آپ جو ہونے دینگے وہ جاری رہیگی


تحریر: میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ: لطیف بلیدی

مبینہ طور پر انکے دو ارب روپے خرچ کرنے سے اگر یہ ذمہ داری خلیجی شیوخ کی ہے تو پھر کیوں نہ اسے سب سے بڑی بولی لگانے والے کو لیز پر دے دیا جائے؟ کچھ لوگ اپنی آتما کوڑیوں کے عوض بیچنے کو تیار ہیں اور ہم یہی ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں

Mir Muhammad Ali Talpurعطاالرحمان نامی ایک شخص، جسے خبروں میں ایک مقامی بزرگ کہا گیا ہے، نے معدومیت کے خطرے سے دوچار پرندے تلور (چرز) کی عرب حکمرانوں کے ہاتھوں سالانہ سیر سپاٹوں کے دوران بلوچستان (جہاں یہ پرندے اپنی ہجرت کے دوران قیام کرتے ہیں) میں نسل کشی پر پابندی لگانے کے حوالے سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں جو دلیل پیش کی ہے، اگر کم سے کم بھی کہا جائے تو، وہ چونکا دینے والا تھا۔ انہوں نے کہا: ”یہاں پرندوں کے شکار کیلئے آنے والے معززین نے نہ صرف بعض منصوبے قائم کیے ہیں بلکہ موسم کے وقت 50 پرندوں کے شکار پر ایک کروڑ روپے بھی ادا کر رہے ہیں۔ شکار کے ہر موسم میں بلوچستان تقریباً دو ارب روپے کماتا ہے۔“ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایک مدعی کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان کی غیرفقری بزدل حکومت، جسکی قیادت روز بروز بڑھتی ہوئی شرائط کے زیر اطاعت ڈاکٹر مالک کر رہے ہیں، بھی یہی چاہتی ہے کہ یہ قتل عام جاری رہے کیونکہ انہیں ان شیوخ کی طرف سے بخشش اور استعمال شدہ گاڑیاں ملتی ہیں۔ 2014 میں ایک سعودی شہزادے نے چاغی میں 21 روزہ شکار سفاری کے دوران 2100 سے زائد تلور شکار کیے۔ اس نے کتنا پیسہ دیا؟

عطاالرحمان درخواست میں فرماتے ہیں کہ شکار پر پابندی لگانے سے فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ایک بہت بڑی تعداد بند ہوسکتی ہیں جنکا مقصد مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ ان میں 26 ہسپتال، مراکز صحت اور ڈسپنسریاں، 26 ہاوسنگ منصوبے، 22 اسکول اور کالجیں، 32 پانی کی فراہمی کے منصوبے، 41 ٹیوب ویلز، کھلے کنویں، پن چکّیاں، حوض اور نہریں، 43 مساجد، ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے 16 منصوبے، چار اسلامی ثقافتی مراکز اور قصبوں اور دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنے کے پانچ منصوبے شامل ہیں۔ کیا یہ منصوبے اسلام آباد سے بلوچستان پر حکومت کرنے والوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ مبینہ طور پر انکے دو ارب روپے خرچ کرنے سے اگر یہ ذمہ داری خلیجی شیوخ کی ہے تو پھر کیوں نہ اسے سب سے بڑی بولی لگانے والے کو لیز پر دے دیا جائے؟ کچھ لوگ اپنی آتما کوڑیوں کے عوض بیچنے کو تیار ہیں اور ہم یہی ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ انسانی گوشت شہوت انگیز نہیں ہے وگرنہ، کسی بھاری قیمت پر، اسکی بھی اجازت دی گئی ہوتی۔

عطاالرحمان صاحب یہ بات سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ خلیجی شیوخ کی طرف سے دیا جانیوالا صدقے کا یہ تمسخر آمیز خاکہ اور اسلام آباد کے رحم وکرم پر رہنے کی آمادگی کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ جس سے بلوچستان کے عوام کی کایا پلٹ جائے گی۔ اس سے وہ ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار رہ کر، بھیک مانگ کر اپنی تمام تر خودداری کھو دینگے اور کبھی بھی اپنے آپ کو اقتصادی طور پر محکم نہیں دیکھ پائیں گے۔ وہ جتنی زیادہ اس توہین آمیز صدقے کے متقاضی ہونگے خلیجی شیوخ اور اسلام آباد اتنے ہی زیادہ مغرور اور کٹھور بن جائیں گے۔ کیا اس رقم کی آمد اس لائق ہے کہ ہم اپنے وقار اور اپنی زمین اور اس کے نباتات و حیوانات اور اپنے حقوق سے دستبردار ہوجائیں؟ کوئی اور چیز انسانوں کی وقعت کو اتنا تحقیر آمیز بناکر نہیں گراتی جتنا کہ بغیر چوں چراں کی قبولیت گرا دیتی ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی ہے: خلیجی حکمران سزا سے استثنیٰ کیساتھ عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ان کی شکار گاہوں پر شب خون مارکر کرتے ہیں اور حکومت مالیاتی فوائد کیلئے اسے نظرانداز کردیتی ہے۔ مارچ 2013 میں خاران کے نواب کے قانونی ورثاء نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید کو خاران اور واشک اضلاع میں شکار والے علاقوں کی الاٹمنٹ کیخلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست

دائر کی تھی۔ اس فریقی مقدمے میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی انکی زرعی زمینوں، جنگلات، پانی کی نہروں، چشموں، باغات اور چراگاہوں کی مشاورت یا اجازت کے بغیر شکار کیلئے غیر قانونی الاٹمنٹ کی گئی ہے اور اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر سال متحدہ عرب امارات کے صدر کا عملہ شکار کیلئے پوسٹیں قائم کرتے ہیں اور علاقے میں گشت کرتے ہیں اور یہاں تک کہ مالکان، کرایہ داروں اور چرواہوں کو ان کی زمینوں، فصلوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کیلئے بھی علاقے میں داخل ہونے نہیں دیتے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس درخواست کا کیا ہوا لیکن اگر بااثر نوشیروانی خاندان خلیجی حکمرانوں کے رویوں اور اعمال سے اپنے حقوق کی پامالی اور خلاف ورزی محسوس کررہا ہے تو پھر کمتر درجے کے انسانوں کا کیا حشر ہوتا ہوگا؟

اسکے علاوہ، خطرے سے دوچار تلور کی ہجرت کے راستوں اور علاقوں میں شیوخ کے جو غول وارد ہوتے ہیں ان پر شکار کے مقاصد کیلئے لائے جانے والے تمام سامان اور درآمدات کو ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو خبزریزے وہ تقسیم کرتے ہیں وہ ان کے لائے گئے سامان اور درآمدات کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جس کیلئے انہیں ٹیکس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہوگی۔ تاہم، یہ شیوخ اس پیسے سے کہ جسے وہ سیاستدانوں، حکام اور نام نہاد بزرگوں کو خریدنے اور جھکانے کیلئے خرچ کرسکتے ہیں، اسکے عوض وہ صرف انہی مراعات پر اکتفاء نہیں کرتے۔ نومبر 2010 میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایات پر صوبائی محکمہ محصولات نے عرب شہزادوں کو شکار کرنے کیلئے ضلع لسبیلہ میں 70000 ہیکٹر زمین کی فروخت کیلئے ایک سمری تیار کی تھی۔ وہ شکار کرنے کے مقاصد کیلئے کبھی کبھار آتے تھے اور وہ اس قیمتی زمین پر خصوصی کنٹرول چاہتے تھے تاکہ وہ وہاں پر اپنی نجی عمارتیں اور ہوائی اڈہ قائم کر سکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے اس زمین کا مطالبہ ملک کے ایک وفاقی سیکورٹی ادارے (پڑھئے فوج) کیلئے کیا گیا تھا لیکن لوگوں کی مخالفت کی سبب اسے منسوخ کر دیا گیا۔ زمین کے حصول کی خواہش صرف خلیجی شیوخ تک محدود نہیں ہے جیساکہ مارچ 2007 میں بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اس وقت کے وزیر عبدالرحیم بازئی کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی جس میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ فوج اور فضائیہ کی انتظامیہ کو صوبائی دارالحکومت کے مضافات میں واقع بازئی قبیلے کی زمین پر قبضہ کرنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ فضائیہ کے حکام کوئٹہ کے قریب واقع اغبرگ علاقے میں بازئی قبیلے سے تعلق رکھنے والی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فضائیہ نہ صرف مقامی لوگوں کی زمین پر قبضہ کررہی ہے بلکہ زمینوں کے مالکان کو بلاجواز یا وارنٹ کے بغیر گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔

تو لہٰذا جب آپ صرف اپنے حصے میں گرنے والے خبزریزوں کو دیکھتے ہیں اور معمولی منصوبوں اور حقیر بخشش کے عوض اپنے بنیادی حقوق سے دستبرداری کے نتائج کو نظر انداز کرتے ہیں تو آپ اپنے وقار اور حقوق پر حملے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ یہ مداخلت کاریاں وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ شدید ہو جاتی ہیں کیونکہ آپ جو کرنے کی اجازت دیں گے وہ جاری رہیں گی۔ بقول فریڈرک نطشے کہ: ”کوئی قیمت اتنی بڑی نہیں ہے جسے اپنے آپ کا مالک خود بننے کے استحقاق کیلئے ادا کی جائے۔“ وقار کی زندگی کیلئے کوئی بھی قیمت بڑی نہیں ہے لیکن یہ قربانی کا متقاضی ہے۔ بلوچ نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اس وقت بھی آواران میں بڑے پیمانے پر کیے جانیوالے وحشیانہ آپریشن کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ تاہم، وہ اپنی عظمت اور اپنی زمین اور وسائل پر اپنے حقوق پر سمجھوتہ کرنے اور سرخم تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

عظمت قربانیوں کا تقاضہ کرتی ہے اور ایک قیمت کی ادائیگی پر ملتی ہے۔ وہ لوگ جو ناانصافیوں اور اپنے حقوق پر یلغار کی اجازت نہیں دیتے صرف وہی اپنی قسمت کے مالک کے طور پر فخر سے جیتے اور مرتے ہیں۔ ولیم ارنسٹ ہینلی کی ”انوکٹس“ کے یہ سطور پوری بات کہہ رہے ہیں:

اس مقامِ قہر و اشک کے اس پار

نہیں کچھ اور فقط پھیلی ہوئی ہے ہیبتِ تاریکی

مگر برسوں کی صعوبت کے بعد بھی

مجھے پائیگی، ہاں، مجھے بے خوف پائیگی

خواہ کتنی ہی مصائب بھری ہو گزرگاہ

خواہ کتنی ہی طویل ہو طومارِ عقوبت

میں اپنے مقدر کا آقا خود

میں خود اپنی آتما کا ناخدا

مصنف 1970 کی دہائی کے ابتداء سے بلوچ حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں

وہ mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں

اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار،16 اگست 2015

To read the article in English click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s