والدہ کوبابائے مری کے پہلو میں سپرد خاک کرنے کیلئے سیاست کو بالائے طاق رکھا جائے،مہران بلوچ


mehran-baloch

لندن(سنگر نیوز)اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق میں بلوچ قومی نمائندہ مہران بلوچ نے اپنی والدہ محترمہ کے انتقال پر صدمے کا اظہار اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ والدہ محترمہ ایک مہربان ماں کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی باہمت اور نڈر خاتون تھیں بلوچستان کے جہد آزادی کے سفر میں انہوں نے بابائے بلوچ کا بھر پور ساتھ دیا جب کبھی بھی ریاست نے نواب خیربخش مری کو پابند سلاسل کیا تو والدہ محترمہ نے کارواں آزادی کو تھمنے نہیں دیا اور وہ بذات خود جہد کاروں کو ہدایات اور بابائے بلوچ کے پیغامات و ہدایات پہنچاتی تھیں۔

مہران بلوچ نے کہا کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تو والدہ ہمیشہ یہ سمجھاتی
تھیں کہ تمھارے وطن پر غیروں نے قبضہ کر رکھا ہے تم ایک غلام ہو اپنے وطن کو ان قبضہ گیروں سے آزاد کرانا تمہارا فرض ہے اور اس جدو جہد میں اپنے والد کا ساتھ دو۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا نواب مری کو بار بار جیل بھیجنا، خاندان کا جلاوطن ہونا، بالاچ کی شہادت اور ہر قسم کے مصائب کے باوجود انہوں نے کبھی بھی کمزوری ظاہر نہیں کی حتیٰ کہ نواب مری کے گزرجانے کے بعد بھی وہ مجھے حوصلہ، سہارا اور ہدایات دیتی تھیں۔ وہ اکثر آئے روز بلوچوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی، بلوچوں کے اغوا اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کی خبروں سے انتہائی افسردہ ہوتیں تھیں۔ انہوں نے آخری دم تک جدوجہد آزادی کا ساتھ دیا ان کی قربانیاں اور گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے بلوچ خواتین کے لیے بھی ایک مثال قائم کردی کہ کس طرح وہ اس جدوجہد میں اپنے بھائیوں کا ساتھ دے کر اس تحریک کو کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔

مہران بلوچ نے کہا کہ ان کی جسد خاکی کو ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق نواب مری کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ لیکن انھوں نے ہمیں سختی سے تاکید کی تھی کہ جب بھی وہ دنیا سے رخصت ہوں گی تو چنگیز مری کو میرے قریب آنے کی اجازت نہ دینا۔ وہ چنگیز مری کی ریاستی آلہ کار بننے اور ان کی بلوچ دشمن پالیسیوں سے سخت نالاں تھیں باالخصوص جس طرح انہوں نے نواب مری کی میت کے ساتھ جو سلوک کیا۔ وہ کہتی تھیں کہ میں چنگیز مری کو اس لیے بھی ہر گز معاف نہیں کرسکتی کہ انہوں نے نواب مری کی جسد خاکی کی جسطرح سے بے حرمتی کی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نواب مری پاکستان اور پاکستانی فوجیوں کو کس قدر ناپسند کرتے تھے لیکن پھر بھی انکی نعش کوپاکستانی فوجیوں کے حوالے کرکے انہیں چھاؤنی لے جایا گیا اور مجھے ان کی آخری دیدار تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں یہ واضح کی تھی بشمول اخباری بیانات کے، کہ چنگیز نواب مری کا بیٹا ضرور ہے لیکن وہ نالائق ہے اور راستے سے بھٹک گیا لہذا ہمارا اس سے کوئی رشتہ باقی نہ رہا۔

مہران بلوچ نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے (آمین) اور میں تمام بلوچ قوم اور بلوچ رہنماوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انہیں انکی وصیت کے مطابق نواب مری کے پہلو میں سپرد خاک کریں اور امید کرتا ہوں کہ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی وصیت کا احترام کیا جائے گا۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s