جنگی جنون و جنگی منافع


تحریر: میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

جنگجویانہ رہنماﺅں اور جنونی نفرت پر مبنی بیان بازی نے ہمیشہ اس خطے کو ابہام یا کھلے تنازعے کی کیفیت میں رکھا ہے

Mir Muhammad Ali Talpurجنگ جو کہ اصل میں ایک حماقت ہے، ہمیشہ وہ لوگ اسکا جشن مناتے ہیں جو اس سے مادی اور سیاسی فوائد اٹھاتے ہیں، اور ہم ستمبر 1965ء کی جنگ کے حوالے سے یہی ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو دونوں اطراف حکمرانی کر رہے ہیں، جنگی جنون کو اس حد تک بڑھاوا دے رہے ہیں کہ گویا وہ اس جشن کو ایٹمی آتشبازی کیساتھ منانے کی خواہش رکھتے ہیں جو کہ اور کچھ نہیں کرے گا ماسوائے دنیا کو تباہ کرنے کے۔ انتہائی پست اور خطرناک ذہنوں کی انگلیاں ایٹمی بٹن پر ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

جنگی جنون جنگی مشین پر خرچ کرنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اقتدار میں ہیں اگر انہیں جنگوں سے فائدہ نہ پہنچتا ہو تو مزید جنگیں ہی نہ ہوں۔ عراق جنگ نے چند لوگوں کو تو فائدہ پہنچایا مگر لاکھوں کو تباہ و برباد کردیا۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب امریکہ عراق اور افغانستان میں روزانہ 720 ملین ڈالر یا 500000 ڈالر فی منٹ خرچ کیا کرتا تھا۔ اس یومیہ رقم سے 84 پرائمری اسکول چلائے جاسکتے تھے یا اس رقم سے 163000 سے زائد افراد کی کی صحت کی دیکھ بھال ہو سکتی تھی۔ فوج پر کسی طرح کے بھی اخراجات لوگوں کو بہتر زندگی کے مواقع سے محروم کردیتی ہیں۔ یہاں پر 2015-2016 کے دفاعی اخراجات میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 781 ارب روپے بنتے ہیں اگرچہ اصل میں فوج کیلئے مبینہ طور پر 1113 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جوکہ کل بجٹ کا 28.2 فی صد ہے، اس پنشن کی رقم کو چھوڑ کر جوکہ سویلین بجٹ سے نکال لی جاتی ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی توسیع پر کیے جانیوالے اخراجات خفیہ ہیں۔ بھارت نے 2014 میں دنیا کے کل اخراجات کا 2.8 فیصد اپنی فوج پر خرچ کیا۔ دنیا تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ذیل میں دیا گیا اقتباس مارچ 2009 میں لکھے گئے میرے ایک مضمون ”جنگ کی لت“ سے لیا گیا ہے۔ یہ آج کے جنگ و ہراس پھیلانے والے ماحول کی مناسبت سے زیادہ موزوں ہے۔

”اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2008 کے صدر میگیل ڈی اسکوٹو بروکمین نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھاکہ ،’یہ قابل افسوس مگر ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سلامتی کونسل کے چند ارکان کی طرف سے امن کیخلاف سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے خطرات پیدا کیے جا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اس لت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے۔ آج ہماری دنیا کی حالت تاسف انگیز، ناقابل عذر اور اسی سبب شرمناک ہے۔“‘

صف اول کی طاقتوں نے پرامن طریقوں سے تنازعات کے حل مسترد کردیے ہیں اگرچہ اس کی لت مکمل طور پر صرف انہی تک محدود نہیں ہے؛ تیسری دنیا کے حکمران بھی اپنے وسائل کو اسراف کیساتھ خرچ کرتے ہیں اور اپنے ممالک کو محاذ آرائی کے تعاقب میں قلاش بنا دیتے ہیں۔ وہ سب ان انتہائی درجے کے خراب حالات کیلئے ذمہ دار ہیں جس میں لوگ آج زندگی گزار رہے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ واقعی ایک پریشان کن تصویر پیش کررہی ہے۔ اس کے مطابق: ”گزشتہ ایک دہائی میں دنیا کے فوجی اخراجات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں کل فوجی اخراجات میں سے تقریباً آدھا صرف اور صرف امریکہ کے کھاتے میں جاتا ہے [جبکہ]، صرف گزشتہ سال کے کل اخراجات میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2007 میں 13 کھرب ڈالر اسلحے کی خریداری اور دیگر فوجی اخراجات پر خرچ کیے گئے، دنیا کے مجموعی جی ڈی پی کے مطابق 2.5 فیصد یا دنیا کے 6.6 ارب لوگوں میں سے ہر ایک کیلئے 202 ڈالر کے تناسب سے۔ دنیا کی 100 معروف اسلحہ ساز کمپنیوں نے 2006 میں 315 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ گزشتہ دہائی میں مشرق وسطیٰ کے فوجی اخراجات 62 فیصد تک بڑھے ہیں، جنوبی ایشیا میں 57 فیصد اور افریقہ اور مشرقی ایشیاءمیں 51 فیصد تک بڑھے ہیں۔

امریکہ اب تک سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک ہے، اس نے گزشتہ سال 547 ارب ڈالر یا دنیا کے مجموعی فوجی اخراجات کا 45 فیصد خرچ کیا۔ مالی سال 2008 کیلئے اسکا دفاعی بل، عراق اور افغانستان میں جنگوں کی لاگت چھوڑ کر، 459 ارب ڈالر تھا۔ اگلی دہائی کے دوران جنگ اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں امریکہ کو 24 کھرب ڈالر کی لاگت آ سکتی ہے۔ عالمی طور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات تشویشناک بھی ہیں اور خطرناک بھی۔ افسوس کی بات ہے کہ جنوبی ایشیاء اس فہرست کے سب سے اوپر کے قریب ہے۔ جنگجویانہ رہنماﺅں اور جنونی نفرت پر مبنی بیان بازی نے ہمیشہ اس خطے کو ابہام یا کھلے تنازعے کی کیفیت میں رکھا ہے اور تباہ کن نتائج کیساتھ انسانی ترقی سے قیمتی وسائل اٹھاکر دوسری طرف لگائے گئے۔

بی بی سی کی رپورٹ کیمطابق: ”ہر سال مجموعی طور پرایک کروڑ بچے اپنی پانچ سال کی عمر سے پہلے مر جاتے ہیں۔ زیادہ تر اموات صرف چھ ممالک میں ہوتے ہیں: چین، جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، بھارت، نائیجیریا اور پاکستان۔“ جنوب ایشیائی بچے اس سے بری طرح متاثر ہیں، جب کوئی وہاں کے دفاعی بجٹ کا سروے (بھارت: 22 ارب ڈالر، مجموعی ملکی پیداوار کا 2.6 فیصد (2006) اور پاکستان: 4.5 ارب ڈالر، مجموعی ملکی پیداوار کا 3.1 فیصد (2007)) کرے تو وہ تصور کرسکتا ہے کہ وہاں کے حکمران تلخ حقائق سے ناواقف ہیں۔ 1999 میں بھارت نے دفاع پر 10 ارب ڈالر خرچ کیے، فی کس 10.50 ڈالر جبکہ پاکستان نے چار ارب ڈالر خرچ کیے، فی کس 27 ڈالر جو کہ اب 34 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

جنوبی ایشیاء میں انسانی ترقی کے عنوان سے محبوب الحق ہیومن ڈویلپمنٹ سینٹر کی طرف سے ایک 10 سالہ جائزے میں کہا گیا ہے: ”73 فیصد سے زائد پاکستانی اب بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں جس میں دیہی علاقوں کی غربت کی شرح کیساتھ اضافے کا اندراج کیا گیا ہے۔ دنیا میں غریب لوگوں کی مجموعی تعداد میں سے جنوبی ایشیاء کا حصہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران 1993ء میں 40 فیصد سے 2004 میں 47 فیصد کیساتھ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان میں متوقع انسانی عمر کی پیشرفت میں اضافہ اس خطے میں سب سے زیادہ سست رہی ہے۔ کم خوراکی کے شکار پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح 1994 میں 40 فیصد کے مقابلے میں 38 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ فی ایک لاکھ افراد میں تپ دق کا لاحق ہونا بھی بڑھا ہے، یہ 1995 میں 150 سے بڑھ کر 2004 میں 181 ہوگئی۔ صحت پر عوامی اخراجات میں اتنی ہی کمی واقع ہوئی ہے جتنی کہ مجموعی ملکی پیداوار میں، یہ 1995 میں 0.8 فی صد سے کم ہوکر 2004 میں 0.4 فیصد ہوئی ہے۔

اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ سال 2006-2007 کے دوران پاکستان کے دفاعی اخراجات تقریباً 250 ارب روپے تھے، جبکہ صحت اور تعلیم پر بالترتیب صرف چھ ارب روپے اور 22.6 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ فخرالدین جی ابراہیم نے حال ہی کہا تھا کہ، ”گزشتہ 30 سالوں کے دوران تعلیم پر 178 ارب روپے جبکہ صحت پر 98 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں اور دوسری طرف اکیلے دفاع نے تقریباً 2835 روپے ہڑپ لیے ہیں۔“

یاد رکھیں کہ گزشتہ 30 سال کیلئے صحت اور تعلیم پر خرچ کیے گئے مشترکہ اخراجات اکیلے 2006-2007 میں دفاع پر خرچ کی گئی رقم کے مقابلے میں تھوڑا سا زیادہ ہے۔ تو پھر اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ہمارے پاس ایٹم بم ہیں لیکن ہماری آبادی کا 73 فیصد بیشتر ناخواندہ ہے، غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر سڑ رہی ہے اور صحت کی ان سہولیات کیساتھ نبردآزما ہے جو چوپایوں کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کا ناقابل رشک 137 واں نمبر اس بات کو واضح طور پر عیاں کرتا ہے۔ غربت کی خاموش سونامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ 2007 میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چاول کی قیمتوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ ایک ارب ایشیائی غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔ 30 سال میں خوراک کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر ہیں اور دنیا بھر میں تقریباً 850 ملین افراد دائمی بھوک سے دوچار ہیں جبکہ مزید 100 ملین افراد فاقہ کشی کرنے پر مجبور کیے گئے ہیں اور مزید 30 ملین افریقی اسوقت غربت کا شکار ہیں۔

جنگ کی لت کی وجہ سے دنیا کا وجود خطرے میں ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی، بڑھتی ہوئی غربت، سماجی اُتھل پُتھل، بنیاد پرستی، جنگ پرستی، عسکریت پسندی اور عالمی حدّت، یہ ساری منحوس شبیہیں بائبل میں بیان کردہ پیشن گوئیوں جیسی بڑی آفات کا پیش خیمہ ہیں جن میں ناموزوں اور نااہل عالمی قیادت تیزی لارہی ہے جیساکہ یہ فوری سماجی و اقتصادی اور ماحولیاتی خدشات پر غفلت برت رہی ہے۔ یہ عالمی بحران دنیا کو تسلسل کیساتھ نیست و نابود کرنے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ 1949 میں جب چینی پیپلز آرمی بڑے شہروں کے قریب پہنچ رہی تھی اور سماجی برائیوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دے رہی تھی تو وہاں بہت سے لوگ تھے جو لالچ میں اندھے تھے اور ڈٹے رہے اور پھر انہیں حتمی جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ بالکل اسی طرح کی علامات اس دنیا کے ناقابل تسکین حد تک لالچی اور طاقت کے بھوکے لوگوں کی طرف سے دیکھنے کو مل رہی ہیں، بنیادی فرق یہ ہے کہ ان چند افراد کی لالچ، لاپرواہی اور کوتاہ بینی کیلئے پوری دنیا کو حتمی جرمانہ ادا کرنا پڑیگا۔ آج دنیا ویسی ہی ہے جیسا کہ یہ خالص ترین نائٹروگلسرین سے بھری ہوئی ایک کنٹینر ہو جسے ایک اناڑی عملہ کہیں منتقل کر رہا ہو۔

جنگ کی اس لت نے دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنائے بغیر کھربوں ڈالر برباد کر دیے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ روئے زمین پر زندگی کے معیار پر کیسے شاندار اثرات مرتب ہوتے اگر ان رقوم کو پرامن مقاصد کیلئے خرچ کیا گیا ہوتا، لیکن پھر امن تو حصے داروں کیلئے وہ منافع نہیں لاتا جو جنگ لاتی ہے۔

مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 6 ستمبر 2015

To read the article in English click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s