ویران کن وبا


تحریر: میرمحمد علی ٹالپر

ترجمہ: لطیف بلیدی

ویران کن وبا کو حوصلہ اس امر واقع سے ملتا ہے کہ یہاں لوگوں کی اکثریت اسکے حقیقی چہرے کو دیکھنے سے انکاری ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں کے تحت اُس عمل کی حمایت نہ کرنے کیلئے خود کو تسلیاں دیتے ہیں جو کہ صحیح اور برحق ہے

Mir Muhammad Ali Talpurمشہور ببر شیر سیسل جو زمبابوے کے ہوانگ نیشنل پارک میں رہتا تھا، جولائی کے اوائل میں مارا گیا۔ اسے بہلا پھسلا کر پارک سے باہر لایا گیا، اسے تھیو برونکہورسٹ نامی ایک شکاری اور مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی کسان آنیسٹ ٹریمور انڈلووو کی مدد سے ایک امریکی دندان ساز والٹر جیمز پامر نے آڑی کمان کیساتھ زخمی کردیا۔ 40 گھنٹوں کی کھوج کے بعد پامر نے آخرکار اسے مار ڈالا۔ پامر نے اسے مارنے کیلئے تقریباً پچاس ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے۔ جب یہ خبر پھیلی تو دنیا اس کیخلاف یک زبان ہوکر کھڑی ہوگئی اور زمبابوے کے صدر موگابے کے نام ایک درخواست دائر کی گئی جس میں پامر کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا، چند گھنٹوں کے اندر اندر اس پر 164,500 سے زائد افراد نے دستخط کیے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہاں حتیٰ کہ جب انسان مارے جائیں تو تب بھی اس کیخلاف کوئی کسی کو نہیں اکساتا۔

اس زیادتی پر ترقی یافتہ دنیا کے ردعمل کو غیرحقیقی اہمیت کا حامل نہیں گردانا جاسکتا کیونکہ وہاں پر لوگ اکثر ناانصافیوں کیخلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے عراق جنگ کیخلاف فروری 2003 میں احتجاج کیا اور اپنی مخالفت کے اظہار میں لاکھوں لوگوں نے مارچ کیا، اگرچہ ان مظاہروں کو اُن لوگوں کی طرف سے نظر انداز کیا گیا جنہیں اس جنگ سے مادی فوائد حاصل ہورہے تھے۔

پاکستان پر بلوچ سیاسی کارکنوں کو قتل کرکے پھینکنے کا الزام ہے اور اب یہ اسی حکمت عملی کیساتھ سندھ میں مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسکے سبب بلوچ عوام اس سے برگشتہ ہیں۔ 80 سالہ عطاء محمد بھمبرو صاحب، جو اپنی 40 کتابوں کے کریڈٹ کیساتھ سندھ کے ایک ممتاز مصنف اور مورخ ہیں، کے 40 سالہ فرزند داہر ڈہیسر عرف راجہ داہر کو 4 جون 2015 کو ضلع خیرپور کے گاوں بچل بھمبروسے اغواء کیا گیا۔ اغواء کار 50 سے زائد گاڑیوں میں آئے تھے۔ بھمبرو صاحب نے اس غیر قانونی گرفتاری کو رپورٹ تو کیا لیکن پولیس نے اس کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا۔ اسکے بعد انہوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکا بیٹا، بلاشک، ایک سیاسی کارکن ہے دہشتگرد نہیں۔

راجہ داہر مہران یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ماسٹر کی ڈگری کیساتھ ایک پیشہ ور ماہر ارضیات تھے اور اس کے علاوہ سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ (جسمم) کے جوائنٹ سیکرٹری بھی تھے۔ انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے لانگ مارچ کی بہت حمایت و معاونت کی جب یہ ماما عبدالقدیر کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب پیدل چلتے ہوئے سندھ سے گزرا تھا۔ جسمم اسوقت پاکستانی اسٹابلشمنٹ کی طرف سے کیے جانیوالے سفاکانہ کریک ڈاون کا ہدف ہے اور اسکے 40 اراکین کی لاشیں انکی غیر قانونی حراست کے بعد مل چکی ہیں۔

کامریڈ حسین بخش تھیبو، ایک آزمودہ کار سندھی قوم پرست، نے 26 جون کو کراچی پریس کلب کے باہر اس غیر قانونی اغواء کیخلاف احتجاج کی کال دی تھی۔ اسکے ایک ماہ بعد، 26 جولائی کو راجہ داہر لاپتہ نہیں رہے جیساکہ انکی لاش انکی کھوپڑی میں ماری گئی دو گولیوں کیساتھ نوری آباد کے قریب پائی گئی؛ پولیس نے انکی انگلیوں کے نشان نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو بھیجیں جس سے ان کی شناخت کا انکشاف ہوا۔ انصاف اب اسٹابلشمنٹ کی حکمرانی کا حصہ نہیں رہا۔ وہ ان افراد کے قتل کا ارتکاب کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس سے بریت حاصل ہے۔

اسٹابلشمنٹ کو حاصل سزا سے استثنیٰ کیساتھ راجہ داہر نہ پہلے شخص ہیں اور نہ ہی وہ آخری ہونگے۔ شہید سرئی قربان خہاور، جوکہ جسمم کے سینئر نائب چیئرمین تھے اور سندھ کے حقوق کا مطالبہ کیا کرتے تھے، کو قتل کردیا گیا۔ سندھی قوم کیخلاف کی جانیوالی ناانصافیوں اور انکے وسائل کی لوٹ مار کیخلاف آواز اٹھانے پر انہیں بار ہا دھمکیاں موصول ہوئیں مگر وہ مرعوب نہیں ہوئے۔ 21 اپریل 2011 کو وہ پارٹی کے تین ارکان، شہید روپلو چولیانی، نور اللہ تنیو اور نادر بگٹی کے ہمراہ معروف سندھی قوم پرست سائیں جی ایم سید کی برسی کے پروگرام کے حوالے سے سندھ کے مختلف شہروں میں منعقد کیے جانیوالے کارنر اجلاسوں میں شرکت کیلئے حیدرآباد جا رہے تھے۔ ایک ڈبل کیبن سفید گاڑی انکا پیچھا کرتی رہی اور جب وہ کھپرو میں بکھوری موری پہنچے تو اچانک ایک اور کار نے سامنے آکر انہیں روکا اور مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ پھر انہوں نے گاڑی پر کچھ کیمیکلز چھڑکے تو روپلو چولیانی اور نادر بگٹی کیساتھ سرئی قربان خہاور گاڑی میں زندہ جل گئے۔ معجزانہ طور پر نور اللہ تنیو کو گاوں والوں زندہ نکال لیا جنہوں نے یہ سانحہ دیکھا تھا؛ وہ پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد انتقال کر گئے۔

جسمم کے سیکرٹری جنرل مظفر بھٹو 25 فروری 2011 کو لاپتہ ہوئے۔ ان کی بیوی صائمہ بھٹو نے ان کی بازیابی کیلئے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے انکی غیر قانونی حراست سے رہائی کیلئے درخواست کی تھی جو کہ بے نتیجہ رہی۔ اس کے بعد 22 مئی 2012 کو انکے 42 سالہ شوہر کی لاش حیدرآباد کے قریب پھینک دی گئی۔ جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے مرکزی رہنما اور جسقم کے مرحوم سابق چیئرمین بشیر خان قریشی کے بھائی مقصود احمد قریشی کو پارٹی کارکن سلمان ودھو کے ہمراہ 21 مارچ 2014 کو نوشیرو فیروز کے قریب سرئی قربان خہاور جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک روز قبل لاپتہ ہو ئے تھے اور اس منحوس دن دیہاتیوں نے ان کی گاڑی کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا؛ دونوں کو گولی ماردی گئی تھی۔

ریاست کا ان لوگوں کیخلاف مظالم ڈھانا جو انکے نقطہءنظر اور من گھڑت نظریے سے اتفاق نہیں کرتے کہ گویا پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر مقیم افراد وہ قوم ہیں جو اس عدم تحفظ کا منطقی نتیجہ ہے جسے اسٹابلشمنٹ محسوس کرتی ہے جیساکہ اسے ڈر ہے کہ لوگوں کی طرف سے انکے سرکاری نظریے کیخلاف سرکشی انکی طاقت پر گرفت کو خطرے میں ڈال دیگی جسے وہ اللہ کی طرف سے عطاء کیا گیا ایک تحفہ سمجھتے ہیں۔ اس جہالت کے سبب انکا ماننا ہے کہ وہ روئے زمین کے برگزیدوں میں سے ہیں اور اپنی طاقت کا دفاع کرنے کی کوشش میں وہ غلیظ ترین حربے استعمال کرتے ہیں۔ پرسی بیشے شیلی نے کہا تھا کہ، ”طاقت، ایک اجاڑ دینے والی ویران کن وبا جیسی ہے، جس چیز کو یہ چھوتی ہے آلودہ کردیتی ہے۔“ جو طاقت لوگوں کیلئے زہر قاتل ہو یقینا ایک ”ویران کن وبا“ ہے۔

اس ویران کن وبا کو حوصلہ اس امر واقع سے ملتا ہے کہ یہاں لوگوں کی اکثریت اسکے حقیقی چہرے کو دیکھنے سے انکاری ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں کے تحت اُس عمل کی حمایت نہ کرنے کیلئے خود کو تسلیاں دیتے ہیں جو کہ صحیح اور برحق ہے یا پھر اس عمل میں حصہ نہیں لیتے جسکا تعلق زندوں اور زندگی سے ہو۔ جس روز میں تھیبو صاحب کی طرف سے کال کیے گئے احتجاج میں شرکت کرنے جا رہا تھا تو شاہراہ پر میں نے کئی بسیں چھت تک کھچا کھچ بھری ہوئی دیکھیں جو لوگوں کو ہزاروں کی تعداد میں شاہ نورانی کے سالانہ عرس کیلئے ’لاہوت‘ لے جارہی تھیں جبکہ افسوس کی بات ہے کہ احتجاج میں بہت کم لوگ آئے۔

میں نے عقیدت مندوں کو قلندر کے عرس اور شاہ بھٹائی کے عرس کیلئے جا تے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ اپنے خاندانوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں آتے ہیں حتیٰ کہ ننھے بچوں کیساتھ سفر کی مشکلات جھیلتے ہیں اور بڑی خوشی سے مزاروں پر رہتے ہیں؛ وہ قابل احترام مردوں کو تو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں مگر زندوں کے مسائل سے غافل ہیں۔ جب تک کہ یہاں لوگ زندوں کی قیمت پر مردوں کیلئے جیتے رہیں گے، یہ اجاڑ دینے والی ویران کن وبا، جس سے سب متاثر ہیں، ناقابل تسخیر اور مہلک رہے گی۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں

اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 2 اگست2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s