پاکستانی فوج کا شفیق مینگل کیخلاف کارروائی سے ظاہر ہے انہیں نیا وفادار مل گیا،مہران بلوچ


mehran-baloch

لندن(سنگر نیوز)اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق میں بلوچ قومی نمائندے مہران بلوچ نے کہا کہ کچھ عرصے سے اخبارات میں بلوچ قومی مجرم شفیق مینگل پاکستانی مسلح اداروں کے خلاف تواتر سے بیانات جاری کررہا ہے ۔

شفیق مینگل جو آئی ایس آئی کا دست راست اور چہیتا ہوا کرتا تھا جن کے ہاتھ بلوچ قوم کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جس نے ریاست کی پشت پناہی میں ڈیتھ سکواڈ بنا رکھی ہیں جو بلوچ فرزندوں کو اغوا کرکے فوج کی زیرنگرانی قائم کردہ اپنے گھر اور علاقے میں ٹارچر سیلوں میں لے جاکر اذیتیں دینا ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینکنا اور توتک میں دریافت اجتماعی قبروں کا ذمہ دار ہے۔

شفیق مینگل اپنے کاروندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری فوج پر عائد کررہا ہے۔ پاکستانی فوج کے ہاتھوں اپنے ہی قائم کردہ ڈیتھ سکواڈ کے کاروندوں کی ہلاکت ان کی پالیسی میں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اب انہیں شفیق مینگل جیسا ایک نیا وفادار دستیاب ہوگیا تاکہ انہیں نئے لوگوں کو بھرتی کرنے میں آسانی ہو اور پرانے کارندے جو ان کے تمام راز جانتے ہیں انہیں مارنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بلوچوں کے اجتماعی قبروں، اغوا، ٹارچرسیلوں میں اذیتیں اور گمشدہ بلوچوں کے بارے میں تمام ثبوت مٹانا چاہتے ہیں ۔مہران بلوچ نے کہا کہ وہ بلوچ جو اقتدار کی حوس، خوف، لالچ اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں جوبلوچوں کے قتل عام، گھروں کو جلانا، بلوچ فرزندوں کے اغوا حتیٰ کہ فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین کے اغوا اور بلوچستان میں جاری خون ریز فوجی آپریشن پر ریاست کی بھر پور حمایت کررہے ہیں انہیں یہ مت بھولنا چاہییے کہ پاکستان کو بلوچ نہیں بلکہ بلوچ وسائل سے غرض ہے آج جو لوگ دشمن کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں ہیں کل انہیں بھی استعمال کرنے کے بعد اسی طرح راستے سے ہٹائے گا جسطرح وہ اپنے ہی بنائی گئی ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں کو بلوچ قومی تحریک آزادی خلاف استعمال کرنے کے بعد راستے سے ہٹارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک آذادی کو کاؤنٹر کرنے اور بلوچ قوم کے خلاف ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے مذاکرات کا ڈرامہ رچا رہا ہے قاتل اور قابض کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ہمارے نزدیک قابض کے ساتھ مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں اور اس بابت بابائے بلوچ نواب خیربخش مری نے واضح الفاظ میں کہاتھا کہ بلوچ کا مقابلہ بدقسمتی سے ایک غیر مہذب دشمن سے ہے اس سے جتنا جلدی ممکن ہو جان چھڑاؤ.

یہ ریاست کی غلط فہمی ہوگی کہ وہ بزور طاقت اور مارو اور پھینکو کی پالیسی سے تحریک کو ختم کریگی جب تک غیور بلوچ زندہ ہیں یہ جدوجہد جاری رہے گی اور دشمن تشدد اور قتل و غارت سے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا نہیں سکتی، جس طرح نواب بگٹی نے کہا تھا کہ ‘‘ قوم پہ جناغا گار نواں، کراغا گار باں’’ ۔

مہران بلوچ نے کہا کہ تحریک آزادی میں بلوچوں کی بھرپور شمولیت، باالخصوص تحریک میں بلوچ خواتین کی بے مثال کردار اس بات کی واضح ثبوت ہے کہ بلوچ شعوری طور پر اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور جو قومیں شعور و بیداری کی بنیاد پر تحاریک چلاتی ہیں جیت ہمیشہ انکی مقدر ہوتی ہے. بلوچ قوم تحریک آزادی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور ان کے آشیرباد سے وزارتوں میں براجمان ضمیر فروش مراعات یافتہ طبقہ کے ہر طرح کے منفی ہتکھنڈوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ ریاست اور ان کے حواریوں کو اپنے جہد مسلسل اور بلوچ شہدا کے قربانیوں کی بدولت شکست سے دوچار کریں گے۔

Leave a comment

Filed under News