بھی سرداروں کا گناہ ہے؟

آپ اس نقشے پر نظر ڈالیں، پاکستان حکومت نے عرب حاکموں کو 30 پرمٹ دیے ہیں، وہ بلوچستان میں کس طریقے سے کتنے بڑے علاقوں میں کہاں کہاں شکار کرتے ہیں۔ اسے بھی بلوچ سرداروں کے گناہوں میں شمار کیا جائے؟ سب سے آسان طریقہ یہی ہے دوسروں پہ الزام لگا دو۔ اصل بات یہ ہے کہ سرکاری بیانیہ اتنا بااثر رہا ہے کہ لوگ واقعی یہ مانتے ہیں کہ بلوچستان میں جو بھی خرابیاں ہیں، جو بھی بدکاریاں ہیں وہ سرداروں کی وجہ سے ہیں۔ یہ سرکاری بیانیہ ہے۔ ساری کتابیں انہوں نے چھاپی ہیں، بچوں کو انہوں نے پڑھایا ہے، گزشتہ 65 سال سے جو کچھ بھی بچے پڑھے ہیں۔ انہی کے پاس ریڈیو رہا، انہی کے پاس ٹیلی وژن رہا، انہی کے پاس سب چیزیں رہیں، آج بھی ہیں۔

جو متبادل نقطہ نظر سے وہ شاذ و نادر ہی پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے کتنے لوگ پڑھتے ہونگے؟ میں جو اتنا واویلا مچاتا ہوں، لکھتا ہوں، مجھے کتنے لوگ پڑھتے ہونگے؟ 2000، 4000، 5000، 10000، 20000، یہ بہت زیادہ بتا رہا ہوں۔ کیونکہ یہ انٹرنیٹ پر جاتا ہے، وہاں کتنے لوگ اسے پڑھتے اور کتنے لوگ اسے پھیلاتے ہیں۔ لیکن ان کے بیانیے کا ایک تسلسل ہے کہ یہ سرداروں کی غلطی ہے، سرداروں نے یہ سب کام خراب کیے ہیں اور ہم پاک و صاف ہیں۔

گل آور خان: سر، پھر اگر ہم دیکھتے ہیں جیسا کہ باقی ماندہ پاکستان ہے، جو ترقی یافتہ علاقے ہیں، اگر بلوچ معاشرہ یا بلوچستان علاقائی طور پر اُس طرح سے ترقی یافتہ ہوتا، سڑکیں، اسپتال، کالج وغیرہ ہوتے تو کیا بلوچ پھر بھی اسی جگہ پہ ہوتا جہاں وہ آج ہے یا تھوڑی بہت تبدیلی ہوتی؟ اگر وہ وفاقی نظام نافذ کرتے، جو 1940ء کو ایک قرارداد پاس کی گئی تھی، کہ یہ چار چیزیں مرکز کے پاس ہونگی باقی سب یونٹس کو دی جائیں گی؟

میر محمد علی ٹالپر: اصل میں یہ ایک فرضی سوال ہے کہ ”اگر ایسا ہوتا؟“ اصل میں بات یہ ہے کہ انہیں یہ کرنا ہی نہیں تھا۔ مطلب یہ کہ انکا ارادہ ہی نہیں تھا۔ اگر ارادہ ہوتا تو وہ کرلیتے، کچھ تو وہ کر لیتے۔ آپ اگر ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں جو سب سے زیادہ پچھڑے اضلاع ہیں وہ سب بلوچستان میں ہیں۔ اگر آپ کوئٹہ کو اس میں سے نکال دیں کیونکہ وہ تو چھاونی کا شہر ہے۔ انہوں نے پیسے دینے کیلئے جو بے نظیر انکم سپورٹ سکیم بنائی ہے، ان کے سروے کے مطابق، اور وہ غیر جانبدار نہیں ہیں، جانبدار ہیں، وہی کہتے ہیں کہ 66 فیصد خاندان ایسے ہیں کہ جنہیں یہ مدد ملنی چاہئے۔ اور میں کہتا ہوں کہ یہ انہوں نے کم بتایا ہوگا۔

ان 65 سالوں میں، تمام علاقوں میں تو جنگ نہیں تھی۔ مثلاً مکران میں آج سے پہلے کوئی جنگ نہیں تھی۔ وہ لوگ جواِسوقت تربت یا مند اور پورے علاقے میں لڑ رہے ہیں، یہ تب تو نہیں تھی۔ وہاں انہوں نے کیا کیا؟ ان کو کرنا ہی نہیں تھا۔ حامد میر کے پروگرام میں دے رہے تھے کہ مستونگ وغیرہ میں یونیورسٹیوں کی تعمیر کے منصوبے تھے، انہوں نے اسے سنسر کیا تھا۔ کم از کم حیدرآباد میں سنسر کیا تھا، حامد میر کا پروگرام جو پرسوں یہاں چل رہا تھا، اسکو یہاں پرکیبل ’نوسگنل‘ دے رہا تھا۔ اشتہار کے دوران جیو ٹی وی چینل بالکل ٹھیک چل رہی تھی لیکن جب بات کرنا شروع کرتے تو ’نو سگنل‘ آجاتا تھا۔ وہاں پر بچے کہہ رہے تھے کہ یہاں پر خوف کا عالم طاری ہے۔ استاد کہہ رہے تھے کہ جنریٹرز کام نہیں کرتے، بجلی نہیں ہے ہمارے پاس۔ یہ تو صورتحال اس علاقے کی ہے جہاں رئیسانی رہتے ہیں۔

گل آور خان: سر، توپھر ان حالات میں کہ ایک طرف بلوچ قوم پرستی ہے اور ددوسری طرف پاکستانی وفاق ہے، ایک بد اعتمادی بھی پائی جاتی ہے (میر محمد علی ٹالپر: بالکل ہے، بد اعتمادی کا ایک نہ پر ہونیوالا خلاء ہے۔) تو آپ بلوچ قوم پرستی اور پاکستان کا مستقبل کیسے دیکھتے ہیں؟ اگر میں سوال کچھ اسطرح سے کرلوں کہ وفاق مضبوط ہے، اسکے پاس فوج ہے اور سب کچھ ہے، اور بلوچ منقسم ہیں، تو آپ خاص طور پر بلوچ قوم پرستی اور وفاق پاکستان کا مستقبل کیسے دیکھتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: سر، اب وفاق میں مذہب کا جو عنصر متعارف کرایا گیا ہے، اور جس طرح سے مذہبی انتہا پسندی ظاہر ہورہی ہے یہ کسی بھی طرح سے وفاق کی تقویت کا باعث نہیں بن سکتی۔ کیونکہ طاقت کے اتنے سارے مراکز انہوں نے خود بنا دیے ہیں کہ، یعنی یہ سب طاقت کے مراکز ہیں: مثلاً طالبان ہیں، لشکر جھنگوی ہے، ایم کیو ایم (مہاجر/ متحدہ قوموومنٹ) ہے یا دیگر جو انہوں نے طاقت کے مراکز بنا رکھے ہیں۔ اور جب کسی بھی علاقے میں، کسی گھر میں یا ملک میں، ملک تو خیر اسکو کہنا زیادتی ہے چونکہ ایک ملک کی اپنی خاص معیار ہائے اہلیت ہوتی ہیں، لیکن خیر اگر بالفرض محال اس کو ملک کہا بھی جائے یا ریاست کہا جائے تو جس میں اتنے سارے طاقت کے مراکز ہوں اور اس میں توڑنے والی اتنی کشش ہو تو میرا خیال ہے کہ اس کیلئے قائم رہنا بہت مشکل ہے۔

اور بلوچ قوم پرستی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ یعنی یہاں پر جو جدوجہد ہے۔ اور بلوچ قوم پرستی کو آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک ترقی پذیر قوت ہے۔ اس میں اب زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہو رہے ہیں، حصہ لے رہے ہیں۔ آپ نے خود دیکھا ہے کہ 2005 سے لیکر اب تک یہ چیز بڑھی ہے کم نہیں ہوئی ہے۔

مثلاً یہاں 10 فروری کو کراچی میں بلوچ نیشنل فرنٹ نے ایک جلوس نکالا تھا، اس میں 15 سے 20 میٹر لمبا بلوچستان کا ایک جھنڈا لوگ اٹھائے ہوئے تھے۔ پلے کارڈز پر سیدھے سادے نعرے تھے کہ ’ہم آزادی چاہتے ہیں۔‘ اور اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جلوس میں بلوچ خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ بلوچ قوم پرستی کی نوعیت اب تبدیل ہوگئی ہے کہ کراچی میں لوگ، اس سے قطع نظر کہ انہیں کیا بھگتنا پڑے گا، وہ آزادی کی بات کرتے ہیں، آزادی کا جلوس نکالتے ہیں، اتنا بڑا جھنڈا لیکر ساتھ چلتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ بلوچ قوم پرستی آہستہ آہستہ تقویت حاصل کر رہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو، جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ، یہ مخاصمت کی ایک طویل جنگ ہو گی۔

اب اس میں ایک اور بھی عنصر ہے۔ بلوچستان اب صرف اس خطے تک محدود نہیں رہا۔ اب باہر کے ممالک بھی اسکو سمجھتے ہیں، دیکھتے ہیں، اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ میں رورابیکر (امریکی سینیٹر) کی تقاریر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا لیکن بہرحال یہ اس کا حصہ تو ہیں۔ یا حال ہی میں یو این پی او (انریپریزینٹد نیشنز اینڈ پیپلز آرگنائزیشن) کی لندن کانفرنس ہوئی تھی۔ تو یہ سب حصہ ہیں اور یہ بلوچ قومی تحریک کی تقویت کے آثار ہیں۔

گل آور خان: میر صاحب، آپ نے ایک لفظ استعمال کیا، میں لفظ کی بات نہیں کر رہا ہوں مگر عموماً بلوچ نیشلزم کے اندر رہتے ہوئے آزادی، کشمیروالے بھی کہتے ہیں ”ہمیں آزادی چاہیے“ ، ”بلوچستان کی آزادی“، کیا آزادی؟ وسائل پر کنٹرول؟ ساحل پر کنٹرول؟ اپنی زمین پر رہتے ہوئے اپنے معاملات پر کنٹرول؟ یا ”آزادی“ سے مراد ایک مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ملک ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: میرے خیال میں وہ ایک آزاد خود مختار ملک ہی چاہتے ہیں۔

گل آور خان: تو پھر میر صاحب، اس تناظر میں، ایک طرف سے ایران، سیستان و بلوچستان کے علاقے، ایک طرف سے ہلمند نمروز افغانستان کے علاقے، اور پھر بلوچ خود بھی، جیساکہ آپ فرمارہے ہیں کہ آپ لوگ یہاں پر تین سو سالوں سے ہیں، بہت سارے بلوچ اور بھی ہیں سندھ میں، پنجاب میں بھی ہیں، حتیٰ کہ سرحد میں بھی ہیں، تو بلوچ مزید منقسم ہوگا۔ اور اگر ایک آزاد بلوچستان بنتا ہے تو پھر دو ریاستیں (ایران اور افغانستان) وہ ہیں، اور تیسری ریاست یہ ہوگی جو کہ ایک دشمن ریاست ہی ہوگی، اگر آزاد بلوچستان بن جاتا ہے، تو انکے درمیان ایک بلوچ ریاست کا قائم رہنا اور اس کا مستقبل آپ کیا دیکھتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: اصل میں یہ سوال عطاءاللہ مینگل نے بھی اٹھایا تھا۔ آپ کو شاید یاد ہوگا؟ (گل آور خان: جی ہاں، مجھے یاد ہے۔) انہوں نے کہا تھا کہ ”وہ جو آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں اگر آزاد ہوئے بھی تو کیا وہ اپنی آزادی سنبھال سکیں گے؟“ میری ناقص رائے یہ ہے کہ ”جب پل کو پہنچیں گے تو تب ہم اس پل کو پار کرنے کی سوچیں گے۔“ ہم پل کو پہنچے نہیں ہیں پہلے ہی سے اپنے لئے ذہنی رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں کہ بھائی یہ ہوگا وہ ہوگا ایسے ہوگا ویسے ہوگا۔

آپ اندازہ کریں کہ جب 1971ء میں برطانیہ نے دبئی کو اپنی پروٹیکٹوریٹ سے نکالا تھا، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دبئی کیسا تھا؟ دبئی میں ہندوستانی کرنسی چلتی تھی اور ریت کے ٹیلے تھے اور کچھ چھوٹی موٹی عمارتیں تھیں۔ آج دبئی ایک بین الاقوامی شہر ہے اور امارات عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران نہیں چاہتا تھا کہ یہ سب ہو۔ وہ کہتا تھا کہ یہ علاقے میرے ہیں۔ آپ کی شاید عمر کم ہو لیکن ایران اس بات پر رضامند نہیں تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ حصے میرے ہیں۔ ایران کو بھی خطرہ تھا۔

اگر بلوچستان، بالفرض محال اور میرا خیال ہے کہ بلوچ اسی طرف گامزن ہیں، آزاد ہو جاتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں میں یا بلوچستان کے ذرائع اور وسائل میں اس قدر قوت نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں؟ میرا خیال ہے سنبھال لیں گے اور بڑھ سکیں گے اور اپنی حفاظت بھی کرسکیں گے۔ اور اس بات سے میں انکار نہیں کرتا کہ رئیسانی اور بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو اسکی مخالفت میں ہیں۔ مثلاً شفیق مینگل یا نصیر مینگل والے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف ڈیتھ اسکواڈ بنائے ہوئے ہیں۔ لیکن میری رائے میں بہت سے بلوچ ایسے بھی ہیں جو باڑ پر بیٹھے ہیں، اور دیکھ رہے ہیں اور وہ بجائے اُن کی طرف جانے کے اسی طرف آئیں گے۔

گل آور خان: میر صاحب، 1948ءمیں یہ سلسلہ شروع ہوا ہے، اور لوگ کہتے ہیں کہ (پاکستان کے آئین کی) اٹھارویں ترمیم بھی بلوچوں کے درد کو کم کرنے کیلئے، ان کی شکایات دور کرنے کیلئے ایک قدم ہے۔ تو اسکے بعد بھی آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بلوچستان یا بلوچ اٹھارویں ترمیم کو لیکر یہ سمجھ لیں گے کہ اب ہمارا افاقہ ہوگیا ہے یا پھر؟

میر محمد علی ٹالپر: صرف اٹھارویں ترمیم نہیں، این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) ایوارڈ بھی ہے جو کہ گیلانی (پاکستانی وزیر اعظم) نے گوادر میں ایک جہاز پر جاکر بڑے دھوم دھام سے دستخط کیے تھے۔ حال یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی، جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ گوادر پورٹ کو یہ لوگ چین کو اٹھا کر دے دیتے ہیں تو اس سے کیا بلوچ راضی ہوگا اور یہی سمجھے گا کہ مجھے مل گیا ہے یا جنکے پاس تھا ویسے کے ویسے حالات ہیں؟ یہ سب صرف زبانی جمع خرچ ہے۔

اٹھارویں ترمیم یا آغاز حقوق بلوچستان پیکج، یا این ایف سی ایوارڈ، یا زرداری کی بلوچوں سے معافی مانگنا۔ زبانی جمع خرچ سے زیادہ اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جو زمینی حقائق ہیں، آپ کوئٹہ میں تھے آپ کو پتہ ہے کہ کوئٹہ کے حالات کیا ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں، آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ میں تو صرف ایک آدھ دفعہ کوئٹہ سے گزرا ہوں لیکن وہاں ٹھہرا نہیں۔ تو کوئٹہ کے حالات اگر ایسے ہیں، خوف و ہراس ہے۔ جیساکہ حامد میر کے پروگرام میں طالبعلم کہہ رہا تھا کہ ہمیں خوف و ہراس رہتا ہے ہم اس میں کیا تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ میں رئیسانی کے علاقے مستونگ کی بات کر رہا ہوں۔

بلوچستان میں ایف سی، کوسٹ گارڈز، لیویز اور فوج کی ہزارہا چوکیاں بنی ہوئی ہیں جو پورے بلوچستان میں بکھری ہوئی ہیں۔ یہ ایک محاصرہ ہے۔ یعنی آپ اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور آغاز حقوق کی باتیں تو کرلیتے ہیں لیکن بلوچستان محاصرے میں ہے۔ اور وہ لوگ جو محاصرے میں ہوں وہ این ایف سی، اٹھارویں ترمیم، یا پاکستانی حکمران یا اہلکار جو بھی باتیں کرتے ہیں، انہیں کیا سمجھیں گے؟ میرے خیال میں ان کے لئے یہ سب بے معنی سی باتیں ہیں۔

گل آور خان: ایک مختلف زاویے سے یہ بھی کہا جاتا ہے، بلوچستان پر جو تحقیق ہوئی ہے، یا لوگ جو بات کرتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ بلوچ قوم پرستی پاکستان کے غیر جمہوری رویے اور بلوچستان کی معاشی و معاشرتی ناانصافیوں کا ایک ردعمل اور پیداوار ہے۔ اور کچھ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ پاکستان کو بلوچ کی سرزمین اور وسائل چاہیئیں بلوچ نہیں۔ تو اس بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: پہلا سوال کیا تھا؟

گل آور خان: بلوچ قوم پرستی پاکستان کے رویے کے ردعمل میں پیدا ہوئی ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: نہیں، میرا خیال میں ایسا نہیں ہے۔ بلوچ قوم پرستی اس کے رد عمل کی پیداوار نہیں ہے کیونکہ بلوچ آزاد تھا اور بلوچ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا۔ اسی وجہ سے خان کلات نے پاکستان بننے سے پہلے جو اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ اور معاہدے کیے تھے، وہ کوئی رد عمل نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ کو ایک آزاد ریاست اور ملک سمجھتے تھے۔ لہٰذا، یہ اس کے رد عمل کے طور پر نہیں ہے۔ یہ جو قومپرستی ہے یہ اسی قوم پرستی کا ایک تسلسل ہے۔ یہ نصیر خان نوری والی قوم پرستی ہے یا دوست محمد (مغربی/ ایرانی بلوچستان کے آخری حکمران) والی ہے۔ یا بلوچ سرداروں کی اپنی، ہر علاقے کے اپنے، مثلاً مری سردار خان کلات بیگلر بیگی کو فرمانروا مانتا تھا لیکن وہ اپنے علاقے کا حاکم تھا۔ بگٹی والے اپنے علاقے میں حاکم تھے۔ تو یہ اسی قوم پرستی کا ایک تسلسل ہے۔ لیکن وہ قوم پرستی مری، بگٹی، بنگلزئی اور دوسروں کی قومپرستی سے اب بڑھ کر تقلیمی شکل اختیار کرکے بلوچ قوم پرستی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ قبائلی قوم پرستی سے بلوچ قوم پرستی میں تبدیل ہوچکی ہے۔

کیونکہ مریوں نے انگریزوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے چار پانچ جنگیں لڑیں۔ 1917ء میں بھی آخری جنگ لڑی۔ 1843ء سے پہلے بھی لڑی ہیں، سارتاف اور نفسک کی جنگیں۔ بگٹی لڑے ہیں، بروہی قبائل لڑے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ پاکستانی جبر کا ردعمل نہیں ہے۔ یقینی طور پر پاکستان کے بننے بعد یہ عنصر بھی شامل ہوا ہے لیکن بلوچ قوم پرستی بہت پرانی ہے۔

میر محمد علی ٹالپر: اور دوسرا سوال کیا تھا؟

گل آور خان: بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بلوچ زمین اور وسائل چاہیئیں نہ کہ بلوچ۔

میر محمد علی ٹالپر: جی ہاں۔ اس بات سے کسی کو انکار ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ آپ یوں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ، میں آپ کو دوبارہ 1971ء میں واپس لے جاتا ہوں۔ آپ بنگال کی مثال لے لیں۔ آج تک جو بنگال کے بارے میں روتے ہیں، کسی بھی پاکستانی دانشور کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بھئی وہاں پر لاکھوں لوگوں کی بے حرمتی ہوئی، لاکھوں لوگ مارے گئے، لاکھوں لوگوں کی زندگیاں وہاں الٹ پلٹ ہوئیں، اسکے بارے میں کبھی بات نہیں کرتے، بس کہتے ہیں کہ ”ہم سے بنگلہ دیش چلا گیا۔“ وہ اسے ایک ریئل اسٹیٹ کے طور پردیکھتے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیشیوں کو بحیثیت انسان اور بنگالی قوم کے دیکھا ہی نہیں؛ انکو تو وہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا نظر آتا ہے، آج تک۔ تب بھی یہی نظر آتا تھا، آج بھی یہی نظر آتا ہے۔

یہاں پر بھی یہی ہے۔ اگر ایسے نہ ہوتا تو، جس اصول کے تحت برطانیہ نے جاکر آسٹریلیا پر قبضہ کیا تھا جسے ’ٹیرا نلیئس‘ کہتے ہیں… یعنی کہ یہ غیرآباد زمین ہے۔ برطانیہ نے کہا کہ یہ ایک غیر آباد علاقہ ہے؛ یہ جو ٹیرا نلیئس کا اصول یا طریق مسئلہ یا نظریہ ہے یہ لوگوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ یعنی کہ لوگ تو کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہمیں صرف زمین چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عرب امارات کے حاکموں کو اس طرح کیسے اجازت دے دیتے کہ وہ واشک اور خاران میں جاکر اس طرح سے پڑاو ڈالیں اور لوگوں کو وہاں پر ہاتھ پیر بھی مارنے نہ دیں؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو بھی ذرائع ہیں، جو بھی وسائل ہیں، یا گوادر ہے، کس کی بہبود کیلئے انہوں نے کوششیں کی ہیں؟ انہوں نے اپنے ہی لئے کی ہیں۔ یا اورماڑہ میں بڑی بندرگاہ بنائی ہوئی ہے؟ یا خور میانی کے قریب خور کلمت میں وہ جو نیا نیول بیس بنا رہے ہیں؟ اس بات سے آپ اندازہ کریں کہ گوادر میں 2007 یا 08 میں بلوچ قوم پرستوں نے پاکستان بحریہ کی لانچیں جلائی تھیں۔ کیوں جلائی تھیں؟ کیونکہ نیوی والوں نے بلوچ مچھیروں کی کشتیاں توڑ پھوڑ دی تھیں۔ کیوں توڑیں؟ کیونکہ جہاں کہیں بھی نیوی بیٹھتی ہے، انہوں نے وہاں پر وقت مقرر کر رکھا ہے، یعنی اس وقت سے لیکر اس وقت تک مچھیرے مچھلیاں پکڑ سکتے ہیں باقی پھر پابندی ہے۔ تو پھر کیا یہ لوگ وہاں پر بلوچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں یا اپنے مفادات و مقصد کیلئے بیٹھے ہیں؟

یا پھر سوئی کا گیس کوئٹہ کب پہنچا؟ (گل آور خان: 80 کی دہائی میں۔) اس زمانے میں کسی نے مجھے کہا کہ ’مبارک ہو گیس کوئٹہ پہنچ گئی ہے۔‘ تو میں نے کہا کہ بھئی ہم سوئی گیس کو جلانے کا حق نہیں مانگتے ہیں کہ ہمیں جلانے دیا جائے، ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ہے، ہم جیسے استعمال کرنا چاہیں ہماری مرضی سے استعمال ہو۔

بلوچستان انکو صرف اور صرف اسلئے عزیز ہے کہ: ایک تو اسکا خطہ بہت بڑا ہے، انکی نوآبادیات کو بحال رکھنے کیلئے اور اس میں اتنے ذخائر اور وسائل ہیں کہ اس سے وہ اپنے لوگوں کو مزید آسودہ کرسکیں۔ میرے خیال میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس بات پر کوئی تضاد ہو ہی نہیں سکتا جو مثالیں میں نے دی ہیں، سوئی گیس کو کب کوئٹہ میں استعمال کیا، یا جو بحری اڈے ہیں، وہ کس طرح لوگوں پر پابندیاں لگاتے ہیں، یا آج 2013ء میں بھی دبئی کے امیر واشک اور خاران میں آکے ایسے کریں۔

دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے جو میرانی ڈیم بنائی تھی، وہ اسلئے بنائی تھی کہ وہ وہاں پر سعودیوں کو زمینیں دے رہے تھے۔ آپ کو شاید یاد نہ ہو کہ دو سال پہلے اسلم بھوتانی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ وفاق کو روکا جائے کہ وہ لسبیلہ میں عرب شیخوں کو 70,000 ایکٹر کی زمینیں دے رہے تھے۔ وہ کونسا ایئربیس تھا جو متحدہ عرب امارات نے ڈرون کارروائیوں کیلئے امریکیوں کو دے رکھا تھا؟ (گل آور خان: شمسی [شِمشی] ائر بیس یا کچھ ایسا ہی نام تھا۔) یہ جیکب آباد والا نہیں، بلوچستان (افغان سرحد) کے قریب والا۔ یہ ان کے شکار کیلئے بنایا گیا تھا۔ تو انہیں زمین چاہیے، انہیں لوگوں سے توکوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

گل آور خان: تو پھر میر صاحب، جب ہم دنیا بھرمیں تنازعات کو دیکھتے ہیں، جیسے کیوبک کا ہے، کیٹالونیا کا ہے، (میر محمد علی ٹالپر: کورسیکا کا ہے، باسک کا ہے۔) تو دنیا میں آج متحدہ ریاست کے اندر جو بن رہی ہیں، جیسا کہ افغانستان کے بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ ایک وفاقی طرز حکومت ہو، ہم عراق کے بارے میں بھی یہی سنتے ہیں۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بلوچ کا مسئلہ، کس طرح کا وفاق ہو، جیسے یوروپین یونین بن رہی ہے، کئی ممالک اکھٹے ہو رہے ہیں دوبارہ، قومیں ہیں، ممالک ہیں لیکن اکھٹے ہورہے ہیں، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بلوچ کس طرح سے وفاق کا حصہ رہنا چاہے گا؟

میر محمد علی ٹالپر: سائیں، اصل میں بات یہ ہے کہ، وہ اردو میں کہتے ہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اس کیلئے یہ دونوں طرف سے ایک بڑی فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ 1945ء تک فرانس اور جرمنی کس قدر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ فرانس پر جرمنی نے قبضہ کیا تھا۔ یا پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی اور برطانیہ کے درمیان یا اس سے پہلے کے جو تضادات رہے ہیں، افریقہ میں کالونیوں پر، وہ سب چیزیں کیسے جاکر آخر ختم ہوئیں؟ وہ اسوقت ختم ہوئیں جب دونوں نے اس بات کا اندازہ کرلیا یا سمجھ لیا کہ یہ جو ہمارا تضاد ہے یہ ہمیں کہیں پر نہیں لے جائے گا۔ اگر ہمیں جینا ہے، آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اسے مل جل کر ساتھ بیٹھ کر حل کرنا ہے۔ اب نہ فرانس کی حاکمیت ہے، کہ وہ کہے میں حاکم ہوں، یا جرمن کہے کہ میں حاکم ہوں، وہ بھائی ہیں آپس میں۔ یہ تب ہوسکا جب انہوں نے سوچا کہ ہم بھائی ہیں۔

اور یہاں پر آپ سمجھتے ہیں کہ جنرل کیانی نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان دیا تھا، میں نے اس پر آرٹیکل بھی لکھا تھا، ’ایسے بھی بلوچ ہیں جنہوں نے دس روپے کا نوٹ نہیں دیکھا ہے۔‘ میں نے کہا بھئی کس دنیا میں رہتے ہو؟ آپ ایک سرپرستانہ رویہ اپناتے ہیں، کہ یہ تو جانور ہیں ہم انہیں انسان بنائیں گے۔ کب بنیں گے انسان یہ؟ کہ ’ہم انہیں انسان بنائیں گے جب ہمیں انہیں دس روپے کا نوٹ دکھائیں گے تب جاکے یہ انسان بنیں گے۔‘ یہ جو سارا انکا رویہ ہے یہ متکبرانہ ہے؛ طاقت کی بنیاد پر تکبر۔ یعنی یہ لوگ اپنی قوت پر نازاں ہیں: ’ہمارے پاس فوج ہے اور ہم بڑے بہادر ہیں، اور ہم مارشل نسلیں ہیں۔‘ یعنی جو انگریزوں نے انہیں مارشل نسلیں بنا دیا۔

یہاں پر انہیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہی نہیں تھا۔ پہلے دن سے ان کو اجازت تھی اگر وہ چاہتے تو بلوچستان کی آزادی کو برداشت کرتے… خان کلات کی جناح کیساتھ ایک خاص دوستی تھی۔ جناح کی جتنی مدد خان کلات نے کی اتنی شاید بہت کم لوگوں نے کی ہو۔ اور جناح تو انکا وکیل بھی تھا۔ اگر وفاق ہی بنانا تھا تو تب بناتے، بناسکتے تھے، بنانی ہی نہیں تھی۔ آج بھی نہیں بناتے۔

گل آور خان: پھر سر، اگر ہم بین الاقوامی سیاست یا بلوچستان کے جغرافیائی محل وقوع کو دیکھتے ہیں تو، جیسے کہا جاتا ہے کہ جبری الحاق ہوا ہے کلات کا، اگر اس تناظر میں دیکھا جائے کہ عالمی طاقتیں تھیں، جو جانیوالی تھیں، شاید وہ بھی نہیں چاہ رہی تھیں کہ بلوچستان آزاد ہو اور روسی اثر و رسوخ ہو، گرم پانیوں تک ان کی رسائی ہو، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: میرا خیال ہے کہ اس زمانے میں، 1947ء کے زمانے کی سیاسی شعور اور آج کے سیاسی شعور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اس وقت کی عالمی طاقتوں کو اس میں اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ میری رائے ہے۔ اسکے برعکس اس دور کے مقابلے میں آج وہ بلوچستان میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

آج اس دلچسپی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اگر بلوچستان میں بھی بنیاد پرستی قابض آجاتی ہے، جس طریقے سے پاکستان کے باقی حصوں میں بنیاد پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر بلوچستان میں بنیاد پرستی قابض ہوجاتی ہے تو یہ ان کیلئے اور سب کیلئے، یہ عالمی امن اور علاقائی امن کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو بلوچ قوم پرست قوت جو ہے وہ ایک سیکولر قوت ہے۔ اسکی نظریاتی اساس سیکولر اصولوں پر مبنی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ وہ سیکولرازم کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ایسے نہ ہوتا تو یہ ڈیتھ اسکواڈز جو شفیق مینگل اور سراج رئیسانی والوں نے بنائے ہوئے ہیں، انہوں نے یہ ڈیتھ اسکواڈ اسلام کی بنیاد پر بنائے ہوئے ہیں۔ ابھی جو لندن میں یو این پی او کی طرف سے بلوچ کانفرنس ہوئی تھی تو تنظیم نفاذ امن بلوچستان (ٹی این اے بی) کے ترجمان نے غازی بلوچ کے نام سے اخبار میں دھمکی دی تھی کہ جنہوں نے بھی وہاں شرکت کی ہم ان کو ماریں گے اور جہنم رسید کریں گے۔

تو میرا خیال ہے کہ آج کی دنیا بلوچستان کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔ خاص طور سے اس علاقے کی اور پاکستان کی جو بنیاد پرستی ہے، اسکی بڑی اہمیت ہے آج۔ میں نے اپنے مضامین میں لکھا ہے کہ آج کی جو مغربی عالمی طاقتیں ہیں وہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ایٹمی ہتھیار غلط ہاتھوں میں چلے جائیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار پہلے سے ہی غلط ہاتھوں میں ہیں۔ بنیاد پرستی کی جو یہ ساری کارروائی ہے یہ پاکستانی ریاست اور پاکستانی فوج سے الگ نہیں ہے۔ اتنا تو سب سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے اسٹراٹیجک اثاثے تھے جو انہوں نے کشمیر میں اور افغانستان میں استعمال کیے، آج بھی افغانستان میں استعمال ہورہے ہیں۔

بہرحال وہ بلوچستان کے مسئلے کو مکمل طور پر ایک مختلف انداز میں دیکھتے ہیں، جس انداز میں وہ اسے 1947ء میں دیکھتے تھے۔ یعنی کہ عالمی طاقتوں کا جو رویہ تھا وہ لاتعلقی کا تھا۔ 1947ء اور 1948ء میں عالمی طاقتیں لاتعلق تھیں۔ وہ ان کے فیصلے میں ملوث نہیں تھے کہ یہ روسی اثر و رسوخ میں آجائیگا۔ یہ انکے قریب تھے۔ ایک طرف پاکستان تھا ایک طرف ایران تھا اور ایک طرف سمندر تھا۔ تو کس طریقے سے… خان کلات کی ایک طرح سے بادشاہت تھی۔ یہاں خان ایک بادشاہ کی حیثیت کیساتھ تھا۔ تو اس سے ان کو کیسے خطرہ ہوتا کہ وہ یکسر تبدیل ہوکر روس کی طرف چلا جائے گا؟ تو وہ اس وقت لاتعلق تھے لیکن آج وہ لاتعلق نہیں ہیں۔

گل آور خان: سر، آخر میں کوئی چیز ایسی جسکا آپ اضافہ کرنا چاہیں؟ کوئی چیز جو آپ سمجھ رہے ہیں کہ ایسی رہ گئی ہے شامل ہو؟

میر محمد علی ٹالپر: سائیں، میرا خیال ہے کہ آپ کی تحقیق میں آپ کو اس بات پر اہمیت دینی چاہیے، میں نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ آپ کو بلا حجاب وہ باتیں کہوں، یعنی بلوچ کے مسئلے کو ایک صحیح صورت میں پیش کیا جائے تاکہ لوگ سمجھیں کہ بلوچ کیا چاہتے ہیں۔ کیونکہ بلوچوں کے بیانیے کی نمائندگی آج تک صحیح طریقے سے ہوئی نہیں۔ ہم بلوچوں کیساتھ حادثہ یہ ہے کہ مقامی پریس میں تو شاید دوست اس کے بارے میں لکھتے ہیں لیکن بین الاقوامی پریس میں یہ بہت کم جاتا ہے۔

میرے لکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ جو بلوچ نقطہءنگاہ ہے لوگوں تک پہنچے، لوگ سمجھیں اور کم ازکم انہیں معلوم ہو کہ مسئلہ کیا ہے۔ تو آپ پر بھی یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اسکو اس طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کریں۔ اور ہم مستقبل میں بھی رابطے میں رہیں گے۔

گل آور خان: انشاءاللہ۔ بڑی مہربانی صاحب۔

میر محمد علی ٹالپر: اللہ سلامت رکھے آپ کو۔

بشکریہ: نیکڈ پنچ ڈاٹ کام

تاریخ اشاعت: 6 دسمبر 2015

http://nakedpunch.com/articles/242

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s