بھارت کا بلوچوں کو مدد کرنے کے الزامات کبھی ثابت نہیں ہوئے


Mir Mohammed Ali Talpur

بلوچ سیاسی مدبر و دانشور میر محمد علی ٹالپر سے خصوصی انٹرویو

تاریخ اشاعت: 22 جولائی 2015

انٹرویو: اے گنیش نڈار

ترجمہ: لطیف بلیدی

’پاکستان نے بلوچ خواہشات اور حقوق کو دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ وہاں حقوق اور مراعات اور پیکیجز دینے کے ڈرامے ہوتے رہے ہیں، لیکن سب کے سب کھوکھلے اور بے معنی رہے ہیں اور یہ اس کاغذ کے بھی مستحق نہیں ہیں جن پر انہیں لکھا جاتا ہے۔‘

’پاکستان چین کو سرمایہ کاری کیلئے اطمینان دلارہا ہے جس سے ان کو فائدہ ہوگا۔ چین کیساتھ اقتصادی راہداری بلوچ کو نہ صرف ان کی زمین اور وسائل سے محروم کریگی، بلکہ باہر کے لوگوں کی آمد سے انہیں ایک اقلیت میں تبدیل کردیگی۔‘

میر محمد علی ٹالپر 1971 سے پاکستان میں بلوچ قومی جدوجہد کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ وہ اس تحریک کو سوشل میڈیا پر متحرک رکھ کر اور مختلف اخبارات میں کالموں کے ذریعے زندہ رکھتے آئے ہیں۔

ریڈف ڈاٹ کام کے اے گنیش نڈار کیساتھ ایک ای میل انٹرویو میں ٹالپر صاحب نے بلوچ عوام کی جدوجہد اور اس کیلئے بلوچ کو جو قیمت ادا کرنی پڑی ہے، اسکے بارے میں بات کی ہے ۔

سوال: آپ ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟

جواب: میں سندھ کے ٹالپر خاندان سے ہوں۔ ٹالپر بلوچ ہیں جو سندھ میں تقریباً 300 سال قبل آئے تھے۔ میرا خاندان طویل عرصے سے بلوچ قومی جدوجہد کیساتھ منسلک رہا ہے۔

سوال: آپ بلوچستان میں حق خودارادیت کیلئے کب سے لڑ رہے ہیں؟

جواب: میں 1971ء سے بلوچ جدوجہد کیساتھ منسلک ہوں جب میں نے کراچی میں اپنی تعلیم چھوڑی اور بلوچوں کی جدوجہد میں مدد دینے کیلئے پہاڑوں پر چلا گیا۔

سوال: آپ کا ان الزامات کے بارے میں کیا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اسلحہ، تربیت اور پیسے کیساتھ اس تحریک کی پشت پناہی کر رہی ہے؟

جواب: بھارت سمیت غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کے حوالے سے الزامات کی بہتات ہے، لیکن کبھی بھی انکے حوالے سے شہادت یا ثبوت مہیا نہیں کیے گئے اور ان کو محض بلوچوں پر مظالم ڈھانے کے جواز کے طور پر پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ اس یا اُس غیر ملکی طاقت کے ایجنٹ ہیں۔

بلوچوں نے 19 ویں صدی میں برطانیہ کے خلاف جنگیں لڑیں۔ اس وقت کوئی بھارتی یا دیگر ایجنسیاں تو نہیں تھیں جو انکی مالی اعانت کرتیں اور انہیں جنگ کیلئے بھڑکاتیں۔

سوال: پاکستان کی حکومت بلوچستان میں تحریک کیساتھ کس طرح نمٹی ہے؟

جواب: 27 مارچ 1948 کو بلوچستان کے جبری الحاق، جب یہ 227 دنوں کیلئے آزاد رہی تھی، کے بعد سے پاکستان نے بلوچوں کی خواہشات اور حقوق کو دبانے کیلئے طاقت کا ستعمال کیا ہے۔

وہاں حقوق اور مراعات اور پیکیجز دینے کے ڈرامے ہوتے رہے ہیں لیکن یہ سب کے سب کھوکھلے اور بے معنی رہے ہیں اور یہ اس کاغذ کے بھی مستحق نہیں ہیں جن پر انہیں لکھا جاتا ہے۔

مئی 1972ء میں عطاءاللہ مینگل کی حکومت ایک واحد حقیقی پیشرفت تھی، لیکن اسے صرف نو ماہ کیلئے رہنے دیا گیا اور اسے بلاجواز اور غیرقانونی طور پر برخاست کیا گیا۔ اس کا نتیجہ 1973 سے لیکر 1977 تک چار سالہ طویل جدوجہد کی صورت میں نکلا۔

سوال: بلوچستان کی صورتحال کا کشمیر کے حالات سے کس طرح موازنہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: دونوں جگہوں پر لوگوں کے دلوں میں آزادی اور وقار کی زندگی کیلئے امنگیں موجود ہیں اور وہ اس کیلئے قربانی دینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکمران طبقے میں بالکنائزیشن کا بے بنیاد خوف اور انکے ذہن یک سنگی طرز زندگی کے غلبے میں ہونے کے سبب اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سب لوگ کھاتے پیتے غلام رہنا نہیں چاہتے بلکہ وہ آزادی میں ایک مشکل زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلوچستان اور کشمیر دونوں میں حکومتوں کے نقطہءنظر یکساں رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ریاستیں اپنی نام نہاد سالمیت کے بارے میں زیادہ فکرمند ہوتی ہیں اور لوگوں کی پرواہ نہیں کرتیں جو اس سالمیت کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔ بلوچستان کا پاکستان اور ایران میں، کشمیر کا بھارت میں، تبت اور سنکیانگ کا چین میں اور ترکی میں کردوں کیساتھ یہی معاملہ ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ جدوجہد کو عارضی طور پر دبانے کا مطلب فتح ہو۔ آپ الجیریا کی لڑائی تو جیت سکتے ہیں، لیکن الجزائر کی جنگ ہار جائیں گے۔

سوال: آپ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی کیسی خلاف ورزیاں دیکھی ہیں؟

جواب: انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کبھی بھی انتخاباً نہیں کیا جاتا؛ یہ بلا کسر ان لوگوں کے آوے کے آوے تک پھیلا ہوا ہے جو اختلاف رائے اور دوسری کی جداگانہ حیثیت سے نفرت کرتے ہیں اور یہ لوگ کبھی بھی مہذب نہیں رہے ہیں؛ ظلم و ستم جہالت کے ہم معنی مترادف ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی گہرائی اور پیمانے ہولناک ہیں۔ وہاں اغوا، تشدد، مسخ شدہ لاشیں، ٹارگٹ کلنگ اور ہر وہ چیز جو ذہن میں آسکتی ہیں، کیے جارہے ہیں۔ اس بات کو بہ آسانی نظر انداز کیا جاتا ہے کہ معاشی حقوق اور سماجی حقوق سے انکار بھی شدید ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ہیں جسکے ساتھ جسمانی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہمرکاب ہیں۔

سوال: آپ کیونکر ایسا کہتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری بلوچوں کی زندگی کو تباہ کردیگی؟ ایک اقتصادی راہداری عام طور پر ارد گرد کے علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

جواب: وہ تمام اقتصادی راہداریاں یا عظیم الشان منصوبے جنکا واحد مقصد کسی ایک کے وسائل کا استحصال کرکے دوسرے کو فائدہ پہنچانا ہو کبھی بھی ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جنکے وسائل اور زمین کا استحصال کیا جا رہا ہو۔ سی پی ای سی بھی بنیادی طور پر استحصالی منصوبہ ہے اور یقینی طور پر اس کا مقصد بلوچ مفادات نہیں ہیں۔

پاکستان چین کو سرمایہ کاری کیلئے اطمینان دلارہا ہے جس سے ان کو فائدہ ہوگا۔ چین کیساتھ اقتصادی راہداری بلوچ کو نہ صرف ان کی زمین اور وسائل سے محروم کرے گا، بلکہ باہر کے لوگوں کی آمد سے انہیں ایک اقلیت میں تبدیل کردیگا اور وہ لوگ جو پیسے کی تلاش میں آئیں گے وہ بڑی تعداد میں آئیں گے جب زمین اور لوگوں کا استحصال کیا جارہا ہو۔

سوال: سی پی ای سی کے بارے میں بلوچ کی کیا رائے ہے؟

جواب: بلوچ سی پی ای سی کو ازارہ عنایت نہیں دیکھتے کیونکہ وہ اسے ترقی کے بہانے بلوچوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے ایک آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سوال: جب حکومت ترقی کیلئے زمین اپنی ملکیت میں لیتی ہے تو وہ اس کیلئے پیسے ادا نہیں کرتی؟

جواب: زمین کا معاوضہ، اگر کچھ ہو بھی تو وہ، کم سے کم ہے لیکن اصل مسئلہ زمین کے حقوق کا ہے۔ بلوچستان میں صدیوں سے زمینوں کے مالک قبائل ہیں اور محض اس وجہ سے انہیں انکی وراثت سے عاق نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی شخص ایک قانون بنانے کا فیصلہ کرتا ہے جس میں عاق شدہ کو کچھ کہنے کا حق نہ ہو کہ ساری زمین ریاست کی ہے اور اس میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے جنہیں عاق کیا گیا ہو۔

زمین ان لوگوں کی ہو جو اس پر رہتے ہیں نہ کہ انکی جن کے پاس اسے خریدنے یا ہتھیانے کیلئے پیسہ اور طاقت ہو۔

سوال: آپ کونہیں لگتا کہ یہ راہداری بلوچوں کو روزگار فراہم کرے گی؟

جواب: بلوچ خود مالک بننا چاہتے ہیں نہ کہ اپنی ہی سرزمین پر غلام اور اجرتی مزدور۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ (بلوچستان کے وزیر اعلیٰ) ہمارے لئے کچھ معمولی ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن وہاں ایک کہاوت ہے کہ غربت میں آزادی خوشحال غلامی سے بہتر ہے۔

یہ روزگار کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلوچ کہتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے۔ یہ اس وقت ہماری تھی جب یہ ویران تھی۔ اب انہوں نے یہاں سونا، چاندی اور تانبا دریافت کیا ہے، یہ ہمارا ہے۔

سوال: گوادر پورٹ کی ترقی سے بلوچ عوام کو کیوں فائدہ نہیں پہنچا ہے؟

جواب: کہیں بھی ترقی کیلئے وہاں کے باشندوں کی رضامندی اور شرکت ضروری ہوتی ہے اور گوادر ان دونوں سے مبریٰ رہی ہے کیونکہ وہاں کے لوگ اسے دوسروں کے فائدے کیلئے ان کے ساحل اور زمین کا استحصال کرنے کی ایک کوشش کے طور پردیکھتے ہیں۔

اس کے برائے نام آپریشنل ہونے کے بعد سے وہاں اناج کے چند بحری جہاز لنگرانداز ہوئے تو ان کو اتارنے کیلئے مزدور کراچی سے لائے گئے جیسا کہ وہاں کے لوگ اپنے وسائل کے استحصال کے منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

مزید براں، اس کے بجائے کہ یہ وہاں کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا، وہاں کے باشندوں نے اپنی زمین پر قبضے کے بدترین شکل دیکھی اور یہ اس قدر تجاوز کرگئی تھی کہ اس نے پاکستان کی سپریم کورٹ کو زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے پرمجبور کیا۔

زمین پر اس قبضے نے باہر کے لوگوں کی آمد کی بھی حوصلہ افزائی کی اور اس میں کمی محض اس وقت واقع ہوئی جب لوگوں نے ان ناانصافیوں کیخلاف جسمانی طور پر مزاحمت کی۔

سوال: بلوچ عوام کا چینیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: بلوچ عوام قدرتی طور پر ان سب کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو بلوچ عوام کے مقابلے میں پاکستان کی فوجی یا اقتصادی امداد کریں اور یہ شکوک وشبہات اور نفرت چین اور امریکہ دونوں جانب بلوچستان میں ان کے کردار حوالے پائے جاتے ہیں۔

جیساکہ چین بلوچستان میں تیزی سے سرگرم سرمایہ کار بن چکا ہے، اس کیخلاف نفرت بڑھی ہے اور ترقی کے نام پر پاکستان کی طرف سے جن مظالم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے لوگ انہیں سی پی ای سی کے سبب چین سے منسوب کررہے ہیں اور اسے برابر کا شریک سمجھتے ہیں۔

سوال: بلوچ عوام کی امریکہ کے بارے میں کیا رائے ہے جسکے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں؟

جواب: بلوچ عوام میں اس فوجی اور مالی امداد کیلئے غم و غصہ پایا جاتا ہے جسے امریکہ فراہم کررہا ہے کیونکہ وہ اس فوجی سازو سامان کے نقصانات کے حاصل کنندگان ہیں جو پاکستان کو مہیا کی جاتی ہیں۔

لوگوں کے پاس اپنے خیالات پیش کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے تو لہٰذا وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرکے امریکہ کو پاکستان میں فوجی سازو سامان اور پیسے کے انبار لگانے پر اس کو اس کی حماقت کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں۔

بلوچ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ملکوں اور بڑی طاقتوں کے دوست یا دشمن نہیں ہوا کرتے؛ انکے مفادات ہوتے ہیں۔

سوال: آپ نے سیندک کاپر اور سونے کی کانوں میں چینیوں کے ملوث ہونے کا ذکر کیا۔ کیا آپکے لوگ وہاں کام نہیں کر رہے ہیں؟ آپ کو اپنے وسائل کے بدلے میں کیا ملا ہے؟

جواب: کوئٹہ سے 670 کلومیٹر مغرب میں بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سیندک پراجیکٹ 412 ملین ٹن متوقع کچ دھات کے ذخائر پر مبنی تھی جو کہ فی ٹن اوسط سے سونے کی 0.5 گرام اور چاندی کی 1.5 گرام فی ٹن پر مشتمل تھی۔ اس سے سالانہ 65 ملین ڈالر پیدا کرنے کی توقع کی جارہی تھی۔

اس منصوبے کو پاکستان اور چین کی طرف سے 22 مارچ 2002 کو دوبارہ بحال کیا گیا تھا اور اسکی ترقی کیلئے 350 ملین ڈالر مختص کیے گئے۔ اسکی شرائط بلوچستان اور اس کے عوام کیلئے غیر معمولی حد تک ناموافق ہیں۔

ایم آر ڈی ایل، جوکہ چین کی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کمپنی کا ایک ذیلی ادارہ ہے، اسے معدنی فروخت کی کل آمدنی کے 50 فی صد کے عوض چلاتی ہے اور یہ کمپنی 10 سال کی لیز کی مدت کیلئے پاکستان کو ماہانہ 500,000 ڈالر بھی ادا کرتی ہے۔

بلوچستان کو اس سے سالانہ رائلٹی کے طور پر صرف 0.7 ملین ڈالر حاصل ہوگا۔ یہ اعداد و شمار حکومت پاکستان کی طرف سے بلوچوں کے حقوق کو مکمل نظرانداز کرنے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

جو لیز 2012 کو ختم ہونیوالی تھی اسے من مانے طور پر 2017 تک بڑھا دیا گیا۔ سیندک منصوبہ ایک ماحولیاتی تباہی ہے۔ وہاں کے لوگوں کو سخت محنت والے کاموں کیلئے ملازمتیں دی گئی ہیں جبکہ تعلیم یافتہ بلوچوں کو دوسروں کے حق میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔

سوال: آپ نے پاکستان کی حکومت کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا ہے؟ ان کا جواب کیا رہا ہے؟

جواب: آراء کو پہنچانے کا واحد ذریعہ صرف میڈیا ہے، لیکن یہاں (پاکستان میں) میڈیا بلوچ مسائل کو زیادہ کوریج نہیں دیتا صرف ایک آدھ قومی روزنامے ہیں جو کوریج دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کی وسیع کوریج کے باوجود اس کی تاثیر بہت محدود رہتی ہے۔

سوال: گوادر بلوچ عوام کیلئے کتنا اہم ہے؟

جواب: گوادر کسی اور کیلئے اتنا اہم ہو ہی نہیں سکتا جتنا کہ یہ بلوچ عوام کیلئے ہے۔ چین کے گوادر میں اسٹراٹیجک اور اقتصادی مفادات تو ہو سکتے ہیں، لیکن بلوچ کیلئے یہ ان کا مادر وطن ہے اور یہ ان کے محبوب مادر وطن کا ایک اہم حصہ ہے۔

وہ محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں کہ گوادر لاینحل طور پر ان کے مستقبل کی خوشحالی سے منسلک ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے ماضی میں اس پر تجاوزات کیخلاف مزاحمت کی ہے اور اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔

سوال: بلوچ عوام کیلئے آپ کے مستقبل کے منصوبے کیا ہیں؟

جواب: اس بات کا فیصلہ بلوچ عوام کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہ ایک آزاد جمہوری بلوچستان چاہتے ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ ایک ایسا ملک ہو جو کہ مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز سے پاک ہو جہاں سب کیلئے یکساں اقتصادی اور معاشرتی انصاف میسر ہو۔

ٹیگز: عبدالمالک بلوچ، چین پاکستان اقتصادی راہداری، بلوچستان، بلوچ، چین، میٹالرجیکل کنسٹرکشن کمپنی

‘Allegations of India helping the Balochs never proved’

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur