بینگنوں کا خادم نہیں


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

جعلی ڈومیسائل بنانے والا یہ گروہ طویل عرصے سے منظم طور پر اور جان بوجھ کر چلایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ عوام اقتصادی زینے پر ترقی کرنے سے محروم رہیں

Mir Muhammad Ali Talpurجولائی کے مہینے میں ان لوگوں کے درمیان ایک گرما گرم بحث چھڑی ہوئی تھی جو اپنی نظریں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) سے ملنے والے فوائد پر جمائے بیٹھے ہیں اور سب اس یا اُس راستے کی حمایت کا اظہار خیال کررہے تھے، اس بات سے قطع نظر کہ بلوچ عوام ’ترقی‘ کے اس منصوبے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ڈاکٹر مالک کی پالیسی ریفارم یونٹ، جسکی کی سربراہی ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کررہے ہیں، نے 25 جون کو ’چین پاکستان اقتصادی راہداری: راستے کا تنازعہ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ پیش کی۔۔

This slideshow requires JavaScript.

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ایسے راستے کو ترجیح دینے سے، جو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے بجائے پنجاب اور سندھ سے گزرے، وفاقی حکومت ملک کی تمام وفاقی اکائیوں کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہی ہے اور آج کی سیکورٹی خطرات کے پیش نظر مستقبل میں پیدا ہونیوالے صوبائی عدم اتفاق اور سیاسی عدم استحکام کا سودا لگارہی ہے۔ راستے کے حوالے سے یہ رپورٹ واضح طور پر اسلام آباد کے موقف کے خلاف تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سی پی ای سی کیلئے حکومتی منصوبے پر اس شدید مخالفت والی رپورٹ کے تین دن سے بھی کم عرصے بعد بلوچستان کی ڈاکٹر عبدالمالک اینڈ کمپنی کم ظرفی و بزدلی سے اپنے موقف سے مکر گئی اور سی پی ای سی کے ذریعے بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا۔ ان کی طرف سے غیرمعمولی رفتار کیساتھ اپنے موقف سے پلٹا مارنے، اگرچہ انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا اپنی توجہ مشرقی علاقوں پر مرکوز کرنا بلوچستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کرنے کے مواقع سے محروم کر دیگا، مبصرین حیرت سے اپنا سر کجھاتے رہ گئے کہ اس کے پیچھے کونسی وجوہات تھیں جنکی بناء پر انہوں نے پسپائی اختیار کی اور بلوچستان کے اس نام نہاد متوسط طبقے، قومپرست چیمپئنز نے کیسے ذلت آمیز انداز میں سر خم تسلیم کرلیا۔

اس بات نے مجھے ایک بادشاہ کے بارے میں ایک کہانی کی یاد دلائی جو اپنے ایک واحد وفادار درباری کیساتھ شکار کے دوران ایک ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے اصل جتھے سے الگ ہوگیا اور آخر میں ایک کسان کے گھر پہنچا۔ وہ اس امید میں وہاں بیٹھے رہے کہ جتھہ تمام ساز و سامان کیساتھ وہاں آ جائیگا لیکن وہ نہیں آیا تو بادشاہ کو بھوک لگی اور اس نے کسان سے کہا کہ وہ کھانا بنائے۔ کسان نے کہا کہ اس کے پاس اور کچھ نہیں ہے ماسوائے چند بینگنوں کے جنہیں پھر پکایا گیا۔ جب کھانا پیش کیا گیا تھا تو بھوکے بادشاہ کو اسکا ذائقہ اچھا لگا اور ان کی تعریف کی؛ درباری نے بھی ان کے بہت سے حیرت انگیز ادویاتی اور صحت بخش خصوصیات کی تعریف کی اور ان کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیے۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ کا پیٹ، جوکہ سادہ کھانے کا عادی نہیں تھا، بڑبڑانے اور غرانے لگا تو اس نے کہا کہ بینگن اچھی خوراک نہیں ہے اور انہیں یہ نہیں کھانا چاہئے تھا۔ تو درباری نے کہا کہ بینگن خدا کی طرف سے پیدا کی گئی تمام سبزیوں میں سب سے زیادہ برا ہے، اس بادشاہت کے اندر اسکے تمام پودوں کو تباہ کیا جائے اور اسکے کھانے پر پابندی لگا دی جائے۔ بینگن کے حق میں ان تمام توصیف و ثناء کے بعد اسی کیخلاف دھواں دار تقریر نے بادشاہ کا دل خوش کردیا اور اس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی دیر قبل درباری نے انہی کی تعریف میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اب بری طرح سے اس کی برائی کر رہا ہے۔ درباری نے جھٹ سے کہا کہ، ”عالیجاہ، میں آپکا خادم ہوں اور بینگنوں کا نہیں؛ اگر وہ آپکو پسند ہیں تو میں انکی تعریف کروں گا اور اگر نہیں ہیں تو میں انکی برائی کرونگا۔“

ڈاکٹر مالک اور قیصر بنگالی اس بینگن والے واقعے کے درباری سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ ان کی وفاداری راولپنڈی اور اسلام آباد کیساتھ ہے؛ وہ بینگن کے خادم نہیں ہیں اور یہ لوگ وہ سب کچھ کریں گے جس سے ان کے فوجی اور سیاسی مرشدین خوش ہوں۔ انہیں عوام یا ان کے حقوق اور اختیارات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے آقاوں یا اپنے مفادات کے خادم ہیں۔ اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔

ڈاکٹر مالک کو انکے مرشدین نے جون 2013 میں مسند پر بٹھایا۔ دو سال کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ جعلی ڈومیسائل بلوچ عوام کو انکے روزگار سے محروم کررہے ہیں جنکے وہ خواہاں ہیں۔ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو بتایا کہ بہت سارے لوگ جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹوں پر بلوچستان کے کوٹہ کی بنیاد پر مختلف وفاقی محکموں اور کارپوریشنوں میں نوکریاں حاصل کر رہے ہیں۔ کوئی یہ ضرور سوچے ہوگا کہ وہ اتنے عرصے سے کیا کررہے تھے۔ جعلی ڈومیسائل بنانے والا یہ گروہ، انکی ملی بھگت اور رضامندی کیساتھ، طویل عرصے سے منظم طور پر اور جان بوجھ کر چلایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ عوام اقتصادی زینے پر ترقی کرنے سے محروم رہیں۔

انہوں نے سیندک کے بارے بھی میں شکایت کی اور کہا کہ: ”ہمیں کچھ اندازہ نہیں ہے کہ سیندک پراجیکٹ سے چینی کمپنی کی طرف سے کتنا سونا اور دیگر معدنیات نکالی جا رہی ہیں۔“ میں انہیں بتاوں گا کہ سیندک میٹل لمیٹڈ نے مئی 2009 میں نے کہا تھا کہ 2004 سے 2008 کے دوران 633.573 ملین ڈالر مالیت کے 7.746 ٹن سونے، 86013 ٹن تانبے، 11.046 ٹن چاندی اور 14482 ٹن مقناطیسی ساندر لوہے کی پیداوار ہوئی تھی۔ اسکے بعد کتنا نکالا گیا ہے انہیں کوشش کرکے معلوم کرنی چاہئے۔ وہاں نگرانی کے بغیر چین کی طرف سے حد سے زیادہ کی جانیوالی کانکنی سے 2017ء کے بعد کوئی تانبا یا سونا نہیں بچے گا۔ زہریلا فضلہ بکثرت ہوگا چونکہ سونے کے ہر 28 گرام کیلئے 79 ٹن فضلہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر انہیں، بطور بلوچستان کے مبینہ چیف ایگزیکٹو کے، کوئی اندازہ نہیں ہے کہ چینی سیندک میں کیا کررہے ہیں تو پھر انہیں کیا پتہ چلے گا کہ چینی گوادر میں کیا کررہے ہیں کہ جہاں پر وہ بڑے پیمانے پر ایک خصوصی اقتصادی زون کی ترقی کیلئے اسوقت 40 سالہ لیز حاصل کر رہے ہیں؟ اس معاہدے کے تحت 923 ہیکٹر (2300 ایکڑ) ٹیکس سے مستثنیٰ زمین چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کو تفویض کی جائیگی۔ مزید برآں، چینیوں کی حفاظت کیلئے 10000 سے 25000 افراد پر مشتمل ایک خصوصی سیکورٹی فورس تشکیل دی جائیگی۔

جسمانی جنگ کے علاوہ ، ایک ڈیموگرافک (آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی کی) جنگ بھی بلوچ کیخلاف چھیڑی جا چکی ہے اور یقینی طور پر یہ جنگ ڈاکٹر مالک کی حکومت کی ملی بھگت کے بغیر نہیں لڑی جا رہی۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ حکومت خفیہ طور پر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تیزی کیساتھ آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی لائی ہے اور اس سے وہاں وہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر رہے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان نے تقریباً 250 فیصد کیساتھ دیگر تمام صوبوں کی نسبت آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ یقینی طور پر یہ اضافہ بلوچ کی آبادی میں نہیں ہوا ہے جیسا کہ انہیں مسلسل فوجی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے جاری سفاکانہ طور پر اغواء کرکے، قتل کرکے پھینکنے کی پالیسی کے ذریعے تہس نہس کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مالک کے فوجی اور سیاسی مرشدین کی طرف سے سفاکانہ طاقت کے حقیقی استعمال اور دھمکی آمیز زبان کے استعمال کا مقصد اپنے حقوق کے حصول کیلئے بلوچ کے عزم کو کمزور کرنا ہے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کی طرح کا کام کرسکتے ہیں اور بلوچ عوام کو روک سکتے ہیں تو انہیں حبیب جالب کے اس شعر کو اچھی طرح یاد کرنا ہو گا جو انہوں نے ایک مشاعرہ میں یحییٰ خان کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پڑھا تھا۔

”تم سے پہلے وہ جو ایک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا“

مصنف 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 13 ستمبر 2015

To read in English Click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s