میر محمد علی ٹالپر کہانی — حصہ اول/حصہ دوم


تحریر : میر محمد علی ٹالپر اور شیر علی خان
ترجمہ: لطیف بلیدی

یہ میر محمد علی ٹالپر کے دو حصوں پر مشتمل انٹرویو کا پہلا حصہ ہے۔

میر محمد علی ٹالپر 1987 میں

میر محمد علی ٹالپر 1987 میں

سن 1971ء کے موسم خزاں میں میر محمد علی ٹالپر نے اپنی زندگی بطور ایک طالب علم کے ترک کرنے اور بلوچ حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی فہم و فراست نے انہیں متحرک کیا کہ ناانصافی اور غفلت نے بلوچ عوام کو الگ تھلگ کرکے رکھ دیا ہے اور انہوں نے محسوس کیا یہ ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ انہیں بہت کم پتہ تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آخری بار ہو جب وہ اپنے گھر واپس لوٹیں اور اپنے خاندان سے ملیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بلوچ کیساتھ بلوچستان میں اور افغانستان میں جلاوطنی میں رہنے پر منتج ہوا۔

بلوچ جدوجہد کا سوال آج بھی اتنا ہی موزوں ہے جتنا کہ چار دہائیاں قبل تھا چونکہ ریاستی جبر اور ظلم و ستم کا سلسلہ بلاروک جاری ہے۔ اس بناء پر ٹالپر بلوچستان پر ریاستی بیانیے سے پیدا کردہ تصورات کیخلاف بات کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں، اور وہ اس خطے میں جدوجہد کی بنیاد کے بارے میں بہتر تفہیم کو فروغ دینے کیلئے کام کرتے ہیں۔ 2013ء میں مجھے ایک ذاتی دستاویزی منصوبے کے حصہ کے طور پر، سرگرم عمل کارکنوں کی جدوجہد، جن کی کہانیاں شاذ و نادر ہی، اگر کبھی بتائی بھی جاتی ہوں تو، کے سلسلے میں میر محمد علی ٹالپر سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔

The Mir Mohammad Ali Talpur Story: Part I & Part II

شیر علی خان: آپ ہمیں اس پس منظر پر کچھ بتا سکتے ہیں کہ کس طرح
سے آپ نے خود کو بلوچ جدوجہد میں ملوث پایا؟

میر محمد علی ٹالپر: میرے خاندان، حیدرآباد میں قدیم ٹالپر شاہی خاندان، کے بلوچ عوام کیساتھ پرانے تعلقات ہیں۔ یہ ایک تاریخی تعلق ہے جو کہ بہت پیچھے جاتا ہے۔ 15 جولائی 1960 میں بلوچ رہنما نواب نوروز خان کے دو بیٹوں اور پانچ رشتہ داروں اور دوستوں کو حیدرآباد اور سکھر میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ خود نواب نوروز خان اور ان کے چھوٹے بیٹے جلال خان کو انکی عمروں کی وجہ سے عمر قید کی سزا دی گئی۔ انکے رشتہ داروں میں سے تین کو حیدرآباد میں اور انکے سب سے بڑے صاحبزادے بٹے خان سمیت چار افراد کو سکھر میں پھانسی دے دی گئی۔

یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے تحت مارشل لاء کا دور تھا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا کہ کوئی بھی ان کی لاشیں وصول کرکے انہیں بلوچستان بھیجنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ میرے مرحوم چچا میر رسول بخش ٹالپر نے ان بلوچ کارکنوں کی لاشیں وصول کیں ان کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ لاشیں انکے گھر پہنچ جائیں۔

میرے چچا بلوچ عوام کے حامی تھے اور وہ اکثر کوئٹہ کا دورہ کرتے اور بلوچ حقوق کے حق میں تقاریر کرتے۔ لہٰذا میرے خاندان کا بلوچ عوام کیساتھ ہمیشہ سے ایک پرانا تعلق رہا ہے۔ میرے چچا باقاعدگی سے نواب نوزور سے ملنے جاتے اور ہر عید پر ان کے لئے ایک خاص طور پر پکایا ہوا کھانا لے جاتے۔ چونکہ 1962ء میں عید کے موقع پر میں حیدرآباد میں تھا، مجھے نواب نوروز سے ملنے کا موقع ملا، اور اس وقت عطاءاللہ خان مینگل اور غوث بخش بزنجو بھی جیل میں تھے۔ تو مجھے ان سے بھی ملاقات کا موقع ملا، اور میری جوانی میں اس کا مجھ پر بہت اثر پڑا۔ وہ ایک جدوجہد میں ملوث تھے، اور وہ ایک بہت بڑی فوج اور حکومت سے نافرمانی کررہے تھے۔ یہ ہمیشہ سب کیلئے متاثر کن رہا۔ یہی ہمارے لئے بھی سچ تھا۔ مجھ میں اس جدوجہد کیلئے دلچسپی پیدا ہوئی، لیکن اس وقت اس سے واقعتا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

شیر علی خان: کیا آپ اس وقت کی انقلابی سیاست کے خیالات اور سیاق و سباق مقرر کر سکتے ہیں؟

میر محمد علی ٹالپر: قائم شدہ طاقت کے مراکز کیخلاف بغاوت کو معزز سمجھا جاتا تھا اور عقیدہ مساوات انسانی کے معاشرے کے خواب نے سیاسی شعور رکھنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔ میرے خاندان کی برطانوی راج کیخلاف بغاوت کی ایک شاندار تاریخ تھی جس کے نتیجے میں 17 فروری 1843 میں میانی کی جنگ ہوئی۔ میرے والد خاکسار تحریک کے نائب اور قائم مقام سربراہ تھے جب 1942 میں علامہ مشرقی قید کیے گئے۔ میرے والد اور میرے چچا نے ایوب خان کی بھی مخالفت کی۔ 1964 میں فاطمہ جناح صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ہمارے ہاں ٹھہری تھیں۔ مزید برآں، میرے خیال میں وہاں بہت سارے لوگ ہیں کہ جنہوں نے ساٹھ کی دہائی نہیں گزاری ہے۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کریں گے کہ اس دور میں انقلاب کی لہریں دنیا بھر میں پھیلی تھیں: کیوبا اور چے گویرا کی کامیابیاں، ویتنام کا امریکہ کیخلاف سرکشی اور پھرماو زے تنگ جوکہ اس دور کی متاثر کن شخصیت تھے۔ ان تمام چیزوں نے سیکولر اور بائیں بازو کے نوجوانوں کو متاثر کیا۔

اسی طرح سے بائیں بازو نے پاکستان میں ایک بہت بڑا مقبول اثر چھوڑا، سب انقلاب کے بارے میں بات کرتے تھے۔ تو بطور ایک طالبعلم جب میں کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کر رہا تھا تو میں اسلامی جمعیت طلبہ کیساتھ چپقلش میں ملوث رہا۔ میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) میں نہیں تھا لیکن میں یقینا انکا ایک حامی تھا اور این ایس ایف کے تمام ارکان اور دیگر تمام بائیں بازو کے طالبعلم کارکنوں کیساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھا۔

وہ ایک مختلف دور تھا، بائیں بازو کا مشاہدہ کیا اور انکے ساتھ ملوث رہا، اور میں ایوب خان کیخلاف تحریک میں بھی شامل تھا۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے حیدرآباد کا دورہ کیا، انہوں نے حکومت چھوڑ دی تھی اور انہیں اورینٹ ہوٹل میں ٹھہرنا تھا لیکن انہیں وہاں رہنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تو وہ ہمارے خاندان کے ہاں ٹھہرے، اور اسکے نتیجے میں ایوب خان نے میرے چچا رسول بخش کو 9 ماہ کیلئے جیل میں ڈال دیا۔

میر رسول بخش ٹالپر متحرمہ جناح کیساتھ ایک سیاسی ریلی میں

میر رسول بخش ٹالپر متحرمہ جناح کیساتھ ایک سیاسی ریلی میں

میرے چچا مقامی طور پر حیدرآباد میں ٹریڈ یونین سیاست کیساتھ ملوث رہے اور اسکے ساتھ ساتھ مزدور اور دیگر شعبوں سے متعلق دیگر انجمنوں کے ساتھ بھی رہے۔ انہوں نے سہروردی کیساتھ تحریک میں بھی حصہ لیا۔ بھٹو کے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا آغاز بھی میر رسول بخش کے باغیچے میں ہوا جوکہ بائیں بازو کی تحریک کیساتھ بھی شامل تھے۔

شیر علی خان: بھٹو کو عوامی رہنما کے طور پر دیکھا گیا ہے جوکہ پہلی بار عوامی امنگوں کیساتھ منسلک ہونے کے قابل رہے۔ کارکنوں میں سے چند کا خیال یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فطرت میں ایک متکبر اور آمرانہ شخص تھے۔ آپ نے اس تحریک کو کس طرح سے دیکھا اور اس دور میں بھٹو کس چیز کی نمائندگی کررہے تھے؟

میر محمد علی ٹالپر: ذاتی طور پر میں ان سے متاثر نہیں ہوا چونکہ بلوچستان میں مسائل جاری تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب یحییٰ خان نہیں آئے تھے اور ون یونٹ کو تحلیل کردیا گیا تھا اور وہاں معاملات ٹھنڈا ہونا شروع ہوئے تھے۔ مشرقی پاکستان کا مسئلہ سامنے آنے سے پہلے ہی میں بھٹو کی سیاست کے فریب سے نکل چکا تھا۔

ہماری سیاست کا جھکاو بائیں بازو کا تھا اور وہ ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا مفروضہ بجا تھا اور بعد میں ثابت بھی ہوا کہ میں غلط نہیں تھا۔ میرے والد مرحوم میر علی احمد ٹالپر، جو 1971ء میں ایم این اے تھے، نے ذوالفقار علی بھٹو کو یہ بتانے کی بہت کوشش کی کہ بنگال کے لوگوں کیساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرلینا چاہئے اور یہ کہ انہیں حکومت کی تشکیل کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ بھٹو اس بات پر قائل نہیں تھے اور اسے قبول نہیں کیا۔

شیر علی خان: فعالیت کے لحاظ سے آپ بلوچ جدوجہد کیساتھ کس طرح سے ملوث ہوئے؟

میر محمد علی ٹالپر: میرے دوستوں میں سے چند، جیساکہ محمد بھابھا اور میر پور خاص کے علی بخش ٹالپر، میر منور کے والد، کا بھی بلوچ عوام کیساتھ گہرا تعلق تھا۔ بھابھا نے ان کے ذریعے شیر محمد خان مری سے ملاقات کی جو کئی سالوں سے جنرل شیروف کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ اصل میں بلوچوں کے درمیان وہ عام طور پر بابو کے نام سے جانے جاتے ہیں جوکہ ایک بزرگ چچا کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

بھابھا نے شیر محمد خان سے اس ارادے کیساتھ ملاقات کی کہ بلوچستان میں کچھ کام کیا جانا چاہئے۔ ہم تینوں تھے اور ہمارا ایک تعلق تھا۔ ان کے نجم سیٹھی، احمد رشید، اسدرحمن، راشد رحمن، اور دلیپ داس کیساتھ بھی تعلقات تھے جو کہ سب اس وقت لندن میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ یہ بات غلط طور پر سمجھی جاتی ہے کہ میں لندن گروپ کا حصہ تھا، گو کہ میں کبھی بھی اس کا حصہ نہیں رہا اور میں آج تک کبھی لندن نہیں گیا۔

بلوچستان جانے سے قبل میں انہیں نہیں جانتا تھا؛ میرا تعلق صرف محمد بھابھا کے ذریعے تھا۔ بنگلہ دیش کیلئے تحریک شروع ہونے سے کافی پہلے، میں نے اپنی تعلیم چھوڑنے کیلئے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔ یہ اسلئے کہ یحییٰ خان نے میرے والد کو چھ سے سات ماہ کیلئے جیل بھیج دیا تھا۔ میرے والد ایک بہت اچھے مقرر تھے اور انہوں نے حکومت کیخلاف بہت سی تقاریر کی تھیں۔

ایوب خان نے میرے چچا کو جیل بھیجا اور پھر میرے والد کو، تو جب ایسے واقعات رونما ہوں تو یہ آپ کو اور آپ کے رویے کو متاثر کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ آپ کو سخت بنا دیتے ہیں اور آپ کا نقطہ نظر جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے۔

ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ بلوچستان بہت قریب اور دسترس میں تھا۔ آپ کہیں بھی نظر دوڑائیں، خواہ یہ فلسطینی جدوجہد ہو یا ویتنام کی، میرا خیال ہے کہ یہ موقع کے حصول کا ایک معاملہ تھا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے ان جگہوں میں سے کسی ایک میں بھی جانے کا موقع ملتا تو میں چلا جاتا۔

تو اس جستجو میں، میں نے 1971ءمیں اپنی تعلیم چھوڑ دی اور میں اپنے داماد غلام قادر کے پاس رہنے کیلئے چلا گیا جو کہ ایک سرکاری ڈاکٹر تھے۔ میں مارچ میں بنگلہ دیش کا کریک ڈاون شروع ہونے سے محض چند دن قبل وہاں چلا گیا۔ میں ان کے ساتھ چھ ماہ کیلئے رہا جہاں مجھے دوائیوں اور علاج معلاجے کے بارے میں سیکھنا تھا۔ یہ وہ کچھ تھا جو میں نے عملی طور پر سیکھا اور اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھے علمی پہلووں کے بارے میں بھی کچھ سکھایا۔

اکتوبر 1971ء میں مجھے محمد بھابھا کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا کہ بلوچستان میں میری ضرورت ہے۔ تو میں چلاگیا۔

میر علی احمد ٹالپر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔ متحرمہ جناح بیٹھی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ حیدرآباد 1964۔

میر علی احمد ٹالپر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔ متحرمہ جناح بیٹھی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ حیدرآباد 1964۔

شیر علی خان: منظم ہونے کا فیصلہ آپ نے کیسے کیا؟ آپ اپنے دوست کیلئے جا رہے تھے یا کسی قسم کی مقامی تنظیم تھی کہ جس نے آپ کو آنے کا کہا تھا؟

میر محمد علی ٹالپر: وہ پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔ وہاں بلوچ عوام کی طرف مزاحمت چل رہی تھی، اور جنگ کو اس کا ایک حصہ ہونا تھا۔ پس میں گیا اور کچھ دوست پہلے ہی سے وہاں موجود تھے، اور میں نے آخر میں مری علاقے میں قیام کیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرے دوست احمد رشید، اسد رحمن اور محمد بھابھا پہلے ہی سے وہیں تھے۔ میرے فرائض ایک ڈاکٹر کے تھے۔

شیر علی خان: آپ جس وقت وہاں پہنچے اس دوران بلوچستان میں کیا ہو رہا تھا؟

میر محمد علی ٹالپر: جب تک کہ ون یونٹ تحلیل نہیں ہوئی تھی، مری اور مینگل علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری تھیں اور لوگ لڑرہے تھے۔ حالات انتہائی سنگین ہوچکے تھے اور حکومت کیخلاف بڑے پیمانے پر عدم اطمینان تھا جب انہوں نے سیاسی مداخلت کرنا شروع کی تھی، نواب خیر بخش خان مری کو حکمرانی کی طاقت سے محروم کرکے خارج کردیا گیا تھا۔ حکومت نے نواب خیر بخش مری کے چچا دودا خان کو قبائلی سردار کے طور پر مقرر کیا۔ 1965ء میں حکومت کے فیصلے سے ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہونے کے باعث چند ہفتوں بعد دودا خان کو گھات لگا کر حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

تو مری اور مینگل علاقوں میں لوگ حکومت سے انتہائی مایوس تھے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مری علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ایماکو (امریکن آئل کمپنی) کے ایک سروے کیمطابق تدڑی جاندران بھمبور کے علاقے میں ایک بہت بڑا شاندار ساخت موجود ہے۔ 1978ء میں اوجی ڈی سی ایل (آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ) کے ایک سروے میں کہا گیا تھا کہ بھمبور، پیرکوہ اور ڈھوڈک سے منسلک ایک وسیع علاقہ ”طلائی مثلث“ کی تشکیل کرتے، اس علاقے میں گیس اور تیل کی بڑی مقدار کے سبب۔ بلوچ ان ذخائر کے استحصال کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے اور ہم نے، بطور بائیں بازو کے پیروکار یا معاشرے کے باشعور عناصر کے، محسوس کیا کہ ہمیں مدد کرنی چاہئے۔

شیر علی خان: اس زمانے میں بائیں بازو کی جماعتوں نے کئی سطحوں پر مرکزی سیاسی دھارے میں اپنی افادیت کھو دی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی)، جوکہ کمیونسٹوں اور قومپرستوں کے درمیان ایک اتحاد تھا، کو ٹوٹ پھوٹ کا سامنا تھا۔ جدوجہد اس سے کس طرح نمٹی تھی؟

میر محمد علی ٹالپر: سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تھی جس نے اپنی تشہیر بائیں بازو کے طور پر کی تھی، اور ہمارا این اے پی کیساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا۔ ہم ایک طرح سے ایک آزاد یا بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ فری لانس گروہ کی مانند تھے۔

شیر علی خان: تو آپ ایک عزم کے ساتھ بلوچ عوام کیساتھ جدوجہد کرنے کیلئے بلوچستان پہنچے۔ جب آپ ابتدائی طور پر وہاں پہنچے توآپ کا مقرر کردہ کام کیا تھا اور آپ نے کیا کیا؟

میر محمد علی ٹالپر: بنیادی طور پر میرا زیادہ زور بنیادی تعلیم پر تھا اور لوگوں میں بیداری پیدا کرنا، اور طبی علاج فراہم کرنے کا تھا۔ میں لوگوں کے پاس جاتا اور ان کا علاج کرتا اور کچھ دوست پڑھانے اور اسکول کی تعلیم کیساتھ مدد کرتے۔ ہم وہاں رہنے کیلئے اس ماحول سے مانوس ہو رہے تھے۔ میرے لئے یہ اتنا مشکل نہیں تھا مگر دیگر دوستوں کیلئے یہ ثقافتی طور پر بہت مشکل تھا کیونکہ یہ عمل ایک صدی سے کسی دوسری صدی کی جانب پیچھے جانے کا تھا۔

ہم پہاڑی زندگی کے عادی ہو رہے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی وہاں کے مطابق ڈھل رہے تھے۔ ہمارے دوست اسدرحمن، دکھ کی بات ہے کہ وہ گزشتہ سال انتقال کر گئے، جو آخر تک صرف بلوچی میں بات کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ میرے لئے یہ بہت آسان تھا کیونکہ ٹالپر بلوچ ہیں، شہروں میں رہنے کے باوجود ہم میں بہت سی ایسی روایات ہیں جوکہ مری کے علاقے میں مروجہ ہیں۔

شیر علی خان: نواب شیر باز خان مزاری کی کتاب ’حقیقت بینی کاایک سفر‘ میں وہ سرداری نظام سے نالاں ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے بلوچ مزاحمت میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صورتحال یہی ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: ایک بات واضح کرتا چلوں کہ نواب خیر بخش خان مری نے غیر مبہم طور پر ریاست کی مخالفت کی ہے۔ وہ کبھی بھی اندر اور باہر نہیں رہے ہیں۔ باقی سب پس و پیش ہوتے رہے ہیں لیکن خیر بخش خان مری کبھی نہیں ہوئے۔

میں آپ کو ایک واقعے کی مثال دیتا ہوں جو 1953ء میں پیش آیا۔ مری علاقے میں ڈیوس نامی ایک پولیٹیکل ایجنٹ تھا۔ انہوں نے خیر بخش کو بتایا کہ حکومت سڑکیں بنانا چاہتی ہے اور ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھ رہی ہے، جیساکہ عموماً گفتگو کی جاتی ہے۔ لیکن درحقیقت ان کامقصد بہتری اور ترقی کی آڑ میں استحصال ہوتا ہے۔

پولیٹیکل ایجنٹ نے پوچھا: ”خیر بخش، آپ کیوں اپنے بدبخت لوگوں کی ترقی کیلئے مدد نہیں کرتے؟“

بہ زبان راوی خیر بخش نے جواب دیا کہ ”ڈیوس، اگر ہٹلر نے دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ فتح کیا ہوتا، اور کوئی آپ کے پاس آتا اور کہتا کہ آپ کیوں ہٹلر کو اپنے بدبخت لوگوں کو ترقی دینے کی اجازت نہیں دیتے، تو آپ کیا جواب دیتے؟“

تو ڈیوس نے جواب میں کہا کہ، ”خیر بخش، مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں نے پھر کبھی آپ سے اس بارے میں بات کی۔“

تو لہٰذا خیر بخش نے غیر مبہم طور پر بلوچ اور ان کے وسائل کا استحصال کرنے کے حوالے سے ریاست کی مخالفت کی ہے۔ باقیوں نے… خیر، اکبر خان بگٹی نے 1973ء میں بھٹو حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ اور پھر جیل میں این اے پی کے پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی پیدا ہونا شروع ہوئے۔ اور پھر بلوچ رہنماوں کے آپس میں اختلافات موجود تھے۔ غوث بخش خان بزنجو نے لڑائی کے اس طریقہ کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا۔ عطاءاللہ خان مینگل اس کے بارے میں بہت مبہم تھے۔ اس معنی میں خیر بخش مری ریاست کی طرف سے بلوچ وسائل کے استحصال کیخلاف غیر مبہم رہے۔

Ghaus-Baksh-Bizenjo

غوث بخش بزنجو جیل میں۔

شیر علی خان: آگے بڑھتے ہیں، بھٹو اب اقتدار میں ہیں۔ زمین پر صورتحال کس طرح تبدیل ہو رہی تھی چونکہ اس دور میں بہت سے لوگوں نے بھٹو کو ترقی پسندی کی علامت کے طور پرسمجھا؟

میر محمد علی ٹالپر: جیساکہ میں نے کہا کہ بلوچ عوام ہر حوالے سے ایک مختلف انداز میں رہ رہے تھے، اپنے قومی شعور اور اپنی بلوچ شناخت کے علاوہ۔ وہاں غربت تھی، سرداری تھی، کوئی تعلیم نہیں تھی، لیکن وہ اپنی بلوچ شناخت کے بارے میں آگاہ تھے۔ وہ اس بات کو جانتے ہیں، اور شیر محمد خان مری 1963ء سے 1969ء تک مری علاقے کے پہاڑوں میں رہے۔

یاد رہے کہ انہیں 1963ء میں حیدرآباد میں جیل بھیج دیا گیا تھا اور میرے چچا میر رسول بخش نے ان کی ضمانت دی تھی۔ مجھے صحیح وقت یاد نہیں ہے، لیکن انہوں نے ضمانت کی پرواہ نہیں کی اور وہیں سے جدوجہد کا آغاز کیا۔ اسی کو ہم پہاڑوں پر جانا کہتے ہیں۔ حکام نے میرے چچا کو انہیں واپس لانے کیلئے کہا، لیکن میرے چچا نے ان سے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں اور آپ انہیں جاکر پکڑ سکتے ہیں۔ اس کے بعد حکام خاموش رہے۔

شیر محمد خان مری نے اس مدت کے دوران بلوچ جدوجہد کے شعور کو اجاگر کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اسی انداز میں، 1947ء تا 1948ء شہزادہ عبدالکریم کی شخصیت نے بھی یہی کردار ادا کیا جب بلوچستان کیساتھ قلات پر قبضہ کر لیا گیا۔ پھر 1958ء میں جب مارشل لاء نافذ کیا گیا، اور ان افواہوں کے بعد کہ خان کلات علیحدگی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو ایک بڑا حملہ کیا گیا۔ اس کی وجہ سے نواب نوروز خان پہاڑوں پر چلے گئے۔

اس کے بعد بلوچ کی مزاحمت اور شناخت کے شعور کو منظم کرنے میں سب سے اہم کردار شیر محمد خان مری نے ادا کیا۔ وہ ہمیشہ بیک وقت بائیں بازو کے رکن اور قبائلی تھے۔ آپ انہیں ایک بائیں بازو کا قبائلی کہہ سکتے ہیں۔ اسی دوران مینگل علاقے میں علی محمد مینگل مزاحمت کررہے تھے۔

شیر علی خان: اپنے قیام کے دوران، جب ابتدائی طور پر آپ اپنے ارد گرد کے ماحول سے مانوس ہورہے تھے اور آپ نے لندن گروپ کے مشہور ارکان سے ملاقات کی۔ اس میدان میں آپ صرف ایک کارکن تھے یا آپ اسکی قیادت کے سلسلے میں بھی ملوث رہے؟

میر محمد علی ٹالپر: یہ ایک طرح سے قیادت اور عمومی کاموں میں حصہ لینے والے کارکن کا دوہرا کردار تھا۔ میں جب پہنچا تو اسد رحمن، احمد رشید، اور محمد بھابھا پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔ ہمارے دوستوں اور ساتھیوں میں سے ایک اور دلیپ داس، جنہیں جانی داس کے نام سے پکارا جاتا، بھی لندن سے آئے تھے۔ یہ اس طرح نہیں تھا کہ ہم ایک گروہ کے طور پر الگ الگ رہ رہے تھے، بلکہ ہم لوگوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ظاہر ہے ہم خاندانوں کیساتھ نہیں رہ رہے تھے بلکہ ہمارا ایک علیحدہ کیمپ تھا۔

وہاں میر ہزار خان رامکانی بھی تھے، جو فوجی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن بعد میں بطور سیاسی کمانڈر کے بھی۔ سیاسی اسلئے کہ انہوں نے خیر بخش خان، شیر محمد خان کو گرفتار کر لیا تھا، اوربلوچ کی تقریباً پوری قیادت جیل میں تھی۔ تو لہٰذا وہ 1973ء میں جدوجہد کی قیادت کررہے تھے۔

شیر علی خان: آپ کیسا محسوس کرتے ہیں کہ بھٹو نے بلوچستان کی غلطی کی اور اسکے باعث زمین پر جدوجہد میں ایک اہم موڑ آیا، یعنی کہ بغاوت میں اضافہ ہوا؟

میر محمد علی ٹالپر: جب انہوں نے عطاءاللہ مینگل کو حکومت دی تو سب سے پہلے غلام مصطفی کھر نے پولیس اور سول بیوروکریسی میں تمام پنجابی بیوروکریٹس کو واپس بلانے کا حکم دیا۔ یہ بلوچ کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا کہ صوبے میں بیوروکریٹس بلوچستان سے ہوں۔ لیکن کھر اور وفاقی حکومت کو معلوم تھا کہ اس وقت صوبے کی صلاحیت محدود تھی جیسا کہ حکومت چلانے کیلئے ان کے پاس اہل لوگوں کی تعداد کافی نہیں تھی۔

اور پھر وہاں جام غلام قادر، لسبیلہ کے جام، تھے جنہوں نے لسبیلہ میں ٹیلی فون کی لائنیں کاٹنا شروع کر دی تھیں اور یہ کہہ کر بد امنی پھیلائی کہ وہاں ظلم ہو رہا ہے اور ہم اس کیخلاف مزاحمت کریں گے۔ یہ وفاقی حکومت کی رضامندی سے ہورہی تھی۔ اس عمل نے صوبے کو موثر طور پر الگ تھلگ کرکے رکھ دیا۔

ہوسکتا ہے یہ بات زیادہ لوگوں کو معلوم نہ ہو لیکن حتیٰ کہ سندھ میں بھی اگر آپ سکھر، گڈو اور غلام محمد بیراج پر نظر ڈالیں تو تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی زمین کا پچپن فیصد غیر سندھیوں کو چلا گیا ہے۔ اسی طرح سے 1972ء میں پٹ فیڈر کے علاقے نے پنجابی آبادکاروں کو دیکھا جس سے نالش میں اضافہ ہوا۔ وہاں چند معمولی جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن میڈیا اور مرکزی حکومت نے انہیں بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔

یہ تمام چیزیں مینگل حکومت کو کمزور کرنے کیلئے کی گئی تھیں۔ عطاءاللہ خان نے ایک بار کہا تھا وہ حتیٰ کہ آپ سے یہ بھی پوچھیں گے کہ آپ نے یہ گھڑی کیونکر پہن رکھی ہے، یعنی وہ ہرچیز کے بارے میں انتہائی متخصّص تھے اور ہر چیز پر اپنا حکم چلانا چاہتے تھے۔

ایک اور عنصر ایران تھا۔ انہوں نے بلوچ کو دبایا ہے اور اب بھی دبا رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچ پر بنیاد پرستی کا لیبل لگانے کی بھی کوشش کی، اور رضا شاہ نے کئی بار کہا تھا کہ اگر بلوچ کو یہاں حکومت دے دی گئی تو پھر ایران میں بھی بلوچ یہی مطالبہ کریں گے۔

تو لہٰذا روز اول سے وہ بلوچستان حکومت کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ میرے خیال میں مینگل نے مئی 1972ء میں حکومت تشکیل دی، لیکن ستمبر یا اکتوبر میں فرنٹیئر کور اور سبی اسکاوٹس کی طرف سے مری علاقوں کی گھیرا بندی شروع کر دی گئی۔

شیر علی خان: پہاڑوں میں مواصلات کو کس طرح یقینی بنایا گیا اور آپ کو باہر سے خبریں کس طرح ملتی تھیں؟

میر محمد علی ٹالپر: ریڈیو دستیاب تھا اور کبھی کبھار ہمیں اخبارات بھی ملتے تھے۔ یہ آج کے معیار کی نسبت بہت پرانی طرز کی تھی، جہاں آج کی سوشل میڈیا، موبائل فونز، سیٹلائٹ فونز جیسی اور ابلاغ کی دیگر بہت سی مختلف چیزوں ہیں۔ ان اوقات کے دوران یہ بہت قدیم طرز کی تھی؛ خط لکھے جاتے، اور انہیں پہنچنے میں کچھ دیر لگ جاتی۔ مری علاقے میں سڑکیں نہیں تھیں، اور حتیٰ کہ آج بھی بمشکل ہی کوئی سڑک ہو۔

یعنی کہ ایک شخص کوسبی تک پیدل جانا پڑتا اور پھر وہاں سے اسے ایک بس پکڑنا پڑتی۔ جیسا کہ نجم سیٹھی اور راشد رحمن کی ذمہ داری چیزوں کی فراہمی، فنڈز اور دیگر چیزوں، مثلاً ادویات وغیرہ، کی دیکھ بھال کرنا تھا، یہ دونوں جدوجہد کے شہری پہلو کو بھی دیکھتے تھے۔

شیر علی خان: بائیں بازو کے نظریات سے متاثر، آپ لوگ کس طرح کی گفتگو میں مشغول رہا کرتے؟

میر محمد علی ٹالپر: کئی چیزیں تھیں۔ میرے خیال میں ان میں سے ایک ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنے کا تھا اور علاقے سے مانوس ہونے کا تھا تاکہ ہم وہاں رات کو بھی چل سکتے۔ پہاڑوں میں سمت کے تعین کا حصول بہت مشکل ہے، اور جسمانی طور پر تیار رہنا بھی۔ میرے خیال میں اس وقت موٹر سائیکلوں کو پہاڑوں میں رسائی حاصل ہے، لیکن ان اوقات کے دوران، یہ آپکے دو اچھے پیر اور آپ کی دو اچھی ٹانگیں اور اس کے ساتھ ساتھ جوتے کی ایک اچھی جوڑی ہوا کرتی تھی۔

اگر گفتگو کے حوالے سے کہوں تو ہم امکانات کے بارے میں بات کرتے، اور مارکسزم کے بارے میں کچھ تدریسی حلقوں کو اکھٹا اور منظم کیا جاتا۔ میں خود کو اپنی دواﺅں کے بارے میں بھی اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی کوشش کرتا۔ ہمارے دوست بہت ساری کتابیں ساتھ لائے تھے جنہیں ہم پڑھتے اور ان پر بات کرتے۔ وہاں مری علاقے پر لکھی گئی پہرسون نامی ایک مصنف کی کتاب تھی جو کہ بہت مفید تھی۔ اس کتاب کو انہوں نے اور ان کی بیوی نے اس علاقے میں قیام کے بعد مرتب کیا تھا لہٰذا مری معاشرے کو سمجھنے میں مدد دینے کیلئے ہمارے لئے یہ ایک اہم کتاب تھی۔

اور پھر وہاں اینگلز اور مارکس کی لکھی ہوئی ’تمام انسان بھائی بھائی ہیں‘ اور ہم وہاں قیام کے دوران اپنے آپ کو ترغیب دینے کیلئے یہی کیا کرتے تھے۔ اور بیک وقت ہمارے پاس زیادہ فارغ وقت بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔

شیر علی خان: وہاں کافی ذہنی تناو کا شکار ہوئے ہونگے، چونکہ آپ نے جدوجہد کرنے کی خاطر شہروں کی اپنی پرانی زندگی اور مراعات یافتہ طبقے کے طرز زندگی ترک کر دی تھی۔

میر محمد علی ٹالپر: ہم سب نے بہت سی قربانیاں دیں، اور ہم نے اپنے ماضی کی زندگی کی کشتیاں جلا دی تھیں۔ ہم اس معاشرے کا ایک حصہ بننے اور حتی الوسع مدد کرنے کیلئے وہاں گئے تھے۔ آپ کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچ کسی کی پیروی کرنے میں انتہائی محتاط ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ شمولیت کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ آپ کو کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑیگا، خواہ یہ آپ کی ذہنی، جسمانی صلاحیت اور مہارت ہو۔۔۔ صرف اسی صورت میں وہ آپ کے ساتھ شامل ہونگے یا آپ کی پیروی کریں گے۔ بلکہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بڑے سخت قسم کے جج ہیں۔ ہمیں جسمانی طور پر چاک و چوبند رہنا پڑتا، اور ہمیں اپنی مہارت میں بھی بہتری لانی پڑتی۔ یہ اکتوبر 1971ء تھا۔ 1972ء میں جب حکومت تبدیل ہوئی تو مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے، یہ کشیدگی آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہوئی، اور حکام نے علاقوں کی گھیرابندی شروع کردی تھی۔

بشکریہ: تنقید ڈاٹ کام، اتوار،31 مئی2015

میر محمد علی ٹالپر ایک لکھاری ہیں اور 1970 کی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک کیساتھ منسلک ہیں۔

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

شیر علی خان ’تنقید‘ کے خاندان کے ایک رکن ہیں اور ایک صحافی ہیں جنہوں نے پاکستان میں کئی معروف مطبوعات کیلئے لکھا ہے۔

 یہ میر محمد علی ٹالپر کے دو حصوں پر مشتمل انٹرویو کا حصہ دوم ہے۔

تحریر : میر محمد علی ٹالپر اور شیر علی خان
ترجمہ: لطیف بلیدی

یہ سرگرم جہدکار اور بلوچ دانشور میر محمد علی ٹالپر کیساتھ دو حصوں پر مشتمل ایک انٹرویو کا دوسرا حصہ ہے۔ پہلا حصہ پیر، 1 جون، دو دن قبل شائع ہوا تھا

شیر علی خان: یہ آپکی زندگی میں وہ وقت تھا جب ایک حادثہ پیش آتا ہے جو آپ کی پوری زندگی کو متاثر کردیتا ہے۔ یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟

میر محمد علی ٹالپر: جی ہاں، یہ ایک اچانک رونما ہونیوالا حادثہ تھا جس میں میں نے اپنے ہاتھ کھو دیے اور محمد بھابھا نے اپنی آنکھوں میں سے ایک مکمل طور پر کھو دی۔ دھماکہ خیز مواد کیساتھ ایک تجربہ کیا جارہا تھا، اس کے بارے میں سرسری معلومات کیساتھ۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ کم علمی ایک خطرناک چیز ہے۔ ہمارے معاملے میں یہ سچ ثابت ہوا۔ ایک تجربہ جو بری طرح سے ناکام ہوا، اگرچہ یہ میری دلچسپی کا شعبہ نہیں تھا، اور اتفاق سے میں اس تجربے کے دوران قریب ترین شخص تھا اور نتیجتاً میں نے اپنے ہاتھ کھودیے۔

نومبر یا دسمبر 1972ء میں علاقے کی گھیرا بندی میں شدت آنا شروع ہوئی۔ ملیشیا مختلف علاقوں میں آ رہی تھی، اور مری علاقے کی گھیرا بندی اس حد تک پہنچ گئی کہ علاقے میں بنیادی راشن کا لانا بھی روز بروز تیزی سے محال ہوتا گیا۔ مری علاقہ زیادہ خود کفیل نہیں تھا لہٰذا گندم، گڑ اور چائے جیسی سب چیزوں کیخلاف کریک ڈاون کیا جارہا تھا۔ اس عمل نے قافلوں، جو کہ اونٹوں پر آتے، کا آنا مشکل بنا دیا جنہیں ہم سامان لانے کیلئے چپکے سے علاقے میں لے آتے۔

رفیع رضا، جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی رازدار ساتھی اور اس وقت کے ایک وزیر تھے، نے کہا کہ حکومت جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب سامان کراچی پہنچا تو انہیں معلوم تھا کہ سامان پہنچ چکا ہے انہوں نے ان کو دیکھا اور حتیٰ کہ انہیں لیجانے کی اجازت بھی دی تاکہ ان کو اسلام آباد منتقل کیا جا سکے۔ وہ جانتے تھے کہ سامان آ چکا تھا اور کہاں جا رہا تھا اور وہ کس طرح اسلام آباد میں عراقی فوجی اتاشی کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہ اسکے بارے میں سب جانتے تھے۔

مورخہ 12 فروری کو اتاشی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، اور میڈیا کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ رفیع رضا نے کہا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ میڈیا کو اپنے ساتھ لے جایا گیا ہے تو انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے اپنے ہی کیے گئے کام پر چھاپہ مارا تھا۔ اگلے روز مینگل حکومت برطرف کردی گئی اور میرے والد پر اسلحہ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرنے کے بعد میرے چچا رسول بخش ٹالپر نے بطور گورنر سندھ استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت تک سب کو پتہ چل چکا تھا کہ میں پہاڑوں میں ہوں۔

شیر علی خان: جیسے ہی حکومت نے کریک ڈاون شروع کیا تو اس دور کی بہت سی رپورٹوں اور بیانات کے مطابق ریاست فاشسٹ طرز کی اجتماعی حراستی کیمپوں کی نقل کرنے کے قریب تر تھی۔

میر محمد علی ٹالپر: جیسا میں نے کہا کہ حکومت کو فروری میں برطرف کر دیا گیا، اس کے بعد علاقے کی ناکہ بندی تیز کردی گئی۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ مینگل علاقے میں حالات کتنے خراب تھے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہاں پر بھی یہی کچھ ہوا تھا کیونکہ حکومت عطاءاللہ مینگل اور علی محمد مینگل سے خوفزدہ تھی۔ میں ذاتی طور پر اس بارے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کتنا شدید تھا لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ناکہ بندی موجود تھی۔

میر رسول بخش ٹالپر اور علی محمد مینگل بلوچ جنگجووں کے ساتھ۔

میر رسول بخش ٹالپر اور علی محمد مینگل بلوچ جنگجووں کے ساتھ۔

مذاکرات کیلئے کوششیں ہورہی تھیں۔ حکومت نے بلوچ قیادت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی، لیکن مری علاقے کی گھیرا بندی تیز ہوچکی تھی۔ آج سے اکتالیس سال قبل 18 مئی 1973ء میں سبی اسکاوٹس کے آٹھ اہلکار، جوریل کی پٹڑی اور لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کیا کرتے تھے تاکہ وہ اسے پار کرکے مری علاقے میں نہ جاسکیں، پر مری پہاڑوں کے دامن کوہ میں تندوری کے قریب گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور تمام آٹھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ہم مری علاقے پر کریک ڈاون کا حصہ تھے۔ میرے چھوٹے بھائی میر حیدر علی، جنہوں نے مینگل علاقے میں کچھ وقت گزارا تھا، سمیت ہم سب مطلوب افراد کی فہرست پر تھے جو وہاں حیدرآباد سازش ٹریبونل میں شامل تھے، جسے حکومت نے تشکیل دیا تھا۔ مری علاقے میں ہم بلاشبہ اہم اہداف تھے۔

تندوری میں 18 مئی کے واقعے کے 3 دن کے اندر مری علاقے کے مرکز ماوند میں ہیلی کاپٹروں نے پاکستان آرمی کے اہلکار پہنچائے۔ سڑک کے ذریعے جا نا مشکل ہوتا، اسلئے فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔

ٹکا خان نے بیان دیااور کہا کہ، ”ہم مجرموں کو 72 گھنٹوں کے اندر پکڑ لیں گے اور اسے ختم کردیں گے۔“ لیکن مہینے گزر گئے اور نہیں لگتا کہ یہ ان کیلئے ختم ہونیوالا ہے۔ میرے خیال میں جو بھی مقامی لوگوں سے لڑنے جاتے ہیں ہمیشہ یہی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب فرانسیسیوں نے مالی پر حملہ کیا تو انہوں نے بھی دو ہفتوں کیلئے جانے کا کہا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں اور کبھی نہیں سیکھتے۔

مورخہ 21 مئی کے بعد پورے مری علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیے گئے، وسیع علاقے پر محیط کارروائیاں کی گئیں، چونکہ مسلح افواج تلاش کرنے اور تباہ کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن وہاں رہنے والے لوگوں کو علاقے کے بارے میں اچھی طرح سے علم تھا اور وہ بہت سخت جان تھے۔

بلوچ بہت کم پر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اسکے پاس وسیع لاجسٹکس نہیں ہے۔ وہ بکری کی کھال سے بنے اپنے مشکیزے میں پانی لیتا اور انبام (بھیڑ کی کھال سے بنا تھیلا جس میں وہ اپنا آٹا رکھتا) اٹھاتا اور اپنی چائے کی پتی لیتا اور ان کی اپنی ٹیم ہوا کرتی۔ جو روٹی وہ پتھروں پر پکاتے ہیں اسے کاک کہا جاتا ہے۔ جب آگ دہکنے لگتا، خشک ندی سے لیے گئے چھوٹے سے گول پتھروں کو آگ میں ڈال دیا جاتا اور پھر کاک بنانے کیلئے گرم کیا جاتا۔ گوندھے ہوئے آٹے کا گھاڑھا پن پیٹزا جتنا ہوتا ہے اور اسے صاف کپڑے کے ایک ٹکڑے پر گوندھا جاتا ہے۔ پھر پتھر کے سائز کے حساب سے گوندھا ہوا آٹا توڑا جاتا ہے اور اسے چھوٹی سی موٹی روٹیوں کی شکل دیدی جاتی ہے۔ اور پھر سب سے مشکل مرحلہ آتا جو کہ نہ صرف مہارت کا ایک امتحان ہوتا ہے بلکہ مردانگی کا بھی کیونکہ گرم پتھر کو ہاتھوں سے آگ سے نکالا اور گوندھے ہوئے آٹے پر رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ آٹا پھر آہستہ آہستہ اس کے گرد لپیٹا جاتا ہے اور بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اس سے خارج ہونے والی بھاپ سے ہاتھ جھلس نہ جائیں۔

اس کے گرد لپٹے ہوئے آٹے کیساتھ پھر اسے آگ کے قریب انگاروں پر رکھ دیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ گھمایا جاتا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ یہ مکمل طور پر پک جائے۔ یاد رہے کہ آٹے کا اندرونی حصہ پتھر کی گرمی کیساتھ مسلسل سینک رہا ہوتا ہے اور جب تک سجّی پک جاتی کاک بھی تیار ہوجاتی اور سجّی کی طرح بہت گرم ہوتی۔ پھر کاک کو توڑ کر کھولا جاتا ہے اور پتھر کو پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر وہ روٹی کو ٹکڑوں میں توڑتے ہیں اور اسے کھاتے ہیں۔ کاک عموماً اسوقت بنایا جاتا ہے جب لوگ حرکت میں ہوں۔ وہ اسی طرح زندہ رہ سکتے ہیں۔

تو لہٰذا بلوچ کو زندہ رہنے کیلئے واقعی کسی وسیع لاجسٹکس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خاص طور پر مری علاقے کی بات کر رہا ہوں کیونکہ تمام مسلح کارروائیوں کا تین چوتھائی وہیں وقوع پذیر ہوئی تھیں۔ اور اس کے باوجود ہم بچ گئے۔ ہم خفیہ انداز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے اور ہمیں پتہ تھا کہ مشکل حالات میں زندہ رہنا ہے۔

انکے پاس نشاندہی کرنیوالے طیارے اور ایرانی ہیلی کاپٹر گن شپ تھے جو گھات لگا کر حملہ کرنے کیلئے استعمال کیے گئے۔ انہیں ایرانی پائلٹ اڑاتے تھے۔ میرے دوست اسد رحمان کاہان گئے اور کوئی بھی انہیں پہچان نہ سکا کہ وہ مری نہیں ہے۔ انہوں نے خود وہاں ایرانی پائلٹوں کو دیکھا تھا۔

شیر علی خان: آپ نے کس قسم کی کارروائی کا سامنا کیا؟

میر محمد علی ٹالپر: ہم سب محفوظ رہے۔ وہ تلاش جاری رکھنے کیلئے ہوائی جہاز کا استعمال کرتے۔ ہیلی کاپٹر گن شپ انہیں حملوں کو انجام دینے کے قابل بناتا، اسکے علاوہ وہ جہاں چاہتے وہاں بہ آسانی فوجیوں کو پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

حالات ایسے تھے کہ میں اور احمد رشید اکتوبر 1974 میں سندھ آگئے۔ رشید پہاڑوں پر جاتے اور واپس آجاتے تھے۔ میں پہاڑوں پر واپس نہیں گیا۔ اسد رحمن اور دلیپ داس وہیں رہے، لیکن محمد بھابھا آنکھ میں معذوری کیساتھ تھے، لہٰذا وہ پہلے ہی جا چکے تھے۔

دلیپ (جانی) داس جو 1973 کی بغاوت کے دوران بلوچستان کے مری علاقوں میں میر محمد علی ٹالپر سے ملے۔

دلیپ (جانی) داس جو 1973 کی بغاوت کے دوران بلوچستان کے مری علاقوں میں میر محمد علی ٹالپر سے ملے۔

یہ وہ وقت تھا جب ہمارے دوست دلیپ داس سندھ واپس آ رہے تھے۔ ایک مری قبائلی شیر علی مری انکے ساتھ تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص بھی تھا جو کہ ڈبل ایجنٹ تھا، وہ ہمارے لئے بھی کام کرتا تھا اور ریاست کیلئے بھی۔ جو آدمی انہیں لارہا تھا اس نے پہلے ہی سے انٹیلی جنس کو مطلع کردیا تھا، اور ان کی گاڑی 1975ء کے اوائل میں بیل پٹ میں روکی گئی۔

دلیپ داس اور شیر علی کو گاڑی سے اتارا گیا اور پھر انکے بارے میں کبھی نہیں سنا گیا۔ اسی طرح اختر مینگل کے بھائی اسد اللہ مینگل کیساتھ ہوا تھا جنہیں 6 فروری 1974ء میں گلستان جوہر کراچی میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ ایجنسیوں نے انہیں اور احمد شاہ کو اٹھایا اور آج تک ان کی لاشیں نہیں ملی ہیں۔

اسی طرح دلیپ داس اور شیر علی کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔ دلیپ داس کی والدہ اب بھی زندہ ہیں۔ انکی عمر 92 سال ہے۔ اور میں جب بھی کراچی جاتا ہوں تو میں ان سے ملنے جاتا ہوں۔ ان کے والد انتقال کر گئے اور میں نے انکی والدہ کو آخری بار گزشتہ سال فروری میں دیکھا تھا۔

ان کیلئے اس بات کو تصور کریں، انہوں نے دلیپ کو 1971ء میں کھو دیا جب وہ مری کے علاقے میں آئے اور انکے درمیان رابطے منقطع ہوگئے تھے۔ ان کی والدہ مجھ سے ہمیشہ پہلا سوال یہی پوچھتی ہیں ”جانی کیسا ہے؟“ انکا اب بھی یہ ماننا ہے کہ وہ زندہ ہے، تو لہٰذا انکے لئے یہ باب کبھی بند نہیں ہوتا جنہوں نے کسی پیارے کو کھودیا ہو۔ ہزاروں لوگ جو اسوقت لاپتہ ہیں اور ہزاروں لاشیں جو برامد ہوئی ہیں، ذرا تصور کریں اُس درد کو جو وہ خاندان محسوس کرتے ہیں۔

شیر علی خان: اس طرح کے اغواء کتنے عام تھے جب آپ مری علاقوں میں رہ رہے تھے؟

میر محمد علی ٹالپر: آپ اگر ذاتی طور پر مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو جن لوگوں کو میں جانتا تھا ان میں دلیپ داس اور شیر علی تھے۔ پھر دیگر دوستوں میں بہار خان، علی دوست، اللہ بخش، شفیع محمد تھے، اور مزید دو یا تین لوگ اور بھی تھے جو غائب ہوئے اور پھر انکی بابت کبھی کچھ نہیں سنا گیا۔

چند لوگ تھے جنہیں اٹھایا گیا اور پھر چھوڑدیا گیا لیکن آٹھ دس لوگ ایسے تھے جنہیں میں جانتا تھا انکی طرف سے پھر کبھی کچھ نہیں سنا گیا۔ یہ اسوقت زیادہ قابل ملامت اور خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے، یہ بنیادی طور پر ’اٹھاو اور قتل کرو‘ کی ایک حکمت عملی ہے۔ پہلے وہ لوگوں کو اٹھایا کرتے، ان پر تشدد کرتے اور اس کے بعد انہیں جانے دیتے، لیکن اب وہ انہیں نہیں جانے دیتے۔

شیر علی خان: 1970ء کی دہائی کے وسط میں بھٹو نے کریک ڈاون کا فیصلہ کیا اور بہت سے بلوچ کارکنوں کو جیل میں ڈالا۔ اس گروہ، جس سے آپ منسلک تھے، سے یعنی آپ میں سے کوئی جیل گیا؟

میر محمد علی ٹالپر: صرف نجم سیٹھی جیل گئے۔ ہم کافی خوش قسمت تھے کہ کبھی پکڑے نہیں گئے۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ سیٹھی کا کراچی میں ایک مشاورتی فرم تھا۔ فوج کے لوگ دیہاتوں کو خود کفیل بنانے کیلئے زرعی علاقے قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، بالکل وہی طریقہ جسے امریکی حکومت نے ویتنام میں استعمال کیا تھا۔ وہ انہیں ایک ہیلی کاپٹر میں ماوند لے جاتے، اور دوسری بار جانے پر انہیں معلوم ہوا کہ وہ تنظیم کا حصہ تھے۔

شیر علی خان: آپ اس دور کے مجموعی منفی ردعمل پر کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ مختلف کیا جا سکتا تھا؟ اور بلوچ ثقافت کے لحاظ سے، آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا چیز نمایاں طور پر ابھری ہے؟

افغانستان میں بلوچ مہاجرین۔ 1978

افغانستان میں بلوچ مہاجرین۔ 1978

میر محمد علی ٹالپر: بلوچ ثقافت میں بہت ساری شاعری موجود ہے۔ اس زمانے کی بہت سی نظمیں ہیں جن میں اسد ارحمن اور اس فقیر کا ذکر موجود ہے۔ وہاں مزاحمتی شاعری بھی ہے، اور وہاں ہمارے نام مختلف تھے۔ اسد کو چاکر کے طور پر جانا جاتا تھا، احمد رشید کو بالاچ، دلیپ داس دلّی تھے، اور میں ارشو تھا۔ وہاں ہمارے اپنے نام تھے، اور لوگوں کو اب بھی یاد ہے۔ اور میں ذاتی طور پر بیس سال تک مریوں کیساتھ رہا۔ 1978ء میں، میں افغانستان گیا جہاں میں نے مری پناہ گزینوں کیساتھ تیرہ سال گزارے۔ تین سال صوبہ زابل میں اور دس سال ہلمند صوبے میں لشکر گاہ کے قریب۔

شیر علی خان: پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں، جب آپ بلوچ عوام کیخلاف تشدد اور ریاست کے ظلم کو دیکھتے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے بلوچستان میں جو کچھ ہوا ہے، لوگوں کو اس کی وسعت کا اندازہ ہے؟

میر محمد علی ٹالپر: یہاں لوگوں کو اس کا بالکل احساس نہیں ہے۔ عام آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھتا، اور تاریخ بتاتی ہے کہ حتیٰ کہ اگر انہیں تھوڑا بہت معلوم ہو بھی جائے تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور اسی انجام کے مستحق ہیں۔ وہ یہی کہتے ہیں۔

نہیں، ہم کسی بھی طرح سے یا کسی بھی شکل میں غیر ملکی ایجنٹ نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب ریاست عوام سے ظالمانہ روش رکھے اور اس کے بعد وہ حکومت کے حق میں نعرے کی توقع کریں تو یہ ناممکن ہے۔ جیساکہ میں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان خرافات کا زہر پھیلایا گیا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے افغانستان میں تیرہ سال گزارے ہیں۔ ہمیں کم از کم صرف اتنا ملتا تھا کہ جس سے ہم بمشکل گزارا کرتے تاکہ اپنے آپ کو زندہ رکھ سکیں۔ اس وقت روسی اور باقی سب وہیں تھے، ہم نے ان کیلئے کبھی کام نہیں کیا اگرچہ وہ اس بات کو پسند کرتے اگر ہم ان کیلئے کام کرتے۔

ہم صرف چند لوگ نہیں تھے بلکہ وہاں بارہ سے تیرہ ہزار مری اور دیگر بلوچ تھے۔ وہاں دیگر بلوچوں سے زیادہ مری تھے۔ یہ 1992ء کو ختم ہوا جب نجیب اللہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور مہاجرین واپس ہوئے۔ میں مجموعی طور پر بیس سال تک اپنے گھر سے دور رہا۔ میں 1971ء میں نکلا اور آخر میں 1991ء میں واپس آیا۔

بشکریہ: تنقید ڈاٹ کام، بدھ، 3 جون 2015

میر محمد علی ٹالپر کی کہانی کا حصہ اول اتوار 31 مئی 2015 کو شائع ہوا۔
میر محمد علی ٹالپر ایک لکھاری ہیں اور 1970 کی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک کیساتھ منسلک ہیں۔
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

شیر علی خان ’تنقید‘ کے خاندان کے ایک رکن ہیں اور ایک صحافی ہیں جنہوں نے پاکستان میں کئی معروف مطبوعات کیلئے لکھا ہے۔

 

 

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles, Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s