’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘، بلوچستان میں ریاستی بربریت کے خلاف پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال۔ بلوچ نیشنل فرنٹ


This slideshow requires JavaScript.

بلوچ نیشنل فرنٹ کی مرکزی کال پر’’انسانی حقوق کا عالمی دن ‘‘ کے موقع پر بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کے عالمی ذمہ دار اداروں کی عدم توجہی کے خلاف آج بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال رہی۔

ہڑتال کے باعث بلوچستان میں کاروباری زندگی معطل رہی پہیہ جام کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی معطل رہی۔ہڑتال کے باعث گوادر، پسنی،اوڑماڑہ، جیونی، تربت،مند، تمپ، ہوشاپ، بالگتر،ڈنڈار، گیشکور، خاران،واشک، بسیمہ،مشکے، آواران، جھاؤ،بیلہ، حب، پنجگور، مستونگ، کوئٹہ، قلات، سوراب سمیت بلوچستان بھر کے تمام شہروں میں چھوٹے و بڑے کاروباری مراکز اور دفاتربند رہے۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے فورسز کی دھمکیوں کے باوجود ہڑتال کی کامیابی پر عوامی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاستی فورسز کو یہ تلخ حقیقت ماننا پڑے گا کہ بلوچستان میں عوام ریاستی قبضہ گیریت کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ترجمان نے کہا کہ تاجر برادری کو نیشنل پارٹی اور فورسز کی مشترکہ دھمکیوں کے باوجود ہڑتال کی کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزویوں کے خلاف بلوچ عوام متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی بلوچستا ن کی سنگین صورت حال کے بارے میں خاموشی غیر ذمہ دار ریاستی فورسز کو بلواسطہ طور پر یہ جواز فراہم کررہی ہے کہ وہ کروڑوں بلوچوں کی زندگیوں کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لیں۔

ترجمان نے کہا کہ انسانی جذبات سے عاری اور خود کو جنگی اخلاقیات سے بالا تر سمجھنے والی ریاستی فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین و بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ نومبر کے مہینے میں بولان کے علاقوں سے اغواء ہونے والے درجنوں خواتین تاحال فورسز کی تحویل میں ہیں۔ اس طرح کی کاروائیوں سے اس بات کا اندازہ ہوتی ہے کہ قابض فورسز بلوچستان میں لوٹ مار کو جاری رکھنے، بلوچ جغرافیہ کو سستے داموں چائنا کے حوالے کرنے لئے ان منصوبوں کے سامنے ہونے والی عوامی رکاوٹ کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے دور کرنے کی پالیسیوں پر عمل پھیرا ہے۔ جس کے نتیجے میں یقینی طور پر ہزاروں بلوچ فرزندان ریاستی طاقت کا نشانہ بنے ہیں۔

بی این ایف نے کہا کہ نیشنل پارٹی، ثنا ء اللہ زہری سمیت بلوچستان میں پارلیمانی سیاست کرنے والی دیگر شخصیات و نام نہاد پارٹیاں بلوچ عوام کی نسل کشی کی جرم میں فورسز کے ساتھ براہ راست شریک ہیں۔ بلوچ عوام کے مستقبل کی قیمت پر اپنے گروہی مفادات کو ترجیح دینے والے کردار بلوچ عوام کی احتساب سے نہیں بچ سکتے ۔ بی این ایف کے ترجمان نے بلوچستان میں ریاست کی دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کا پُر امن حل نکالنے کے لئے اپنا فوری کردار ادا کریں۔ تاکہ ہزاروں انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s