آئی ایس آئی جامع حکمت عملی تحت مری قبائل کے خاتمے کا فیصلہ کرچکی ہے ، مہران بلوچ


mehran-baloch

جنیوا(سنگر نیوز) اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق اور مری قبیلے کے سربراہ مہران بلوچ نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بلوچ تحریک آزادی کو کاؤنٹر اور ختم کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے جارہانہ انداز اختیار کیا ہے۔

بابائے بلوچ نواب خیربخش مری نے بلوچ قوم کے نام اپنے آخری پیغام میں جن خدشات کا ذکر کیا تھا ان کا ہر لفظ آج صحیح ثابت ہورہا ہے۔

آئی ایس آئی نے نواب خیر بخش مری کے زندگی میں مری بلوچوں کو فرقوں میں بانٹنے اور اور انہیں آپس میں دست و گریبان کرنے کے لئے زبردست کوششیں کی تھیں لیکن بابا کے بہترین حکمت عملی کے سبب وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن جونہی بابا رخصت ہوئے آئی ایس آئی نے اپنے مہروں اور مراعات یافتوں کے ذریعے مری علاقوں میں ایک جامعہ حکمت عملی کے تحت ایک بار پھر مری قوم کو فرقوں میں بانٹنے باالخصوص مری معتبرین کو مارنے اور انہیں اغوا کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور نور احمد مری کے صاحبزادے کو شہید کرنا اس سلسلے کی کڑی ہے۔مہران بلوچ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل کیرتھر میں زمین کے تنازعے کی تصفیہ کے نام پر مری معتبرین کو اکٹھا کرکے اور دوسری طرف ایف سی کو بھیج کر انہیں مارنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی لیکن خوش قسمتی سے ان کا وہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق ریاست کی ایما پر لندن اور کوئٹہ میں بیٹھے یہ منصوبے اور ان کے درمیان بڑھتے روابط، گٹھ جوڑ اور برادر کشی کی پالیسیاں اس لئے مرتب کی جارہی ہیں تا کہ وہاں سے معدنیات اور دیگر بلوچ قومی وسائل کو لوٹا جاسکے لیکن ہم ان پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ سرزمین اور وسائل بلوچ قوم کی ملکیت ہیں اور اس کے لئے ہزاروں بلوچوں نے جانیں قربان کیں، قوم قابض اور ان کے ساتھیوں کی برادر کش پالیسیوں کو سمجھ چکی ہے اور ہم قوم کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے ۔اور مری قوم کو فرقوں میں بانٹنے کا منصوبہ ناکام ہوگا۔

مہران بلوچ نے کہا کہ بلوچستان بھر میں مری علاقوں، ڈیرہ بگٹی اور مکران میں ریاستی دہشت گردی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ گوادر کو چین کے ہاتھوں بیچ کر اور اب فوج کے حوالے کرکے بلوچوں کو وہاں سے بیدخل کرنے، پنجاب اور دوسرے صوبوں سے اپنے لوگوں کو لاکر آباد کرنے کے منصوبے ہیں لیکن بلوچ قوم اس طرح کے منصوبوں کو شروع دن سے مسترد کرچکے ہیں۔

کسی کو بھی اس میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بلوچ سرزمین پربلوچ قوم کے مرضی کے خلاف اس طرح کے منصوبوں کو کامیابی سے عملی جامعہ پہنا سکیں گے۔تمام بین الاقوامی برادری کو بلوچ علاقوں میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ بلوچ بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق اپنی چھینی ہوئی آزادی کے لیے پرامن جدوجہد کررہے ہیں اور پاکستان ایک قابض کی حیثیت سے بڑی بے دردی سے بلوچ وسائل کو لوٹ رہا ہے اور بلوچ آواز کو دبانے کے لیے ان کی نسل کشی کر رہا ہے لہذا بین الاقوامی برادری کو بلوچ قوم کی اس جدوجہد آزادی کو ہر طرح کی سیاسی اور اخلاقی مدد کرنی چاہیے۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s