پلک جھپکتے میں: بلوچستان کی زمینوں پر قبضہ


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: ریاض احمد

Mir Muhammad Ali Talpurبلوچستان اسمبلی کے بزدل اور پست ہمت اراکین نے 9 ہزار ایکڑ (یعنی 32 اسکوائر کلومیٹر) اراضی سپارکو (اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیر ریسرچ کمیشن) کے حوالے کر دیا۔ یہ اراضی وائلڈ لائف کیلئے عالمی طور پر محفوظ قرار دئیے گئے علاقے ہنگول نیشنل پارک میں واقع ہے۔ اتنے اہم خطے کو الاٹ کرنے میں اسمبلی اراکین کو صرف تین سو سیکنڈ لگے، یعنی 30 ایکڑ فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین حوالے کر دی گئی۔ اس برق رفتار تابعداری نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر کوئی زور و اثر والا اِن پردباﺅ ڈالے تو یہ پورے بلوچستان سے کتنی دیر میں دستبردارہو جائیں گے؟ جتنا وقت لگے گا اِس کا دارومدار اُس خوف اور لالچ پر ہوگا کہ جو کوئی اتھارٹی ان کے دلوں میں پیوست کر سکے گی۔ یہ یقینا ان لوگوں کیلئے شرمناک اور ناشائستہ عمل ہے کہ جوبلوچستان کے حقوق کے رکھوالے قرار دئیے گئے ہیں۔ لیکن پھر جن لوگوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کا دُم چھلا بننے کیلئے چنا گیا ہو توان کے ہاتھوں عجلت اِتنی حیران کن بھی نہیں۔ سپارکو اتنا بھی بے ضرر نہیں کہ جتنا یہ نظر آتا ہے۔ یہ حتف اور شاہین جیسے میزائیل تیار کرتا ہے۔ یہ ادارہ فوج کی خدمات پر مامور ہے۔

بلوچستان کی زمین پر بڑے ہی لالچی لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہے۔ نومبر 2007ء میں سرتاج عزیز نے بلوچستان حکومت کو حکم دیا کہ 70 ہزار ایکڑ زمین ایک عرب شہزادے کو فروخت کر دے۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک نئے پورٹ سٹی کیلئے سونمیانی کی پانچ لاکھ ایکڑ زمین ایک روپے فی ایکڑ کے حساب سے دے دی جائے۔ اب یہ بات حیران کن اس لیے نہیں کہ مسلح افواج پہلے ہی ایک کروڑ بیس لاکھ ایکڑ زمین پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اور یہ کل ریاستی زمین کا 12 فی صد بنتا ہے۔ حال ہی میں سندھ اسمبلی نے بھی 9 ہزار ایکڑ زمین فوج کو تحفے میں دی ہے۔

آفت زدہ ہنگول پارک کی تکلیف دہ داستان جاری ہے کیونکہ یہ پنجاب میں نہیں بلکہ بلوچستان میں ہے۔ پوٹوہار کہ جو 22 ہزار254 کلومیٹر (یعنی 8 ہزار پانچ سو بیانوے مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے، کافی بڑا رقبہ ہے۔ یوں اس میں سے 32 اسکوائر کلومیڑ اگر لے بھی لیا جائے تو ایسا بڑا فرق تو پڑنے والا نہیں۔ لیکن وہ خطرات جو راکٹ کے تجربے کے ساتھ آتے ہیں وہ تجربہ کرنے والوں کو تو نہیں لیکن راکٹ کی زد میں آنے یا دربدر کیے جانے والوں کے لیےمہلک ضرور ہیں۔

جولائی 2006ء میں فضائیہ اور سپارکو نے 80 ہزار ایکڑ کا مطالبہ کیا، جس میں سے 23 ہزار ایکڑ ہنگول پارک اور آٹھ موضع جات کے بھی آتے تھے۔ میں نے ڈان اخبار میں ایک مضمون ’ٹیسٹنگ ٹائمز‘ کے عنوان سے تب لکھا تھا جب 13 مئی 2008ء کو ہنگول پارک کو جے ایف 17 جیٹ طیاروں کی فائرنگ رینج بنا دیا گیا تھا۔ اس مضمون پرڈائریکٹر میڈیا افئیرز ائیر کموڈور سرفراز احمد خان کا جواب آیا اور انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ پی اے ایف ہنگول پارک کی زمین لے رہی ہے۔ میں نے جواباً انہی کا 27 جولائی 2002ء کا بیان بھیج دیا کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’قریب 30 فیصد رقبہ، کہ جو پی اے ایف نے تجویز کیا ہے، یہ نیشنل پارک کی حدود میں پڑتا ہے‘۔

یہ جنوری 2009ء کی بات ہے کہ تب کی بلوچستان اسمبلی جاگی اور فیصلہ کیا کہ جام قیادت میں اتحادی حکومت اور پاکستان ائیر فورس کے بیچ میمو آف انڈرسٹینڈنگ منسوخ کر دیا جائے کیونکہ اس معاہدے کی پاداش میں معمولی معاوضہ ملنے والے اور بے دخل ہونے والے باسیوں نے احتجاج جاری کر رکھا تھا۔ جام حکومت نے ہنگول نیشنل پارک کے علاقے میں 63 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کر دی تھی، یہاں پر فائرنگ رینج تعمیر کی جانی تھی۔

فائرنگ رینج، راکٹ ٹیسٹنگ اور دیگر مقاصد کیلئے زمین ہتھیانا روزمرہ کا کام ہے جبکہ چند ہی چیزیں منظر عام پر آپاتی ہیں۔ طاہر رشید، کہ جو ایک این جی او Sustainable Use Specialist Group Cenrtal Asiaکے نیشنل پروجیکٹ منیجر ہیں اور انکی این جی او طبعی مسکن اور نوع بچانے کا کام کرتی ہے، نے تب کہا تھا کہ’پی اے ایف ہنگول نیشنل پارک میں زمین اسلئے مانگ رہی ہے کیونکہ یہ پہلے ہی ضلع پشین میں مسلخ وائلڈ لائف سینکچوری کی زمین حاصل کر چکی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’مسلخ وائلڈ لائف سینکچوری کا قیام 1968 میں عمل میں آیا تھا تا کہ چنکارا اور اوڑیل کا بچاﺅ کیا جا سکے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یوسی این) کے مطابق اس علاقے میں تمام اہم ترین وائلڈ لائف انواع ختم کی جاچکی ہیں‘۔ یوں سپارکو سے یہ توقع خام خیالی ہے کہ یہ ہنگول پارک میں وائلڈ لائف کی جانب کوئی ہمدردانہ رویہ اپنائے گی۔

ٍبلوچستان جن مصائب سے گزر رہا ہے ان میں قبضہ واحد تباہی نہیں۔ راسکوہ چاغی میں 28 مئی 1998ء کو گرینائٹ پہاڑوں کی موت واقع ہوئی۔ اس علاقے کے باسی اب تابکاری کی آلودگی سے متاثر ہیں۔ اُن کا یہ دعویٰ کہ یہ تجربے مکمل طور پر محفوظ ہیں، مقامی لوگوں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ تو پھر یہ ’محفوظ نیوکلیر تجربات‘ جہلم کی وادیوں میں کیوں نہیں کئے گئے؟

زوفین ٹی ابراہیم صاحبہ نے جون 2006ء کے ایک مضمون ’فوری اور واضح خطرہ‘ میں بغلچور علاقے کے بلوچوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی تھی کہ جہاں سے 1978ء تا 2000ء کے بیچ نیوکلئیر ہتھیاروں کیلئے یورینیم نکالا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس علاقے کے باسیوں کیلئے مسائل اس وقت شروع ہوئے کہ جب کانیں خالی ہو گئیں تو انہیں نیوکلیر فضلہ ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’متاثرین میں پچاس ہزار کے قریب لوگ ہیں جو بغلچور کے گرد بستیوں اورپانچ لاکھ افراد قریبی ڈیرہ غازی خان میں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ اکثریتی بلوچ قبائل پر مشتمل ہے‘۔ متاثرہ آبادی نے 2006ء میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ لیکن یہ یونہی پڑی رہی۔ اور پھر یہ 2012ء میں اُٹھائی گئی اور اسکی آخری سماعت میں کیس پنجاب انوائرمنٹل ٹرائیبیونل کو بھیج دی گئی کہ وہ اس پر مزید سماعتیں کرے۔ اسکے بعد کچھ نہ ہوا اور معاملہ یہیں ختم ہو گیا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ہیرالڈ رسالے کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ’اسٹراٹیجک پلان ڈویژن یعنی وہ ادارہ جو پاکستان کے نیوکلیر ہتھیاروں کا کنٹرول رکھتا ہے اس کا ایک افسر یہاں تک کہہ گیا کہ بغلچور سے نکلنے والی تابکاری ’عوام کے ذہنوں کی اختراع ہے‘۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیوکلیر فضلے کو پنڈی اور اسلام آباد میں محفوظ نہیں کیا جا سکتا؟

ٍسندھ بھی زمینوں پر قبضے کا شکار ہے۔ کچھ زیادہ عرصہ نہ ہوا کہ ملک کی سب میں بڑی فائرنگ رینج کھپرو میں تھیں۔ پھر بھی صالح پٹ سکھر کی 73 ہزار ایکڑ کی زرخیز زرعی زمین ایک نئی فائرنگ رینج کیلئے طلب کر لی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ علاقہ بے زمین کسانوں میں تقسیم کرنے کیلئے مختص کیا گیا تھا۔ اگر اسے انہی میں تقسیم کر دیا جاتا تو قریب 4 ہزار خاندانوں کو روزگار مل جاتا۔ لیکن یہاں تو معمول یہ ہے کہ 24 لاکھ ایکڑ میں سے 55 فیصد (یعنی 13 لاکھ ایکڑ) زمین کہ جو بیراجوں سے سیراب ہوتی ہے اسے غیر سندھیوں میں الاٹ کیاجا چکا ہے۔

سردار اختر مینگل نے نوشکی میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’ایک خوشحال بلوچستان کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک کہ گوادر پورٹ کو صوبے کے حوالے نہیں کر دیا جاتا‘۔ وہ بھول گئے کہ بلوچستان کو وہ لوگ چلا رہے ہیں کہ جو 9 ہزار ایکڑ پر مشتمل محفوظ نیشنل پارک کو ایک مخصوص تباہ کاری کیلئے نکال چکے ہیں اور انہیں افسوس ہے نہ شرم۔ لیکن پھرہم انہیں قصور وار بھی نہیں ٹھہرا سکتے کہ جب چیف منسٹر کو ملنے والے ووٹ ہی 4 ہزار ہوں اور خود انہوں نے قبول بھی کیا ہو کہ بلوچستان میں تمام انتخابات ’طے شدہ‘ ہوتے ہیں ۔ یہ اسلئے ’طے شدہ‘ ہیں تا کہ وہ جو اسمبلی تک پہنچ جائیں انہیں بھی ان مقاصد کیلئے کہ جن کا تقاضہ راولپنڈی اور اسلام آباد کرتے ہیں، ’طے‘ کیا جا سکے۔ جہاں تک ان ’طے شدہ قانون سازوں‘ کا معاملہ ہے تو ان کے نزدیک بلوچستان کے عوام اپنے حقوق اور شکایات کیلئے ہنہ جھیل میں جا کر چھلانگ لگا سکتے ہیں۔

مصنف 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : نیکڈ پنچ ڈاٹ کام، اتوار، 29 نومبر 2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s