یومِ غضب کبھی نہیں منایا گیا


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

عام طور پر لوگوں کا ماننا ہے کہ شر دوسروں پر نازل ہوتا ہے اور وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔ اسی لئے وہ ریاست کی طرف سے کیے جانیوالے جبر، استبداد اور غلیظ جنگ کے شر کیخلاف احتجاج کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے جب دوسروں کو اسکا نشانہ بنایا جا رہا ہو

Mir Muhammad Ali Talpurیومِ غضب کے دن ہزاروں مظاہرین نے 26 ستمبر 2014ء میں اگوالا سے 43 طالب علموں کی گمشدگی کی پہلی برسی کے موقع پر میکسیکو شہر میں مارچ کیا۔ معاشرے کے ہر طبقے کے لوگوں نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے نعرے لگائے: ”وہ زندہ اٹھائے گئے، ہمیں وہ زندہ واپس چاہیئیں“ اور یہ بھی کہ ”نہ مزید گمشدگیاں، نہ مزید اموات۔“ مارسیلو براڈسکی، جنہوں نے اپنی تصاویر میں لاپتہ افراد کو امر کردیا ہے، کا بجا طور پر کہنا ہے کہ: ”جب کوئی گمشدگی ہو تو یہ ایک طرح سے موت سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ یہ مستقل ہے، یہ ایک ایسا جرم ہے جو جاری رہتا ہے۔“

 Never a day of indignation

میکسیکو کی وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اگوالا اور کوکولا کی پولیس نے طلباء کو مقامی منشیات کے گروہ کے حوالے کرنے سے قبل حراست میں لیا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر بعد میں انہیں قتل کیا اور ان کی باقیات جلا دیں۔ بین الامریکی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی گئی جس نے حکومت کی تحقیقات کا جائزہ لیا اور اسے ناقص پایا اور یہ نتیجہ اخذ کیا 43 طلباء کی لاشیں کوکولا کے کچرے کے ڈھیر میں نہیں جلائی جاسکی تھیں۔ حکومت کے فارنسک ماہرین نے وہاں سے پائی گئی طلباء کی جلی ہوئی باقیات میں سے دو کی شناخت کر لی تھی۔میکسیکو کے عوام اس کے برے ماضی کے باعث حکومت کی طرف سے کیے جانیوالے اپنی بے گناہی کے دعووں پر محتاط ہیں۔ انہیں تلاتیلوکو کا قتل عام یاد ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق 30 سے 300 طلباء اور عام شہریوں کو میکسیکو شہر کے تلاتیلوکو سیکشن میں پلازہ دی لاس تریس کلتوراس میں 2 اکتوبر 1968ء میں فوج اور پولیس نے ہلاک کیا تھا۔ یہ قتل عام میکسیکو شہر میں 1968ء کے اولمپکس کے افتتاح سے 10 دن قبل واقع ہوا۔ 1,300 سے زائد افراد پولیس نے گرفتار کیے تھے۔ کبھی بھی اس بات کی تحقیقات نہیں کی گئیں کہ اس دن وہاں کتنے افراد ہلاک ہوئے۔ لہٰذا 43 طلباء کی گمشدگی ’یومِ غضب‘ کا موجب بنی۔

میکسیکو کے عوام کا جم غفیر ان 43 طلباء کی گمشدگی کیخلاف احتجاج کرنے باہر آیا لیکن یہاں کی کہانی مختلف ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین ماما عبدالقدیر بلوچ کا دعویٰ ہے کہ 2005ء کے بعد سے 20,000 سے زائد بلوچ لاپتہ ہو ئے ہیں لیکن ان کے اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز قرار دیکر یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسکا مقصد کو پاکستان کو بدنام کرنا ہے جو کہ محبت و دردمندی کا ایک پیکر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں یا حتیٰ کہ وہ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ ان 4,000 بلوچوں کا کیا ہوا جن کی گرفتاری کے بارے میں اسوقت کے وزیر داخلہ شیرپاو نے 8 دسمبر 2005ء میں تربت میں ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا۔ ان 4,000 بدقسمت بلوچوں پر مقدمات چلانے یا انہیں رہا کیے جانے کے حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور اس کے بعد سے ہزاروں بلوچوں کی کٹی پھٹی مسخ شدہ لاشیں پورے بلوچستان میں، حتیٰ کہ کراچی میں بھی، برامد ہوئی ہیں۔

اس سال 15 ستمبر کو بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے بیان دیا تھا کہ صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت 8,363 سے زائد مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”صوبے میں مختلف کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی طرف سے کل 204 دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں۔“ اور یہ کہ بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 1,840 آپریشن کیے گئے ہیں۔

وہ عموماً صرف ان لوگوں کی گرفتاریاں تسلیم کرتے ہیں جنہیں گواہوں کے سامنے گرفتار کیا گیا اور بعض اوقات وہ انہیں بھی تسلیم نہیں کرتے۔ تباہکاریء زمین و املاک کی سفاکانہ پالیسی آواران، مشکے اور دیگر علاقوں میں لاگو کی جا رہی ہے جسے نہ تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے اعداد و شمار جاری کیے جاتے ہیں اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کارروائیوں میں کتنے لوگ ہلاک، گرفتار اور بے گھر ہوئے ہیں۔ درانی کے اعداد و شمار محض برفانی تودے کی نوک ہے۔

یہاں لاپتہ بلوچوں کیلئے عام طور پر ہمدردی کا احساس بیدار نہیں ہوتا کیونکہ اسٹابلشمنٹ اپنے تعلیمی نظام اور متعصب میڈیا کے ذریعے بلوچ عوام کو انتہائی منفی انداز میں غیر مہذب، ترقی مخالف اور سب سے بڑھ کر پاکستان دشمن کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ عام طور پر لوگوں نے یہ فریب کاملاً نگل لیا ہے اور بلوچ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

لوگوں کا عموماً ماننا ہے کہ شر دوسروں پر نازل ہوتا ہے اور وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔ اسی لئے وہ ریاست کی طرف سے کیے جانیوالے جبر، استبداد اور غلیظ جنگ کے شر کیخلاف احتجاج کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے جب دوسروں کو اسکا نشانہ بنایا جارہا ہو۔ تاہم یہ غلیظ جنگ صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہے؛ سندھ بھی اسکا شکار ہے: گزشتہ ماہ جئے سندھ متحدہ محاذ (جسمم) کے داہر ڈہیسر اسکے تازہ ترین شکار ہیں۔ خیبر پختونخوا کئی عرصے سے یہ جھیل رہا ہے اور یہ سفاکیت جنگ زدہ علاقوں میں لوگوں پر بار بار، اندھا دھند کیے جانیوالے فضائی حملوں سے جڑی ہوئی ہے جہاں سب کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے لیبل کے تحت مارا جارہا ہے۔

حال ہی میں خیبر پختونخواہ پولیس نے جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے کمیشن (سی آئی ای ڈی) کیلئے ”جبری گمشدگیوں“ پر ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو ”جبری گمشدگیوں“ کے کل 1,066 واقعات کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 415 کا سراغ لگا لیا گیا ہے جبکہ ان میں سے 651 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سراغ لگائے گئے افراد میں سے زیادہ تر کو یا تو پہلے سے ظاہر جنگی حراستی مراکز میں قید کیا گیا تھا یا ان کے اغواءکاروں کی طرف سے انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ سوات کے آٹھ واقعات میں لاپتہ افراد کو ان کے اغواءکاروں کی طرف سے ہلاک کیا گیا۔ ہزارہ بھی لاپتہ ہیں لیکن ان کا ’لاپتہ‘ ہونا رضاکارانہ ہے چونکہ وہ یہاں موت، مسخ شدگی اور ظلم و ستم سے بچنے کیلئے محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کررہے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ، فرزانہ مجید اور بلوچ لاپتہ افراد کے خاندان کے اراکین کی طرف سے کیا گیا 106 دن اور 3,000 کلومیٹر کا تاریخی طویل مارچ بلوچ کی طرف سے کیا گیا مارچِ غضب تھا اور یہ ایک نہایت ہی منفرد سیاسی اور سماجی واقعہ تھا جسے لاکھوں لوگوں کی طرف سے اپنایا گیا ہوتا مگر اپنایا نہیں گیا۔ اس قدر وسعت آمیز سیاسی اور سماجی احتجاج کہیں اور کیا جاتا تو اس سے ایک سیاسی اور سماجی تحریک شروع ہوجاتی لیکن یہاں اسے بہ آسانی نظر انداز کردیا گیا۔ لگتا ہے یہاں کوئی چیز لوگوں میں غیض و غضب نہیں اکساتا جب تک کہ اسے میڈیا کی طرف سے پیش نہیں کیا جاتا ہے اور بے شک جسے فوج کی آشیرباد حاصل نہ ہو۔ یہاں کوئی یومِ غضب نہیں منایا جائیگا جب تک کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہو۔

یہاں ان لاپتہ افراد کی حالت زار کی جانب جذبات سے عاری بے حسی کا اظہار جرمن شاعر برلوٹ بریخت کی 1935ء کی نظم ’جب برائی برستے بارش کی طرح آئے‘ میں بڑے چبھتے انداز میں کیا گیا ہے:

”جیسے کوئی شخص جو دفتری اوقات کے بعد کاونٹر پر ایک اہم خط لائے:
اور کاونٹر پہلے ہی سے بند ہو۔
جیسے کوئی شخص جو کسی آنیوالے سیلاب سے شہر کو خبردار کرنے کی کوشش کرے،
لیکن وہ کوئی دوسری زبان بولتا ہو۔
وہ اسے نہیں سمجھتے۔
اس بھکاری کی طرح جو دروازے پر پانچویں مرتبہ دستک دے رہا ہو
جہاں سے اسے پچھلے چار بار کچھ کھانے کو دیا گیا: پانچویں بار وہ بھوکا ہو۔
جیسے کوئی شخص جس کا خون زخم سے بہہ رہا ہو اور وہ ڈاکٹر کا انتظار کر رہا ہو:
اس کا خون بہتا چلا جارہا ہو۔
اسی انداز میں ہم آگے آتے ہیں اور بتاتے ہیں ہم پر شر نازل ہوا ہے۔
پہلی بار یہ خبر آئی کہ ہمارے دوستوں کو قتل کیا جارہا ہے تو وہاں ایک ہولناک شور برپا ہوا۔
اور پھر ایک سو قتل ہوئے۔
پر جب ایک ہزار قتل ہوئے اور پھر قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا تو ہر سُوخامشی چھا گئی۔
جب برائی برسنے لگے بارش کی طرح، تو کوئی نہیں چلّاتا کہ ”تھم جا!“
جب جرائم کا ڈھیر لگنا شروع ہوجائے تو وہ غیر مرئی بن جاتی ہیں۔
جب اندوہ ناقابل برداشت ہوں تو پھر گریے نہیں سنے جاتے۔
گریے بھی موسم گرما کی بارش کی طرح برستے ہیں۔“

مصنف 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 4 اکتوبر 2015ئ

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s