پلید تر باشد


تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ : لطیف بلیدی

منشیات ہلمند سے کراچی کیسے پہنچتی ہے اسکی وضاحت کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ رستے بھر مٹھیاں گرم کی جاتی ہیں تو لہٰذا اس میں کسی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد منشیات کی قیمتیں کیسے حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں

Mir Muhammad Ali Talpurخرم حسین صاحب نے حال ہی میں ایک انگریزی روزنامے میں ’خفیہ معیشت‘ کے عنوان سے شائع ہونیوالے ایک مضمون میں چند اہم سوالات اٹھائے ہیں جو ایک نامسعود و ناپاک معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس پر کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ وہ کہتے ہیں: ”اسٹیٹ بینک ملک بھر کے شہروں میں 16 کلیئرنگ ہاوسز چلاتی ہے۔ یہ ہر ماہ اعداد و شمار جاری کرتی ہے کہ ان میں کتنے چیک کلیئرنگ کیلئے پیش کیے گئے اور ان ہاوسز سے کتنے چیکوں پر کل کتنی رقم کلیئر کی گئی۔ اگر آپ اس کے اعداد و شمار کو لیں، جوکہ 1999ء تک جاتے ہیں، اور پھر پاکستان میں ہر شہر کیلئے اس کا نقشہ بنائیں تو آپ کو ایک نہایت ہی دلچسپ چیز نظر آئیگی۔ کراچی اور لاہور کے شہروں کو فی الحال اس تمثیلی فہرست سے ہٹا دیں کیونکہ ایک حساب سے یہ طویل فاصلے والے رابطوں کیساتھ عالمی شہر ہیں۔ یہاں صرف علاقائی شہروں کا موازنہ کریں اور آپ کو یہ چیز دیکھنے کو ملے گی۔

گیارہ ستمبر کے بعد، اس تمثیلی فہرست کے کل میں سے آدھے شہروں کی ان کلیئرنگ ہاوسز کے ذریعے کلیئر کیے جانے والے پیسے کی کل رقم میں تیزی سے اضافے کا رجحان دکھائی دیگا۔ دوسرے نصف کیلئے خط یکساں طور پر استوار ہے۔ جن شہروں میں اضافے کا رجحان ظاہر ہوتا ہے ان میں فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور کوئٹہ شامل ہیں جو کہ پشاور کی قیادت میں سبقت لیجانے میں ایکدوسرے کے قریب رہے ہیں۔ سال 2011ء میں پشاور سے چیک کے ذریعے کلیئر کی گئی رقم 13 کھرب روپے سے تجاوز کرگئی! اسی سال کوئٹہ سے کلیئر کی گئی رقم 900 ارب روپے سے ذرا کم رہی، جسکا مطلب ہے کہ ان دونوں علاقائی شہروں کے درمیان صرف ایک سال کے دوران ان کلیئرنگ ہاوسز کے ذریعے تقریبا بیس کھرب روپے گزرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا موازنہ فیصل آباد کے دس کھرب روپے، راولپنڈی کے 14 کھرب روپے اور ملتان کے 826 ارب روپے کیساتھ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن پشاور اور کوئٹہ اس فہرست پر کیا کر رہے ہیں؟ فیصل آباد اور ملتان علاقائی مراکز، پیداواری مراکز، زرعی پیداوار کی بڑی جگہیں ہیں۔ فیصل آباد دنیا میں سوت کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے جہاں لین دین کیلئے زیادہ تر بینکوں کا استعمال ہوتا ہے اور جہاں پانچ ارب ڈالر سے زائد کے برآمدات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ لیکن پشاور اور کوئٹہ میں کوئی دیگر ملحقہ رجحان نہیں ہے، وہاں بلا شاخ کے بینکوں کی بینکاری نہیں ہوتی، رقم کی ٹیلی گرافک منتقلی نہیں ہوتی، بڑی مقدار میں بجلی کا استعمال نہیں ہوتا۔ وہاں صرف ایک واحد میخ ہے جو ملک کی زرعی اور صنعتی مراکز کی رفتار کیساتھ کلیئرنگ ہاوسز میں لین دین میں اضافہ دکھاتی ہے۔ “

واضح سوال یہ ہے: کیا چیز کوئٹہ اور پشاور میں اس میخ کو اتنی تیزی سے چلارہی ہے؟ وہ اقتصادی سرگرمی کہاں ہے جو ان دونوں شہروں کے کلیئرنگ ہاوسز کے ذریعے اتنی بڑی اور قابل دید رقوم بھیج رہی ہے؟ اور یہ رقم شہر یا صوبے کے کسی بھی دیگر اقتصادی انڈکس پر اپنا کوئی نشان کیونکر نہیں چھوڑ پا رہی ہے؟ وہ حتمی بات یوں بیان کرتے ہیں کہ، ”یہ شہر ایک بہت بڑی خفیہ معیشت کی لپیٹ میں ہیں جہاں ایک بڑے پیمانے پر لین دین کی رقم مختصر دورانیے کیلئے سرکاری ریکارڈ پر ظاہر ہوتی ہے اور پھر نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔“

ڈنمارک کی حالت میں ضرور کوئی گہری سڑاند موجود ہے! وہاں ضرور کوئی نہ کوئی وجہ ہے جس پر چشم پوشی کی جارہی ہے۔ یہ وہ خفیہ معیشت ہے جو کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور ان کے مفادات کیلئے پنپ رہی ہے کیونکہ بدامنی میں ان گنت پیسہ آتا ہے جو بعض حلقوں کو اچھی طرح سے کھلائے پلائے رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے بلوچستان کے کوئلے کی کانوں کے تحفظ کیلئے لی جانیوالی رقوم کے حوالے سے دیکھا۔ درحقیقت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہونیوالا غیر ریکارڈ شدہ پیسہ کلیئرنگ ہاوسز کے لین دین کے مقابلے میں کم از کم پانچ گنا زیادہ ہے۔ کوئٹہ اور پشاور دونوں میں پیسے کی اتنی بڑی مقدار کیسے پیدا ہوتی ہے؟ اس کو سمجھنے کیلئے کسی کو راکٹ سائنسدان بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ افغانستان سے منشیات کے بہاو اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ ہے جو ان لوگوں کو مالا مال بنانے کیلئے ذمہ دار ہے جنکے پاس پاکستان اور دنیا کے دیگر شہروں میں انکی ترسیل کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اختیارات اور اثر و رسوخ ہے۔

لیکن ذرا ایک لمحہ رکیے؛ یہ صرف افغانستان نہیں ہے جو پوست اگاتا اور ہیروئن بناتا ہے۔ مارچ 2014ء میں بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں سیراب زمینوں کی ہزاروں ایکڑ رقبے پر پوست کی کاشت کا خاتمہ کیا جائے جو افغانستان کی سرحد سے ملحق ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ سزا سے استثنیٰ کیساتھ پوست کاشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ”قلعہ عبداللہ حشیش کھلے عام فروخت کیلئے بدنام ہے۔ ضلعے میں ہیروئن کی تقریباً 120 فیکٹریاں موجود ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، انسداد منشیات فورس اور حتیٰ کہ پاکستان آرمی بھی قلعہ عبداللہ میں موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ غیر قانونی کاروبار فروغ پارہے ہیں۔ تو کیا اب بھی آپکو وضاحت کیلئے کسی راکٹ سائنس ضرورت ہے؟

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) کی افغانستان میں منشیات کی تجارت پر 2009ء کی رپورٹ میں اندازے کے مطابق افغانستان کی ہیروئن کی سالانہ پیداوار کا تقریباً 40 فیصد اور افیون کا تقریباً 30 فیصد پاکستان کے ذریعے باقی دنیا کو جاتا ہے؛ یہ سرحد پار اسمگلنگ مقامی سطح پر 910 ملین ڈالر سے لیکر 1.2 بلین ڈالر کے درمیان کی مالیت کا حامل ہے۔ یو این او ڈی سی کی ایک اور رپورٹ کہتی ہے کہ 15 سال سے لیکر 64 سال کی عمر کے تقریباً 6.7 ملین پاکستانی، آبادی کا چھ فیصد، منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور 4.1 ملین افراد اس پر انحصار کرتے ہیں۔ سندھ بری طرح متاثر ہے لیکن 2013ء کے اعداد و شمار کیمطابق 2.9 ملین منشیات کے عادی افراد کیساتھ پنجاب میں انکی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

منشیات ہلمند سے کراچی کیسے پہنچتی ہے اسکی وضاحت کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ رستے بھر مٹھیاں گرم کی جاتی ہیں تو لہٰذا اس میں کسی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد منشیات کی قیمتیں کیسے حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو اسکی ترسیل میں سہولت بہم پہنچانے سے پیسے کمارہے ہیں اتنے ہی برے ہیں جتنا کہ اسکی پیداوار کرنے والے، اسکی مارکیٹنگ کرنیوالے اور بیچنے والے ہیں، مگردکھ کی بات یہ ہے کہ انکا انتہائی احترام کیا جاتا ہے اور وہ ’نیکو کار‘ کی حیثیت سے اعلیٰ ترین رہائشی علاقوں میں قیام پذیر ہیں۔ یہاں پر کرپشن ادارہ جاتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے ادارے ہیں۔

بلوچستان کے پاس اسکا امام بھیل ہے جو امریکہ کی طرف سے منشیات کی اسمگلنگ کا تصدیق شدہ سرغنہ ہے؛ ڈاکٹر عبدالمالک اور ان کی پارٹی کیساتھ ان کے فرحت بخش تعلقات ہیں۔ وہ حکم چلاتے ہیں اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے گوادر کے مرحوم ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان دشتی مارچ 2012ء میں کراچی میں قتل کیے گئے لیکن ان کے ورثا اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ منشیات کا سرغنہ امام بھیل اس جرم کا اہم ترین ملزم ہے۔

پوشیدہ معیشت کی حوصلہ افزائی لالچ اور ہوس کرتے ہیں، اور یہ دونوں عمیق گڑھے کبھی بھر نہ پائیں گے۔ یہ خفیہ معیشت اداروں کی حمایت کے بغیر پھل پھول نہیں سکتی، جو کہ ہوسکتا ہے کہ وہاں پر قانونی اور آئینی طور پر ہو یا غیر قانونی طور پر طاقت کے بل بوتے پر۔

پیسہ، طاقت اور مراعات ہر جگہ بدعنوانی پھیلا دیتے ہیں لیکن یہاں یہ کچھ زیادہ شدید ہے، اور اس کے مراعات یافتہ لوگوں کے پاس یہ جتنا زیادہ ہوگا وہ اتنے ہی بڑے شیطان اور اتنے ہی زیادہ نامسعود بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو چوری، دھوکہ دہی، غنڈہ گردی، خیانت یا طاقت کے بل بوتے پر کوئی مقام حاصل کرتے ہیں، کسی ایسی جگہ جہاں طاقت، دولت اور مراعات ان کے حصول دسترس میں ہوں، وہ نہ صرف اسے چھوڑنے سے انکاری ہوتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ کی خواہش کرتے ہیں۔ شیخ سعدی سے بہتر اور کوئی اس بیماری کی وضاحت نہیں کر سکتا جنکا کہنا ہے کہ:

”سگ بر دریای ہفتگانہ بشوئی، کہ چو تر شد پلید تر باشد“

(کتے کو سات سمندر میں نہلا دو ، جتنا گیلا ہوگا اتنا زیادہ پلید (مسلمانوں کا ماننا ہے کہ گیلا کتا نجس ہوتا ہے)

مصنف 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں

اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

2015 بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 30 اگست

To read in English Click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s