ترجمہ: لطیف بلیدی
لوگوں کی ماورائے عدالت ہلاکتیں (پڑھئے قتل) عوام کی نظروں کے سامنے سزا سے مکمل استثنیٰ کیساتھ ہورہی ہوں تو پھر ذرا تصور کریں کہ بلوچستان اور وزیرستان میں صورتحال کیا ہوگی جہاں میڈیا پر پابندی لگی ہوئی ہے
حال ہی میں ایک دوست کراچی گیا اور اسے پہلے کی نسبت زیادہ پر امن دیکھنے پر اس کی تعریف کی۔ تاہم میں نے ان سے کہا کہ یہ ظاہری امن عارضی ہے اور یہ کہ کراچی اس سے بھی زیادہ خطرناک اور شیطانی بن جائے گا۔ اسی سبب تمام جگہیں مزید خطرناک اور شیطانی بن جائیں گی کیونکہ جو سخت اور ظالمانہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں یہ نہ اس مسئلے کی نشاندہی کر رہے ہیں اور نہ ہی ان حالات کو تبدیل کررہے ہیں جو اس گہری سڑاند کے ذمہ دار ہیں جوکہ اس معاشرے کی انتڑیوں کو نگلتی جارہی ہیں جس نے اب اپنے آپ کو پس پشت ڈال دیا ہے اور یہ مزید افراتفری، تشدد، عدم برداشت، جرائم، بدعنوانی، نفرت اور بے حسی کی دلدل کی عمیق گہرائیوں میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ جن طاقتوں سے اسے ٹھیک کرنے کی توقع کی جاتی ہے وہ دعوائے اتقاء کے تکبر میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گویا وہ برحق و برگزیدہ ہیں اور اس بے خبری کے عالم میں بہ سوئے تباہی گامزن ہیں جوکہ اس تکبر کا فطری نتیجہ ہے۔ جن کو حالات میں بہتری لانی ہے یہ وہی لوگ ہیں جنکے مفادات اپنے مادی فوائد کیلئے حالات کو اسی طرح رکھنے میں مضمر ہیں۔
حال ہی میں جاری کردہ پاکستان انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) کے موجودہ سال کے اعداد و شمار یہی دکھاتے ہیں کہ پہلے چھ ماہ میں کراچی میں 255 مشتبہ افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں جس سے 2014 کے دوران ہلاکتوں کی تناسب میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے 217 افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں جبکہ 38 نیم فوجی اہلکاروں کیساتھ مقابلوں میں۔ ستمبر 2013 میں جب سے کراچی میں سکیورٹی آپریشن شروع ہوا ہے، ہلاکتیں بڑھی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2014 میں کراچی میں پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں 925 مشتبہ افراد ماورائے عدالت ہلاک ہوئے۔ لاہور میں دسمبر 2014 کے بعد سے 100 مقابلے ہوئے ہیں۔ مارچ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) حیدرآباد پولیس ثناءاللہ عباسی نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل کو باضابطہ طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن جرائم کے خاتمے اور سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنانے کیلئے معاشرے کو پولیس کے اس ’طریقہ کار‘ کو قبول کرنا پڑے گا۔
لہٰذا، ذرا غور و کریں: اگر یہ ماورائے عدالت ہلاکتیں (پڑھئے قتل) سزا سے مکمل استثنیٰ کیساتھ عوام کی نظروں کے سامنے ہورہی ہوں تو پھر تصور کریں کہ بلوچستان اور وزیرستان میں کیا صورتحال ہوگی جہاں میڈیا پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اگست 2013 میں کہا تھا کہ اسکے پاس لاپتہ افراد کے مقدمات کے حوالے سے فرنٹیئر کور (ایف سی) کیخلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔ شمالی وزیرستان سے دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور کیمپوں میں پژمردہ زندگی گزار رہے ہیں اور جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو فوج کی طرف سے ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ جب نواب اکبر خان بگٹی قتل ہوئے تو تقریباً 178,000 بگٹی بے گھر ہوئے اور حالانکہ سپریم کورٹ نے ان کی واپسی کا حکم تو دیا تھا مگر مارچ 2014 میں ایف سی کی طرف سے انہیں واپس لوٹنے سے روکا گیا۔
ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیاں حقیقی مسائل حل نہیں کرتے۔ لوگوں کیلئے ایک معقول زندگی بسر کرنے کی خاطر بڑھتی ہوئی آبادی کا موجودہ وسائل پر دباو کی وجہ سے دستیاب مواقع گھٹتے جارہے ہیں اور نئے مواقع پیدا کرنا نہ ہونے برابر ہے۔ فرض کریں کہ اگر ترقی چار گنا بھی ہوجائے تو تب بھی یہ ناکافی رہے گی اور جرائم پیشہ، مذہبی مافیا اور عام طور پر لوگ ان محدود دستیاب وسائل پر لڑتے رہیں گے۔ خواہ بہت سارے لوگ آج مار دیے جا ئیں لیکن وہاں ہمیشہ دوسرے اسی راستے پر چلنا جاری رکھیں گے کیونکہ بلی اب بھی کنویں میں پڑی ہوئی ہے۔ ان مسائل کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کیلئے اساسی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔
بلوچ عوام 27 مارچ 1948 کے بعد سے اسکے حاصل کنندگان ہیں اور انہیں غدار، علیحدگی پسند، غیر ملکی ایجنٹ، ترقی مخالف جیسی مختلف قسم کی لاٹھیوں کیساتھ پیٹا گیا ہے۔ اسٹابلشمنٹ، جوکہ اپنی طاقت اور جہالت سے اندھی ہے، نوشتہ دیوار پر توجہ نہیں دے رہی ہے اور ان لوگوں کو کچلنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال جاری رکھے ہوئی ہے جو اپنے حقوق کو پامال کرنے اور اپنے وسائل کا استحصال کرنے کی اجازت دینے سے انکاری ہیں۔
بلوچستان، خاص طور پر آواران، مشکے کے علاقے اس وقت سب کیلئے ممنوعہ ہے جہاں سے روزانہ فوجی کارروائیوں کی رپورٹیں آرہی ہے۔ سی پی ای سی کے منافع بخش سودے نے ہر اس چیز کو نیست و نابود کرنے کیلئے اسٹابلشمنٹ کی حوصلہ افزائی کی ہے جو انکے چینی دوستوں کیلئے مسائل پیدا کر سکتا ہو۔ 30 جون کے مشکے آپریشن میں ڈاکٹر اللہ نذر کے بھتیجے سلیمان بلوچ (عرف شیہک بلوچ) نے زخمی ہونے کے بعد اپنے خاندان اور دوستوں کیلئے ایک پیغام ریکارڈ کروایا۔ اگرچہ ان کیلئے موت یقینی تھی، اپنے دوستوں کو اپنی جدوجہد ترک نہ کرنے کیلئے کہا۔ مرنے کے بعد ان کی لاش کو مسخ کیا گیا۔ انکے پیغام کی ویڈیو بہت جلد پھیل گئی اور اسے بلوچ مخالف سائبر ہیکرز کی طرف سے ہٹا دیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر ہزاروں کی تعداد میں بھی لوگ مار دیے جائیں، مسئلہ کہیں نہیں جائیگا جیسا کہ بلی کنویں میں ہی رہے گی۔ مزید برآں، وہ لوگ جن کے درمیان شیہک جیسے موجود ہونگے انہیں بہ آسانی دبایا نہیں جاسکتا۔
مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 26 جولائی 2015
To read the article in English click HERE