انہوں نے میرا کالم بند کردیا


raheelsharif
تحریر : محمد تقی
ترجمہ: لطیف بلیدی

جنرل راحیل شریف کے تحت پاکستانی فوج اختلاف رائے کیخلاف ایک کم شدت والی جنگ لڑ رہی ہے۔ پاکستانی آرمی چیف کا بت تراشنے کے ساتھ ساتھ ان کی میڈیا ٹیم فعال طور پر ان کے ناقدین کی بھی چھانٹی کررہی ہے

dr-mohammad-taqiسیر سپاٹے کے دلدادہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف دنیا کے مخصوص دارالحکومتوں میں ضرب عضب نامی فوجی کارروائی کی ظاہری کامیابی کی فروخت میں لگے ہوئے ہیں۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے باس جنرل راحیل شریف کے ارد گرد کامیابیوں بلکہ بے خطائی کی نفی میں ایک ہالہء نور پیدا کرنے کیلئے سماجی اور روایتی میڈیا میں ایک شدید اور فیصلہ کن جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ پر فوج کی بھرپور یلغار کے ساتھ ساتھ اس کا اختلاف رائے کیخلاف ایک غیراعلانیہ جنگ بھی جاری ہے جو کہ ان دانشوروں کی رائے اور نیت پر اعتراضات کی بوچھاڑکرتا، خواہ مخواہ میں بدنام کرتا، برادری بدر کرکے اسکا حقہ پانی بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جو واقعات کے حوالے سے فوج کے پیش کردہ نسخے کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں جداگانہ رائے کیخلاف یہ کم شدت والی منظم جنگ بمشکل مقامی یا بین الاقوامی توجہ حاصل کر پاتی ہے۔

They shut down my column

گزشتہ جمعہ (27 نومبر) کو روزانہ صبح کی رسم کی ادائیگی کے دوران میں اپنے ای میلز دیکھ رہا تھا کہ میری نظر اپنے مقابل ادارتی صفحے کے ایڈیٹر کے ای میل پر پڑی جس میں لکھا تھا: ”ایک انتہائی بھاری دل اور ندامت کیساتھ میں آپ کو مطلع کررہا ہوں کہ ڈیلی ٹائمز آپکے جرات مندانہ اور دیانتدارانہ مضامین کو جگہ دینے کی قابل نہیں ہوگی۔ اس دور میں جس فضاء کے تحت پرنٹ میڈیا چل رہی ہے، اس کے سبب، اس طرح کے مضامین زیر تنقیح آتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ اخبار بھی۔ بدقسمتی سے یہ بھی میری ذمہ داری ہے کہ آپ کو مطلع کروں کہ ادارتی شعبے کے معاملات میں جاری مداخلت پر انہی وجوہات کے باعث راشد رحمان نے بطور مدیر اعلیٰ استعفیٰ دے دیا ہے اور سچ کے ایک غیر جانبدارسپاہی کے طور پراب وہ اپنے تین ماہ کے نوٹس پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔“ لبرل پاکستانی اخبار ڈیلی ٹائمز کیلئے ہفتہ وار لیڈ کالم نگار کے طور پر میں نے بڑے پیمانے پر لکھا ہے کہ پاکستانی میڈیا، علم و فیض کی دنیا اور سیاسی طبقے میں کس بے رحمی سے حریفوں کی کے پیچھے سگ تازی چھوڑے جاتے ہیں؛ کہ اس غیر اعلانیہ سینسر کے جلاد کی تلوار میرے ہاتھوں پر گری ہے، کسی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ جو بات حیران کن تھی وہ یہ کہ ایسا کرنے میں اسے چھ سال لگے تھے۔میرے ایڈیٹر راشد رحمان، جو کہ ایک تجربہ کار صحافی اور ایک آزمودہ کار بائیں بازو کے سیاسی مہم کار ہیں، نے کئی سالوں تک مجھے اور مجھ جیسے دیگر کو ان لوگوں سے حاجز شدہ رکھا جنہیں وہ ”جو اصل طاقتیں ہیں“ کہتے تھے؛ یہ پاکستان کی فوجی اسٹابلشمنٹ کیلئے ایک حسن تعبیر ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے ہائی پروفائل مالک اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کے مذہبی انتہا پسند کے ہاتھوں قتل کے بعد انکے خاندان نے انکی لبرل روایت کا پاس رکھا اور مجھے برداشت کرنا جاری رکھا، اور دیگر کوبھی، جیسا کہ آزمودہ کار بلوچ کارکن اور مصنف میر محمد علی ٹالپر کو اور ہمیں ہمارے اذہان کے اظہار کیلئے جگہ دی۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی اٹھان کے بعد سے فوج کی خفیہ مداخلت کیخلاف ڈھال پتلی ہوتی جارہی ہے نہ صرف ہمارے اخبار میں بلکہ عام طور پر پورے میڈیا میں۔

پاکستانی آرمی چیف کا بت تراشنے کے ساتھ ساتھ ان کی میڈیا ٹیم فعال طور پر ان کے ناقدین کی بھی چھانٹی کررہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک سال قبل ادارتی عملے نے ٹالپر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بلوچستان پر لکھنے کو ایک وقفہ دے دیں چونکہ اس معاملے پر انہیں فوج کی طرف سے کافی مخاصمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رخنے کے بعد ٹالپر نے پاکستانی فوج کی طرف سے بلوچستان کو فی الواقع ایک نوآبادیت بنانے کیخلاف شدید تنقیدی مضامین لکھے۔ آخر کار گزشتہ جمعرات کو مالکان نے ہمارے ایڈیٹر راشد رحمان کو دونوں یعنی ٹالپر اور میرے ہفتہ وار کالم بند کرنے کا کہا۔

تو لہٰذا اس طرح سے ڈیلی ٹائمز کیساتھ ایک چھ سالہ تعلق پاکستان کی قادر مطلق فوج کی طرف سے دباو کے تحت ختم ہوا۔ فوج کا نام میں اسلئے لے رہا ہوں کہ ثقافتی اور موسیقی سے متعلق مضامین یا شخصیتی پروفائلز، جو میں نے لکھے ہیں، ان سے اور کوئی بھی ناراض نہیں ہوسکتا۔ یہ افغانستان میں جہادی دہشتگردی کے شتر بے مہار پر فوج کی دوغلی پالیسی پر میری تنقید تھی جو فوج پر ناگوار گزری ہے۔

میری بنیاد بہت سادہ ہے: کم از کم 1970 کی دہائی کے وسط سے پاکستانی فوج نے جہادیوں کی سرپرستی کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، اور اس کے برعکس کیے جانیوالے اعلانات کے باوجود اس نے جہادی پراکسی جنگیں لڑنے کیلئے انہیں استعمال کرنے کی اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ہے جہاں تک افغانستان اور بھارت کا تعلق ہے۔ میں نے مسلسل اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ فوج کے جہادی وینچر کی سب سے بڑی قیمت پاکستانی عوام نے ادا کی ہے خاص طور پر پشتون اور غیر محفوظ مذہبی گروہوں، جیسا کہ مسلسل ستم زدہ اور محصور شیعوں، احمدیوں، عیسائیوں اور ہندووں نے۔ شورش زدہ اور وسائل سے مالا مال بلوچستان میں فوج کی بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اس خطے کو علیحدگی پسندی کی آگ میں جھونک دیا ہے اور ان بلوچوں کیلئے ایک بامعنی سیاسی مصالحت کے تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں جو آزادی چاہتے ہیں، یا الگ ہونا چاہتے ہیں، یہ بات ہر ایک کے اپنے نقطہ نظر پر منحصر ہے۔ میں نے پاکستانی معاشرے کے بے صدا لوگوں کو ایک آواز دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح سے میری زندگی کو چھوا ہے اور اس عمل میں اسے افزودہ کیا ہے۔

جب میں نے دیکھا کہ طالبان کی جانب سے میرے دوستوں اور پیاروں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جا رہا تھا، پشتون رہنماوں، جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا تھا، کو قتل کیا جا رہا تھا اور آل سینٹس چرچ، جہاں میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا، کو تباہ کرکے ریزہ ریزہ کیا جارہا تھا، اور یہ سب میرے آبائی شہر پشاور میں ہورہا تھا، تو میں ان سب کی گواہی دینا چاہتا تھا اور ان مظالم کی سزگزشت درج کرنا چاہتا تھا جو کہ میری رائے میں پاکستان فوج کے جہادی منصوبے کا ایک براہ راست ردعمل تھے۔ گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر بھیانک حملے کے بعد فوج نے ان لوگوں کیخلاف کریک ڈاون شروع کیا جنہیں اس نے ایک بار ”برے طالبان“ کا نام دیا تھا، یعنی وہ لوگ جو پاکستان کے اندر وار کرتے ہیں۔ جبکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تمام رنگوں کے جہادیوں کے پیچھے جا رہی ہے، میں نے یہ دلیل پیش کی کہ وہ ”اچھے طالبان“ کو بخش رہی ہے، یعنی وہ جوکہ افغانستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔

میں نے ڈیلی ٹائمز کے اپنے آخری کالم میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ جنرل راحیل شریف گول مول بات کرنے والا شخص ہے جو دہشتگردی کیخلاف لڑنے اور افغانستان میں امن لانے کا وعدہ کرتا ہے جبکہ جہادی پاکستان سے افغانستان میں بغیر کسی چانچ پڑتال کے دراندازی کرتے ہیں۔ شاید فوج اور اس کے کاسہ لیس اب مزید اسے برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میرا کالم ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا۔

جنرل راحیل شریف کی زیرقیادت پاکستان میں میڈیا اور پریس کی آزادی ایک افسانہ ہے۔ ٹی وی چینلز سمیت ذرائع ابلاغ کے اداروں کا ایک ہجوم جداگانہ رائے کا ایک سراب تو پیدا کرتا ہے لیکن موثر طریقے سے فوج کی جانب سے منظور شدہ غیرمعمولی قوم پرستی کے مختلف رنگ خارج کرتا ہے جو حب الوطنی کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ شاید کوئی کسی ایک اہم کالم یا ایک شو میں اسے بیان کرسکتا ہو، لیکن تسلسل کیساتھ اسے برقرار رکھنا اب تقریباً ناممکن ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ سیاسی طبقہ حب الوطنی کی وضاحت کرنے کے اپنے کردار سے دستبردار ہوچکا ہے۔ پاکستانی دانشور طبقہ قومی مفاد کی وضاحت کرنے کی طاقت واپس اپنے ہاتھوں میں لانے کیلئے ایک مقدمہ تو پیش کر سکتا ہے، لیکن جب تک کہ سیاستدان بھاری بوجھ ڈھونے کیلئے تیار نہیں ہوتے تب تک ہم ایک انتہائی مشکل لڑائی لڑ رہے ہونگے جس میں مزید کالم بند ہو جائیں گے اور کئی لکھاریوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا جائیگا۔

مصنف ’ڈیلی ٹائمز‘ پاکستان کے سابق کالم نگار ہیں۔
بشکریہ : انڈین ایکسپریس
تاریخ اشاعت: یکم دسمبر 2015

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s