بینجو کی تاریں اور بندوک کی نلی ایک ساتھ خاموش ھوگئے


Wali Jan Baloch 1

تحریر۔ استاد گلزار امام بلوچ

میرے بندوق کی گن گرج دشمن کی حوصلے کو پست کریگا جبکہ میرے ھاتھ مین بینجو کی سریلی آواز انقلابی گیتون کے ساتھ میرے کاروان کے ھمسفر ساتھیوں کے حوصلہ بلند کرتا رہے گا. 1965 کے دھائی میں بھارت پاکستان کے جنگ کے دوران جب نورجہاں صاحبہ پاکستانی بگوڈوں کے حوصلوں کو اپنے سریلی آواز سے بلند کرسکتا ہے تو شاید بلوچ کے اس اعصاب شکن جنگ کے دوران میرے بینجو کی سریلی آواز دشمن کے خلاف لڑنے والے میرے ہم فکر کامریڈوں کے حوصلوں کو بھی بلند کرتا رہے گا.

This slideshow requires JavaScript.

جب بلوچ کے قدیم رزمیہ شاعری بلوچ قوم نوجوانوں میں روایت کی پاسداری کا درس دے سکتا ہے تو میرے بینجو کی تاریں بھی اس پُر آشوب دور میں بلوچ نوجوانوں کی رہنمائی کرسکتا ہے یہ خیالات میرے عظیم ہم فکر ساتھی جوفن موسیقی سے واقف اور بینجو کے ایک بہترین استاد اور جنگی میدان مین ایک با حوصلہ گوریلہ ساتھی سنگت ولی جان کے تھے جن کو ہم پیار سے خانو پکارتے تھے گزشتہ ماہ جب ہم ایک جنگی محاز پر جانے کی تیاری کر رہے تھے کے کسی دوست کے فون نے ہمیں افسردہ کردیا کہ ہمارے تنظیم کے ایک رکن اپنے 8 ساتیھوں سمیت بلوچ قومی آزادی کے اس طویل جنگ مین اپنا حوصلہ ہار چکا ھے اور صوبائی وزیر کے ھمراہ دشمن کے سامنے اپنا ایمان فروخت کرچکا ھے یہ سن کر کئی دوست افسردہ ھوگئے لیکن بلند حوصلوں کے مالک عظیم فکری ساتھی نے اس رات کوتاریخی اور یادگار بنادیا.سنگت ولی جان نے اپنے دیگر فنکار ساتیھوں کے ھمراہ دوستوں کے خاموشی کو بینجو کی ناگن ساز سے تھوڈ ساچان.جب ادارے سے منحرف دوست نے ریاستی اداروں کے آگے سرنڈر کرنے کے بعد اپنے زیر کنٹرول علاقہ مین ایک گولی نہ چلنے کی یقین دھانی کرالی تھی.تو کامریڈ خانو اپنے جنگی گشت کو لے کر مزکورہ بزدل کے علاقے جا پہنچا اور دشمن کے ساتھ پاکستان کے ایجاد کردہ G3بندوق کے ساتھ تاریخی معرکہ انجام دیا۔

اس جزبے کے ساتھ اگر میدان جنگ مین کوئی سپائی اپنا ہمت ہار دے تو اس کے بندوق کو دوسرے ساتھی تھام لیں کیونکہ عظیم حوصلوں اور پختہ ارادوں کے مالک ایک انسان اپنے عظیم نظریے سے دستبردار ھونے کو سوچ بھی نہیں سکتا اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوئے فکری سنگت نے کچھ یوں کہہ دیا کہ عظیم جغرافیہ کے مالک کے بلوچ لیڈر شپ اپنی انا کو عظیم قومی مفادات کیلے قربان کردیں تو عالمی رائے عامہ میں بلوچ قومی مسئلے کو سننے کا موقع ملے گا اور ہمارے لیئے یہ باعث فخریہ عمل ہوگا…. سنگت خانو محاذ سےپہلے عرب امارات کے ایک یونیورسٹی میں بحیثیت ایک انگلش ترجمان بیس سال تک فرائض انجام دے چکا تھا اور اسی سبب عالمی سیاست پر خاصی عبور حاصل تھا اور کرد قومی تحریک اور pkk کے تنظیمی ڈسپلن اور مسلح تحریک مین خواتین کی شمولیت سے وہ سخت متاثر تھے اور ہمین کرد تحریک کے طرز عمل پر قومی مسلح تحریک کو منظم اور ایک سخت ڈسپلن کے پابند بنانے پر زوردیتے رہے .

جب مین تنظیم کے گوریلہ ٹریننگ کیمپ مین دوستوں کے ساتھ بلوچ سیاست پر ایک ایک گرما گرم بحث مین مشکول تھا تو ایک علاقائی کمانڈر کے سٹلائیٹ فون نے ہمین افسردہ کردیا کہ سنگت خانو ایک محاز کے دوران ٹریفک حادثے مین شہید ہوگئے ہیں اس افسردگی کے ماحول مین میرا زہن حانو کے بینجو اور اسکی G3بندوق کی طرف گیا جو کبھی افسردگی اور کھبی خوشی پھلاتے تھےاور اس وقت میرے خیال میں خانو کی بینجو کچھ یوں کہہ رہا تھا “نُوں شُمے کوپگان ایں وتن ھمبلاں”

Leave a comment

Filed under Pictures, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s